دلدل

95

دلدل کا نام سنتے ہی آ دمی کی روح کانپ جاتی ہے ۔یہ اکثر جنگلی بارانی علاقوں میں ہوتی ہے ۔ زیادہ تر کیچڑ نما ہوتی ہے اور آ دمی اور جانور مغالطے میں پھنس جاتے ہیں اور نکلنا ممکن نہیں ہوتا اور آ ہستہ آ ہستہ موت کا نظارہ ڈوبنے والا کرتا ہے ۔یہ صحرا میں بھی ہوتا ہے۔قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کون سی انہونی معلومات میں نے لکھ دی مگر ذرا توقف کیجئے میرا موضوع وہ دلدل ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا اور ہم سب اس میں پھنس چکے ہیں اور آہستہ آہستہ اس میں ڈوب رہے ہیں۔یہ ایک دو نہیں بلکہ ہمیں چاروں طرف سے گھیر کر ڈوبو رہے ہیں۔
انسان دو عناصر کا مرکب ہے اک جسم دوسرا روح۔اللہ نے انسانی جسم کو تین نفس عطا کئے۔’’ نفس امارۂ نفس لوامۂ نفس مطمئنہ۔
نفس امارہ وسوسوں،خواہشوں آرزوؤں،ہوس،انا، تکبر،بغض، حسد،کینہ، غصہ جنسی بے راہ روی لالچ،بخل کثل گویا شیطان کا گھر ہے ۔یہی دراصل ہماری ذات کی دلدلی شاہراہِ ہے جب کوئی انسان اس پر چلتا ہے تو غیر محسوس طریقے سے اس میں ڈوب رہا ہوتا ہے اور لاکھ کوشش کے باوجود اس سے نکل نہیں پاتا۔ایک ایک کرکے اس تباہ کن دلدلی شاہراہِ کی تفصیل تحریر کروں گا۔
جیتے ہیں آرزو میں جینے کی۔
زندگی ملتی ہے پر نہیں ملتی۔
اس دلدل سے وہی نکل سکتا ہے جو نفس امارہ پر نفس لوامہ کو غالب کر لے۔یہ نہنگ ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ نگلتا ہے۔شاعر نے کتنی پتے کی بات کی ہے۔
نہنگ شیر ونر اژدہا کو مارا تو کیا مارا۔
بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا۔
یہ تینوں نفس کا گھر دل ہے یہیں سے حرکی شعائیں خارج ہوتی ہیں اور انسان اس کے اشارے پر عمل پیرا ہوتا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ لوگوں تمہارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر یہ شفاف ہے تو تم دنیا اور آخرت دونوں جگہ سرخرو ہوگے‘‘۔
شیطان انسان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے تب ہی تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسوسوں سے بچنے کی دعا سکھائی،پناہ مانگتا ہوں اس وسوسہ ڈالنے والے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے۔یہی وسوسے خواہش بنتے ہیں پھر آرزو جس کو پورا کرنے کے لئے ہم پوری زندگی لگا کر رب کو بھول جاتے ہیں۔آرزو کی تکمیل میں اتنا چلتے ہیں کہ مرجاتے ہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’انسان کو اگر سونے کا اک پہاڑ مل جائے تو وہ دوسرے کی خواہش کرے گا‘‘۔
انسان کی ذات کا دلدل ہوس ہے۔زن،زر،زمین اور اقتدار و منصب کی ہوس آج کی دنیا بالعموم اور ہمارا ملک با الخصوص اس طرح کے ہوس کے بھیڑیوں کے قبضے میں ہے شداد و فرعون،نمرود وہامان،چنگیز و ہلاکوخان اور آج کے آمر و ظالم بادشاہ اور جمہوری ہوس پرست حکمران سب کے سب ایک ہیں مگر سب کا عبرت ناک انجام ہوا اور ہو گا۔
زمین اوڑھ کر سو گئے ہیں ساری دنیا میں۔
نہ جانے کتنے سکندر سجے سجائے ہوئے۔
دولتِ اور اقتدار والے آنا پرست زہریلے سانپ،متکبر شیطان ہوتے ہیں اور یہ سب اللہ کے دربار کے مغضوبین ہیں۔
تکبر اذاجیل را خاک کر۔
بزندہ لعنت گرفتار کر۔
حباب بحر کو دیکھو کہ کیسا سر اٹھاتا ہے۔
تکبر و بری چیز ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے۔
اس لعنتی خصلت کے لوگ حسد بغض،کینہ،غصہ اور کثل کے شکار ہوتے ہیں اور اس آگ میں جل کر خود مر جاتے ہیں۔یہ وہ انسان کے اندر موجود دلدل ہے جس میں آدمی آہستہ آہستہ ڈوب کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔
یہ تو انسانی ذات کے اندر موجود دلدل ہے جس میں انسان خود برضا و رغبت نہ صرف ڈوبتا ہے بلکہ اپنے ڈوبنے کا مزہ لیتا ہے تکلیف سے اس وقت بلبلاتا ہے جب نرخرے بند ہونے لگتے ہیں۔اسی صفات بد کے حامل لوگ جب صاحب منصب و حکومت ہو جاتے ہیں تو دنیا، دنیا والوں کے لئے ناقابل رہائش ہو جاتی ہے۔ آ ج کا انسان اپنے چہار جانب غربت،افلاس، بےروزگاری ، مہنگائ، ناانصافی،جرائم،لوٹ کھسوٹ جنسی استحصال،جان ومال ،عزت و آ برو کے عدم تحفظ کے دلدل میں پھنسا دیا گیا ہے۔دنیا کی 60 تا 70 فیصد آبادی دو وقت کی روٹی سے محروم ہے صحت کی بنیادی ضروریات میسر نہیں پینے کا صاف پانی نہیں ملتا اور اس کی تجارت مافیائ انداز میں جاری ہے۔دور نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں یہودی کنویں کا پانی بیچتا تھا تو ظالم تھا آج کا مسلمان، عیسائی یا ہندو یہ کام کرکے مہذب ہوگیا ہے۔پڑھا لکھا طبقہ ہی انسانیت کش جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔انجنیر پل بناتاہے تو دو دن میں شیر شاہ کا پل گر جاتا ہے جعلی دوائیں دوا ساز کمپنیوں کی ہی کے ذریعہ بکتی ہیں۔
اسپتالوں میں جراثیم پاتےہیں۔
خون بکتا ہے رگِ تاگ کے ساتھ۔
عمداً زہر دیا جاتا ہے خوراک کے ساتھ۔
نوح علیہ السلام نے بد دعا اس وقت کی جب اک کم عمر بچے نے پتھر مارا میرے رب،ان کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔” آج کے ابلاغی ایجادات نے چھ سال کے بچے اور ساٹھ سال کے بوڑھے کو ایک جیسے ذہنی ہراگندگی،جنسی خلجان اور انتشار میں مبتلا کردیا ہے لہٰذا اللہ کی اس خوبصورت دنیا کو انسانوں کے لئے جہنم بنا دیا گیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا” ایک وقت آئے گا جب زمین کا پیٹ زمین کی پیٹھ سے بہتر لگے گی۔
یہ وہ ظلم واستبداد سے بھری دنیا ہے اس میں صاحب عقل و خرد اور خدا پرست انسانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ فرض بنتا ہے کے ڈوبتی انسانیت کو بچانے کے لئے کمربستہ ہو جائیں ۔
اے اہل خرد ہوش میں آؤگے کب بھلا۔
کہ زیر زمین زلزلے کروٹ بدل رہے ہیں۔
۔جب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ سونامی آرہا ہے۔ایسے میں کچھ لوگ اپنا ضروری سامان لیکر محفوظ مقام پر چلے جاتے ہیں، کچھ اپنے بلند وبالا عمارتوں پر سیلاب کی تباہ کاری کا نظارہ کرتے ہیں اور کچھ اللّٰہ کے بندے ڈوبنے والوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان دے دیتے ہیں یہی کردار اللّٰہ کو مطلوب ہے۔زوال پذیر دنیا میں ہمیں یہ کرنا ہے کہ۔
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے۔
پھر دیکھ خدا کیا کرتاہے۔
جب فقیر و امیر کا انجام اک جیسا ہے تو فکر صرف اور صرف قبر کی جائے جو آخرت کی پہلی منزل ہے۔

حصہ