!سکون کی چابی

182

سولہ سال بعد کینیڈا سے پاکستان آنا… سولہ سال پرانا ارمان آج پورا ہونے جارہا تھا۔ یاد ہے وہ وقت جب میں شادی کے سات سال بعد کینیڈا جارہی تھی، مجھے اپنوں سے جدا ہونے کا بہت غم تھا۔ یہاں کی رونقیں، شادیاں، میل جول… یہی چیزیں تو زندگی کا رنگ ہوتی ہیں۔ اولاد جیسی نعمت نہ پاکستان میں میرے پاس تھی نہ کینیڈا جاکر یہ خوشی مل سکی۔ اللہ کی حکمت اللہ ہی جانے۔ بھلا ہو میرے شوہر کا، جنہوں نے ہمیشہ میری دل جوئی کی، دیارِ غیر میں بھی خوش رکھا۔ بس ان کے دنیا سے جانے کے بعد لوگوں نے اپنوں میں جاکے رہنے کا مشورہ دیا کہ پرائے دیس میں اکیلی کیسے رہو گی؟ خیر ہمیشہ کے لیے تو نہیں فی الحال چند دنوں کے لیے پاکستان جانے کا سوچنے لگی۔
میری پانچوں بہنیں اپنے اپنے گھروں کی تھیں، بھائی ہمارا ایک ہی تھا جس کے معاشی حالات اچھے تھے نہ گھر میں اتنی گنجائش کہ وہ مجھے رکھ سکتا، گو اُس نے بہت کہا کہ آپا یہاں رہنا، میرا گھر حاضر ہے، مگر میں نے اپنی سہیلی اور چچا زاد بہن ہما کی پیشکش کو قبول کرلیا۔ ہماری شادیاں آگے پیچھے ہوئیں، عمریں بھی تقریباً برابر تھیں۔ اُس کے میاں بھی دنیا چھوڑ گئے تھے۔ ہاں ماشاء اللہ ایک بیٹا تھا اُس کا، جس کو بچپن کا ہی دیکھا ہوا تھا، اب تو ڈھائی سال پہلے ہما نے اس کی شادی بھی کردی تھی، ایک بچّہ بھی تھا، باقی باتیں مل کر ہی پتا چلیں گی۔
ائرپورٹ پر ہما کا بیٹا لینے آیا۔ ماشا اللہ باریش، خوب صورت نوجوان تھا۔ تصویروں اور موبائل کی وجہ سے ہم ایک دوسرے تک پہنچ گئے۔ اُس نے میرے ہاتھ سے بیگ لیا، خود ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ آگے بیٹھا۔ نہایت تمیزدار نوجوان تھا۔ میری بہنوں نے بتایا تھا کہ شروع میں اُس نے نوکریاں کی تھیں، بعد میں تھوڑی سی جمع پونجی سے اپنا کاروبار شروع کیا ہے جو ماشا اللہ خوب ترقی کررہا ہے، اللہ اس کو خوش رکھے۔
’’بیٹا، امی لینے نہیں آئیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں آنٹی، شایان کے ساتھ تھیں، شایان میرا بیٹا۔‘‘
میں سوچنے لگی کہ اس کی بیوی کہاں ہے؟ ارسلان خود ہی کہنے لگا ’’وہ دراصل اقصیٰ کالج جاتی ہے صبح میں، تو شایان امی کے پاس ہوتا ہے۔ اقصیٰ، میری وائف۔‘‘
’’اچھا! میں سمجھی تمہاری امی میرے اعزاز میں گھر سجا رہی ہیں، اس وجہ سے مصروف ہیں۔‘‘
ارسلان ہنسنے لگا۔ گو میں اُس کی ماں کے برابر تھی، مگر پورے راستے اُس نے نگاہ اٹھا کر بات نہ کی، نہ ہی راستوں میں نظر آنے والی کسی عورت کو نگاہ بھر کے دیکھا۔ گھر پہنچنے کے بعد بھی اُس نے سامان اتارا اور میرا ہینڈ بیگ بھی مجھے اٹھانے نہ دیا۔ پہلی منزل پہ ہما کا گھر تھا، ہم گلے مل کے خوب روئے۔
ارسلان نے میرا سامان کمرے میں رکھا اور ایک آواز لگائی ’’اچھا امی، اقصیٰ کو لینے جا رہا ہوں، پھر آفس جائوں گا، کسی چیز کی ضرورت ہو تو کال کرلیجیے گا۔ السلام علیکم۔‘‘
’’نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں بیٹا، اپنا خیال رکھنا، اللہ کی امان، وعلیکم السلام۔‘‘
ہم نے باتیں کیں۔ ہما نے مجھے میرا کمرہ دکھایا، بہت آسائشوں سے بھرا گھر نہیں تھا مگرضرورت کی کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ کچھ ہی دیر میں ہما کی بہو بھی آگئی۔ یونیفارم پہنے معمولی نقوش والی، مگر چہرہ ایسا جس سے خوشی اور سکون جھلک رہا تھا۔ پتا نہیں گھر گرہستی بھی کرتی ہے یا صرف پڑھائی ہی کرتی ہے! کینیڈا ہوتا تو سمجھ آتا، پاکستان میں بھی ایسا ہوتا ہے؟ یہ میرے لیے نئی بات تھی۔ اقصیٰ نے ہاتھ منہ دھویا، نماز پڑھی، ہم نے مل کر کھانا کھایا، پھر اقصیٰ اپنا بچہ لے کر، جسے ہما کھانا کھلا چکی تھی، اس کے ساتھ سونے چلی گئی۔
میں تو خود سفر کی تھکی ہاری تھی، ہما کے کمرے میں ہی باتیں کرتے کرتے سو گئی۔
شام کو عصر تک ہم اٹھے۔ اقصیٰ نے چائے بنائی، میں نے تعریف کی تو اقصیٰ نے کہا ’’سب کچھ امی نے سکھایا ہے۔‘‘ جس پر ہما مسکرانے لگی۔
شام تک اقصیٰ نے رات کے کھانے کا انتظام کیا اور ارسلان کے آنے سے پہلے ایسے تیار ہوئی کہ میں تو پہچانی ہی نہیں کہ یہ وہی یونیفارم پہنی معمولی نقوش والی اقصیٰ ہے۔ اس کی خوب صورتی دیکھنے کے لائق تھی۔
’’کیا یہ کہیں جارہی ہے؟‘‘میں نے ہما سے پوچھا۔
’’نہیں تو۔‘‘ اس نے ایسے جواب دیا جیسے یہ تو روز کا معمول ہو۔ پھر ارسلان گھر آیا۔ کھانا تیار تھا، سلیقے سے سجا تھا، سادہ اور ضرورت کے مطابق لوازمات، کوئی اسراف نہیں۔ سادگی کتنی حسین ہے، اس کا یقین ہو چلا تھا۔ شایان کبھی ہما، کبھی میرا… گویا سب ہی کا کھلونا بنا ہوا تھا۔
’’آج تمہاری پڑھائی ہے؟‘‘ارسلان نے اقصیٰ سے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’چلو پھر چلتے ہیں، آنٹی آپ بھی چلیں، امی آئیں آنٹی کو بھی لیے چلتے ہیں؟‘‘
’’آنٹی پلیز چلیں نا، آئیں پاکستان گھمائیں آپ کو۔‘‘ اقصیٰ اصرار کرنے لگی۔
’’اچھا چلو سب ہی چلتے ہیں۔‘‘میں بھی راضی ہوگئی۔
اور پھر جب تک میں وہاں رہی، یہ روز کا معمول تھا، جب اقصیٰ کی پڑھائی نہ ہوتی، ارسلان کبھی سب کو، تو کبھی اقصیٰ کو گھماتا۔
صبح گھر کی اور شایان کی ذمہ داری ہما کی تھی۔ شام میں اقصیٰ گھر دیکھتی تھی۔ دونوں حد درجہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتیں۔ گھر کو سکون کا گہوارہ بنانے میں دونوں ہی کا ہاتھ تھا۔ پیسہ اگرچہ کم تھا، لیکن ترقیاں راہیں دیکھ رہی تھیں۔ مزاجوں کا فرق کہاں نہیں ہوتا؟ مگر ہر بری لگنے والی بات کو نظرانداز کرکے، سادہ زندگی گزار کر نظر صرف خوبیوں پہ رکھی جاتی تھی۔ واہ میرے پاکستان، واہ۔

حصہ