آپ ایک ماں ہیں

166

بحیثیت ماں اگر آپ اپنے بچے کی زندگی اور مستقبل کو سنوارنے کی خواہش مند ہیں تو پھر حسبِ ذیل چند بنیادی نوعیت کی باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے:
اپنی سوچ بدلیں
اپنے بچے کی پرورش و تربیت اچھے انداز میں کرنے کے لیے آپ کو اپنی روایتی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ بچہ چھوٹا اور کمزور تو ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہمیشہ غلط بھی ہو، اور آپ چونکہ بڑے ہیں، ماں باپ ہیں تو آپ سے کبھی کوئی غلطی، قصور یا نقصان نہیں ہوسکتا۔ اپنی اس سوچ کو بدلیں، ہر بات میں بچے کو قصوروار سمجھنا، ہر غلطی کا الزام بچے کو دینا ہرگز مناسب طرزِعمل نہیں ہے-
سوچ انسان کے عمل کی بنیاد ہوتی ہے، آپ کی اور آپ کے بچے کی خوشیوں اور کامیابیوں کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی روایتی/ منفی سوچ ہوتی ہے- حالات کو بدلنے کے لیے سوچ کا بدلنا ضروری ہوتا ہے- جوں ہی آپ اپنی سوچ کو بدلیں گی بہت سی پریشانیوں، ناکامیوں اور مسائل کے بادل چھٹنے لگیں گے اور امید، یقین، خوشی و طمانیت اور زندگی کے رنگوں سے بھری کرنیں آپ کے اردگرد جگمگانے لگیں گی۔
رویّے میں لچک پیدا کریں
وہ مائیں جن کے رویوں میں لچک نہیں ہوتی اور وہ پرورش و تربیت کے روایتی طریقوں پر سختی سے ڈٹی رہتی ہیں اُن کے بچے کمزور شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسی مائیں اپنے بچے/ بچی کے کسی مسئلے کا حل تو چاہتی ہیں مگر خود کو بدلنے پر ہرگز تیار نہیں ہوتیں، چنانچہ ان کے بچے ایک کے بعد دوسرے مسئلے کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بہت سی مائیں جو سمجھ داری و معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتی ہیں بہت جلد خود کو اور اپنے بچے/بچی کو مسائل کے بھنور سے نکال لیتی ہیں۔
توازن و ترتیب پیدا کریں
بچوں کی اچھی پرورش و تربیت کرنے کی خواہش مند ماؤں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے تو خود اپنی زندگی اور شخصیت کو منظم و متوازن بنائیں، کیوں کہ توازن و ترتیب کے اصول پر عمل کیے بغیر ان کی کوششیں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتیں۔ جس ماں کی اپنی زندگی اور معمولات غیر متوازن و بے ترتیب ہوں بھلا وہ اپنے بچے/بچی میں یہ خوبی کیسے پیدا کر پائے گی؟
ٹائم ٹیبل بنائیں
بچوں کی مثالی پرورش و تربیت کرنے یا بچے/بچی کے کسی ذہنی و نفسیاتی، جذباتی و جسمانی یا تعلیمی مسئلے کے بروقت و مناسب حل کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ وقت کی کمی قرار پاتی ہے۔ آج کے دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر دوسری ماں وقت کی کمی کا شکوہ کرتی سنائی دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معمولات و مصروفیات اور ترجیحات بدل گئی ہیں۔ راتوں کو بے مقصد و بے مصرف جاگنے، دن بھر یا بیشتر وقت سوتے رہنے، گھنٹوں کے حساب سے ٹی وی اور موبائل کو وقت دینے، گھومنے پھرنے، شاپنگ کرنے، فون پر لمبی لمبی گپیں لگانے والی ماؤں کے پاس بچوں کی پرورش و تربیت یا ان کے مسائل کے حل کے لیے واقعی وقت نہیں بچتا۔ لیکن اپنے بچوں کی پرورش و تربیت کرنے، یا مسائل کے بروقت و مناسب حل کی خواہش مند ہر سمجھ دار و ذمہ دار ماں نہایت سنجیدگی کے ساتھ ٹائم ٹیبل/نظام الاوقات کی نہ صرف خود پابندی کرتی ہے بلکہ اپنے بچوں میں بھی اس کی پابندی کی عادت پختہ کرتی ہے، یوں تمام افرادِ خانہ کی زندگی اور شخصیت میں ایک سکون، ٹھیراؤ، نظم وضبط اور وقار نظر آتا ہے۔
صبر وتحمل اور برداشت پیدا کریں
بچوں کی پرورش و تربیت کا کام ایک ماں سے بے پناہ صبر و تحمل اور قوتِ برداشت کا متقاضی ہوتا ہے جس کی ضرورت اسے قدم قدم پر پڑتی ہے۔ وہ مائیں جو بےصبری، جلد باز، چڑچڑی اور کمزور قوتِ برداشت کی حامل ہوتی ہیں ایک تو بہت جلد مایوس ہوکر، تھک کر، ہمت ہار جاتی ہیں۔ دوسرا اُن کے بچے بھی اُن ہی کی طرح غصیلے، جھگڑالو، بدتمیز اور بے صبرے ہوتے ہیں۔
اپنے بچے سے یہ باتیں ضرور کہیں
بحیثیت ماں آپ کو چاہیے کہ اکثر اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کی باتیں ضرور کریں، اس سے بچے کو نہ صرف خوشی ہوتی ہے بلکہ تسکین بھی ملتی ہے، اور اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے:
”تم بہت بہادر ہو، ہمت اور حوصلے والے ہو۔ میرا بیٹا تو بہت strong ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں، چیزوں اور تکلیفوں سے بالکل نہیں گھبراتا۔ میرے بیٹے جیسا تو کوئی بھی نہیں ہے۔ تم بہت اچھے، پیارے اور منفرد ہو۔“اگر بچہ کوئی سوال پوچھے تو کہیں ”واہ میرا بیٹا کتنا ذہین ہے، بہت اچھا سوال پوچھا ہے تم نے“۔ اگر باربار سوال پوچھے تو پھر اُس کے سوال پر آپ سوال کریں یعنی cross questions کریں۔
بچے کی خوبیوں، صلاحیتوں، کاموں اور کوششوں کی تعریف کریں ”واہ بہت عمدہ کوشش ہے، بہت اچھا کام کیا، تم بہت کچھ کرسکتے ہو، تم میں ذہانت بھی ہے اور کام کرنے، آگے بڑھنے کا جذبہ بھی۔“ کچھ وقت بچے کے ساتھ لازمی گزاریں اور اُسے بتائیں کہ مجھے تمھارے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے۔
بچے کو گود میں لے کر پیار کریں اور کہیں کہ ”مجھے تم سے بہت پیار ہے، تم میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہو“۔ ماں کی گود کی گرمی، بازوؤں کا لمس بچے کے اندر تحفظ کا احساس پیدا کرتا اور جذباتی تسکین کا باعث بنتا ہے۔
اگر کبھی بچے کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اپنے ساتھ، توجہ اور محبت سے رہنمائی کا احساس دلا کر بچے کو اس مسئلے کا حل خود تلاش کرنے دیں، اور اسے بتائیں کہ ہر مسئلے، مشکل یا پریشانی کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے، تمھارے مسئلے کا بھی ہوگا، کوشش کرو۔ یاد رکھیں بچے کو مشکلوں، پریشانیوں اور مسائل سے دور نہ رکھیں بلکہ ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں تاکہ کل وہ دنیا کو اپنے زورِ بازو سے تسخیر کرنے کے عزم و حوصلے اور اعتماد کے ساتھ عملی زندگی کا آغاز کرے۔
بچے سے یہ جملے ہرگز مت کہیں
بچے کی ساری دنیا اُس کے والدین، گھر اور اُس کی چیزیں ہوتی ہیں۔ آپ(والدین) کی توجہ، محبت اور حوصلہ افزائی اُسے مطمئن، پُرسکون اور متوازن شخصیت کا مالک بناتی ہے، اور ماں باپ کی عدم توجہ اور حوصلہ شکنی بچے کی شخصیت اور نفسیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔
بحیثیت ماں اپنے بچے سے دوسروں کے سامنے ہی نہیں اکیلے میں بھی ایسے جملے ہرگز مت کہیں: ابھی مت بتاؤ، میرے پاس وقت نہیں ہے، مجھے تنگ مت کرو، اپنا کام کرنے دو، فضول باتیں نہ کرو، میں بہت تھکی ہوئی ہوں، کبھی خاموش بھی ہوجایا کرو، ہر وقت دماغ کھاتے ہو، وغیرہ۔ یاد رکھیں آج جو باتیں آپ بچے سے کہیں گی، کل بچہ وہی آپ کو لوٹائے گا۔
بچے کو ہر وقت اور بلا ضرورت اپنی مثالیں مت دیں، نہ بچے پر اپنے تجربات مسلط کریں۔ ضروری نہیں ہے کہ پرورش و تربیت کے جو روایتی طریقے آپ کے دور میں رائج تھے وہ آج بھی کارگر ہوں۔ ”تمھارا دھیان ہر وقت کہاں رہتا ہے! تمھاری سمجھ میں کوئی بات ایک بار بتانے سے کیوں نہیں آتی! آخر تم اتنے کند ذہن کیوں ہو!“ اس قسم کے جملوں اور رویّے سے بچے میں احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے، وہ خود کو بےوقوف، نالائق اور کند ذہن سمجھنے لگتا ہے: ”ہٹو، میں خود کرلوں گی، تم سے کام کہہ کر میں تو مصیبت میں پھنس جاتی ہوں، تم سے کام کہنے/ کروانے سے بہتر ہے میں خود کرلیا کروں“ وغیرہ-
ہر وقت اپنے بچے کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرکے اُسے احساسِ کمتری، چڑ، حسد اور ضد میں مبتلا مت کریں۔ یہ جذبے رفتہ رفتہ نفرت میں تبدیل ہوکر آپ کے بچے کی شخصیت اور زندگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔
اگر اپنے بچے سے متعلق اس طرح کے جملے آپ دوسروں کے سامنے کہنے کی عادی ہیں تو یاد رکھیے کہ آپ بچے کی ان منفی عادات کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں، کیونکہ اس طرح بچے کو لگتا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذکر کام/ بات/ حرکت کرتا ہے جسے اس کی ماما سب کو بتاتی ہیں۔ بصورتِ دیگر بعض اوقات بچے میں دوسروں سے جو ایک جھجک، لحاظ اور شرم ہوتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے اور بچہ زیادہ بےخوف اور خودسر ہوجاتا ہے، یا کبھی کبھی ماں کو ستانے، اس کی جھنجھلاہٹ اور بےبسی محسوس کرنے کے لیے بھی اور زیادہ ایسی حرکتیں کرتا ہے- یاد رکھیں بچے بڑوں سے زیادہ ذہین، سمجھدار اور حساس ہوتے ہیں۔ بحیثیت ماں آپ کی کہی ہوئی ہر بات، ہر جملہ، ہر لفظ آپ کے بچے کی شخصیت اور ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی صحت پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
بچے کو کب اور کتنا سکھانا/سمجھانا چاہیے؟
بحیثیت ماں آپ کو یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ بچے فطری طور پر لاابالی اور آزاد منش ہوتے ہیں۔ ہروقت ڈنڈا لے کر انھیں سکھانے، سمجھانے یا پڑھانے کی کوشش کرنا غلط ہے۔
پہلی بات یہ ذہن نشین کرلیں کہ ہر وقت، ہر جگہ اور ہر کسی کے سامنے سکھانے کی کوشش کرنا مناسب نہیں ہوتا- جس وقت بچہ غصے میں ہو، تھکا ہوا، اکتایا ہوا یا ضد کررہا ہو تو ہرگز اپنی بات منوانے یا سکھانے، سمجھانے کی کوشش مت کریں۔ بچے کو کوئی بھی بات سمجھانے، سکھانے کا بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب وہ خود ذہنی طور پر سیکھنے کے لیے آمادہ، راضی، تیار ہو۔
پانچ قیمتی سال
وہ مائیں جن کے بچے پانچ سال، یا اس سے کچھ کم عمر کے ہیں اچھی طرح سے یہ بات سمجھ لیں کہ بچے کی زندگی کے ابتدائی پانچ، چھ سال خصوصی اہمیت کے حامل اس لیے بھی ہوتے ہیں کیونکہ اس عرصے میں جسمانی کے ساتھ ساتھ اس کی دماغی نشوونما بھی ہورہی ہوتی ہے۔
عمر کے اس حصے میں بچے کا ذہن کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے جس پر گھر اور ماحول کے ہر طرح کے اچھے برے، مثبت منفی، اور ضروری غیر ضروری نقوش ثبت ہورہے ہوتے ہیں۔ اس عمر ہی میں بچے کی شخصیت کی بنیاد پڑتی ہے جس پر آئندہ زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ عمارت مضبوط ہو تو ”بچہ“ مثبت، متوازن اور مضبوط شخصیت اور کردار کا حامل بنتا ہے، بصورتِ دیگر کمزور اور غیر متوازن شخصیت کے ساتھ اس کی زندگی ہمیشہ مختلف مسائل کا شکار رہتی ہے۔ غصہ کرنے، چڑچڑا ہونے اور الجھنے کے بجائے خوش دلی کے ساتھ بچے کی اس ”ضرورت“ کو پورا کرنا آپ اور آپ کے بچے کو مسائل سے دور اور زندگی، صحت اور خوشیوں سے قریب تر کرے گا۔
آپ کے بچے کی زندگی کے یہ ابتدائی پانچ چھ سال اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ یہ پلٹ کرنہیں آئیں گے، مگر ان برسوں میں آپ کی جانب سے ہونے والی بے احتیاطی، غفلت اور عدم توجہ کا خمیازہ بچے کو عمر بھر بھگتنا پڑے گا۔
مندرجہ بالا چند باتیں نہ صرف بچوں کی پرورش و تربیت کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، بلکہ بچے/ بچی کے کسی ذہنی و نفسیاتی، جذباتی و جسمانی یا تعلیمی مسئلے کے بروقت و مناسب حل میں بھی آسانی پیدا کرتی ہیں، اور خود آپ کی شخصیت کی دلکشی، نکھار اور وقار کا باعث بھی بنتی ہیں۔
آپ بھی کوزہ گر کی مانند ہیں۔ جس طرح اُس کے ہاتھ چاک پر رکھی گیلی مٹی کو ذہن میں سوچی گئی چیزوں کی شکل میں مہارت سے گھڑتے چلے جاتے ہیں، انہیں خوب سے خوب تر بنانے میں وہ اپنی پوری محنت، مہارت، تجربہ اور ہنر آزماتا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص یا ٹیڑھ برداشت نہیں کرتا، بالکل اسی طرح اپنی گود میں پلنے والے گیلی مٹی جیسے بچوں کی شخصیت کو حسین و بےمثال اور باعثِ فخر بنانے میں اپنی پوری جان لگا دیں اور ان کی ذات اور شخصیت میں کسی کمی، خامی یا کجی کو گوارا نہ کریں کہ یہ بچے کا حق اور آپ کا فرض تو ہے ہی، ”ماں“ کے منصبِ جلیلہ کا تقاضا بھی ہے۔

حصہ