پطرس بخاری،اردو ادب کے ممتاز مزاح نگار

94

پروفیسر پطرس ادبی دنیا میں پطرس بخاری کے نام سے معروف ہیں۔ وہ بڑے طباع اور نکتہ سنج ادیب تھے۔ بخاری اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کے قادرالکلام انشا پرداز، بلند پایہ نقاد اور کامیاب مترجم تھے۔ اپنے ظریفانہ مضامین کے مجموعے ’’پطرس کے مضامین‘‘ کی بدولت ان کا شمار پاک و ہند کے ممتاز ترین مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کا مزاح اس اعتبار سے بہت بلند ہے کہ ان کی تحریروں میں قدم قدم پر مزاح موجود ہونے کے باوجود کسی کا دل نہیں دکھاتے بلکہ ایک بلند پایہ انسان کی طرح، جس کی ذات سے پیدا کرتے ہیں، اس کی ذات کے لیے ایک ایسا آئینہ بن جاتے ہیں جن میں اس کی تمام ترکمزوریاں نظر آتی ہیں۔ بخاری کسی کی کمزوری دریافت کر کے اس کا مذاق نہیں اڑاتے نہ اس پر طنز کرتے ہیں بلکہ اس کی کمزوری کی وجہ پر روشنی ڈالتے، مسکراتے گزر جاتے ہیں۔ یعنی ان کا مزاح تلخی پیدا نہیں کرتا، ان کا انداز ایک مخالف یا دشمن کا انداز نہیں بلکہ وہ ایک ہمدرد دوست کی طرح دوسرے کی طبیعت میں بڑے خلوص و پیار سے جھانکتے ہیں۔ اس کی عملی کمزوریوں کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ پھر ہنستے ہنساتے ان کمزوریوں اور ان کی وجوہ کا اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ دوسرا انسان ان سے پوری طرح آگاہ ہو جاتاہے۔
پطرس بخاری کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی مزاح نگاری کو تمسخر اور طنز سے آلودہ نہیں ہونے دیتے۔ ان کے مزاح میں شوخی اور لطافت کی پاکیزہ آمیزش ہے۔ اس میں اتنی تلخی نہیں کہ طنز بن جائے اور اتنی کھلی ظرافت بھی نہیں کہ متانت سے گر جائے۔ ان کا لطیف مزاح ان کے انوکھے زاویہ ٔ نظر سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ مزاح پطرس کی غیر معمولی ذہانت، عمیق مشاہدہ کی عادت اور شگفتہ طرز بیاں کی قوت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
ایک بڑا مزاح نگار ہونے کے لیے ایک بڑی شخصیت بھی درکار ہوتی ہے اور پطرس بلاشبہ ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بلحاظ منصب بڑے اور اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے اور ان عہدوں کی گونا گوں مصروفیات کی وجہ سے انھیں بہت کم فرصت ملتی کہ وہ ادبی مشاغل کی طرف توجہ دیتے۔ اگرچہ انھوں نے بہت کم لکھا ہے لیکن جو لکھا وہ خوب لکھا اور معیاری و بلند مرتبہ ہے۔ ان کی تحریریں بھی خالص ادبی مزاح کے بہترین نمونے ہیں۔ قاری کی حسِ مزاح کو بیدار کر کے چھوٹی چھوٹی باتوں سے ظرافت کی کلیاں کھلاتے چلے جاتے ہیں ، ان کے ہاں طنز کی گہرائی کہیں نظر نہیں آتی، وہ صرف گدگداتے، چٹکیاں لیتے اور ہنساتے ہیں۔ یہی ان کی مزاح نگاری کی خصوصیات ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پروفیسر رشید احمدصدیقی کہتے ہیں کہ’’اگر ہم ذہن میں کسی ایسی محفل کا نقشہ جمائیں، جہاں تمام ملکوں کے مشاہیر اپنے اپنے شعروادب کا تعارف کرانے کے لیے جمع ہوں تو اردو کی طرف سے بہ اتفاق آراء کس کو اپنا نمائندہ انتخاب کریں گے؟ یقیناً بخاری کو۔ بخاری نے اس قسم کے انتخاب کے معیار کو اتنا اونچا کر دیا ہے کہ نمائندوں کا حلقہ مختصر ہوتے ہوتے معدوم ہونے لگا ہے۔ یہ بات کسی وثوق سے ایسے شخص کے بارے میں کہہ رہا ہوں، جس نے اردو میں سب سے کم سرمایہ چھوڑا ہے، لیکن کتنا اونچا مقام پایا۔‘‘جبکہ ایک دوسرے نقاد کا کہنا ہے کہ پطرس بخاری نے اپنی ظرافت کا مواد زندگی سے لیا ہے۔ زندوں سے مواد کوئی زندہ دل ہی لے سکتا ہے جس نے زندگی کو محسوس کیا ہے اور برتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جس نے انسانوں میں رہ کران کی ذہنی اور عملی حرکات کے ایک ایک پہلو کو ہمدردی سے دیکھا ہو، زندگی سے یہ لگاؤ غالب کے بعد پطرس کے یہاں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ ایک نے ناکامیوں سے کام لیا بلکہ مشکلوں کو آسان کر لیا تھا اور دوسرے کے سر اتنا کام آ پڑا کہ نمٹ نہ سکا۔ غالب اور پطرس کا نام اسی وجہ سے ساتھ ساتھ لیا گیا ہے کہ دونوں بلند پایہ مزاح نگار ہیں۔ غالب کو مرنے کی فرصت نہ تھی اور پطرس کو جینے کی فرصت نہ مل سکی۔ ایک کو اپنے مزاح نگار ہونے کا علم نہ ہو سکا اور دوسرے کو لوگوں نے احساس بھی کرا دیا تو کوئی اثر نہ ہوا۔ ایک نے اپنی شخصیت کا اظہار شاعری میں کیا مگر اس کے دامن کو تنگ پا کر خطوط کا سہارا لیا لیکن دوسرے نے محض چند مضامین ، خطوط، تراجم اور تقاریر پر اکتفا کیا۔ مختصراً یہ کہ پطرس کا مختصر سرمایہ مزاح، ظرافت کے بڑے بڑے کارناموں پر بھاری ہے۔ اتنا مختصر رخت سفر لے کر بقائے دوام کی منزل تک پہنچنا بڑی اہمیت کی بات ہے۔
پطرس نے خوجی، حاجی بغلول اور چچا چھکن جیسا تو کوئی مزاحیہ کردار تخلیق نہیں کیا ہے لیکن انسانی سیرت میں جہاں بھی انھوں نے کوئی کمزوری محسوس کی اس کی گرفت کی ہے اور مزاحیہ انداز میں اس کا خاکہ اڑایا ہے۔ وہ کسی کردار کی خامیوں کو مزاحیہ رنگ میں اس طرح اجاگر کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کے لیے لطف کا سامان مہیا کر دیتے ہیں لیکن اس میں بھی ہمدردانہ انداز پایا جاتا ہے۔ ’’مرید پور کا پیر‘‘ میں جب لیڈر تقریر کرنے کھڑا ہوتا ہے اور پرچہ گم ہو جانے کی وجہ سے تقریر نہیں کر پاتا تو پطرس اس کا مضحکہ اڑانے کی بجائے اس سے ہمدردی کرنے لگتے ہیں۔
پطرس مذاق ہی مذاق میں کام کی باتیں کہہ جاتے ہیں۔ چاہے ’’لاہور کا جغرافیہ‘‘ ہو، ’’میبل اور میں‘‘ یا بچے ہر جگہ ان کا ذہن ایک ہی لفظ کے گرد گھومتا ہے۔ وہ ہے مقصدیت۔
’’پطرس کے مضامین‘‘ بخاری صاحب کی مزاحیہ طبیعت کے آئینہ دار ہیں اور یہ مضامین ہمیشہ دلچسپی سے پڑھے جاتے رہیں گے۔ ان کے دوسرے مضامین میں بھی عام آدمی کے مشاہدے اور تجربات کی باتیں کی گئی ہیں۔ اسی طرح صاحب مذکور کے مضامین ہیں۔ وہ عمومیت ہے جو انھیں دوسرے مزاح نگاروں مثلاً رشید احمد صدیقی اور فرحت اﷲ بیگ وغیرہ سے جدا کرتی ہے۔ رشید صاحب علی گڑھ کی فضا سے باہر نہیں نکلتے اور فرحت اﷲ بیگ دلی اور حیدرآباد کے ماحول کے اسیر رہتے ہیں۔ اس لیے ان کا مزاح عام آدمی اور خاص آدمی سبھی کے لیے دلچسپی اورخوش دلی کی چیز ہے۔ القصہ مختصر یہ کہ پطرس بخاری دور جدید کے بہت بڑے شگفتہ اور مزاح نویس ہیں۔ اگرچہ انھوں نے بہت کم لکھا۔ تاہم جو کچھ بھی لکھا، خوب لکھا۔ لیکن افسوس کہ ۱1958ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔

حصہ