پیچیدہ شخصیات کی بڑھتی ہوئی تعداد

194

مغربی ملکوں میں تمام تر مادّی ترقی کے باوجود پیچیدہ شخصیات کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ وہاں آپ کو سیریل کلرز کی طویل فہرست مل جائے گی، صرف بوڑھی عورتوں کو قتل کرنے والے دستیاب ہوجائیں گے، لاشوں کے ٹکڑے کرکے ڈیپ فریزر میں رکھنے والے لوگ مل جائیں گے۔ سال میں چار ’’بیویاں‘‘ یا چار ’’شوہر‘‘ کرنے والوں کی بھی وہاں کوئی کمی نہیں۔ غرضیکہ پیچیدہ شخصیات کا ایک غیر معمولی تنوع وہاں موجود ہے۔ لیکن یہ تو مغرب کی کہانی ہے۔
ہماری کہانی یہ ہے کہ ہماری تمام تر مذہبیت اور پسماندگی کے باوجود ہمارے یہاں بھی پیچیدہ شخصیات کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ہمارا سماجی چہرہ علمی ہوگا تو ہماری ذاتی خواہشیں فلمی ہوں گی۔ ہم دفتر میں کچھ اور ہوتے ہیں اور گھر میں کچھ اور۔ ہمارے ایک دوست نے ایک دن غصے سے لرزتے اور روتے ہوئے ہمیں بتایا کہ اس کے والد بچوں کو ٹی وی بھی نہیں دیکھنے دیتے، لیکن خود اپنے کمرے میں وی سی آر پر قابلِ اعتراض فلمیں دیکھتے ہیں۔ ہم اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو بجا طور پر جو رعایت، محبت اور احترام دیتے ہیں… اپنی بیویوں، بہوئوں اور بھابھیوں کو اس رعایت، محبت اور احترام کا حق دار نہیں سمجھتے۔ غرضیکہ ہماری پیچیدگیوں اور تضادات کی داستان رقم کرنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مغرب اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ مغرب کی پیچیدگیاں سطحیت کا شاخسانہ ہیں، اور ہماری پیچیدگیاں دو دنیائوں کے امتزاج کا نتیجہ۔
مغرب خدا اور مذہب کا انکار کرکے ہزاروں برائیوں میں مبتلا ہوا ہوگا، لیکن اُس نے غلط ہی سہی، ایک اصول کو رد کرکے دوسرے اصول کو اختیار کرلیا۔ اس طرح اُس کی تبدیلی میں ایک ہمواری سی پیدا ہوگئی جس سے عمومی طور پر رویوں، مزاج اور عمل اور ردعمل میں خاصی یکسانیت در آئی۔ منافقت کی اصطلاح کو اگر سرسری اور سطحی معنوں میں استعمال کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ مغربی دنیا میں شخصی یا انفرادی سطح پر منافقت بہت کم پائی جاتی ہے۔ لیکن خدا اور مذہب کے انکار سے ایسی سطحیت کا پیدا ہونا لازمی امر ہے جس سے اکتاہٹ جنم لیتی ہے، اور اکتاہٹ سے کون سی منفی چیز ہے جو پیدا نہیں ہوتی! پھر یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ خدا اور مذہب کے انکار کے بعد خاندان کے ادارے کو قائم نہیں رکھا جاسکتا، اور مغرب میں یہ عمل ہوا جس کی وجہ سے نسلوں کی نسلیں اُس محبت، رفاقت اور نفسیاتی و جذباتی تحفظ سے محروم ہوگئیں جن کے بغیر مستحکم شخصیت کی تعمیر محال ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ اور ہے۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پُل بنانے اور امتزاج گھڑنے کا کام شروع کردیا ہے۔ پُل بنانا اچھی بات ہے، لیکن خوب صورتی اور بدصورتی کے درمیان پُل بنانا ناقابلِ فہم ہے۔ گوشۂ عافیت سے گہری کھائی تک پُل بنانے کا عمل بھی حماقت ہے۔ جہاں تک امتزاج کا تعلق ہے تو امتزاج ہم آہنگ چیزوں کا ہوتا ہے۔ آگ اور پانی کا امتزاج ممکن نہیں، اور اگر بالفرض کہیں ممکن بھی ہے تو اس عمل سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، لیکن بدقسمتی سے ہم نے مذکورہ بالا دونوں کام بڑے پیمانے پر شروع کر رکھے ہیں، چنانچہ ہمیں مذہب بھی عزیز ہے اور مذہب سے انحراف بھی ہمیں دلکش لگتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مغرب میں رویوں، مزاج اور عمل اور ردعمل میں جو یک رنگی دیکھنے میں آتی ہے، وہ ہمارے یہاں مفقود ہو چلی ہے۔ مشاہدہ ہے کہ لوگ جس بات پر ایک جگہ خوش ہوتے ہیں، دوسری جگہ اسی بات پر ناراض ہوجاتے ہیں۔ جس فقرے پر انہیں کہیں ہنسی آتی تھی، کہیں اور اس فقرے پر انہیں غصہ آجاتا ہے۔ جس تکلیف میں ہم اپنے کسی پیارے کو دیکھ کر بلبلا اٹھتے ہیں، کسی دوسرے کو اسی دکھ میں مبتلا کرکے ہمیں خیال بھی نہیں آتا کہ یہ ہم نے کیا کر دیا ہے! نتیجہ یہ ہے کہ انسانی تعلق اور تعلقات مفروضہ بن گئے ہیں اور ان کا کوئی اصول باقی نہیں رہا ہے۔
مسئلے کا فہم اس کا نصف حل ہوتا ہے، لیکن قصہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں شخصیت کا فہم خال خال ہی ملتا ہے۔ عام طور پر لوگ اپنی شخصیت اور زندگی کی روش پر غور نہیں کرتے، اور اتفاق سے کوئی کسی کو اُس کی کمزوری پر متوجہ بھی کرتا ہے تو اُسے مخالف اور دشمن سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال سے یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ لوگ اصول اور شخصیت میں امتیاز نہیں کرتے بلکہ ان کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، یا اگر کوئی اصول اور شخصیت میں فرق کرتا بھی ہے تو اُسے اپنی شخصیت ہی اصول نظر آتی ہے۔
دیکھا جائے تو امتزاج کی پشت پر ’’سہولت کا کھیل‘‘ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ اس میں کہیں سماجی سہولت کا جلوہ ہے، کہیں معاشی سہولت کی جھلک، اور کہیں نفسیاتی اور جذباتی سہولت کی قوسِ قزح۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کہیں ہمیں مذہب پر عمل میں سہولت ہے اور کہیں مذہب سے انحراف میں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ہم نے گوشۂ عافیت اور گہری کھائی کے مابین جو پُل بنایا ہے، اس سے ہم مذہب پر عمل کرکے اپنے انحرافات کے لیے ایک پردہ مہیا کرلیتے ہیں، حالانکہ مذہب ہماری داخلی اور خارجی شخصیت کے لیے ایک آئینے کی حیثیت رکھتا ہے، اس آئینے میں ہمارے تمام خدوخال نمایاں ہوجاتے ہیں، لیکن ہم مذہب کو بھی ’’ذاتی‘‘ چیز بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور اس سے بجائے خود بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں۔

حصہ