مانگنے سے پرہیز

98

پیارے نبیؐ اللہ کے محبوب بندے تھے۔ انسانوں کو سیدھی راہ بتانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ حضورؐ نے انسانوں کی بھلائی کے لیے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں۔ بلا اجرت اتنا بڑا احسان کیا۔ پھر بھی نادانوں نے آپؐ کی محنت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے آپؐ کے راستے میں روڑے اٹکائے۔ طرح طرح سے پریشان کیا جان کے در پے ہوئے۔ وطن سے نکال دیا۔ اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ہجرت کے بعد بھی تنگ کرتے رہے۔
ایک مرتبہ ان نادانوں نے بہت بڑی فوج تیار کرکے مدینے پر دھاوا بول دیا۔ پیارے نبیؐ اور آپ کے اچھے ساتھیوں نے بچائو کے لیے قربانیاں دیں۔ چھوٹے چھوٹے لڑکے بھی اللہ کے دین پر مر مٹنے کے لیے تیار تھے۔ کچھ کو حضورؐ نے جہاد میں شرکت کی اجازت دی۔ مگر کچھ کو کم سنی کے باعث روک دیا۔
ان میں ایک بو سعیدؓ تھے۔ ان کے والد محترم نے بھی سفارش کی اور کہا:
’’حضورؐ اس کے قوی مضبوط اور ہڈیاں موٹی ہیں۔ آپ عمر پر نہ جائیں۔ اسے فوج میں بھرتی کر لیں۔‘‘
مگر حضورؐ نے انکار کر دیا۔ اس بچے کو بہت افسوس ہوا۔ بہر حال جنگ ہوئی۔ اللہ کی مدد سے مسلمان جیت تو گئے۔ مگر بڑے بڑے صحابہؓ شہید ہو گئے۔ جان کا کافی نقصان ہوا۔ ابو سعیدؓ کے والد بزرگوار بھی اسی جنگ میں شہید ہو گئے۔
صحابہؓ کے پاس دولت یوں بھی نہ تھی اور جو کچھ تھا سب اللہ کی راہ میں لگا چکے تھے ۔ ابو سعیدؓ کے گھر بھی کچھ نہ تھا۔
ایک تو کم سن، گھر میں کھانے کو نہیں۔ باہر کوئی کمانے والا نہیں۔بڑی پریشانی میں پڑگئے۔ اللہ اور رسول کے سوا ان کا اور کون سہارا تھا۔
چنانچہ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔چاہتے تھے کہ گھر کا حال بتا کر حضورؐ سے کچھ امداد طلب کریں۔ ان کی صورت دیکھتے ہی حضورتؐ نے فرمایا۔
’’جو صبر چاہتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے جو پاک بازی طلب کرتا ہے اللہ اسے پاک باز بنا دیتا ہے اور جو غنا چاہتا ہے اسے غنا عطا فرماتا ہے۔‘‘
حضورؐ کی زبان سے یہ جملہ سنا تھا کہ ابو سعیدؓ کا ارادہ بدل گیا۔ انہوں نے حضورؐ سے کچھ نہ مانگا اور چپکے سے واپس آگئے۔
اللہ ان سے بہت خوش ہوا۔ انہیں کم سنی میں اتنا زبردست علم دیا کہ ان کے پایہ کے بہت کم عالم ہوئے ہیں۔
سوالات:
1… ابو سعیدؓجہاد میں کیوں نہیں لیے گئے؟
2… باپ نے بیٹے کی سفارش کیوں کی؟
3… ابو سعیدؓ حضورؐ کے پاس کیوںح گئے تھے؟
4… حضورؐ کی باتوں سے انہوں نے کیا اثر لیا؟
5… اللہ نے انہیں کیا اجر دیا؟

حصہ