یقین کی دولت

178

اعتماد اس احساس ِاعتقاد کا نام ہے جو کسی چیز پر کسی بھروسے پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ اعتماد اپنی ذات ، اپنے کائنات پر، اپنے فن، تن ، دھن ، حْسن ِتصور ،اپنی نظر ، افواہوں کی آندھی میں انتخاب کردہ اپنی خبر پر جس کی بنیاد پر پوری ذات کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ کسی ’’خبر‘‘ سے اخذ کردہ ’’نظر‘‘ ہی آگے چل کر ’’نظریہ‘‘ بنتی ہے۔ نظریہ ہی وہ زمین ہے جہاں رب دوجہاں نے فکر و نظرکے خزانے رکھ چھوڑے ہیں۔ ہوا بازی کی اصطلاح میں کہوں تو یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں سے جہاز اڑان بھرتے ہیں۔ جن کے ارادوں کی زمین کیچڑ بھری ، گیلی اور کھوکلی ہو تو اڑان تو دور کی بات ہے زمین سے کھسکنا بھی ناممکن ہوگا۔
ہم اس موضوع کو اپنی سہولت سے کئی جہتوں سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ علامہ اقبال کے روشن روشن اشعار ہمیں زندگی میں ہر ٹھوکر پر تھام کر سہارا دیتے ہیں۔ محتاجیوں سے نکالنے کی راہ بتاتے ہیں۔ جنہیں سن کر ہمارے سینے عزم کی نغمگی کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ان نغموں کو ذہن و دل کھول کر پڑھیے اور سنیے۔ جہاں روح کا پڑائو ہے وہاں تک ان کے اشعار کو راہ دیں۔
ہم کہتے ہیں کہ یہ مایوسی کا موسم ہے‘ دکھوں کی دہائی ہے‘ صدموں کی صدی ہے‘ موت وحشت برپا کر رہی ہے۔ ہم اعتماد کھوچکے‘ ہمارے اندر کہیں خوف ’’دہشت گرد‘‘ بن چکا ہے۔ ہم اپنے دشمن کو بلا بلا کر اپنی اندر کی چوکیا ں حوالے کر رہے ہیں۔ کہیں ندامتوں نے نڈھال کیا ہوا ہے‘ کہیں ڈرائونے خیال خون چوس رہے ہیں۔ کسی بھی بھلے سے کام سے پہلے ہاتھ پیر کانپ جاتے ہیں‘ بلکہ ایک سر سری جائزہ لیں تو یہ مقامِ حیرت ہے کہ ہر برے، لچر کاموں میں کسی بڑے اعتماد کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ دھڑلے سے لوگ کر جاتے ہیں اور بھلے کام میں لوگ لرز جاتے ہیں۔اعتماد کو سمجھنے سے پہلے ہمیں خوف کو بارہا سمجھنا ہوگا۔
ہم اندھیروں سے اجالوں کا پتا لیں گے
چراغ شام سے پہلے جلا نہیں کرتے
ایک عربی قول ہے کہ اشیا کی شناخت اس کی ضد سے ہوتی ہے۔ جو تم پر ’’شک‘‘ کرے اس پر اپنے ’’یقین‘‘ کی دنیا لٹا دو۔ جو تم کو ’’دھمکائے‘‘ تم اس کو ’’ڈھارس‘‘ دو۔ جو تم کو ’’براکہے‘‘ تم اُس کو ’’دعا‘‘ دو۔ جو ’’کیچڑ‘‘ اچھالے تم اس کے ہاتھ دھلوائو۔ جو ’’گالی ‘‘ دے تم اس کا منہ میٹھا کروائو۔
یہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس کے ہاتھ دھلوائوں
سنا ہے اس نے میری ذات پر کیچڑ اچھالا ہے
ہمارے خون کے خلیوں میں جذبات نیٹ پریکٹس کرتے رہتے ہیں۔ جہاں ہم ترنگ میںآکر اچھی بھلی دلیل کو بھی ذلیل کرتے ہوئے‘ حکمت چھوڑکر جذبات کی انگلی تھامے زندگی سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ اس جذباتی کھیل کے نتیجے میں بے ہمت مہمات ہم کو زندگی سے بزدلانہ فرارسکھاتے ہیں۔ بڑے بڑے کاموں کا سوچ کر ہم سہمے رہتے ہیں۔ ہمارا سرمایہ ٔ اعتماد جس جس نکڑ پر لٹتا ہے اس کی فہرست بنائیں۔ کسی کی نظر لگ جانے کے دھڑکے سے‘ کسی نے ٹوک دیا تب‘ کسی نے طعنہ دیا تب‘لوگ کیا کہیں گے یہ سوچ کر‘ فلاں مجھے سے بہترہے، تیزہے، خوش قسمت ہے۔ ان بہانوں کی اوٹ میں جینے والا شخص اعتماد کے بغیر جیتا ہے اور اس کے وجود کو دیمک اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے۔
تصور کریں سہما ہوا آدمی کیسا نظر آتا ہے۔ جیسے ہاتھوں میں ہتھکڑی، گردن میں زنجیریں، پیروں میں بیڑیاں۔ اپنے ہی جذبات و خیالات کا قیدی۔ یہ نہ ماضی کے واقعے میں زندہ تھا نہ حال کے لمحے میں زندہ ہے اور مستقبل کے خدشات سے جڑے خیال میں بھی مرتا ہی رہتا ہے۔ کچھ کروں گا تو ناکام ہوجائوں گا، رد کردیا جائوں گا، لوگ کیا کہیں گے؟ مذاق اڑایا جائے گا۔ سچ پوچھو تو یہ اَنا اور ادھورے علم کے ساتھ ہوتا ہے۔ انھیں نامعلوم جگہوں پر جانے کی تمنا بھی نہیں ہوتی۔ جب کہ جہاں جہاں نیا خیال ہوتا ہے وہاں جیت کی تمنا اور تحقیق رہتی ہے۔ وہاں جوکھم ہی زندگی ہوتی ہے۔ خدشات میں گھرا غم، غصہ اور چڑچڑاہٹ یہ سب خوف کے سڑے ہوئے اچار کی طرح ہے۔ وہ خو ف ہی تھا جس نے آپ کو چڑچڑا بنا دیا۔ جو اپنے آپ ایمان و یقین نہ ہونے کے سبب ہوتا ہے۔ یہ کاہل بناتا ہے۔ یہ سائے سے ڈراتا ہے۔ یہ فرار سکھاتا ہے۔ یہ بزدلی سجھاتا ہے۔ ہم ایک ایسا مرض پالتے ہیں کہ تدبیرِ علاج اور تاثیرِ شفا پاس نہیں پھٹکتی۔
ہمارا ہر دن بہانہ یہ رہتا ہے کہ جدید یا قدیم تعلیم نے توڑ دیا، ایک طرح کا علم و ڈگری جو ہمیں نوکری نہ دے سکی اُس نے ہم سے دنیا چھین لی۔ ماحول نے جھنجھوڑ دیا۔ حکومت نے بھنبھوڑ دیا۔ کوئی نیا کام کریں گے تو لوگ نہیں مانیں گے۔ ایسے ماحول میں ہم کیسے پُر عزم ہوسکتے ہیں؟ جب جب اعتماد کی کمی کا احساس ہوتا ہے نہ صرف ذہن بلکہ پورا وجود شدید تنائو کا شکار ہوجاتا ہے۔ تنائو پرور ہارمونس کی بارودی سرنگیں رگوں میں خون کی نلیوں میں بچھ جاتی ہیں۔ معدے پر قفل لگ جاتا ہے بلکہ بدن کے اکثر حصوں میں لاک ڈاون، کرفیو کا نظام چلتا ہے۔ بدن کی لگی آگ بجھانے کے لیے پسینے کے اسپرنکلس کی پھواریں شروع ہوجاتی ہیں۔
اعتماد کی کل کائنات ان دس ستونوں پر قائم ہے۔
-1 آرزو کا روشن ہونا یا نہ ہونا۔ اعتماد اپنے ذات پر ایک روشن آرزو کے سبب پیدا ہوتا ہے۔
2۔ موازنہ : اوروں کی صلاحیتوں کا اپنے حالات سے موازنہ کرنا۔ بے سبب اوروں سے جوڑ کے نتیجہ نکالنا‘ اس کارگزاری میں اعتماد کا کل سرمایہ لٹ جاتا ہے۔
-3عزت نفس: اپنی ذات کا رسوا کن مقام، خود کو کوسنا، خود کو کم تر سمجھنا۔ جس کے یقینی نتیجہ بربادی ہوتا ہے۔
-4 خود کلامی : ہر دن اپنے آپ سے ایسے محوگفتگو رہنا جیسے کوئی پاگل ہو۔ ہر دم مایوسی کا پیغام اپنے ذہن، بدن اور تمنا کو دینا۔ یہاں پر اعتماد باقی نہیں رہتا۔
-5 احتساب نفس: ہر سرمایہ حساب اور نگرانی پر بڑھتا ہے، بچتا ہے۔ لیکن ہم اگر اپنی ذات کا حساب کتاب نہ لیں، خود پر گہری نگاہ نہ رکھیں‘ خود سے سوال کریں کہ کیا ہم اپنی بھر پور صلاحیت کو برتتے ہیں؟ کیا ہم اپنی کوشش میں پورے ہیں؟ کیا خدا کی رحمتیں ہمارے تصور میں اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ ہے یا جلد بازی میں بنائی گئی ایک محدود رائے کے ساتھ ہے۔ اپنے دن بھر کی کارگزاریوں کی اگرتفتیش نہ کریں گے تو ہماری زندگی نہ صرف اعتماد سے محروم ہوگی بلکہ زندگی ایک ردی کا ڈھیر بن جائے گی۔ قرآن تو پورے متاعِ یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ ’’جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے سو وہی اُس کو کافی ہے۔‘‘
اس لیے ہمارا کا م یہ ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو اپنی ذات کی سرحدوں کی چوکیوں کے تحفظ کا کام سونپیں اور آوارہ خیالات کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیں۔
-6مداومت: مستقل کام کرنا۔ کوئی چھوٹا سا بھی کام لگاتار اور پابندی سے کرنا۔ جیسے نل سے بہنے والا پانی کا قطرہ مداومت سے ٹپکنے سے پتھرکا جگر تراش دیتا ہے۔ اس لیے مستقل اور بہتر کاموں کی نصیحت نبیوںؐ نے کی ہے۔
-7 انکار:ہر اس کام سے‘ جو آپ کو مہمات سے بہکا دے‘ بھٹکادے۔ چاہے کوئی ہو آپ اپنے کام کی ترجیح کی بنیاد پر اسے قبول یا رد کریں۔ ورنہ آپ سڑک بن جائیں گے۔ جو گناہ گاروں اور نیکوکاروں سب کو راہ دیتی ہے۔ آپ کو صرف عبادت گا ہ کا راستہ بننا ہے جس سے صرف خیر کی امید کی جاتی ہے۔ شراب خانہ نہیں‘ خمار خانہ نہیں۔ یہ برائی کبھی بنام ِ خیر بھی راہ دیتی ہے۔ اس لیے کئی کاموں میں انکار ہی اپنی خوش نصیبی کا اقرار ہوتا ہے۔
-8 مشق: کوئی کام ہو اُس میں مہارت ہی حسن، توازن اور کمال پیدا کرتی ہے۔ لگاتار مشق اور مستقل کوشش سے ہی ہر کوشش شاہکار بن جاتی ہے، تب یقین بڑھتا ہے۔
-9 خدا سے تعلق پر یقین: اعتماد و یقین کا سرچشمہ صرف اپنے خدا پر یقین سے ممکن ہوتا ہے۔ جتنا بڑا اور روشن خدا کا تصور اور اس پر یقین ہوگا اتنا ہی اعتماد آپ کے حصہ میں آئے گا۔ ایک اور ربانی وعد ہ دیکھیں۔
اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ خیر پسند لوگوں کا ساتھی ہے۔
-10 لباس: موسم ، عمر ، علم اور سماجی شعور کے اعتبار سے موزوں لباس پہنیں گے تو اعتماد خود بہ خود پیدا ہوگا۔ اس میں کسی بھی طرح کی انتہا پسندی کا جوکھم لینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ حسنِ اعتدا ل ہے کمال ہوتا ہے۔
مایوسی کے موسم میں یقین ہی امید ِ بہار ہے۔اس لیے یقین رکھنے والا ہر دم جوان رہتا ہے۔ اگر کوئی صاحبِ یقین ہو تو بڑی حد تک اس کا بدن کسا ہوا ہوگا۔ اگر وہ بوڑھا بھی ہو تواس سے جڑے جوانوں کا گروہ بھی اپنے ذہن و بدن میں جھول جھریوں کو راہ نہیں دے گا۔ کم یقینی تو شک کے سائے بڑھا دیتی ہے۔ یقین کا سیدھا راستہ مقصد کے گائوں جاتا ہے۔ اسے حوصلہ مندانہ سماج آگے بڑھ کر اپنی دنیا کی شہریت دلاتا ہے۔ یہی یقین جب اظہار میں اترتا ہے تو جذبے کی آنچ سے دہکی ہو ئی زبان کا ایک چھوٹا سا جملہ بھی سننے والے کو یقین سے جوڑ دیتا ہے۔ آخرش تیقن کے تناسب سے کامیابیاں ملتی ہیں۔
ہمیں حوصلہ کڑا کرکے پہلے اپنے حسن تصور کی تربیت کرنی ہوگی۔ راہ میں ندامتیں، گزری ہوئی ہار کی یادیں ستائیں گی لیکن اپنے رب پر مکمل یقین رکھتے ہوئے جو ہماری الجھی راہیں ضرورکھولے گا کیوں کہ وہ ہمارے یقین کے ساتھ چلتا ہے۔ ہم بس اپنے یقین کی تعمیر کرتے رہیں۔ ہر ڈھارس کو اپنائیں۔ کبھی کبھی چھوٹی ہار پر ہمارا ردعمل انتہا پسندانہ ہوجاتا ہے اور وہ ہم پرخوف کو طاری کرکے ہمیں تار تار کرنا چاہتا ہے۔ہمارا کام چھوٹے چھوٹے قدم بڑھانا ہے۔
نئے نئے منظروں سے خود کو گزارنا۔ زندگی میں محرومیوں کے البم یا ناکام کوششوں کے نقوش کو زیادہ اہمیت نہ دینا۔ آدمی اپنی آخری سانس تک کوشش، حکمتِ عملی سے جانا جاتا ہے، شکستوں سے نہیں۔ اس طوفان میں اگر من ڈوبا تو پھر تن ڈوبے گا پھر پوری زندگی ڈولنے لگ جائے گی۔ ہم خود سے مایوسی کا ایک جملہ بولتے ہیں اس کے کئی جہتیں ہوتی ہیں۔ نفسیاتی، معاشی وغیرہ وغیرہ۔ اس چکر میں نہ پڑیں۔ کائنات ہمہ دَم ہماری ہمدم ہوتی ہے۔ اپنے حصہ کے ذہنی کہرے کوچھانٹیں۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ’’جس نے اپنے نفس ، شخصیت کو پہچانا اس نے جیسے رب کو پہچان لیا۔‘‘ اس پہچان کے بعد صر ف جیت کی جانب پیش قدمی رہ جاتی ہے۔ یقین اور عمل ہمارے دو پائوں ہیں۔ ایک یقین کے سہارے اٹھے گا،دوسرا عمل کروائے گا۔
یقین بڑا رہبر ہے‘ کم یقینی ہی کم نصیبی ہے۔ یقین کا قطب نما ہی منزلوں پر پہنچائے گا۔ چاہے راہ میں صحرا آئے، سمندر طوفان اٹھائے‘ لیکن تاریکیوں میں یہ ٹمٹماتا تارہ راستہ دے گا۔ راہ نمائی جب مل جائے تو مزید تذبذب کو راہ نہ دیں۔ جہاں تذبذب ساتھ ہوتا ہے توبہت بڑے حادثے ہوتے ہیں۔ زندگی پیراشوٹ کی چھلانگ کی طرح ہوتی۔ وہاں ڈل مل یقین کی گنجائش نہیں ہوتی۔ بھر پور انداز میں پوری یکسوئی کی ساتھ سر اور شانہ بلندکرکے آگے بڑھنا ہوگا۔
زندگی کے سفر میں اعتماد ہی تیاری ہے باقی عوامل غیراہم و غیر ضروری ہے۔ بے یقینی کاسفر جیسے کسی کا اندھیروں میں چلنا ہو۔ جانے کب اور کس قدم پر کس حادثہ کو گلے لگالے۔ اگر ایسی بے یقینی میں خوف دل کودہلاتا رہے تو بے سمت رفتار بد ترین ٹھوکر پر ختم ہوتی ہے۔ اس لیے دل میں ہلکے سے یقین کی شمع جلائے رکھنے چاہیے۔ لوگ اسے اندھا یقین کہتے ہیں۔ جب کہ دنیا کی تمام تبدیلیاں اندھے یقین کے سبب آئی ہیں نہ کہ سہمی ہوئے عقل کے خدشات کے سبب۔
گماں آباد ہستی میں یقین مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیل ِ رہبانی

حصہ