کامل نمونہ

102

آرام، آسائش، سکون کو ترک کرکے مشقت، تکلیف اور دکھ کا راستہ اختیار کرنا بہت مشکل امر ہے۔ ایسے بہت کم لوگ ہے جنہوں نے عیش کوش زندگی کو خیرباد کہہ کے اپنے لیے مشقت کا راستہ چنا، ان میں سب سے پہلے جس ہستی کا نام آتا ہے وہ ہمارے نبیِ آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی زندگی تکالیف اور مشقتوں سے بھری پڑی ہے، اور جب آسائشِ دنیا آپؐ کے پاس آنے لگی تو اس کو دوسرے مسلمانوں میں بانٹ دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شیوہ تھا۔ مالِ غنیمت بھربھر کے آتا تھا، لیکن اُس وقت تک مسجد نبوی سے نہیں جاتے تھے جب تک سارا مال تقسیم نہ کردیں۔
ایک دفعہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دربارِ نبوی میں حاضر ہوکر اپنی ہتھیلیوں کے گٹے دکھاتی ہیں اور مالِ غنیمت سے ایک لونڈی مانگتی ہیں، تو آپ صلی اللہ وسلم جواب دیتے ہیں کہ تم دنیا کی آسائش چاہتی ہو یا آخرت کی آسائش؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آخرت کی آسائش کو ترجیح دیتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت ان کو تسبیح فاطمہ ہدیہ کرتے ہیں جو ان کی تھکن دور کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہ تسبیح اُن تمام خواتین کے لیے ہے جو گھریلو امور کی انجام دہی کے دوران تھکن محسوس کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی آسانیاں بانٹنے والے تھے کہ مشقت اپنے اوپر سہہ لیتے اور لوگوں کو آسانیاں فراہم کرتے۔
دنیا کا کوئی لیڈر ہوگا جو اپنے غلام کو گھوڑے پر بٹھائے اور خود پاپیادہ؟ لیکن آپؐ نے کبھی اپنی ذات کو ترجیح نہیں دی۔ ایک دفعہ سفر کے دوران اپنے غلام کو صحیح والی مسواک دے دی اور خود ٹیڑھی مسواک رکھ لی۔ غلام نے کہا کہ آپؐ یہ مسواک لے لیں۔ آپؐ نے جواب دیا کہ جو تم اپنے لیے پسند کرو وہی دوسروں کے لیے…آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو فرماتے اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے تھے، پھر اس کی تلقین لوگوں کو کرتے تھے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر آپؐ خود صحابہ کے ساتھ کھدائی میں شریک ہوئے۔ دنیا کا کون سا ایسا لیڈر ہے جو اپنی رعایا کے ساتھ خود بھی کام کرے؟ اس کی عملی مثال ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی۔ صحابہ نے آ کر اپنا حال بیان کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا ہے۔ آپؐ اپنا کپڑا ہٹا کر دکھاتے ہیں کہ آپؐ کے دو دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر راہ میں سب سے بڑھ کر خود صحابہ کرام کو عملی نمونہ بن کر دکھایا۔ یہ ایک مکمل لیڈر کی عملی تصویر ہے۔ دنیا آج بھی ایسے اوصاف کے لیڈر کی تلاش میں ہے۔ ایسے اوصاف انہی لوگوں میں پائے جاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے ہی ایسے ہیرے نکلے جنہوں نے کتنی صدیوں تک دنیا میں اسلامی نظام کا جھنڈا لہرایا۔ آج بھی ہمیں اسی محبت ِرسولؐ سے اپنی زندگی کو مزین کرنے کی ضرورت ہے۔

حصہ