وہ ایک پل بھلایا تو جانا

155

ہم کچھ سال قبل ہی نئے محلے میں شفٹ ہوئے تھے۔کچھ اپنی کم گوئی اور کچھ نئے ماحول کی وجہ سے میں محلے میں گھل مل نہیں پائی تھی جس کی وجہ سے بہت کم لوگوں سے شناسائی ہوئی تھی۔ گو کہ محلہ پڑوس قدرے اچھا تھا، مگر اپنی فطری طبیعت کی وجہ سے تعلقات بس واجبی سے تھے۔ بڑے بوڑھوں میں پرانی اقدار ابھی باقی ہیں، اسی لیے برابر والی خالہ کبھی کبھار ملنے آجاتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھی وہ آتیں تو میں اُن سے بہت محبت سے ملتی اور وہ بھی نہ جانے کب سے اپنی باتوں کا بند پٹارا میرے سامنے کھول دیتیں۔ اُن کی زبانی باقی گھروں کے حالات بھی معلوم ہوجاتے تھے۔
صبح بچوں کے اسکول چلے جانے کے بعد گھر کے کام کاج سے فارغ ہوکر میں سلائی کرتی تھی جو میری اضافی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ جس جگہ بیٹھ کر میں سلائی کرتی تھی اُس کے عقب میں پڑوس کا گھر تھا جس کا دروازہ پچھلی گلی میں کھلتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کبھی اس گھر کے افراد سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا، مگر اکثر جب میں سلائی کرتی تو گھر کے مکینوں کی آوازیں صاف سنائی دیتی تھیں۔
خاتونِ خانہ صبح کام کے دوران بلند آواز میں گانے کا شوق رکھتی تھیں جس سے اُن کے ذوق کا پتا چلتا تھا۔ اُن کے گھر میں ایک سے زائد خواتین تھیں جن کا مشغلہ فارغ وقت میں ایک دوسرے کی غیبت اور اپنی بڑائی بیان کرنا تھا۔ رات میں اکثر یا چھٹی والے دن محترمہ کی اپنے شوہر سے جھڑپ رہتی تھی جس کے دوران آپس میں گالیوں کا تبادلہ و دیگر القابات جو وہ اپنے شوہر کو دیتی تھیں، اُس سے میں ان خاتون سے نہایت بدظن ہوچکی تھی۔ اس گھر کی اوپری منزل میں کرایہ دار رہائش پذیر تھے۔ ہماری چھت سے اُن کا آنگن صاف نظر آتا تھا اور بچوں کی آوازیں بھی آتی تھیں۔ مذکورہ خاتون کی بدزبانی سے میں نہایت متنفر ہوچکی تھی اور ان کے گھر کے ماحول کو برا سمجھتی تھی۔
ایک اتوار کو اپنے بڑے بیٹے کی فرمائش پر میں نے بریانی بنائی۔ بچے بریانی بہت شوق سے کھاتے ہیں اور برابر کے گھر سے بچوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ میرا باورچی خانہ چوں کہ اُن کی دیوار سے ملا ہوا ہے تو لامحالہ کھانے کی خوشبو بھی گئی ہوگی۔ فطری تربیت اور گھر کے ماحول کی بدولت مجھ میں بے چینی پیدا ہوگئی، اور اسی کیفیت کے پیش نظر میں نے ایک پلیٹ میں بریانی بھری اور چھت پر پہنچ گئی۔ ایک بچے کو آواز دے کر پلیٹ اس کو پکڑا دی۔ اپنے اس عمل سے مجھے دلی مسرت اور سکون محسوس ہوا، اور سوچا کہ میں نے اللہ کے احکام کے مطابق کچھ تو عمل کیا۔
دوسرے دن حسب معمول کام کے دوران دروازہ بجا۔ میرے پوچھنے پر پتا چلا کہ پچھلے پڑوس والی خاتون ہیں۔ ذہن میں اپنی کل والی کارگزاری کا خیال آیا تو گمان ہوا کہ شاید شکریہ ادا کرنے آئی ہیں۔ خوش دلی سے میں نے سلام کیا۔ لیکن یہ کیا؟ اُن کے چہرے پر برہمی کے تاثرات نمایاں تھے، تڑخ کر بولیں ’’بریانی کس خوشی میں دی تھی؟‘‘
دھڑام سے میرے اچھے گمان کا محل زمین بوس ہو گیا اور زبان گنگ ہوگئی، سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دوں! پھر خود کو سنبھالا کہ وہ عورت برہمی کا پیکر بنی جواب طلب تھی۔
میں نے کہا ’’بچوں کی وجہ سے دینے کی جسارت کی، اور پڑوسی ہونے کے ناتے فرض بھی بنتا ہے۔‘‘ وہ نہایت تند لہجے میں کہنے لگیں ’’آئندہ ضرورت نہیں ہے ایسے فرائض کی…‘‘ اور منہ چڑاتی کہتی چلی گئیں کہ ’’بڑی آئی، نہ جان نہ پہچان بڑی خالہ سلام۔‘‘
میں حیرت کا مجسمہ بنی انہیں جاتا دیکھتی رہی، میری کیفیت ایسی تھی کہ کاٹو تو جسم میں لہو نہیں۔ اپنے خلوص کا ایسا جواب دیکھ کر دکھ اور غصے کا ملا جلا احساس لیے میں اپنے کام میں مشغول ہوگئی اور آئندہ ایسی حرکت سے توبہ کی۔ اس واقعے کے بعد سے ان خاتون کا خاکہ میرے ذہن میں مزید بگڑ گیا۔
اس واقعے کو تقریباً چھ سال ہوگئے ہیں، مگر جب بھی یاد آتا ہے تو کڑواہٹ سی گھل جاتی ہے۔ میرے بچے ماشااللہ اب بڑے ہوگئے ہیں اور میں نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ ان کی دینی اطوار پر پرورش کرسکوں، لیکن میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ماؤں کے لیے کڑی آزمائش پیدا کردی ہے جس کے اثر سے میرا گھر بھی محفوظ نہیں۔ کوشش کے باوجود بچے نماز کے پابند تو ہیں لیکن ایسی پابندی نہیں ہوپاتی کہ جیسی ہونی چاہیے، ڈانٹ ڈپٹ سے کام چلانا پڑتا ہے۔ کچھ عرصے سے دو بچے میرے بچوں کو نماز کے لیے بلانے آرہے تھے۔ پتا چلا کہ میرے بیٹے عذیر کے دوست ہیں۔ خوش شکل، تہذیب یافتہ وہ بچے پہلی نظر میں مجھے بہت اچھے لگے اور اُن کا اخلاق دل کو بہت بھایا، سوچا کہ کسی سلجھے ہوئے گھرانے کے اچھے بچے ہیں۔ وہ بچے باقاعدگی سے نماز کے لیے آتے، اخلاق سے سلام کرتے۔ میں دل میں اُن کی تربیت کی معترف ہوتی گئی اور سوچتی کہ آج کل بھی کچھ خاندانوں میں دینی رواداری کا پاس اور تربیت کا رجحان ہے۔ ہمارے بچے تو مارے باندھے ہی نماز کو جاتے ہیں۔ ایک دن میں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ یہ کس کے بچے ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ ہمارے پچھلے والے پڑوسی کے بچے ہیں۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا، دوبارہ پوچھنے پر پتا چلا کہ یہ اُسی عورت کے بچے ہیں جسے میں بہت بداخلاق، بدتہذیب اور جاہل سمجھتی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ اولاد والدین کا پَرتو ہوتی ہے۔ اگر اولاد کے بارے میں جاننا ہو تو ماں کو دیکھو۔ لیکن یہاں طبیعت کا کیسا تضاد تھا، انسان کی شخصیت کے کتنے پہلو تھے جو آشکار نہیں ہوسکے تھے! سنا تھا عورت پیاز کی مانند ہوتی ہے، پرت در پرت کھلتی جاتی ہے مگر اس کے اسرار ہیں کہ کھل کے نہیں دیتے۔
میرے ساتھ اس عورت کا رویہ اور اس کی شخصیت کا یہ رُخ ذہن کو الجھائے دے رہا تھا۔ پھر میں نے اس گتھی کو سلجھانے کا سوچا اور برابر والی خالہ سے باتوں باتوں میں اس عورت کے بارے میں دریافت کیا۔ خالہ نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے بتایا کہ بے چاری کے ساتھ ایک المیہ ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ ذرا نفسیاتی سی ہوگئی ہے۔ ہوا یہ کہ ان کا پہلے والے کرایہ داروں سے میل ملاپ ذرا زیادہ ہوگیا تھا، آنا جانا اتنا بڑھا کہ غیروں جیسی بات نہیں رہی۔ اسی رواداری میں کرایہ دار مکان کا کرایہ ٹالتے رہے۔ لیکن کب تک؟ آخر جب اسے زیادہ ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے کرایہ طلب کیا، جس پر نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی، اور بات اس حد تک بڑھی کہ تھانہ کچہری تک جا پہنچی اور پولیس اس کے شوہر کو پکڑ کر لے گئی، کیوں کہ کرایہ داروں نے ملکیت کا دعویٰ کردیا تھا۔ بڑی جدوجہد، محلے والوں کی گواہی اور پولیس کو رشوت کھلانے کے بعد ان کی جان چھوٹی۔ جب سے یہ بے چاری اب کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی اور اپنے گھر میں رہتی ہے۔
خالہ کی زبانی اس کی داستان سن کر مجھے بہت افسوس ہوا، اوردل میں اس کے لیے ہمدردی محسوس ہوئی۔ یہی سوچ کر میں ایک دن اس سے ملنے پہنچ گئی۔ اس نے بڑی سردمہری سے میرا استقبال کیا، لیکن میں نے بھی ٹھان لی تھی کہ اپنے اخلاق سے اسے ڈھیر کرکے رہوں گی، اور یہی ہوا، اس کے سرد رویّے کے جواب میں میرے نرم لہجے اور اخلاص کو وہ رد نہ کرپائی اور چند ملاقاتوں میں میری گرویدہ ہوگئی۔
انسان اچھائی اور برائی کا مجموعہ ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ ہم لوگوں میں موجود اچھائی کو ڈھونڈ لیں، کیوں کہ مختلف مواقع پر لوگوں کی کیفیات بھی مختلف ہوتی ہیں، چند منٹ کے رویّے انسان کی پوری شخصیت کا احاطہ نہیں کرسکتے جیسا کہ میرے ساتھ ہوا، لیکن اللہ نے مجھے توفیق دی اور میں نے اپنی غلطی درست کرلی۔ جی ہاں وہ عورت جو سب سے سخت بیزار تھی اب وہ میری بہترین دوست ہے۔

حصہ