مقام اساتذہ،صفات اساتذہ،اور دور جدید میں تکریم اساتذہ کی حقیقت

84

نسل انسانی میں سب سے بلند ترین،قابل احترام،قابل تقلید،قابل عقیدت ومحبت قابل ستائش مقام اساتذہ کا ہے کیونکہ یہ معماران قوم ونسل ہیں وہ اس لئے کہ یہ کار نبوت انجام دیتے ہیں۔سب سے اعلیٰ وعرفا اساتذہ ہمارے انبیاء اور رسول ہیں۔یہ وحی الٰہی کے ذریعہ توحید ورسالت،فکر آخرت،اخلاق و تمدن،تہذیب و شائستگی،علم وہنر،اسرار کائنات و تخلیق کائنات،مقصد تخلیق آدم اور ان کی اولاد بے اور زندگی کے رموز اسرار کی نہ صرف تعلیم دی بلکہ تکریم انسانیت،تحریم انسانیت اور تعظیم انسانیت کی تربیت دی۔بقاء انسانی کے لئے عدل وانصاف کے خدائ نظام سے آشنا کیا اور کائنا ت کی تہوں میں چھپی اشیاء کی دریافت کا ہنر سکھایا مستقبل کی پیش بینی کی اور انسانی جانوں کو لاحق خطرات سے متنبہ کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔’’ ہم نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا‘‘۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ نے مجھے معلم بنا کر بھیجا ہے‘‘۔
لہذاء مقام اساتذہ کا تعین اس ذات مقدس،وجہ تخلیق کائنات،ختم رسل اور امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے نسبت ہے جو اس کار نبوت کو انجام دیتے ہیں۔
تیرے وجود خاکی میں موجود ہے سارا جہاں
تیرے سوا نہ پا سکا کوئی مقام منتہا
پیارے خدا کے پیارے نبی تیرا کوئی ثانی نہیں
المدثر و المزمل فکر و عمل کی داستاں
شداد کی جنت،نمرود کے عجائبات ،احرام مصر اور ابوالحول کی تعمیر،عادوثموکے پہاڑوں کے گھر،بابل اور نینوا کے جھولتے ہوئے جھولے موہن جو دڑو اور ہڑپا کے کھنڈرات پامپائ اور فلپینو کے تباہ شدہ عبرت ناک مناظر ماضی کا تمام ایجادات و دریافت،علم و ہنر کے تمام پیچیدہ اور پراسرار صحیفے دھاتوں کا استعمال،معدنیات کی تلاش بحری سفر کا آغاز نوح علیہ السلام کی کشتی سے مشابہ بحری جہاز ماضی کا اساتذہ کے مرہون منت تھے اور دور جدید کے ایجادات اور لاسلکی آلات اور گلوبل ولیج کا وجود،خلاووں اور سمندروں کی تہہ میں مٹر گشتی انسانی جسم کی پیوند کاری تحقیق ودریافت کے لا متناہی سلسلے آسمانوں سے بات کرتی عمارتیں ہوائی جہاز،ریل اور خلائی راکٹ کے سفر نے دنیا کے فاصلے کو محدود کر دیا ہے۔مگر ماضی کی طرح اساتذہ کی اس ہنر مندی نے پھر سے شداد و نمرود،فرعون و قارون کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
لہٰذا یہ اعلیٰ مقام اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ استاد زیادہ سے زیادہ فکرمند رہے اور جدوجہد کرے کیونکہ یہ متعدد پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو کے حامل شخصیات کو پروان چڑھاتا ہے۔
استاد کی اہم خصوصیت یا صفت یہ ہےکہ وہ اپنے پیشے سے محبت کرتاہے اور اس کی تعریف کرتاہے۔یہ طلباء کے مفادات اور ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔یہ کائنات کے عجائبات کی تشریح کرتا ہے جب سے یہ احکامات الٰہی کے ذریعہ وجود میں آئے ہیں۔یہ مقدس تحریروں پر غور وفکر ( ponder over) کرتا ہے۔یہ مقصد زندگی سے آشنا کرکے جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
یہ علم کا متلاشی ہوتا ہے اور پڑھانے سے پہلے خود پڑھتا ہے۔بہترین استاد وہ ہے جو عمر بھر طالب علم رہتا ہے۔روایت میں آتا ہے کہ امام حنبل ایک کتا پالنے والے کو سلام کیا کرتے تھے۔شاگردوں نے پوچھا آپ اس کو کیوں سلام کرتے ہیں آپ نے کہا یہ میرا استاد ہے۔کسی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کتا کب بالغ ہوتا ہے میں نہیں جانتا تھا تو اس نے بتایا تھا کہ جب کتا ٹانگ اٹھا کر پیشاب کرنے لگے تو سمجھ لینا یہ بالغ ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ استاد سچائی،خوبصورتی اور نیکی کے ذرائع پر غور کرتاہے۔
استاد کی سب سے اہم صفت یہ ہےکہ وہ کچھ بھی پڑھاتا ہے اس پر عمل کرتاہے ہے۔یہی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔
دور قدیم و جدید ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم دراصل یہ ہےکہ موجودہ نسل اپنی آ نے والی نسل کو اپنی دینی،تہذیبی ،اخلاقی اور ہنر مندی کو منتقل کرتی ہے اور اس کے اندر تنوع پیدا کرتی ہے نسلوں کی تعلیم و تربیت اس طرح کی جاتی ہے کہ دنیاوی تعلیم کو علم الوحی کے ماتحت کر دیں تاکہ ہر ایجادات اور دریافت انسان کے فلاح و بہبود کا ضامن بنے۔یہی اساتذہ کا مقام ہے۔اس کی عظمت اسی میں پوشیدہ ہے۔اس کا احترام اور مرتبہ اسی سے وابستہ ہے۔
“صفات اساتذہ”
سندھی زبان میں اک لفظ ہے آخوند جو فارسی زبان کے لفظ خاندن سے ماخوذ ہےجس کے معنی ہے پڑھ۔یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے انسانی دلوں پر اپنے حکم کے ذریعہ اپنے احکامات لکھ دیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب فرشتوں سے اللہ نے اشیاء کے بارے میں پوچھا تو فرشتوں نے معذوری ظاہر کی پھر اللہ نے آدم کو علم الاشیاء اور علم الشریعہ عطا کی اور آدم و اولاد آدم کو علم کی بنیاد پر فضیلت حاصل ہوئی۔
جچتے نہیں کنجشک وحمام اس کی نظر میں
جبریل و سرافیل کا صیاد ہے مومن
’’ علامہ اقبال‘‘
استاد وہ ہے جو انسانی دلوں کی تحریر کو پڑھ سکتا ہوجو پیغام اللہ کے احکامات کے پرتو ہیں جو مقدس تحریروں اور تخلیق کائنات میں محفوظ ( enshrined) کر دیے گئےہیں۔لہٰذا استاد اک بہترین قاری ہے جو احکامات الٰہی کی تکمیل کرتا ہے۔جو پہلی وحی اقرا سے شروع ہوتی ہے۔استاد جانتا ہےکہ اللہ کے احکامات کو کیسے پڑھا جائے جو مقدس تحریروں اور تخلیق کائنات میں موجود ہے۔یہی آ خوند لفظ استاد کے مقام اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مشرق میں بالخصوص استاد کا احترام کیا جاتا ہے اس لئے کہ یہ روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔
“دور جدید میں تکریم اساتذہ کی حقیقت۔”
جب سے دنیا مادہ پرستی کے جال میں پھنسی ہے ہر انسان چندمعدود کہ تجارتی ذہن اور خود غرضی کا مالک ہو گیا ہے۔زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی ہوس میں ہر جائز نا جائز راستے کو اپنا تا ہے۔حصول رزق کے لئے جتنے بھی پیشہ ورانہ شعبے ہیں اس میں اخلاص کی جگہ مادہ پرستی،خود غرضی اور بد دیانتی نے جگہ لے لی ہے۔لہٰذا زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح تعلیمی شعبہ بدترین آلود گی سے دوچار ہے۔مغرب کے مادہ پرستانہ نظام نے تعلیم کو تجارت میں تبدیل کردیا ہے۔استاد معلم اخلاق،علم ہنر کی جگہ تاجر بن گیا ہے۔اور انسانی معاشرے میں یہ دونوں طبقات قابل ملامت گردانے جاتے ہیں۔
جتنے بھی انسانی رشتے پامال ہوئے ہیں مغرب نے سال میں ایک دن کو تکریم کا دن مقرر کر دیا ہے۔مثلا mother’s day, father’s day, women day, teachers day etc.یہ نام نہاد ٹیچرز ڈے جو تکریم اساتذہ کے لئے منایا جاتا ہے ،سال بھر اس کا نظارہ اسکول،کالج، اور جامعات میں اساتذہ کی بے توقیری کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔استاد کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ وہ 4 گھنٹے کےلئے آئے پڑھائے اور گھر چلا جائے اس کا تعلق نہ بگڑے ہوئے اور شریر بچوں کو نہ سدھارنے سے ہےنہ تربیت دینے سے ہے کیونکہ ڈانٹنا اور سزا دینا قابلِ جرم ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا استاد صرف ترسیل معلومات کا کام تجارتی بنیادوں پر کرتاہے اس لئے اس کاcharater بھی معیار مطلوب پر نہیں ہوتا۔مختصر یہ ہےکہ جیسا بووگے ویسا کاٹو گے۔اسکول کالج اور جامعات میں پھیلتی ہوئی اخلاقی برائیاں اس کا ثبوت ہیں۔
تکریم تو اس وقت ہوگی جب تکریم انسانیت کے معلم اخلاق آقا نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں استاد اور طالب علم کے رشتے قائم ہوں گے۔
Money loss is nothing loss, Health loss is something loss,But character loss is everything loss.
مالک صراطِ مستقیم پر چلا، اور مغضوبین کے راستے سے بچا۔
علم الاشیاء اور علم الشریعہ میں توازن تکریم اساتذہ اور انسانیت کی ضامن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا پر کفر و ذلالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔
ہر سمت میں چھائی تھی جہالت ہی جہالت
انسان کو عظمت بھی محمد سے ملی ہے
کس درجہ بے توقیر تھی دنیا میں یہ عورت
اس کو بھی عزت محمد سے ملی ہے

حصہ