پاکستان کرکٹ بورڈ ،گلگت بلتستان مارخور کو پی ایس ایل میں شامل کرے

224

رشید عالم نے قاضی گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین قاضی شوکت محمود اور وائس چیئرمین ضیااللہ قاضی کے تعاون سے جی بی مارخورز کرکٹ ٹیم کو منظم کیا۔ ابھی تک کوئی اسٹیڈیم نہیں بنا ہے حالانکہ سابق چیئرمین پی سی بی جنرل (ر) توقیر ضیا نے گلگت میں بین الاقوامی معیار کا مارخور کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا۔
رشید ایک اسلامک بینک کے صرف بینکر نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ ہیں۔ انہوں نے وقتاً فوقتاً کمیونٹی کی سماجی ترقی، سیاحت کو فروغ دینے اور گلگت بلتستان کے ثقافتی لباس اور ٹوپی (ٹوپی اور شاٹی) کو دنیا بھر کی معروف شخصیات کو پیش کرکے پوری دنیا میں گلگت بلتستان کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اہم کام کیا۔ گلگت بلتستان کی کرکٹ ٹیم مارخورز کے پیٹرن اِن چیف، ریان انٹرنیشنل فائونڈیشن کے چیئرمین، سماجی رہنما،اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ گلگت بلتستان کے ثقافتی سفیر کی حیثیت سے بھی پہچان رکھتے ہیں۔ آپ نے پرنٹ میڈیا، انٹرویوز اور میٹنگز کے ذریعے گلگت بلتستان کے ٹیلنٹ اور اس میں کرکٹ کی صلاحیت کو متعارف کرایا، جس کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے گلگت بلتستان کو رکنیت دی۔
دسمبر 2000ء￿ میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر میلکم گرے نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران رشید عالم فاروقی کو انگلینڈ مدعو کیا اور گلگت بلتستان میں کرکٹ کے لیے ان کی لگن اور محنت کو سراہا۔ابتدائی تعلیمی دور یعنی اسکول کے دور میں وادی اخبار گلگت کے خصوصی رپورٹر کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کرکٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ ان کے دور میں پہلی مرتبہ ان کی کوششوں سے گلگت بلتستان کی ٹیم کو پاکستان کرکٹ بورڈ میں رکنیت حاصل ہوئی۔ آپ نے جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کیا، اور ایم ایس سی معاشیات میں بھی ڈگری لی ہوئی ہے۔آپ اسلامی بینکنگ سے وابستہ ہیں جس میں بڑا مقام رکھتے ہیں۔ آپ تقریباً 16ممالک جاچکے ہیں، اور جہاں بھی جاتے ہیں، جس ملک میں بھی جاتے ہیں اپنے علاقے کی ثقافت کو روشناس کراتے ہیں۔انہوں نے اسٹیٹ بینک سے اسلامک بینکنگ کا ایگزیکٹو کورس بھی نمایاں نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔
آپ نے جی بی مارخور کو پی ایس ایل میں شامل کرنے کے لیے حکام، وزیراعلیٰ جی بی، وزیر کشمیر و گلگت بلتستان امور سے بھی رابطے کیے ہیں۔ رشید عالم فاروقی نے گلگت بلتستان کی ثقافت کو پوری دنیا میں فروغ دیا ہے۔ ان میں ایک چیز جو رچی بسی محسوس کی جاسکتی ہے وہ ہے گلگت بلتستان سے محبت۔ گلگت بلتستان کی ثقافت کو دنیا تک پہنچانے کی آرزو۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر علاقے کی اپنی ثقافت ہوتی ہے، اسی طرح گلگت بلتستان کی تہذیب بھی دنیا سے منفرد ہے اور بالخصوص گلگتی ٹوپی اور شانٹی منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی اسی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن نے جس طرح علاقے کو امن اور ترقی سے ہمکنار کیا ایسے ہی گلگت بلتستان کی تہذیب کو دنیا میں اجاگر کرنے کے لیے ایک دن بھی منانے کا اعلان کیا جس کے مثبت اثرات سامنے آئے۔ وزیراعلیٰ نے تو ایک دن منانے کا اعلان کیا لیکن رشید عالم فاروقی نے ہر دن شانٹی اور ٹوپی کے نام کردیا۔ پاکستان کی ہر چھوٹی بڑی تقریب میں جہاں انہیں مدعو کیا جاتا ہے وہاں وہ اہم شخصیات کو گلگت بلتستان کی ٹوپی پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
رشید عالم فاروقی سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
سوال: آپ کو مارخور کرکٹ ٹیم بنانے کا خیال کیسے آیا؟
جواب: 1994ء سے لے کر 2000ء تک گلگت بلستتان میں جو کرکٹ ایسوسی ایشن تھی، یا کرکٹ کھیلی جاتی تھی اس کے لیے ہم خود ہی چندہ جمع کرتے تھے اور خود ہی کوئی گرائونڈ ڈھونڈ کر وہاں جاکر کھیلتے تھے۔ کچھ نہ کچھ کھیل کود ہو ہی جایا کرتا تھا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں جمعیت اسٹڈی ٹور کے لیے لاہور گیا ہوا تھا۔ وہاں ایک صاحب تھے، انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیاء سے ملاقات کرائی۔ ملاقات کے دوران توقیر ضیاء نے مجھ سے پوچھا کہ آج کل کیا سرگرمیاں ہیں؟ میں نے کہا کہ ارضِ شمال کے نوجوانوں کو شاہین بنانا اور دیکھنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ موقع فراہم کریں تو میرے لیے اس خواہش اور عزم کو عملی جامہ پہنانے میں آسانی ہوجائے گی۔ اس پر وہ مسکرائے اور کہا کہ کیا مطلب؟ میں نے کہا کہ میرے پاس بے شمار باصلاحیت نوجوان کھلاڑی موجود ہیں، ہمارے پاس اسامہ قریشی جیسے نوجوان موجود ہیں جو ملکی سطح پر اسلام آباد یونائیٹڈ جیسی فرنچائز کے ٹیلنٹ ہنٹ اوپن ٹرائلز میں سلیکٹ ہوکر رائزنگ اسٹار پروگرام کا حصہ رہے ہیں، لیکن کیونکہ میرے پاس وسائل نہیں ہیں اس لیے پیش رفت میں رکاوٹیں آرہی ہیں۔ آپ کی تھوڑی سی توجہ درکار ہے۔ اُس وقت گلگت بلتستان کا نام شمالی علاقہ جات تھا۔ میں نے کہا کہ ناردرن ٹیم کو ایک موقع دے دیں۔ ان کو میری بات بہت پسند آئی، انہوں نے اسی وقت ساڑھے 3 لاکھ روپے کا چیک حوالے کیا اور کرکٹ کی 4 عدد مکمل کٹس بھی فراہم کیں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ میرے پاس اُس وقت کوئی ڈاکومنٹیشن یا کوئی ورکنگ پیپر نہیں تھا۔ علاقے میں جاکر پہلا کام یہ کیا کہ ناردرن کرکٹ ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور میں اس کا پہلا باقاعدہ جنرل سیکریٹری منتخب ہوا۔ کچھ ہی دنوں بعد ٹرائلز کرائے۔ چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری جیسی قد آور شخصیات کو شامل کیا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ 1999ء سے اب تک ہماری انڈر 17، انڈر19 کے علاوہ گریڈ ون کی ٹیم بھی قومی سطح کے ٹورنامنٹس میں حصہ لے رہی ہے۔ جی بی کی پہلی کرکٹ ٹیم کو میں پشاور لے کر گیا۔
سوال: سنا ہے کہ آپ مارخور ٹیم کو پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کا حصہ بنانا چاہتے ہیں؟
جواب: یقیناً یہ بات درست ہے۔ اس وقت پاکستان میں کرکٹ کا ایک بڑا برانڈ پی ایس ایل (پاکستان سپر لیگ) شائقین کرکٹ کے لیے ہی نہیں، نوجوان کرکٹرز کے لیے بھی ایک اچھا پلیٹ فارم ہے۔ میری خواہش ہے کہ آئندہ آنے والے پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن میں مارخور فرنچائز کو متعارف کرایا جائے، یعنی وہ اس کا حصہ بنے، جس کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
سوال: علاقے میں اسٹیڈیم کے قیام کے لیے پی سی بی نے کیا سہولیات فراہم کیں؟
جواب: ابھی تک کوئی اسٹیڈیم نہیں بنا، حالانکہ سابق چیئرمین پی سی بی جنرل (ر) توقیر ضیاء نے گلگت میں بین الاقوامی معیار کا مارخور کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اسٹیڈیم کے قیام سے علاقے میں سیاحت کو بھی ترقی ملے گی۔
سوال: ذرا کرکٹ سے ہٹ کر بتائیں کہ بینکنگ کے شعبے میں کیسے آنا ہوا؟ جبکہ آپ نے تو ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرز کیا تھا؟
جواب: بہت عمدہ اور دلچسپ سوال ہے۔ تعلیمی دور سے لے کر صحافتی میدان میں کامیاب تجربے کے بعد میں 2007ء میں اپنے ماموں اور محسن سابق وزیراعلیٰ شیر جہاں میر کی سرپرستی اور حکم پر بینکنگ کی طرف آیا۔ الحمدللہ اس شعبے میں بھی چند سال میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ کارکردگی کو سراہا گیا جو ٹاپ لیول کی تھی۔ میری زندگی میں یہ راز پنہاں ہے کہ میرا تعلق گو کہ متوسط طبقے سے ہے، میں نے دورانِ تعلیم ملازمت بھی کی اور سماجی کاموں کو بھی جاری رکھا۔ اسی طرح بینکنگ کروڑپتی کاروباریوں کی آماجگاہ ہے، بڑ ے بڑے سرمایہ داروں سے واسطہ پڑتا ہے۔ بین الاقوامی بینک میں اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے ایریا کا سربراہ ہوں۔ یہ سب ماں کی دعائوں کی بدولت ہے، اور آج بھی جو کچھ میں ہوں وہ میری ماں کی دعائوں کا ثمر ہے۔ اس موقع پر میں اپنی ماں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں، لیکن ان کی ذات کے لیے وہ بھی بہت کم ہے۔ میں ان کا احسان جیتے جی کبھی نہیں اتار سکتا اور ان کی شفقت، محنت، تربیت و قربانی کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ میرا ایمان ہے کہ ماں کی دعائوں کے حصول کو اپنا وتیرہ بنا لیں۔ باپ کی حلال کمائی سے اس کی اولاد دنیا میں کبھی ذلت و رسوائی کا شکار نہیں ہوسکتی۔ رب کریم ہمیں بھی اپنی اولاد کو حلال روزی کما کر کھلانے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمارے لیے اور ہمارے بڑوں کے لیے صدقہ جاریہ بنے۔
سوال: آپ نوجوان نسل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: الحمدللہ میرا رب العالمین پر مکمل ایمان ہے۔ ہر آزمائش اور آسانی اسی کی طرف سے آتی ہے۔ انسان سخت محنت کرے اور نتیجہ رب العزت پر چھوڑ دے۔ میرا پیغام یہ ہے کہ ماں باپ کی خدمت کرکے ان کی دعائیں لیتے رہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ انسان کسی محسن و قربانی دینے والے کا احسا ن کبھی نہ بھولے۔ وہ کرم فرما اور سرپرست جن کی وجہ سے وہ دنیا میں کسی مقام پر پہنچا ہے ان کا کسی صورت احسان فراموش نہ ہو۔ ان کی قدر کرے اور دنیا میں برملا اس کا اظہار کرے اور ان کو دعائیں دے۔
رشید عالم فاروقی کے ساتھ گفتگو کو سمیٹتے ہوئے جو مؤقف اور ان کا پُرجوش انداز اور اسلوب سامنے آیا وہ یہ تھا کہ گلگت بلتستان کی وکالت اور مارخور کرکٹ کلب کے کھلاڑیوں کو قومی کرکٹ ٹیم میں دیکھنا ان کا خواب ہے جس کو وہ شرمندۂ تعبیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے عدالتِ عظمیٰ میں ایک درخواست بھی دائر کی ہوئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی کرکٹ ٹیم کو پی ایس ایل میں شامل کرانے کے لیے عدالت ازخود نوٹس لے۔ رشید عالم فاروقی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ کم سہولیات کے باوجود پاکستان کا نام روشن کیا ہے، گلگت بلتستان پاکستان کے ہر فورم میں صف اول پر ہے لیکن پی ایس ایل میں شامل کیوں نہیں؟ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں پی ایس ایل سے محروم رکھنا ناانصافی ہے۔

حصہ