مشفق خواجہ کا انٹریو

151

مشفق خواجہ بھی ان نادر روزگار شخصیتوں میں تھے جو علم و ادب کو اپنا اسلوب زندگی بنالیتی ہیں۔ جن کی زندگی کی ترجیحات میں پہلی ترجیح قلم و قرطاس کو حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے ادیبوںکو تو روزگار کی مجبوری لاحق رہی۔ خواجہ صاحب نے تو روزگار کا قلاوہ بھی اتار پھینکا۔ جب تک جیے علم و ادب ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ محاورتاً نہیں، عملاً… ان کے تین منزلہ مکان میں اوپر نیچے کے تمام کمروں میں کتابیں تھیں اور سب سے تنگ اور مختصر کمرہ کوئی تھا تو ان کی خواب گاہ تھا۔ خواجہ صاحب کے شب و روز یہیں بسر ہوتے تھے، اپنی مطالعہ گاہ کو وہ ازراہِ تفن ’’کلبہ احزاں‘‘ کہا کرتے تھے، جس سے وہ ضرورت پڑنے ہی پر نکلا کرتے تھے، شادی بیاہ، خوشی اور غمی کہ ان دو مواقع پر وہ نہایت وضع دارای سے شرکت کا اہتمام کرتے تھے۔
زندگی ان کی نظم و ضبط اور سلیقہ و ترتیب کی ڈور سے بندھی تھی۔ کوئی بھی چیز چاہے کتاب، کوئی حوالہ، رسالہ یہاں تک کہ چابی ڈھونڈنے کے لیے بھی انہیں کچھ بھی الٹنے پلٹنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ ایک ڈائری بنا رکھی تھی جس میں احتیاط سے درج تھا کہ کون سی چیز کہاں رکھی ہے۔ اسی طرح ایک اور ڈائری میں ادبا و شعرا کے جملہ کوائف لکھ رکھے تھے، کسی کی وفات ہوجاتی تو تاریخ وفات کا اضافہ کردیتے۔ انہیں عملی زندگی اور عملی معاملات نیز اپنی معاشیات کو منظم رکھنے کا خوب سلیقہ تھا۔ باہر سے آئے ادیبوں کی تواضع اور میزبانی دل کھول کر کرتے تھے، یہاں تک کہ ہندوستانی ادیبوں میں بعض کو تو یہ رعایت بھی دیتے تھے کہ اپنی ضرورت کی جو کتابیں بھی کتب فروشوں سے لینا چاہیں لے لیں۔ ادائیگی ان کی خواجہ صاحب کرتے تھے۔ یہی نہی ادیب اور شعرا کی ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے ہمہ وقت آمادہ و تیار رہتے تھے۔ اور اس میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے سے بھی انہیں دریغ نہ تھا۔ کتنے ہی محققوں سے انہوں نے کتابیں مرتب کرائیں۔ کتنوں کو اپنی خود نوشت قلم بند کرنے پر آمادہ کیا۔ جب اپنا مکتبہ، مکتبہ اسلوب قائم کیا تو ایسی علمی ادبی اور تحقیقی کتب شائع کیں جن کی علمی و ادبی اہمیت تو تھی لیکن جن کی کوئی ایسی مانگ نہ تھی کہ انہیں مالی منافع ہوتا۔ اپنا رسالہ ’’تخلیقی ادب‘‘ نکالا تو تقریباً تمام لکھنے والوں کو جن کی تخلیقات انہوں نے شائع کیں، معاوضہ دیا، اور اس زمانے میں دیا جب ادبی رسائل سے معاوضہ ملنے کا کوئی تصور تک نہ تھا۔ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ وہ نئی اور پرانی کتابوں کی خریداری پر صرف کرتے تھے۔ اردو کی کوئی کتاب ملک میں چھپے یا بیرون ملک، اس کا نسخہ چھپتے ہی خواجہ صاحب کی میز پر پہنچ جاتا تھا۔ وسیع الاحباب اتنے تھے کہ اردو دنیا کا کوئی بھی اہم اور نمایاں ادیب و شاعر مشکل ہی سے ہوگا جس سے ان کے مراسم نہ ہوں۔ اہل علم برطانیہ، کینیڈا، مشرق وسطیٰ یا ہندوستان سے کراچی آتے تو خواجہ صاحب ہی کو پوچھتے ہوئے آتے۔ علمی کام سے آتے تو جیسی مدد اور رہنمائی ان سے ملتی کسی اور سے نہ ملتی۔
محقق اور شاعر تو وہ تھے ہی، کالم نگاری نے ان کی مقبولیت و ہردلعزیزی میں چار چاند لگادیے تھے۔ ان کے طنزومزاح سے بھرپور ادبی کالم کی پذیرائی جیسی کی گئی اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ ہندوستان میں تو کتنے ہی رسائل میں ان کے کالم نقل کیے جاتے، فوٹو اسٹیٹ کاپیاں تقسیم کی جاتیں۔ ان کے بعض احباب کا خیال ہے کہ ان کی کالم نویسی نے انہیں نقصان پہنچایا کہ وہ جو علمی اور تحقیقی منصوبے ان کے تھے، ادھورے رہ گئے۔ مثلاً ’’جائزہ مخطوطات اردو‘‘ یہ بلند پایہ علمی کام جسے دس جلدوں میں مکمل ہونا تھا اس کی ایک ہی جلد آکر رہ گئی۔ یاس یگانہ چنگیزی کی کلیات کی جمع و ترتیب کا کام مثالی ثابت ہوا لیکن اس کام پر جتنے برس اپنی زندگی کے انہوں نے لگائے اور جو دیدہ ریزی کی اور مشفقت اٹھائی، بعد میں خود کہتے تھے کہ اس کی ضرورت نہ تھی۔
اپنے ’’کلیہ احزاں‘‘ میں سالہا سال تک خود کو رہنے سہنے کا عادی بنالینے، پھر کھانے پینے کے معاملات میں بے اعتدالی کی وجہ سے انہیں ذیابیطس کا مرض لاحق ہوا۔ پھر کثرت سگریٹ نوشی معالجوں کے اصرار پر تب ترک کی جب عارضہ قلب میں مبتلا ہوچکے تھے۔ 21 فروری 2005ء کی شب قلب پر آخری حملہ ہوا۔ ملازم نے تنگ سیڑھیوں سے کسی طرح اتار کر اسپتال پہنچایا مگر جاں بر نہ ہوسکے اور یہ شہر ایک ایسی ہستی سے خالی ہوگیا جس کا گھر اور شخصیت ایک ادارے کا روپ دھار چکے تھے۔ جہاں پر اتوار کو اہل علم و ادب کی محفلیں جمتی تھیں۔ بلاشبہ سلیم احمد کے بعد مشفق خواجہ ہی کا گھر نہایت کشادگی اور فراخ دلی کے ساتھ ہر خیال اور نظریے کے ادیبوں، شاعروں اور عالموں کے لیے اپنے دروازے وا کیے رہتا تھا۔ ان کی گراں قدر لائبریری کی فروخت کا اہتمام ان کی زندگی ہی میں ایک امریکی ادارے سے ہوگیا تھا۔ یہ لائبریری اسی ادارے کے زیر انتظام عام استفادے کے لیے شہر میں موجود ہے۔
خواجہ صاحب مرحوم 19 دسمبر 1935ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ کراچی یونیورسٹی سے بی اے آنرز (1957ء) اور ایم اے (1958ء) اردو کیا۔ پھر مولوی عبدالحق کی خواہش پر انجمن ترقی اردو سے وابستہ ہوگئے۔ سہ ماہی ’’اردو‘‘ اور ’’قومی زبان‘‘ کی ادارت کا فریضہ بھی انجام دیا۔ انجمن کی مصروفیات ان کے علمی کاموں میں حارج ہونے لگیں تو اسے خیرباد کہہ کر پھر کبھی ملازمت نہ کی۔
تصانیف:
تحقیق:
-1 خوش معرکہ زیبا از سعادت خاں ناصر (دو جلدیں) (1970-71ء)
-2 اقبال از احمد دین (علامہ اقبال پر لکھی گئی پہلی کتاب جو نذر آتش کردی گئی)۔ (1979ء)
-3 جائزہ مخطوطات اردو (جلد اول) (1979ء)
-4 غالب اور صفیر بلگرامی (1981ء)
-5 تحقیق نامہ (مقالات)
-6 کلیات یگانہ
شاعری:
ابیات (مجموعہ غزل) (1978ء)
کالم:
-1 خامہ بگوش کے قلم سے
-2 سخن در سخن (مرثیہ مظفر علی سید) (2004ء)
طاہر مسعود: آپ بہ یک وقت شاعر، محقق، کالم نویس اور ایک ادبی پرچے کے مدیر ہیں۔ میں سب سے پہلے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ تحقیق جیسے خشک اور دشوار کام کی طرف آپ کا ذہن کیسے مائل ہوا؟
مشفق خواجہ: قصہ یہ ہے کہ مجھ میں تحقیق سے دلچسپی گھر کے علمی ماحول کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ میرے والد خواجہ عبدالوحید مرحوم مختلف نوعیت کے علمی و ادبی کام انجام دیتے رہتے تھے۔ انہیں دیکھ کر میں تحقیق کی طرف مائل ہوا۔ بعد میں جب میں نے ہوش سنبھالا تو پرانی چیزوں سے میری دلچسپی بڑھ گئی۔ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پرانے رسائل پڑھتا تھا۔ اب بھی یہی کیفیت ہے کہ اگر میرے سامنے ایک پرانا اور ایک علمی و ادبی سالہ پڑا ہو تو میں پرانے رسالے کو پہلے پڑھتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ مجھے نئی چیزوں سے دلچسپی نہیں ہے یا کم ہے بلکہ بات یہ ہے کہ پرانے رسائل کو پڑھتے ہوئے میں خود کو اسی عہد میں سانس لیتا ہوا پاتا ہوں۔ اسے آپ میرا فطری رجحان کہہ لیں۔
طاہر مسعود: ابتداء میں آپ نے کن ادیبوں اور محققوں کو پڑھا؟
مشفق خواجہ: میں نے سب سے پہلے پنڈت برج، موہن دتاتریہ کیفی کی کتاب ’’کیفیہ‘‘ پڑھی۔ یہ کتاب قواعد زبان و بیان کے بارے میں ہے۔ یہ کتاب مجھے بے حد دلچسپ معلوم ہوئی۔ پھر میں نے اسی نوعیت کی بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اسی عرصے میں، میں ے پرانے ادبی سائل کا سراغ لگانا شروع کیا اور یوں میری دلچسپی پرانے شاعروں کے کلام اور ان کی تاریخ سے بڑھتی چلی گئی۔
طاہر مسعود: شاعری آپ نے تحقیق کے بعد شروع کی؟
مشفق خواجہ: جی نہیں، شاعری میں نے تحقیق سے پہلے شروع کردی تھی۔ میں نے 1952ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اسلامیہ کالج کراچی میں داخلہ لیا تو شاعری سے دلچسپی اسی دوران پیدا ہوئی۔ میں نے آٹھ دس سال کی عمر میں ’’بانگ درا‘‘ پڑھ ڈالی تھی اور اپنی بیاض پر اس کے پسندیدہ اشعار نقل کیے تھے۔ باقاعدہ شاعری کا سلسلہ 1951-1952ء میں شروع ہوا۔ جہاں تک سوال تحقیقی کام کی ابتداء کا ہے تو میں ے بی اے آنرز کے پہلے سال میں ایک مضمون ’’پاکستان میں اردو‘‘ کے موضوع پر لکھا تھا۔
طاہر مسعود: بعد میں آپ انجمن اردو ترقی سے وابستہ ہوگئے جہاں آپ نے بابائے اردو مولوی عبدالحق کے ساتھ کام کیا۔ کچھ اس کے پس منظر کے بارے میں بتائیں؟
مشفق خواجہ: یہ 1957ء کی بات ہے۔ مولوی عبدالحق مرحوم سے میرا تعارف یوں ہوا کہ میں انجمن کے کتب خانے میں مطالعے کی غرض سے جاتا تھا۔ وہیں ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’’تم کون ہو اور یہاں کیوں آتے ہو؟‘‘ میں نے جب بتایا کہ میں طالب علم ہوں اور مجھے قلمی کتابوں سے دلچسپی ہے تو بہت خوش ہوئے۔ ایک دو مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی قلمی نسخے کے اقتباسات انہوں نے نقل کرنے کے لیے دیے۔ جب میں نے اسے نقل کردیا تو بولے ’’حیرت ہے تم نے اس دکنی زبان کے مسودے کو بالکل صحیح صحیح پڑھ لیا‘‘ عرض کیا: ’’میں پنجابی ہوں۔ اس وجہ سے اسے پڑھنے میں دقت نہیں ہوئی۔ پنجابی اور دکنی زبان میں بڑی مشابہت ہے۔ اس لیے پنجابی جاننے والوں کے لیے دکنی زبان کو پڑھنا اور سمجھنا بہت آسان ہے‘‘۔ اس کے بعد وہ مجھے مختلف کام دیتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد ان سے ابن انشا نے میرا باقاعدہ تعارف کرایا۔ ابن انشا کے مولوی صاحب سے گہرے مراسم تھے۔ ان ہی کے توسط سے انجمن کے رسالہ ’’اردو‘‘ سے وابستہ ہوا۔ جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہوا تو مولوی صاحب نے انجمن میں میرا تقرر کردیا۔ اس طرح میں اس تاریخی ادارے سے مولوی صاحب کی زندگی میں ساڑھے چار سال تک منسلک رہا۔
طاہر مسعود: بابائے اردو کی شخصیت کی کوئی ایسی خوبی جس نے آپ کو بے حد متاثر کیا ہو؟
مشفق خواجہ: میں نے ان میں ایک انتہائی حیرت ناک بات دیکھی۔ اس وقت ان کی عمر نوے سال یا اس سے کچھ کم رہی ہوگی۔ وہ صبح آکر کتب خانے میں بیٹھ جاتے اور ایک بجے دوپہر تک مسلسل کام کرتے رہتے تھے۔ بعد میں جب میجر آفتاب حسن سے تنازع کے نتیجے میں لائبریری بند کردی گئی تو وہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر کام کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے بھی اپنے ساتھ کام پر لگا رکھا تھا۔ ان کے پاس لغت کا مسودہ ہوتا اور میرے پاس پرچیاں، جن پر اسناد لکھی ہوتی تھیں۔ میں سند پڑھتا اور مولوی صاحب متعلقہ جگہ اسے درج کردیتے تھے۔ یہ کام بعض اوقات تین چار گھنٹے تک جاری رہتا تھا۔ میں تھک جاتا مگر مولوی صاحب نہ تھکتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک نوے سال کا بوڑھا ایک ایسی کتاب پر کام کررہا ہے جس کو اپنی زندگی میں مکمل کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ ان کی شخصیت کے اس پہلو کو میں آج تک نہیں بھولا ہوں۔
طاہر مسعود: آپ کا صرف ایک ہی مجموعہ کلام ہے۔ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید آپ کی تحقیقی مصروفیات نے آپ کی شاعری کو متاثر کیا ہے۔
مشفق خواجہ: شاعری نے تحقیق کو متاثر کیا ہے اور نہ تحقیق نے شاعری کو۔ قصہ یہ ہے کہ شعر میں اسی وقت کہتا ہوں جب طبیعت اس طرف راغب ہوتی ہے۔ میں نے کبھی کاغذ پنسل رکھ کر عمداً شعر نہیں کہا۔ اشعار خود بہ خود نازل ہوتے ہیں اور یہ ان لمحوں میں ہوتے ہیں جب میں شام کے وقت چہل قدمی کے لیے جاتا ہوں۔ اکثر ایسا بھی ہوا ہے، میں نہایت سنجیدہ قسم کا تحقیقی کام کررہا ہوں اور ایک لمحے کے لیے سر اٹھانے کی فرصت نہیں ہے کہ اچانک زبان پر شعر آگیا۔ یہ صحیح ہے کہ میرا کلام بہت کم ہے، اس لیے کہ شعر کی کیفیت مجھ پہ کم طاری ہوتی ہے۔
(جاری ہے)
طاہر مسعود: آپ ان معدودے چند ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کی ہوئی ہے۔ مثلاً آپ شاعر ہیں، مگر مشاعروں میں شرکت نہیں کرتے۔ ادیب اور محقق ہیں لیکن ادبی جلسوں سے دور رہتے ہیں۔ آپ کو کبھی کسی تقریب کی صدارت کرتے، کہیں مقالہ پڑھتے نہیں دیکھا گیا اور سننے میں آیا ہے کہ آپ اس نوع کی پیش کش پر فوراً ہی معذرت پیش کردیتے ہیں۔ کیا آپ اس کی وجوہات بتانا پسند کریں گے؟
مشفق خواجہ: اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ تحقیق ایک دقت طلب کام ہے یعنی اگر ہم کسی موضوع پر کام کررہے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اسی کام میں مصروف رکھیں اور کوئی دوسرا کام نہ کریں۔ جو جلسے جلوس اور مشاعرے ہیں، اس میں جانے کے بعد آدمی اپنے کام پر پوری توجہ نہیں دے سکتا۔ انجمن ترقی اردو میں سترہ سال تک روزانہ جاتا رہا، لیکن ایک لمحہ ایسا آیا جب مجھے محسوس ہوا کہ وہاں جانے کی پابندی میرے تحقیقی کام میں مخل ہوتی ہے۔ اس کے بعد میں بالکل گوشہ نشین ہوگیا۔ پھر یہ کہ میرا رجحان بھی ان چیزوں کی طرف نہیں ہے، مثلاً میں نے نشرواشاعت کے اداروں سے کبھی واسطہ نہیں رکھا۔ ان کے لیے لکھا ضرور ہے۔ ریڈیو کے لیے میں نے تقریباً ایک ہزار اسکرپٹس لکھے ہوں گے۔ میرا ایک ہفتہ وار پروگرام ’’مسلمان سیاح‘‘ ساڑھے پانچ سال تک نشر ہوتا رہا۔ میں نے دو سال تک ریڈیو کا مشہور پروگرام ’’دیکھتا چلا گیا‘‘ تحریر کیا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران میرا ایک کالم ’’سنا آپ نے‘‘ روزانہ نشر ہوتا تھا۔ اسی طرح میں نے ریڈیو کے لیے بے شمار چیزیں لکھیں، لیکن میں کبھی ریڈیو نہیں گیا۔ گھر سے اسکرپٹ لکھ کر بھجوادیتا تھا۔
طاہر مسعود: یوں تو آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں لیکن ’’جائزہ مخطوطات اردو‘‘ کو آپ کا ادبی کارنامہ تصور کیا جاتا ہے جس کی ابھی ایک ہی جلد چھپی ہے۔ چوں کہ ہمارے ہاں لوگ تحقیقی کاموں کی افادیت سے عموماً واقف نہیں ہوتے۔ اس لیے میں پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے اردو مخطوطات پر کام کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ اور اس کی کیا اہمیت و افادیت ہے؟
مشفق خواجہ: جب میں نے تحقیقی کام شروع کیا تو مجھے اس میں بڑی دقتیں پیش آئیں، مثلاً میں نے کسی شاعر کے حالات جاننا چاہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اس کے بارے میں اب تک کیا کچھ لکھا گیا ہے تو مجھے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر یہ معلوم کرنے کے لیے کسی شاعر کے قلمی نسخے کہاں کہاں دستیاب ہوں گے تو اس سلسلے میں رہنمائی کے لیے کوئی بھی کتاب موجود نہیں تھی، لہٰذا یہ سوچ کر کہ تحقیق کرنے میں جو دقتیں مجھے پیش آرہی ہیں، وہ دقتیں یقینا دوسروں کو بھی درپیش ہوں گی، میں نے ’’جائزہ مخطوطات اردو‘‘ پر کام شروع کردیا۔ اس کتاب کی افادیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ فرض کیجیے آپ ناسخ پر کام کرنا چاہتے ہیں تو میری یہ کتاب آپ کو بتائے گی کہ دنیا بھر میں ناسخ کے دیوان کے کتنے قلمی نسخے ہیں اور ان کی کیا کیا خصوصیات ہیں۔ کس دیوان کے کتنے ایڈیشن چھپے ہیں، غرض یہ کہ ناسخ کے بارے میں قدیم تذکروں سے لے کر آج تک جتنے مضامین لکھے گئے ہیں، ان سب کی تفصیل آپ کو اس کتاب میں مل جائے گی۔ اس طرح میری یہ کتاب محققوں کے لیے تحقیق کی راہ میں بہت سی آسانیاں اور سہولتیں پیدا کرے گی۔
طاہر مسعود: عام طور پر ہمارے محققوں کی دلچسپی کا مرکز مردہ ادیب ہیں اور عہد حاضر کے ادیبوں اور ادبی مسائل تک ان کی رسائی ذرا کم ہی ہوتی ہے۔ آپ نے بہ حیثیت محقق عصر حاضر کے ادیبوں اور شاعروں کے فن پر کس حد تک توجہ دی ہے؟
مشفق خواجہ: یہ خیال بالکل درست ہے کہ محقق حضرات عموماً قدیم چیزوں کے مقابلے میں اپنے زمانے کی چیزوں سے بے خبر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تحقیق کی طرف عموماً ایسے لوگ رخ کرتے ہیں، جو تحقیق کو ہم عصر ادب سے بالکل الگ تصور کرتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر قدیم سے قدیم اور جدید سے جدید چیز میں یکساں دلچسپی رکھتا ہوں اور ایک طالب علم کی حیثیت سے میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر نئی چیز سے باخبر رہوں۔ میں نے قدیم ہی نہیں جدید شعرا پر بھی کام کیا ہے، مثلاً یگانہ۔ علاوہ ازیں میں سمجھتا ہوں کہ پرانے زمانے کا ہر شاعر اس لائق نہیں کہ اس پر کام کیا جائے اور یہ فیصلہ کرنے کے لیے کون سا شاعر کس سلوک کا مستحق ہے، محقق میں تنقیدی نظر ہونی چاہیے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جس شاعر کو وہ دریافت کررہا ہے، موجودہ عہد میں اس کی کوئی اہمیت بھی ہوسکتی ہے یا نہیں، میں نے رسالہ ’’غالب‘‘ میں پرانے شاعر، نیا کلام‘‘ کے عنوان سے کئی شاعروں پہ مضامین لکھے تھے اس میں ان کے دیوانوں سے ایسے اشعار کا انتخاب کیا تھا جو آج بھی پسند کیے جاسکیں۔
طاہر مسعود: ہمارے ہاں تحقیق کے بنیادی اور بڑے بڑے مسائل کیا ہیں؟
مشفق خواجہ: بات یہ ہے کہ اردو ادب کا نوے فی صد حصہ غیر مطبوعہ ہے اور آج تک دو تین شاعروں کو چھوڑ کر کسی کے دیوان کا بھی مستند ایڈیشن شائع نہیں ہوا ہے، مثلاً میر تقی میر کو لیجیے۔ ’’کلیات میر‘‘ سب سے پہلے 1811ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے شائع ہوئی۔ میر اس سے ایک سال پہلے انتقال کرچکے تھے لیکن یہ یقینی ہے کہ کلیات کی طباعت ان کی زندگی ہی میں شروع ہوگئی تھی۔ فورٹ ولیم کالج کی کتابیں ایک خاص مقصد کے تحت شائع کی جاتی تھیں، اور وہ کتابیں آج کل کی مطبوعہ کتابوں کی طرح نہیں تھیں۔ اب فورٹ ولیم کالج کے شائع شدہ نسخے کم یاب ہیں۔ میرے علم کی حد تک ’’کلیات میر‘‘ کے پاکستان میں چار پانچ نسخے ہوں گے۔ اسی طرح چند نسخے ہندوستان میں ہیں۔ منشی نول کشور نے فورٹ ولیم کالج والے نسخے کو بنیاد بنا کر ’’کلیات میر‘‘ چھاپنا شروع کیا لیکن اس میں کتابت کی غلطیاں راہ پا گئیں۔ آخر میں مولانا عبدالباری آسی نے اسے ایڈیٹ کیا۔ یہ نسخہ بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔ گویا جو ’’کلیات میر‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ اس میں متن کی بے شمار غلطیاں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ’’کلیات میر‘‘ کو ازسر نو ایڈیٹ کیا جائے۔ یہ تو میر جیسے بڑے شاعر کا حال ہوا۔ اب آپ دوسرے شعراء کو لیجیے۔ ان کا حال میر سے زیادہ پتلا ہے۔ بیش تر کا تو کلام چھپا ہی نہیں۔ ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے قدیم ادبی سرمائے کو آنے والی نسلوں تک منتقل کریں اور ان کے صحیح اور مستند ایڈیشن شائع کریں۔ دوسرا بنیادی کام یہ ہے کہ ایک بائیو گرافیکل ڈکشنری مرتب ہونی چاہیے تا کہ جب کسی ادیب کے بارے میں بنیادی معلومات کی ضرورت ہو تو وہ اس ڈکشنری سے حاصل کی جائیں۔ مثلاً مرزا ہادی رسوا کے بارے میں رسوا کے تخلص کے تحت اس ڈکشنری میں ان کے حالات اور کتابوں کے نام ہوں۔ کون سی کتاب کب چھپی، اس قسم کی تمام تفصیلات ہونی چاہئیں اور یہ کام کسی اکیلے آدمی کے بس کا نہیں ہے، اسے کسی ادارے کی طرف سے انجام دینا چاہیے۔
طاہر مسعود: اردو کے نام پر جو اتنے ادارے قائم ہیں آپ کے خیال میں ان اداروں کے تحت اس نوعیت کے کام کیوں نہیں ہورہے ہیں؟
مشفق خواجہ: ان اداروں میں بعض تو چند افراد کی پرورش کے لیے بنائے گئے ہیں اور دوسرے ایسے اداروں میں عموماً ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جن کی ان کاموں سے مناسبت نہیں ہوتی۔ سوائے دائرۃ المعارف اسلامیہ کے ان میں سے کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جس نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ اجتماعی یا علمی کام کا کوئی عمدہ نمونہ پیش کیا ہو۔ یہ ادارے زیادہ سے زیادہ پبلشنگ ہائوس کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اگر ان اداروں کے قیام کا یہی مقصد تھا تو یہ مقصد تو پرائیویٹ ناشرین زیادہ بہتر طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔
طاہر مسعود: آپ کا طریقہ تحقیق کیا ہے؟
مشفق خواجہ: کسی کاری گر کے پاس جس طرح کے اوزار ہونے ضروری ہیں۔ اسی طرح ایک محقق کے پاس بنیادی ضرورت کی کتابیں تو ہونی ہی چاہئیں تا کہ اسے کتابوں کی تلاش میں وقت ضائع نہ کرنا پڑے۔ دوسرے یہ کہ اس کی نظر ان تمام چیزوں پر ہونی چاہیے جو اس کے کام میں مفید ثابت ہوسکیں جیسے میں اردو ادب پر کام کررہا ہوں تو مجھے اردو ادب کی کتابوں کے علاوہ برصغیر کی تاریخ کا بھی علم ہونا چاہیے جہاں اردو پیدا ہوئی۔
میں نے تحقیق کے لیے ایک بنیادی کام یہ کیا کہ آٹھ دس برس تک صرف ببلو گرافی بنائی۔ مثلاً میرے پاس اردو کے تقریباً تمام تحقیقی رسائل کا اشاریہ موجود ہے۔ اس کے مضامین کی میں نے موضوع وار فہرست بنائی ہے۔ اس کے بعد میں نے تذکروں کا انڈیکس تیار کیا ہے۔ میرا طریقہ کار یہ ہے کہ جب میں کسی موضوع پر کام کا ارادہ کرلیتا ہوں تو پھر ایک عرصے تک اس پر مواد جمع کرتا رہتا ہوں۔ جب کافی مواد جمع ہوجاتا ہے تو میں لکھنے کا کام شروع کردیتا ہوں۔
طاہر مسعود: اردو کے محققوں کی تعداد میں نہایت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تحقیق کے کام کو نہایت سہل تصور کرلیا گیا ہے۔ جس کسی کو محقق بننا ہو، وہ کسی پرانے شاعر کا دیوان تلاش کرکے اسے ایڈیٹ کرکے حواشی کے ساتھ شائع کردیتا ہے اور محقق کہلاتا ہے۔ پچھلے دنوں گوپی چند نارنگ نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں اس صورت حال کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس صورت حال کا آپ کیا تجزیہ کرتے ہیں؟
مشفق خواجہ: گوپی چند نارنگ کا انٹرویو میں نے پڑھا تھا، ان کی تمام باتیں درست ہیں لیکن ان کا اطلاق ہندوستان پر ہوتا ہے۔ تحقیق کی صورت حال پاکستان و ہندوستان میں مختلف ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ ہندوستان میں ہر مہینے تحقیقی مسائل پر دس بارہ کتابیں چھپتی ہیں جب کہ پاکستان میں سال بھر میں اتنی کتابیں شائع نہیں ہوتیں۔ ہندوستان کی ساٹھ یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے قائم ہیں اور ان سب میں تحقیق کا کام برائے نام ہورہا ہے۔
یونیورسٹیوں نے تحقیق کے کام کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یونیورسٹیوں میں ڈگریوں کے لیے تحقیق کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کا معیار پست ہوتا ہے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ برصغیر میں اب تک جتنے مقالوں پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی گئی ہیں ان میں سے ایک چوتھائی مقالے بھی شائع نہیں ہوئے ہیں اور ان کے شائع نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بعض مقامات پر خود ممتحن نے یہ پابندی عائد کردی ہے کہ انہیں شائع نہ کیا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان مقالات پر ڈگری کیسے دے دی گئی؟
طاہر مسعود: تحقیقی کتابوں کی فروخت کی رفتار یقینا سست ہوگی تو کیا یہ مسئلہ ایسی کتابوں کی اشاعت پر اثر انداز نہیں ہوتا؟
مشفق خواجہ: تحقیقی کتابوں کی تعداد اشاعت عام ادبی کتابوں جتنی ہے تاہم تحقیقی کتابیں عموماً لائبریریاں خرید لیتی ہیں یا پھر تحقیقی سرگرمیوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ خریدتے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی تحقیقی کتابوں کا مطالعہ بڑے پیمانے پر نہیں کیا جاتا۔ اسے ہمیشہ اور ہر جگہ صرف ایک محدود حلقہ پڑھتا ہے اور اس میں تحقیق کی تحقیر کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ تحقیقی کتب کے بارے میں عام لوگوں کی دلچسپی اور معلومات کا یہ حال ہے کہ میری تحقیقی کتاب ’’خوش معرکہ زیبا‘‘ پر روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں تبصرہ پڑھ کر میرے ایک بہت پڑھے لکھے دوست نے مجھ سے پوچھا کہ ’’کیا تم نے محمد علی اور زیبا پر کوئی کتاب لکھی ہے‘‘۔
طاہر مسعود: آپ کا مجموعہ کلام ’’ابیات‘‘ شائع ہوا اور فروخت بھی ہوا۔
مشفق خواجہ: جی ہاں آدھا فروخت ہوا اور آدھا میں نے مفت تقسیم کردیا۔
طاہر مسعود: میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کا مجموعہ کلام موجود ہونے کے باوجود تنقیدی مضامین میں آپ کا حوالہ شاعر کی حیثیت سے کم آتا ہے۔ اس پر آپ کو نقادوں سے کوئی گلہ تو نہیں؟
مشفق خواجہ: بالکل نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نقاد شاعری کے بارے میں مضامین لکھتے وقت، خصوصاً ہم عصر شاعری کے بارے میں صرف اپنے حلقے کے شعراء کا ذکر کرتے ہیں اور اب تو یہ کتابوں کی رونمائی کی تقریبات کا دور ہے اور ہمارے جتنے نقاد ہیں، وہ تقریبوں کے نقاد بن کر رہ گئے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب کی تقریب رونمائی نہیں کرائی اور نہ ہی کسی کو تبصرے کے لیے دی۔ میں مشاعروں میں ریڈیو اور ٹی وی پر نہیں جاتا تو ظاہر ہے کوئی میری شاعری پر رائے کیوں اور کیسے دے گا؟ اگر میری شاعری میں جان ہے تو آج کا نہ سہی کل کا نقاد اسے ضرور اہمیت دے گا۔
طاہر مسعود: آپ خود اپنی شاعری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
مشفق خواجہ: مجھے اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ یہ آپ سامنے شیلف دیکھ رہے ہیں۔ اس میں ڈیڑھ سو سے زیادہ تذکرے ہیں جن میں تقریباً آٹھ ہزار شاعروں کی لاشیں محفوظ ہیں اور لوگ ان میں سے صرف پچیس یا پچاس شعراء کے ناموں س واقف ہیں۔ جب ان ہزاروں شاعروں کا حشر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں تو میں خود اپنی شاعری کو کیسے اہم اور لافانی قرار دے دوں۔
طاہر مسعود: پاکستان و ہندوستان کے ادبی حلقے اور اخبارات کے ادبی صفحات کے قارئین کی ایک بڑی اکثریت ’’خامہ بگوش‘‘ نامی ایک کالم نگار سے واقف ہے جس کے ادبی کالم کا انتظار کیا جاتا ہے اور جس کا ہر کالم ایک نئے تنازعے کا باعث بنتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ خامہ بگوش آپ ہی ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے اپنا نام پوشیدہ رکھ کر ایک قلمی نام اختیار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟
مشفق خواجہ: اصل میں کالم نگاری میرا میدان نہیں ہے۔ یہ میرا مقصد اور میری منزل نہیں ہے۔ یہ تو میرے راستے کے بہت سے منظروں میں سے ایک منظر ہے۔ میں قلمی نام سے اس لیے لکھتا ہوں کہ ہمارے ہاں فرضی ناموں سے لکھنے کی ایک طویل روایت ملتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی صاحب سالہا سال تک ’’عنقا‘‘ کے نام سے لکھتے رہے، مولانا چراغ حسن حسرت نے سندباد جہازی کے نام سے کالم نویسی کی۔ ابن انشا نے کم از کم نو فرضی ناموں سے کالم لکھے اور پطرس بھی فرضی نام تھا جو بالآخر اصل نام کا حصہ بن گیا۔ قلمی نام اختیار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ طنزومزاح کے کالم میں بعض چیزوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اصل نام سے لکھنے میں خرابی یہ ہے کہ لوگ اس پر غور نہیں کرتے کہ کیا لکھا گیا ہے بلکہ اس پر توجہ دینے لگتے ہیں کہ کس نے لکھا ہے؟ چوں کہ میرے پیش نظر مقصد اہم تھا، اس لیے میں نے فرضی نام اختیار کرلیا۔ اب یہ میری بدقسمتی ہے کہ کالموں کی اشاعت کے بعد لوگ اس تحقیق میں پڑ گئے کہ لکھنے والا کون ہے؟
طاہر مسعود: آپ کے ادبی کالموں میں مزاح کے مقابلے میں طنز کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ اس لیے جن شخصیات یا کتابوں کا آپ مضحکہ اڑاتے ہیں، ان کی جانب سے خفگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے تاثرات پر آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
مشفق خواجہ: جن ادیبوں کے متعلق میں نے کالم لکھے، ان میں بعض بے حد حساس تھے۔ ان کا یہی خیال تھا کہ میں نے کسی خاص وجہ سے ان کے خلاف کالم لکھے ہیں۔ حالاں کہ میں نہ کسی کے خلاف لکھتا ہوں اور نہ ہی اس میں کوئی وجہ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر کسی کتاب میں مجھے کوئی مضحکہ خیز بات نظر آتی ہے تو میں اس کی طرف اشارہ کردیتا ہوں۔ اس کا ذاتیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا اگر میں کسی غلط رجحان کی مذمت کرتا ہوں تو کیا برا کرتا ہوں۔ میں نے تقریبات رونمائی کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے کیوں کہ میں دیانت داری سے اسے ادب اور ادیب کے حق میں مضر سمجھتا ہوں۔ اسی طرح میں نے بعض اداروں مثلاً اکادمی ادبیات پاکستان کے خلاف لکھا ہے کیوں کہ میری رائے میں اس ادارے نے ادیبوں کی خدمت نہیں کی ہے بلکہ ادیبوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ غیر ادبی ذرائع سے نام و نمود کس طرح حاصل کی جائے۔ میں نے ان سرکاری افسروں کو نشانہ بنایا ہے جو ذاتی شہرت کے لیے اپنے عہدے استعمال کرتے ہیں۔ ایسا شخص جو 112 نقادوں کا صرف اپنے عہدے کی وجہ سے ممدوح بن جاتا ہے، اگر اسی شخص سے اس کا عہدہ چھین لیا جائے تو 112 نقاد تو کیا اس کے پاس ایک نوحہ گر بھی نہ ہو۔ اگر میں نے ایسے شخص کو اس کی حقیقت بتائی ہے تو کیا غلط کیا ہے۔ میں اپنے کالموں سے مطمئن ہوں۔ اس لیے کہ میں نے کبھی بدنیتی سے نہیں لکھا۔
طاہر مسعود: دیکھا گیا ہے اقتدار سنبھالنے والی ہر نئی حکومت نے ادیبوں، شاعروں اور اہل قلم حضرات کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ آپ کے خیال میں ایسے موقعوں پر ادیبوں کا رویہ نئی حکومت سے کیسا ہونا چاہیے؟
مشفق خواجہ: ہمارے ملک میں ادب عوام کو متاثر کرنے کا اتنا موثر ذریعہ نہیں ہے۔ ادیبوں کا عوام سے براہ راست رابطہ کبھی بھی نہیں ہوپاتا۔ اس لیے کہ ہمارے ہاں ادب پڑھنے والوں کی تعداد برائے نام ہے۔ ادب ہمارے ملک میں کوئی موثر طاقت نہیں ہے، اس لیے ادیب کسی حکومت کے لیے اتنے مفید ثابت نہیں ہوتے جتنے صحافی ہوتے ہیں۔ نتیجے میں آپ دیکھیں گے کہ جب بھی حکومت بدلی ہے خود ادیبوں نے اپنی اہمیت جتلانے کے لیے کسی نہ کسی طرح خود کو حکومت سے وابستہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ سناتا ہوں۔ جب ایوب خان نے دستور نافذ کیا تو اس کی تائید میں مضامین لکھوانے کے لیے ادیبوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ہر ادیب نے بڑھ چڑھ کر اپنی قیمت لگائی اور حکومت کے مطلوبہ مقاصد کے لیے کام کیا۔ بہت کم ادیب ایسے تھے جنہوں نے اس سے اپنے آپ کو بے تعلق رکھا۔ جب مضامین کے انبار در انبار شائع ہوگئے تو ایوب خان نے ایوان صدر میں ان ادیبوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے چائے پر مدعو کیا۔ ابن انشا نے مجھ سے کہا کہ ’’آئو! آج تمہیں ایک تماشا دکھاتے ہیں‘‘۔ وہ مجھے اپنے ساتھ ایوان صدر لے گئے۔ میں ے دیکھا کہ تقریباً تمام اہم ادیب جن میں قومی اخبارات کے ایڈیٹر بھی شامل تھے، وہاں موجود تھے۔ دوران گفتگو ہمارے ملک کے سب سے بڑے اخبار کے ایڈیٹر نے ایوب خان سے کہا ’’حضور! آپ نے مارشل لا ہٹادیا حالاں کہ ابھی اس ملک کو دس سال تک مارشل لا کی ضرورت ہے‘‘۔ ایوب خان نے جواب دیا۔ ’’آپ یہ بات کل اپنے اخبار میں لکھ دیجیے۔ میں پرسوں دوبارہ مارشل لا نافذ کردوں گا‘‘۔ اس واقعے سے آپ اندازہ لگالیں کہ ہمارے ادیبوں اور دانش وروں کا کیا کردار رہا ہے۔ اسی طرح ایک مشہور اشتراکی ادیب جو کئی کتابوں کے مصنف ہیں، ایک امریکی ادارے مکتبہ فرینکلن کے لیے بھاری معاوضے پر کتاب کے ترجمےکرتے رہے ہیں اور ان پر دوسروں کا نام چھپتا رہا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک میں ایسے ادیب ہمیشہ کم رہے ہیں جو حکومت کی غلط کاریوں پر اسے ٹوک سکیں۔

حصہ