ایک سچی سرگزشت رائے قدرت اور فخرالنسا تیموریہ(رانی منگول)

113

ذیل کا واقعہ حافظ محمد ادریس کے افسانوں کے مجموعے سربکف سربلند کے افسانے فخر النساء تیموریہ سے ماخوذ ہے۔ یہ ایک سچا واقعہ ہے جسے حافظ محمد ادریس نے ہمارے معاشرے سے لے کر افسانوی ادب میں ڈھالا ہے۔
…٭…
رائے قدرت بڑا کھرا اور دلیر انسان تھا۔ وہ ہر آزمائش اور مشکل گھڑی میں مخلص اور دیانتدار ثابت ہوا۔ جب کوئی مظلوم میرے پاس آتا یا اسے مشکل میں پاکر میں ازخود اس کی مدد کرنے یا دادرسی کے لیے یقین دہانی کرادیتا تو مجھے مسلسل یہ احساس رہتا کہ میں اس کی کوئی خاطرخواہ مدد نہیں کرسکوں گا۔ ایسے ہر موقع پر میں رائے قدرت سے رجوع کرتا، اس کے سامنے مسئلہ رکھتا اور اس کی رائے لیتا۔ وہ ہمیشہ مسکرا کر کہتا کہ میں تو پیدا ہی اس لیے ہوا ہوں کہ اللہ نے مجھے جو صلاحیت دی ہے اسے دکھی انسانوں کی خدمت کے لیے استعمال کرسکوں۔ بس مجھے حکم دے دیا کریں۔
ایک روز ایک مزدور میرے پاس آیا اس کی ساری جمع پونجی ایک ظالم پولیس والے نے چھین لی تھی۔ اس مزدور کو اپنی پونجی چھن جانے سے زیادہ افسوس اس بات کا تھا کہ تھانیدار نے اس کی ریڑھی بھی اپنے قبضہ میں کرلی تھی جس پر سبزی اور فروٹ بیچ کر وہ اپنی روزی کماتا تھا۔
اس مظلوم نے اپنی بپتا سناتے ہوئے کہا ’’تھانیدار مجھ سے سبزی اور فروٹ بغیر قیمت ادا کیے لے جاتا تھا۔ ایک دن میں نے اس سے کہا کہ کبھی کبھار تو یہ چل سکتا ہے کہ تم مجھ سے مفت چیزیں لے لیا کرو مگر ہر روز کا معمول تو مناسب نہیں ہے۔ آخر مجھے اپنا اور بال بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے۔ اس پر وہ ظالم بپھر گیا، اس نے میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا پھر اس نے مجھے پکڑلیا مجھ سے میری ساری جمع پونجی چھین لی اور ریڑھی پر بھی قبضہ کرلیا۔ میں کسی طرح آنکھ بچا کر تھانے سے نکلا ہوں اور بھاگتا ہوا آپ کے پاس پہنچا ہوں۔ رائے قدرت نے اس کی دردبھری کہانی سنی اور کہا ’’کوئی بات نہیں، تمہاری دادرسی ہوگی‘‘۔ اس بے چارے نے کہا ’’سر! میری ریڑھی واپس آجائے اور میرے اوپر مقدمہ ختم ہوجائے تو میں آپ کے بچوں کو زندگی بھر دعائیں دوں گا‘‘۔
رائے قدرت اسی وقت اس کے ساتھ چل پڑا اور تھانیدار سے کہا کچھ خدا کا خوف کرو۔ اس غریب آدمی کے ساتھ تم نے جو ظلم ڈھایا، اس کے بعد کیا تم اور تمہارے بچے اس رقم کو آسانی سے ہضم کرسکیں گے؟ تھانیدار رائے کو اچھی طرح جانتا تھا اور اس کے ایک بلاوے پر نوجوانوں کے جمع ہوجانے سے بھی باخبر تھا۔ رائے قدرت نے دھڑلے سے بات کرتے ہوئے کہا مجھے سب سے پہلے وہ پرچہ دکھائو جو تم نے اس بے گناہ کے خلاف درج کیا ہے۔ تھانیدار نے رائے قدرت کے کان میں کہا ’’اس کے خلاف کوئی پرچہ درج نہیں ہے‘‘۔
رائے قدرت چونکہ تھانے اور کچہری سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے اس نے کہا کہ مجھے روزنامچہ دکھائو۔ روزنامچے میں اس نے دیکھا تو مزدور کا نام درج نہیں تھا، اس کے بعد رائے نے کہا کہ اس مظلوم سے جتنے پیسے بٹورے ہیں، واپس کردو۔ تھانیدار نے پس و پیش کی رائے قدرت نے کہا ٹھیک ہے میں واپس جارہا ہوں۔ تھانیدار اچھی طرح سے جانتا تھا کہ رائے قدرت ناراض ہوکر چلاگیا تو ہنگامہ برپا ہوجائے گا۔ اس نے آگے بڑھ کر رائے کا ہاتھ پکڑا اور جتنی رقم بٹوری تھی، اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
رائے نے کہا ’’مجھے نہیں معلوم تم نے کتنی رقم مزدور سے بٹوری تھی۔ اگر وہ تصدیق کردے گا تو ٹھیک ہے‘‘ مزدور نے بتایا کہ اس کی پوری رقم اتنی ہی ہے۔
رائے قدرت نے تھانیدار سے پوچھے بغیر مزدور سے کہا ’’جائو تمہاری ریڑھی وہ کھڑی ہے۔ اسے لے جائو اور بہتر یہی ہے کہ کسی اور بازار میں ریڑھی لگائو‘‘۔ مزدور دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔
رائے قدرت صحیح معنوں میں ولی اللہ تھا۔ میں نے اس سے ایک روز کہا ’’رائے قدرت، تمہارے اوپر اللہ کا بڑا کرم ہے کہ تمہیں اللہ نے خدمت خلق کی توفیق بخشی ہے۔ تم نے بڑی نیکیاں اپنے نامہ اعمال میں جمع کرلی ہیں۔ یہ سن کر رائے قدرت اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا ’’بھائی صاحب! مجھ سے زیادہ شاید دنیا میں کوئی گنہگار نہیں۔ میں نے اللہ کے حقوق بھی مارے ہیں اور بندوں کے بھی۔ شاید آپ میرے ماضی کو نہیں جانتے۔ آپ میرے حق میں دعا کیا کریں۔ آپ نے جس انداز میں میری تعریف کی ہے۔ اس طرح کی تعریف کسی حقیقی نیک آدمی کی بھی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ تعریف بھی بڑا فتنہ ہوتی ہے۔ بہرحال یہ آپ کی محبت اور حسن ظن ہے ورنہ میں اگر آپ کے سامنے وہ سب کچھ بیان کردوں جو میرے نامہ اعمال میں ہے تو آپ میرے منہ پر تھوک دیں۔ اللہ تو بہت بڑا ہے۔ اپنی عظمت اور بڑائی کے مطابق اس کا ظرف بھی بڑا ہے۔ اس لیے وہ بندوں کو برداشت بھی کرتا ہے، چشم پوشی بھی کرتا ہے اور اس کی رحمت سے امید بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ نامہ اعمال کو نہ دیکھے بلکہ اپنے سایہ رحمت سے بندوں کو ڈھانپ دے۔ میرے بارے میں حقائق جاننے والے یہاں نہیں ہیں۔ میں نے اپنا علاقہ چھوڑ دیا، میں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا، میں نے ایک نئی زندگی شروع کی ہے۔
یہ سن کر مجھے تعجب ہوا۔ میں نے آج تک یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ رائے قدرت میں کوئی عیب یا خرابی بھی ہوسکتی ہے مگر جو کچھ وہ کہہ رہا تھا، ظاہر ہے اس پر یقین نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ تھی کیونکہ اسے اس طرح کا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔
میرے اصرار پر رائے قدرت نے میری طرف دیکھا پھر سنجیدہ ہوگیا، کچھ دیر خاموش رہا، پھر سراٹھایا اور کہا ’’اس موضوع پر آپ بلاوجہ مجھے کرید رہے ہیں، میں اپنے نامہ اعمال میں کچھ بھی جمع پونجی نہیں پارہا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگا، میں خود بھی اس بارے میں کبھی کبھی سوچتا ہوں۔ میرا ایک ہی عمل مجھے کچھ امید بندھاتا ہے کہ شاید میں سرخرو ہوجائوں‘‘۔
ایک کٹھن نیک عمل
میں نے کہا ’’وہ عمل کون سا ہے؟‘‘
اس نے کہا ’’جوانی کا عالم تھا۔ اس بازار میں بھی جانا ہوتا تھا، صرف گانے سننے ہی کا شوق تھا۔ اس کے علاوہ کوئی لت تھی نہ میں کسی اور کام میں دلچسپی رکھتا تھا۔ اس بازار میں مختلف کوٹھوں پر گیا، گانے سنے، ماحول دیکھا۔ جب میں ایک کوٹھے پر گیا تو وہاں ایک نوجوان لڑکی اپنی آواز کا جادو جگارہی تھی۔ کسی نے بتایا کہ یہ منگول لڑکی ہے اور منگول رانی کے نام سے مشہور ہے۔ شاید اس کا تعلق بھی اسی علاقہ سے تھا جہاں سے بابر جیسا فاتح ابھرا تھا۔ بہت چھوٹی عمر میں ایک بردہ فروش یہاں آکر اسے فروخت کرگیا تھا۔ خوبصورت اور تنومند تھی اور آواز کی شیرینی بے پناہ تھی۔ ناچنا بھی جانتی تھی، یہ ساری اخلاق باختہ باتیں کرتے ہوئے میں اپنے آپ کو مجرم تصور کرتا ہوں۔ کیا کروں آپ نے سوال ہی ایسا کیا ہے۔ ایک دن گانا سننے کے بعد میں نے کہا ’’کیوں رانی، تمہیں یہ زندگی اچھی لگتی ہے؟‘‘ کم و بیش ایسا ہی سوال میں ہر کوٹھے پر کرچکا تھا۔ اس کا جواب ہر جگہ ایک جیسا ملا۔ یہ زندگی بہت اچھی ہے، عیش و عشرت اور نام و شہرت بھی ہے۔ رانی سے جب میں نے یہ سوال کیا تو اس نے کہا ’’مجھے نہیں معلوم کہ میرے ماں باپ کون ہیں، مجھے کوئی بہت ہی چھوٹی عمر میں یہاں لے آیا تھا۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ میرا باپ لکڑی کی ٹال چلایا کرتا تھا اور میری ماں گھر میں کام بھی کرتی تھی اور نماز بھی پڑھتی تھی۔ میں نہ کام کرسکتی ہوں اور نہ نماز کے قابل ہوں۔ موسیقی کے اتار چڑھائو اور آلات موسیقی کے استعمال کی مجھے بہت تربیت دی گئی ہے لیکن ان سب چیزوں کو دل سے میں نے کبھی قبول نہ کیا۔ ہائے! محفل کی شمع بننے کے باوجود میں اندر سے اداسی اور تاریکی کا شکار ہوں‘‘۔
اس کی ان باتوں سے مجھے بے پناہ خوشی ہوئی۔ میں نے کہا تمہاری کتنی قیمت ادا کی گئی تھی؟ اس نے کہا یہ تو مجھے معلوم نہیں مگر میں نے لاکھوں روپے کمائے ہیں اور منی بیگم کے قدموں میں ڈھیر کیے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک بڑا جاگیر دار آیا تھا اور منی بیگم سے میرے بارے میں گفتگو کررہا تھا۔ منی بیگم نے مجھے کسی کام سے دوسرے کمرے میں بھیج دیا مگر میں نے کان لگاکر سن لیا۔ میری قیمت طے ہورہی تھی۔ اس روز میری قیمت دو لاکھ روپے مقرر ہوئی۔ جاگیردار یہ سن کر بدمزہ ہوا اور سودا طے نہ پاسکا۔
میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور پوچھا منی بیگم کتنی رقم لے کر تمہیں رہا کرنے پر آمادہ ہوجائے گی؟ اس نے کہا میں کچھ کہہ نہیں سکتی کیونکہ اس بازار میں لوگوں کی نہ کوئی زبان ہوتی ہے نہ ایمان، نہ کوئی اصول نہ ضابطہ۔ البتہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرلے گی لیکن کوئی مجھے خرید کر کیا کرے گا اور مجھے معاشرہ کیسے قبول کرے گا؟ میں نے کہا تم اس بات کو جانے دو۔ اگر تم مجھے پسند کرو تو سب کچھ ممکن ہوجائے گا۔
منگول رانی نے کہا تم ناراض نہ ہوجانا، میں تو کہتی ہوں کوئی بھی مرد ہو، خواہ شکل و صورت کے لحاظ سے کیسا ہی ہو۔ ایک شریف انسان ہو۔ مجھے قبول کرلے تو میں اسے بخوشی قبول کرلوں گی۔ اے کاش! مجھے غلاظت کے اس ماحول سے نجات مل جائے۔
میں منگول رانی کی اس بازار سے باعزت واپسی کا خواہاں تھا۔ میرے اندر کا انسان جاگ اٹھا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ میں کتنا گنہگار انسان ہوں۔ میرے گھر میں میری بہنیں ہیں، میں بہنوں کا بھائی ہوں۔ یہ ٹھیک ہے کہ میری شادی نہیں ہوئی۔ میری بیٹی نہیں ہے۔ لیکن منگول رانی بھی تو کسی بھائی کی بہن اور کسی باپ کی بیٹی ہے۔ اور کچھ نہیں تو حوا کی بیٹی تو ہے۔ میں نے کہا ’’منگول رانی، مجھے جانے دیجیے اور اس بات کو راز رہنے دیجیے، میں پھر آئوں گا‘‘۔
اگلے دن میں گائوں گیا، میں نے ہمت کرکے اپنے والد کے سامنے پوری بات کہہ ڈالی۔ میرا والد ایک ان پڑھ دیہاتی تھا۔ میری بات سن کر انہوں نے لاٹھی اٹھائی اور کہا ’’خبردار بدتمیز، بے حیا! کیا گھر میں کنجر خانہ کھولنا چاہتے ہو۔ میں نے اپنے باپ کو لاکھ سمجھایا لیکن وہ نہ مانے۔
والد کا انتقال اور زمین کا بٹوارا
اسی دوران مجھے اطلاع ملی کہ میرے والد شدید بیمار ہیں۔ میں فوراً گھر پہنچا تو دیکھا میرے والد فوت ہوچکے تھے اور ان کا جنازہ تیار تھا۔ مجھے اپنے والد کی وفات پر بڑا صدمہ ہوا۔ پھر میں نے سوچا کہ شاید اللہ نے مجھے ڈاکہ ڈالنے سے بچانے کے لیے یہ سارا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ تین دن تک تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ دیہاتی اور قبائلی رسومات کے مطابق دسویں دن ختم قرآن ہوا۔ پھر چالیسواں کرنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ اس دوران میں شہر گیا اور منگول رانی سے ملاقات کی اور اسے اتنے دن غیرحاضر رہنے کی وجہ بتائی۔ اس نے مجھ سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ ’’تم باپ کی شفقت سے محروم ہوگئے ہو۔ میں تو بچپن ہی سے باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا سے محروم چلی آرہی ہوں‘‘۔ میں نے منگول رانی کو تسلی دی شاید اللہ ہمارے لیے کوئی راستہ آسان کردے۔ اس کے ذہن میں تو کوئی بات نہیں آئی مگر اس نے دعائیہ انداز میں آمین کہا۔
میں ایک مہینے کا وعدہ کرکے چلا آیا۔ چالیسواں مکمل ہوا۔ پھر میں رانا شمشاد کے پاس گیا۔ یہ شخص زمینیں خریدنے کا بڑا شوقین تھا۔ اس کے پاس بے پناہ دولت تھی۔ میں نے رانا شمشاد سے کہا ’’میں کچھ زمین بیچنا چاہتا ہوں‘‘۔ اس نے پوچھا بھائیوں سے مشورہ کرلیا ہے؟ میں نے جواب میں کہا ’’بھائیوں کا اور میرا حصہ علیحدہ ہوگیا ہے۔ اس نے کہا تمہاری زمین اتنی اچھی نہیں ہیں، البتہ یہ بتائو کہ راجباہ کے ساتھ والے دس ایکڑ میں سے تمہارے حصے میں کچھ آیا ہے۔ میں نے کہا یہ دس ایکڑ ہی میرے حصے میں آئے ہیں، اس کی کیا قیمت دو گے؟ اس نے کہا اگر پورے دس ایکڑ بیچو گے تو پانچ لاکھ روپے دوں گا۔ حالانکہ اس وقت کے مروجہ خرید و فروخت کے نرخ کے مطابق دس ایکڑ کی قیمت دس لاکھ روپے سے کسی صورت کم نہ تھی۔ قصہ کوتاہ یہ کہ سودا سات لاکھ میں طے پاگیا۔ رانا شمشاد کے نام زمین کا انتقال ہوگیا۔ اس نے آدھی رقم تو ادا کردی تھی، مگر آدھی رقم خریف کی فصل آنے تک ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ رانا شمشاد زبان کا اچھا انسان تھا جو وعدہ کرتا اسے پورا کرتا مگر لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر اونے پونے زمینیں خرید لیتا۔ میں رقم لے کر شہر گیا اور زندگی میں پہلی مرتبہ بنک اکائونٹ کھولا۔ اتفاق سے ہمارے گائوں کا ایک لڑکا شوکت محمود اس بنک میں ملازم تھا۔ اس نے میری مدد کی۔ میں نے پیسے بنک میں رکھے۔
میں نے رکھ رکھائو کے ساتھ منی بیگم سے متعلقہ موضوع پر بات چیت کا ڈول ڈالا۔ اس کے ساتھ میری علیک سلیک تو پہلے سے تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ میں کسی بڑے زمیندار کا چشم و چراغ ہوں حالانکہ میرے پاس کبھی بڑی رقم نہیں ہوا کرتی تھی البتہ مجھے اچھا لباس اور اچھے جوتے پہننے کا شوق تھا، اسی وجہ سے اسے غلط فہمی تھی۔
وہ منگول رانی سے اس وقت کبیدہ خاطر تھی کیونکہ اس نے منی بیگم کو خوش کرنے کے بجائے ناراض کرنا شروع کردیا تھا۔ منی بیگم کے پاس اور بھی کئی کوٹھے تھے اور کئی نوجوان لڑکیاں اس کے قبضہ میں تھیں۔ وہ خرید و فروخت کا دھندہ کرتی رہتی تھی۔ جب میں نے منی بیگم سے کہا کہ منگول رانی عجیب لڑکی ہے۔ منہ بسورے بیٹھی رہتی ہے۔ ہر سوال کا ایسا جواب دیتی ہے کہ آدمی جل بھن جائے تو منی بیگم نے کہا ’’ہاں میں بھی کئی دنوں سے یہ بات نوٹ کررہی ہوں۔ یہ کچھ ذہنی مریضہ بن گئی ہے۔ اب میں چاہتی ہوں کہ کوئی اچھا خریدار مل جائے تو اس سے جان چھڑائوں‘‘۔
میں نے کہا اسے کون خریدے گا۔
منی بیگم نے کہا کوئی بھی لے جائے، میری جان چھوٹے۔
میں نے کہا اچھا بتائو اس کی قیمت کیا ہے؟
اس نے کہا اس کی قیمت تو بہت تھی مگر اب موجودہ صورتحال میں صرف پچاس ہزار روپے ہے۔
میں نے کہا پچاس ہزار سے کچھ کم کرلو۔
اس نے کہا پچاس ہزار میں سے ایک دھیلہ کم نہیں لوں گی۔
میں نے کہا اچھا رقم قسطوں میں ادا کروں گا۔
اس نے کہا قسطیں مجھے منظور نہیں ہیں۔ نقد چالیس ہزار روپے بھی دے دو قبول کرلوں گی۔
میں حیران ہوا کہ ابھی ایک دھیلہ بھی کم نہیں کررہی تھی، اب پچاس سے چالیس پر آگئی ہے۔ یہ اس لیے تھا کہ منگول رانی پہلے بھی غصیلی تھی۔ جس دن میں نے منگول رانی سے یہ بات کی اس دن سے تو اس کا رویہ منی بیگم اور گاہکوں کے ساتھ ترش سے تلخ اور تلخ سے تلخ تر ہوتا جارہا تھا اور منی بیگم سمجھ رہی تھی کہ یہ اس کے لیے فائدہ مند نہیں رہی۔
میں نے منی بیگم سے کہا رقم بہت زیادہ ہے، شام تک بندوبست کرتا ہوں، اگر رقم فراہم ہوگئی تو میرا سودا برقرار ورنہ میں مجبور ہوں اور تم آزاد۔
میں نے شام سے قبل ہی بنک سے پچاس ہزار روپے نکلوائے اور چالیس ہزار روپے لے کر منی بیگم کے پاس پہنچا۔ جب میں نے اس کے سامنے نوٹ رکھ دیے تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
اس نے کہا ’’کوئی ڈاکہ ڈالا ہے؟‘‘
میں نے کہا تمہیں اس سے کیا غرض؟
اس نے پھرتی سے نوٹ گن کر کہا ’’رقم پوری چالیس ہزار ہے‘‘ رقم اس کے حوالے کرکے میں نے رسید حاصل کی، دستخط لیے اور یہ تحریر لے کر خوشی خوشی منگول رانی کے پاس پہنچ گیا۔
رانی منگول سجدہ ریز ہوگئی
منگول رانی سے کہا ’’دیکھو! یہ آزادی کا پروانہ لایا ہوں‘‘ یہ سن کر وہ اس قدر خوش ہوئی کہ سجدے میں گرگئی۔ جب سر اٹھایا تو اس کے گالوں پر آنسوئوں سے لکیر سی بن گئی تھی۔ اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ منگول رانی کو کیسے گھریلو خاتون بنایا جائے۔ میں اسے گھر لے جاتا مگر سارے رشتہ داروں کے بارے میں سوچا تو اس نتیجے پر پہنچا برادری کا کوئی شخص اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ساری برادری میرا حقہ پانی بند کردے۔ میں نے دل میں سوچا کہ نیکی اس وجہ سے نیکی نہیں ہوتی کہ لوگ اسے قبول کرلیں۔ نیکی اپنی ذات میں نیکی ہوتی ہے اور برائی اس وجہ سے اچھی نہیں ہوجاتی کہ لوگ اسے اچھا کہنے لگیں۔ برائی اپنی ذات میں برائی ہوتی ہے۔ میں نے دل میں کہا کہ جب منگول رانی اس بات پر راضی ہے تو مجھے کیا پروا۔ مجھے یقین تھا کہ میرا یہ عمل اللہ کو بھی پسند ہے۔ سوچ سوچ کر میں منگول رانی کو شوکت محمود کے گھر چھوڑ کر اپنے ایک عزیز بزرگ کے پاس گیا۔ شوکت کے بیوی بچے شہر میں اس کے ساتھ رہتے تھے۔ میں نے منگول رانی کو بتادیا تھا کہ وہ میرے گائوں سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی بیوی شریف اور پڑھی لکھی خاتون ہے اور یہ کہ وہ ایک دن کے لیے اس کے پاس قیام کرے اور میں گائوں سے ہوکر آتا ہوں۔
میں اپنے گائوں کے بزرگ مولانا مفتی نور الحق صاحب کے پہنچا۔ وہ زمیندار ہونے کے علاوہ عالم دین بھی تھے اور علاقہ کے معزز بزرگ بھی۔ میں ان کے سامنے جاکر اپنی بات کرنا چاہتا تھا اور یہ خیال تھا کہ وہ میری بات کو بہت پسند کریں گے۔ میں نے بات شروع کی تو اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق میری بات کو بڑے تحمل اور صبر سے سنتے رہے، جب میں بات مکمل کرچکا تو انہوں نے کہا ’’یہ کام برا نہیں ہے مگر کیا کریں علاقے اور برادری کے لوگ جاہل ہیں وہ نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکتے اس لیے میں تو معذرت خواہ ہوں۔
مجھے بڑا افسوس ہوا، میں نے مفتی صاحب سے کہا میں نے چہار سو نظر دوڑائی، مجھے آپ کے سوا کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو اس کارخیر کی اہمیت کو سمجھتا ہو اور جو اس کام میں میرا مددگار ہوسکے۔ مجھے بڑی مایوسی ہوئی ہے کہ آپ اپنے علم اور تقویٰ کے باوجود جاہلیت کے سامنے سربسجود ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا تم جو کچھ بھی کہو، میرے لیے مجبوری ہے۔ میں لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا، لیکن تمہارے کام میں کوئی قباحت نہیں ہے، ہوجائے تو اچھا ہے۔
علاقے کے ایک اور بزرگ آدمی حشمت اللہ شاہ بخاری بھی بڑے دبنگ انسان اور عالم ربانی تھے۔ مفتی صاحب سے مایوس ہونے کے بعد بخاری صاحب کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ بخاری صاحب سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے اپنا تعارف کروایا۔ میں نے ان سے عرض کیا ’’میں ایک خاص بات کے سلسلے میں آپ کے پاس آیا ہوں‘‘۔
میں نے ساری بات بتائی۔ وہ توجہ سے سنتے رہے۔ میں محسوس کرنے لگا کہ جونہی بات آگے بڑھا رہا ہوں ان کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے اور ان کی چہرے پر خوشگوار مسرت اور خوشی کے آثار نمودار ہورہے ہیں۔ میں نے بات مکمل کی، انہوں نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کی طرف بڑھایا۔ میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔
مجھے یہ بات سن کر بہت شرم محسوس ہوئی۔ میں نے کہا ’’حضرت! آپ مجھے شرمسار کررہے ہیں یا مجھ سے مذاق کررہے ہیں؟‘‘۔
انہوں نے کہا مذاق کی بات نہیں ہے۔ تم نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ یہی تو مردانگی ہے اور یہی دین اسلام۔ مجھے حکم کرو تو میں تمہارے ساتھ چلوں اور اگر مناسب سمجھو تو اس خاتون کو یہیں لے آئو۔ میں مسجد میں اعلان بھی کروں گا اور تمام لوگوں کو نکاح کی دعوت بھی دوں گا اور اس کے بعد تمہاری عظیم داستان بھی بیان کروں گا۔
مجھے بڑی خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں نے سوچا کہ علم تو سب کے پاس ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ علم کے مطابق حکمت اور جرات سے بھی کام لیتے ہیں۔ یہ دولت بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ دیگر لوگ علم کو مصلحت کی سان چڑھاکر رخصت کا راستہ اپنالیتے ہیں۔ میں ان سے رخصت لے کر چلا اور کہا میں شام تک ان کے ہاں حاضر ہوں گا۔
میں شہر پہنچا۔ وہاں سے ایک ٹیکسی کرایہ پر لی۔ بازار سے منگول رانی کے لیے کپڑوں کے کچھ تیار جوڑے اس کی پسند کے مطابق خریدے۔ اس مختصر وقت میں زیور خریدنے کا موقع نہ ملا۔ میں نے دیکھا کہ منگول رانی کو کپڑوں اور زیور کی کوئی ہوس نہ تھی۔ اب گناہ کی زندگی چھوڑ کر ایک پاکیزہ زندگی گزارنے کا موقع مل رہا تھا۔ یہ اس کا زیور تھا اور یہی اس کا سرمایہ۔
میں منگول رانی کو لے کر بخاری صاحب کے پاس پہنچا۔ بخاری صاحب نے منگول رانی کو اپنے گھر میں بھجوادیا۔ ان کی بیوی اور بیٹیاں پہلے سے باخبر تھیں۔ انہوں نے اس کا استقبال کیا اور اسے پہلی مرتبہ یہ محسوس ہوا کہ وہ گھر میں آگئی ہے۔ بخاری صاحب کی بیوی نے اسے اپنی بیٹی بنالیا اور جونہی بخاری صاحب کی بیوی نے کہا کہ تم ہماری بیٹیوں جیسی ہو تو منگول رانی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ یہ خوشی کے آنسو ہی تھے مگر اپنی مامتا کی یاد، فراق اور احساس بھی اس میں شامل تھا۔
بس یار! وہ لمحہ بڑا یادگار تھا جب بخاری صاحب اعلان کررہے تھے اور سب مقتدی مؤدب انداز میں بیٹھے تھے۔ ظاہر ہے کہ بخاری صاحب نے اپنے حلقے میں لوگوں کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ وہ نیکی اور برائی کا صحیح ادراک رکھتے تھے۔ ظاہری اور نمائشی نیکیوں سے مبرا اور حقیقی نیکیوں سے واقف لوگ اس مسجد میں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ آج دراصل منگول رانی ہی نہیں میری زندگی کا بھی ایک بالکل نیا باب شروع ہورہا تھا۔ نکاح پڑھا گیا اور بڑی عجیب بات یہ تھی کہ میرے خاندان کا کوئی بھی فرد اس میں شامل نہ تھا۔ جبکہ منگول رانی کے خاندان کا اتا پتا بھی نہیں تھا یوں میری اور منگول رانی کی نئی زندگی کا آغاز ہوا۔
بخاری صاحب نے خطبہ نکاح کے بعد فرمایا ’’منگول رانی کا نام فخر النسائتیموریہ ہے اور یہ میرے لیے اپنی بیٹیوں جیسی ہے۔ میں اسے اپنے گھر سے اس انداز سے رخصت کروں گا کہ جس طرح اپنی بیٹیوں کو رخصت کیا ہے‘‘۔ اس روز بخاری صاحب نے سادہ مگر پروقار ضیافت کا بھی اہتمام کیا اور مجھے حکم دیا کہ حسب استطاعت ولیمہ کا انتظام کروں۔
بخاری صاحب کے مشورے سے ایک ہفتہ بعد ولیمہ کی تاریخ مقرر ہوئی۔ میں نے گھر والوں اور رشتہ داروں کو بھی بتادیا۔ اب بخاری صاحب کی وجہ سے لوگ کچھ نرم پڑگئے۔ ولیمے کے لیے سب راضی ہوگئی اور فخر النسا کو گھر لانے پر بھی کسی کو اعتراض نہ تھا۔ یوں ولیمہ بھی ہوگیا اور علاقے کے لوگ حیران رہ گئے۔ جب بخاری صاحب نے سب کے سامنے اعلان کیا کہ تیموریہ ان کی بیٹی ہے۔
منگول رانی سے فخر النساء بننے کے بعد بخاری صاحب کی اہلیہ اور بیٹیوں نے اسے نماز روزے کی تربیت اور ناظرہ قرآن صحت کے ساتھ پڑھنے کی تعلیم دی۔ اسے اتنا شوق تھا کہ ان خواتین کے بقول ہفتوں کا سبق دنوں میں ازبر کرلیتی تھی۔ اب اس کا اپنا شغل ہی یہ ہے کہ محلے کی بچیوں اور بالغ خواتین خاص طور پر گھروں میں کام کرنے والیوں کو ناظرہ قرآن پڑھاتی ہے۔ اسے دیکھ کر تو میں نے بھی اپنے محلے کی مسجد میں ناظرہ قرآن مکمل کرلیا ہے اور ہاں یار! ایک بات بتانا بھول ہی گیا تھا، جب بخاری صاحب نے ہمیں اپنے گھر سے رخصت کیا تو فرمایا ’’علامہ اقبال کی لحد پر جاکر بتادینا کہ حمیت تیمور کے گھر لوٹ آئی ہے‘‘۔

حصہ