وہ بولے تو پھول جھڑتے ہیں

130

ہم روزانہ کئی لوگوں سے ملتے ہیں۔ کسی کی شخصیت، کسی کے خد وخال، تو کسی کا اخلاق ہمیں اس کا گرویدہ کردیتا ہے۔ آپ چند ایسی خواتین سے بھی ضرور ملی ہوں گے جن کی گفتگو مسحور کردیتی ہے، جن کو سننا اچھا لگتا ہے، اور جن سے بات کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا زبان سے الفاظ نہیں بلکہ پھول جھڑ رہے ہیں، کلیاں چٹک رہی ہیں، خوشبو پھیل رہی ہے اور ماحول معطر ہورہا ہے۔
یہ تو خیر کچھ شاعرانہ تشبیہات ہوگئیں۔ لیکن کچھ خواتین یقینا ایسی ضرور ہیں جن کا لب و لہجہ، انداز اور باتیں آپ کو متاثر کرتی ہیں۔ آج کے دور میں ہم اپنی سماجی اقدار اور اس سے ایک قدم آگے دینی و مذہبی تعلیمات و روایات کو بھولتے جارہے ہیں۔ ہمارا دین، جس میں حسنِ اخلاق کو اوّل درجے پر رکھا گیا ہے، ہم اسی سے اعراض روا رکھے ہوئے ہیں۔
لوگ بات چیت میں ایسی نامناسب زبان استعمال کرتے ہیں اور اس پر لہجہ طنزیہ، تمسخرانہ، استہزائیہ کہ اگلے کا دل چھلنی ہوجائے۔ حالانکہ ہم اس مذہب کے پیروکار ہیں جس میں دل توڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن کریم کے وسط میں ایک لفظ جسے نمایاں کرکے لکھا جاتا ہے، جب اس کے معنی دیکھے گئے تو ’’نرمی سے گفتگو‘‘ ہے۔ یعنی قرآن مجید تو خود نرم خوئی کی دعوت دیتا ہے۔
لہجے کی نرمی، مٹھاس اور سبک روی ایسے طاقتور ہتھیار ہیں جن سے مخالف سے مخالف بھی زیر ہوجاتا ہے۔ یہ دوسرے کو آپ کا پرستار بنادیتے ہیں، اور پھر اس فہرست میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔
دوسری طرف لہجے کی تبدیلی، اس کی سختی، ترش روی لوگوں کو آپ سے دور، بہت دور کردیتی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق ’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ و زبان کے شر سے دوسرا محفوظ رہے۔‘‘ لیکن آج اس حدیثِ پاک کے برعکس ہر کوئی دوسرے کی بداخلاقی، لہجے کی پستی اور تلخ کلامی کا ڈسا ہوا ہے۔ ہم دوسرے کو شرمندہ کرنے اور نیچا دکھانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، زبان کے ایسے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ خود ہی سن کر لا جواب ہو جائیں، تاک تاک کر لفظوں کے تیر برسائے جاتے ہیں کہ شاید یہ موقع دوبارہ نصیب ہو یا نہیں، سننے والا محروم نہ رہ جائے۔
مشہور ہے کہ تلوار کا زخم تو وقت کے ساتھ بھر جاتا ہے، لیکن زبان کے نشتروں کا گھائل… ایک زمانہ چاہیے اسے مندمل ہونے میں۔ یہ نشتر صرف دل وجسم کو ہی زخمی نہیں کرتے بلکہ روح تک کو گھائو پہنچاتے ہیں جس کو بھرنے میں عرصہ بیت جاتا ہے۔
مثل مشہور ہے: ایک زبان کو قابو میں رکھنے کے لیے اللہ کریم نے بتیس دانتوں کو محافظ بنادیا، لیکن یہ پھر بھی بے قابو ہی رہتی ہے۔ لہٰذا اسے قابو میں رکھنے کے لیے اپنے دل و دماغ کو بھی ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہے۔ میٹھی زبان میں وہ تاثیر ہے جو بڑے سے بڑے عامل میں نہیں، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ بچپن سے ہی تربیت کی جائے۔ چیخنے، چلّانے اور کاٹ دار گفتگو سے اجتناب برتا جائے۔ ایسے الفاظ کا چناؤ کیا جائے جو شائستہ ہوں۔ لٹھ مار لہجے اور الفاظ کے بجائے خوش مزاجی سے ہم آہنگی دی جائے۔
کہتے ہیں ’’زباں شیریں، ملک گیری۔ اور زباں ٹیڑھی، ملک بانکا۔‘‘ آپ کی زبان کی شیرینی لوگوں کو آپ کی طرف راغب کرنے، متوجہ کرنے اور کھینچنے کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ گوشت کا یہ چھوٹا سا لوتھڑا آپ کی مرضی کا پابند ہے، آپ چاہیں تو کنٹرول کریں، یا بے لگام چھوڑ دیں۔ چاہیں تو اس کے ذریعے وسیع حلقۂ احباب بنا لیں، یا لوگ آپ کی بدمزاجی کے سبب دامن بچا لیں۔ یہ سب اسی پر منحصر ہے۔ جھوٹ، چغلی، غیبت سب اسی زباں کی کارستانیاں ہیں۔ اعلیٰ ظرفی تو یہ ہے کہ اپنے اندر عاجزی و انکسار پیدا کیا جائے، زبان کو بے اختیار نہیں بلکہ اپنے اختیار میں رکھا جائے، تاکہ آپ کو سننے والے آپ کو بار بار سنیں۔ اپنے لفظوں میں وہ چاشنی بھر لیں کہ آپ سے ملاقات کرنے والا آپ کو ہمیشہ یاد رکھے، آپ کے حُسنِ اخلاق کی مثالیں دے۔ لفظ مہکنے لگیں اور آپ کی باتوں سے خوشبو آئے۔

حصہ