نعت رسول مقبول ﷺ

268

علامہ اقبال
ہر کہ عشق مصطفے سامانِ اوست
بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا
اس نام سے ہے باقی آرام جہاں ہمارا
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے
ہونہ ہویہ پھول تو بلبل کا ترانہ بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک استادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
وہ دانائے سبل ختم الرسل، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰس، وہی طٓہٓ
لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پاگئے
عقل، غیاب و جستجو، عشق، حضور اضطراب
…٭…
میر تقی میر
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ
طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے
کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا
جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے
رخنوں سے دیوار چمن کے منہ کو لے ہے چھپا یعنی
ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش
دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
…٭…
ولی محمد ولی
چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں
کہ تا جاؤں پری رو کی گلی میں
نہ تھی طاقت مجھے آنے کی لیکن
بزور آہ پہنچا تجھ گلی میں
عیاں ہے رنگ کی شوخی سوں اے شوخ
بدن تیرا قبائے صندلی میں
جو ہے تیرے دہن میں رنگ و خوبی
کہاں یہ رنگ یہ خوبی کلی میں
کیا جیوں لفظ میں معنی سریجن
مقام اپنا دل و جان ولیؔ میں
…٭…
اعجاز رحمانی
ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں
قولِ نبی دلیل قرآن بن گئے ہیں
تعلیمِ مصطفےٰ نے ایسا شعور بخشا
جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں
آدم سے تابہ عیسیٰ، عیسیٰ سے مصطفیٰ تک
اک داستان کے کتنے عنوان بن گئے ہیں
اسلام چاہتا ہے اس واسطے اُخوّت
جب مل گئے ہیں قطرے طوفان بن گئے ہیں
اخلاقِ مصطفیٰ ہے کردار کی کسوٹی
اقوال مصطفےٰ کے میزان بن گئے ہیں
اسلام سے ہٹے ہیں جس دور میں بھی انساں
فرعون بن گئے ہیں ہامان بن گئے ہیں
کلمہ، نماز، روزہ، حج و زکوۃ یارو
دینِ محمدی کے ارکان بن گئے ہیں
جن کو ہوئی میسر دربار میں حضوری
وہ لوگ مصطفےٰ کے مہمان بن گئے ہیں
کیا حشر اپنا ہوگا اعجاز روزِ محشر
ہر بات جان کر ہم انجان بن گئے ہیں
…٭…
مظفر وارثی
تو امیرِ حرم میں فقیر عجم
تیرے گن اور یہ لب میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا تو کجا من کجا
میری ہر سانس تو خوں نچوڑے میرا
تیری رحمت مگر دل نہ توڑے میرا
کاسر ذات ہوں تیری خیرات ہوں
تو سخی میں گدا تو کجا من کجا
تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں
میں سمندر میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تیری راہ گزر
سدرۃ المنتہیٰ تو کجا من کجا
ڈگماوؔں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے
میری خوش قسمتی میں تیرا امتی
تو جزا میں رضا تو کجا من کجا
ڈوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں
جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں
آنسووؔں کی زباں ہو میری ترجماں
دل سے نکلے صدا تو کجا من کجا
…٭…
امیر مینائی
وہ بزم خاص جو دربارِ عام ہو جائے
امید ہے کہ ہمارا سلام ہو جائے
مدینہ جاؤں پھر آؤں دوبارہ پھر جاؤں
تمام عمر اسی میں تمام ہو جائے
…٭…
الطاف حسین حالی
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطا کا ر سے درگزر کرنے والا
بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا
اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
مسِ خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا
…٭…
ماہر القادری
رسول مجتبیﷺ کہیے، محمد مصطفیﷺ کہیے
خدا کے بعد بس وہ ہیں، پھر اس کے بعد کیا کہیے
شریعت کا ہے یہ اصرار ختم الانبیاء کہیے
محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب خداﷺ کہیے
جب ان کا ذکر ہو دینا سراپا گوش ہو جائے
جب سن کا نام آئے مرحبا صل علی کہیے
مرے سرکارﷺ کے نقش قدم شمع ہدایت ہیں
یہ وہ منزل ہے جس کو مغفرت کا راستہ کہیے
محمد کی نبوت دائرہ ہے نور وحدت کا
اسی کو ابتدا کہیے اسی کو انتہا کہیے
غبار راہ طیبہ سرمہ چشم بصیرت ہے
یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاک شفا کہیے
مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آنسو نہیں رکتے
مری آنکھوں کو ماہر، چشمہ آب بقا کہیے
…٭…
پنڈت گیا پرساد خودی
زندگی میں زندگی کا حق ادا ہو جائے گا
تو اگر اے دل غلامِ مصطفٰے ہو جائے گا
رحمت للعالمیں سے مانگ کر دیکھو توبھیک
ساری دنیا سارے عالم کا بھلا ہو جائے گا
ہے یہی مفہوم تعلیمات قرآن و حدیث
جو محمد کاہوا اس کا خدا ہو جائے گا
شوق سے نعت نبی لکھتا رہا گر اے خودی
حق میں بخشش کا تری یہ آسرا ہو جائے گا
…٭…
مظفر وارثی
تو امیرِ حرم میں فقیر عجم
تیرے گن اور یہ لب میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا تو کجا من کجا
میری ہر سانس تو خوں نچوڑے میرا
تیری رحمت مگر دل نہ توڑے میرا
کاسر ذات ہوں تیری خیرات ہوں
تو سخی میں گدا تو کجا من کجا
تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں
میں سمندر میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تیری راہ گزر
سدرۃ المنتہیٰ تو کجا من کجا
ڈگماوؔں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے
میری خوش قسمتی میں تیرا امتی
تو جزا میں رضا تو کجا من کجا
ڈوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں
جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں
آنسووؔں کی زباں ہو میری ترجماں
دل سے نکلے صدا تو کجا من کجا
…٭…
نعیم صدیقی
ہے چہرہ چاند، ساری شخصیت ہے چاندنی، آ ہا
گواہی دی نگاہوں نے، تمھی یٰسیں ، تمھی طاہا
بہ صد پیرایہ ہر سُو انعکاسِ حسنِ گل دیکھا
تکلّم ہا، تبسّم ہا، تجلّی ہا، تماشا ہا!
یہ صبر و حِلم و وَقر و نظم کے داعی کا مکتب ہے
صدا اونچی نہ یاں اٹھے! خدا کے واسطے! ”ہاہا“
بچارے آدمی کی آزمائش کتنی مشکل ہے
مسلسل کشمکش ما بینِ طغواھا وَ تقوٰها
انوکھا ہے سفر بھی، راه بھی، اے جادہ پیماؤ!
کہیں ہے کوئی دوراہا! کہیں آتا ہے چوراہا
حضورِ پاکؐ شاہی کو مٹانے کے لیے آئے
ملے اذنِ تخاطب تو کہوں میں کس طرح، ”شاہا“!
خرد بھٹکی نہ پھر اپنی، تمھیںؐ جس روز سے سمجھا
نظر بہکی نے پھر اپنی، تمھیںؐ جس روز سے چاہا
پریشاں بھیڑیوں کے درمیاں اقوام کا ریوڑ
تحفظ ان کا ہو کیسے، نہیں ہے کوئی چرواہا
مرے اعمال نامے سے بس اک نیکی یہی نکلی
کہ میں نے اُنؐ کو پورے دل سے، پوری جان سے چاہا
…٭…
احمد جاوید
نہ کوئی دل سا غنی ہے، نہ کوئی دل سا فقیر
ان کے الطاف کے بعد، ان کی عطا سے پہلے
قلبِ صدیق و عمر، سینہ عثمان و علی
چمنِ عشق ہیں ایجادِ صبا سے پہلے
دل نے سو بار سنی غیب سے آوازِ قبول
ایک بس ایک فقط ایک دعا سے پہلے
کچھ نہیں مانگتے ہم رب محمد کی قسم
ان پہ تسلیم کے بعد، ان کی ثناء سے پہلے
دعوِیٰ عشقِ رسالت میں نہ جلدی کیجے
اس کی توثیق تو ہو خوفِ خدا سے پہلے
کچھ نہ تھے انفس و آفاق، زمین و افلاک
ان کے نور، ان کے ظہور، ان کی ضیاء سے پہلے
کچھ نہیں ہاں بخدا کچھ بھی نہیں دیدہ و دل
ان کے دیدار سے قبل، ان کی لقا سے پہلے
عازمِ طیبہ پہ لازم ہے کہ آدابِ سفر
پوچھ کر نکلے کسی مردِ خدا سے پہلے
دیکھا جاتا ہے وہاں دیدۂ تر، قلبِ سلیم
ریش و سجادہ و دستار و قبا سے پہلے
ہوسِ جاہ کہاں، عشق شہنشاہ کہاں
سینہ خالی تو کرو کبر و ریا سے پہلے
دشتِ پر خارِ محبت میں قدم رکھتے وقت
پوچھ ہی لیتے کسی آبلہ پا سے پہلے
دل میں اک مہرِ جہاں تاب ہے جو بہرِ طلوع
اذن لیتا ہے شہِ ارض و سما سے پہلے
…٭…
محسن کاکوروی
سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کے لیے
زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کے لیے
زمیں بنائی گئی کس کے آستاں کے لیے
کہ لا مکاں بھی اٹھا سر و قد مکاں کے لیے
ترے زمانے کے باعث زمیں کی رونق ہے
ملا زمین کو رتبہ ترے زماں کے لیے
…٭…

اعجاز رحمانی
ظالم سے مصطفیٰؐ کا عمل چاہتے ہیں لوگ
سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ
کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاں
پوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ
سائے کی مانگتے ہیں ردا آفتاب سے
پتھر سے آئنے کا بدل چاہتے ہیں لوگ
کب تک کسی کی زلف پریشاں کا تذکرہ
کچھ اپنی الجھنوں کا بھی حل چاہتے ہیں لوگ
بار غم حیات سے شانے ہوئے ہیں شل
اکتا کے زندگی سے اجل چاہتے ہیں لوگ
رکھتے نہیں نگاہ تقاضوں پہ وقت کے
تالاب کے بغیر کنول چاہتے ہیں لوگ
جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں
کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ
درکار ہے نجات غم روزگار سے
مریخ چاہتے ہیں نہ زحل چاہتے ہیں لوگ
اعجازؔ اپنے عہد کا میں ترجمان ہوں
میں جانتا ہوں جیسی غزل چاہتے ہیں لوگ
…٭…

حسان بن ثابت
اغر علیہ للنبوتہ خاتم
من اللہ مشھود، یلوح و یشھد
وضم الا لہ اسم النی الی اسمہ
اذ قال فی الخمس الموذن اشہد
و شق لہ من اسمہ لیجلہ
فذو العرش محمود وھذا محمد
نی اتانا بعد یاس و فترت
من لارشل والا و ثان فی الارض تعبد
فامسی سراج مستنیرا و ھادیا
یلوح کما لاح الصقیل المھند
وانذرنا نارا و بشر جنتہ
وعلمنا السلام فاللہ تحمد
وانت الہ الخلق ربی و خالقی
بذلک ما عمرت فی الناس اشھد
تعالیت رب الناس من قول من دعا
سواک الھا انت اعلی و امجد
لک الخق والنعماء والامر کلہ
بایاک نستھدی و ایاک نعبد
…٭…

لا الہ الا اللہ
علامہ اقبال
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں لا الہ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وھم و گماں لا الہ الا اللہ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
…٭…
مجید لاہوری
زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارو
دل بے تاب کو تسکین کہاں ہے یارو
وہی صیاد کی گھاتیں ہیں وہی کنج قفس
فصل گل رہن غم جور خزاں ہے یارو
وہی افکار کی الجھن وہی ماحول کا جبر
ذہن پا بستہ زنجیر گراں ہے یارو
وہی حسرت وہی لب اور وہی مہر سکوت
شوق کو جرأت اظہار کہاں ہے یارو
عزم کی رہ بھی وہی راہ میں کانٹے بھی وہی
دور کوسوں مری منزل کا نشاں ہے یارو
بے وفائی کا خدارا مجھے الزام نہ دو
تم پہ حال دل بیتاب عیاں ہے یارو
کاش میں کہہ بھی سکوں کاش کوئی سن بھی سکے
آہ وہ راز کہ جو راز نہاں ہے یارو
میرے ہونٹوں پہ ہے اک نغمۂ بے صوت و صدا
دل میں اک محشر فریاد و فغاں ہے یارو
اک تغافل کہ جو ہے وجہ پریشانئ دل
ایک یاد ان کی ہے جو راحت جاں ہے یارو
آج ساحل کے قریں ڈوبنے والا ہے مجیدؔ
ناخدا کو تو پکارو وہ کہاں ہے یارو
…٭…
واصف علی واصف
جو لوگ سمندر میں بھی رہ کر رہے پیاسے
اک ابر کا ٹکڑا انہیں کیا دے گا دلاسے
مانا کہ ضروری ہے نگہبانی خودی کی
بڑھ جائے نہ انسان مگر اپنی قبا سے
برسوں کی مسافت میں وہ طے ہو نہیں سکتے
جو فاصلے ہوتے ہیں نگاہوں میں ذرا سے
تو خون کا طالب تھا تری پیاس بجھی ہے؟
میں پاتا رہا نشوونما آب و ہوا سے
مجھ کو تو مرے اپنے ہی دل سے ہے شکایت
دنیا سے گلہ کوئی نہ شکوہ ہے خدا سے
ڈر ہے کہ مجھے آپ بھی گمراہ کریں گے
آتے ہیں نظر آپ بھی کچھ راہنما سے
دم بھر میں وہ زمیں بوس ہو جاتی ہے واصف
تعمیر نکل جاتی ہے جو اپنی بِنا سے
…٭…
عبید اللہ علیم
بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص
تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے
فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص
میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں
دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا اک شخص
پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر
مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اک شخص
محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال
مری ہی طرح کا مجھ میں سما گیا اک شخص
محبتوں نے کسی کی بھلا رکھا تھا اسے
ملے وہ زخم کہ پھر یاد آ گیا اک شخص
کھلا یہ راز کہ آئینہ خانہ ہے دنیا
اور اس میں مجھ کو تماشا بنا گیا اک شخص
…٭…
فیضان عارف
نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا
پرانے شہر بھی آباد رکھنا
پڑی ہو پاؤں میں زنجیر پھر بھی
ہمیشہ ذہن کو آزاد رکھنا
کسی کی یاد جب شدت سے آئے
بہت مشکل ہے خود کو یاد رکھنا
دکھوں نے جڑ پکڑ لی میرے اندر
ضروری تھا کوئی ہم زاد رکھنا
خدایا شاخ پر کلیاں کھلانا
کوئی پودا نہ بے اولاد رکھنا
پڑھاؤ ڈالنے والو ہمیشہ
گزشتہ ہجرتوں کو یاد رکھنا
کہیں بھی گھر بسا لینا جہاں میں
مگر اپنے وطن کو یاد رکھنا
…٭…
منتخب اشعار
اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئی
ختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا
حبیب جالب
…٭…
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ندا فاضلی
…٭…
ہے یہ تقدیر کی خوبی کہ نگاہ مشتاق
پردا بن جائے اگر پردہ نشیں تک پہنچے
جگدیش سہائے سکسینہ
…٭…
مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے
پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں
حنیف کیفی
…٭…
وہ ساری باتیں میں احباب ہی سے کہتا ہوں
مجھے حریف کو جو کچھ سنانا ہوتا ہے
اسعد بدایونی
…٭…
میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی
ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے
احمد فراز
…٭…

فیضان عارف
ظلم کی راہ میں دیوار ہوا کرتے تھے
ہم کبھی عزم کے کہسار ہوا کرتے تھے
شہر سنسان ہے ان چاند سے چہروں کے بغیر
جو دریچوں سے نمودار ہوا کرتے تھے
مجھ سے مل کر ہیں عجب عالم حیرانی میں
جو مرے فن کے پرستار ہوا کرتے تھے
زندگی کس قدر آسان ہوا کرتی تھی
لوگ جب صاحب کردار ہوا کرتے تھے
اس کی زلفوں میں چمکتے تھے ستارے ہر پل
ہر گھڑی رات کے آثار ہوا کرتے تھے
اب وہاں فصل عمارات کی اگ آئی ہے
جب جگہ پر گھنے اشجار ہوا کرتے تھے
تیری پلکوں کے اشارے کو سمجھ جاتے تھے
ہم کبھی اتنے سمجھ دار ہوا کرتے تھے
تیری تصویر نگاہوں میں سجی رہتی تھی
ہم تو سوتے میں بھی بیدار ہوا کرتے تھے
تجھ کو اب یاد نہیں ہے کہ تری خاطر ہم
کیسے رسوا سر بازار ہوا کرتے تھے
جانے کس حال میں ہوگی وہ مری جان حیات
جس کی خاطر مرے اشعار ہوا کرتے تھے
جا چکے اب وہ زمانے کہ مر…
…٭…

حصہ