تہذیبی اور معاشرتی اتحکام کیوں اور کیسے؟

90

موسم کی چیرہ دستیوں کے باوجود شعبۂ نشرواشاعت خواتین کراچی کی ستمبر میں حجاب سرگرمیاں قابلِ داد ہیں۔ گزشتہ ہفتے پریس کلب میں صحافیات کے ہمراہ رکھا جانے والا مذاکرہ بھی اسی مہم کا حصہ تھا۔ مذاکرے کا عنوان تھا ’’تہذیبی و معاشرتی استحکام کیوں اور کیسے؟‘‘ دعوت نامہ ہمیں بھی ملا، جسے نظر نے دو مرتبہ پڑھا اور دل نے موسمی جبر اور بے اعتباری کا خدشہ سامنے لاکھڑا کیا، مگر :
عزائم جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
علامہ اقبال کے پُرعزم شعر کی گونج نے ہمیں بھی تازہ دم کردیا اور ہم پریس کلب پہنچ گئے۔ وقت سے پندرہ منٹ پہلے کمیونٹی ہال میں داخل ہوئے تو نگراں شعبہ کراچی ثمرین احمد کو خود سے پہلے موجود پایا۔ الحمدللہ تقویت اور جوش دوچند ہوگیا۔ خود کو ہلکا کرکے ہال کا جائزہ لیا تو ہوسٹ کارنر پہ دو متفکر خواتین نظر آئیں، ایک ڈاکٹر ہونے کے ناتے امراض شناس، اور دوسری استاد ہونے کے سبب دوراندیش۔ سو ہم نے بھی بہ ارادہ ادب دونوں کانوں کی موجودگی کا مکمل احسان تسلیم کیا اور اپنی زبان کو زد قفل کیا۔ پھر وہیں براجمان ہوگئے جہاں علم و طب تہذیبی بیماریوں اور معاشرتی بدحالیوں کی طویل فہرست تھامے ہوئے صحافیاتِ زمانہ کے سامنے سوالیہ نشان بنے بیٹھے تھے۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز نگران شعبہ ثمرین احمد کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جسے تمام شرکا نے کلام ربی کے مکمل احساس کے جلو میں سنا۔ مذاکرے کا آغاز شعبہ تعلیم حلقہ خواتین پاکستان کی ریسرچ ہیڈ اور سابقہ لیکچرار کراچی یونیورسٹی ثریا ملک نے اس سوال سے کیا کہ ’’کیا آج ہمارا نوجوان اور معاشرہ پاکستان کی تہذیب لا الٰہ الا اللہ کے بنیاد ہونے پر کنفیوژ ہیں؟‘‘
جیو چینل سے منسلک صحافی شیما صدیقی نے اس کے جواب میں کہا کہ جس طرح پاکستان بنتے وقت تمام مسلمان اس بنیاد لا الٰہ الا اللہ پر متفق اور مطمئن تھے، اِسی طرح آج بھی متفق اور مطمئن ہیں۔ وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ کچھ نئی چیزیں آتی رہیں اور آ بھی رہی ہیں، لیکن بنیادی نقطے کلمہ طیبہ پر کہیں کنفیوژن نہیں ہے۔ تہذیبی میدان میں کچھ نیا آنے، اور اسے shape up ہونے میں وقت لگتا ہے، تو اہلِ علم کی ذمے داری ہے کہ ان چیزوں کی بروقت وضاحت کریں اور نئی نسل اور معاشرے کی سمت درست رکھنے میں مدد دیں۔
روزنامہ عوامی اخبار سے منسلک صحافی ماریا اسماعیل نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ معاشرے میں ابھرنے والے مسائل کی مکمل آگہی دینا ہماری ذمے داری ہے، لیکن اس کا حل نکالنا ہمارا کام نہیں، دانش وروں اور اہلِ علم کو ان مشکلات کا حل پیش کرنا چاہیے۔
پی ایچ ڈی اسکالر، ممبر آرٹس کونسل اور ممتاز ادیبہ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ تہذیبی اقدار کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمے داری ہے، مگر آج سیاست دانوں اور حکمرانوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ معاشرہ کس راہ پر جارہا ہے۔ اس لیے نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے عمل کو بہتر بنانا اشد ضروری ہے۔ ہمیں تعلیم کو عام کرنا ہوگا، اور تعلیم بھی ایسی جس میں تربیت ہو، اس کے لیے ہمیں تعلیمی نظام کو درست کرنا ہوگا۔ تعلیمی نظام درست ہوگا تو معاشرے میں تہذیبی اقدار اور اخلاقی روش پروان چڑھے گی اور بہت سے مرحلے مسئلہ بننے سے پہلے ہی درست ہوجائیں گے۔
مقامی ویب سائٹ سے وابستہ صحافی فہمیدہ یوسفی نے کہا کہ ہم پاکستان کی بنیاد لاالٰہ الااللہ پر کنفیوژ نہیں ہیں۔ ہمارے اساتذہ اور دانشور اپنا کام نہیں کررہے۔ لوگوں میں اتنا شعور پیدا کرنا ناگزیر ہے کہ اُنہیں اچھائی برائی کی تمیز آجائے۔ اور یہ شعور صرف استاد یا مطالعے سے حاصل ہوسکتا ہے۔
انچارج صفحہ خواتین اور پریس کلب وآرٹس کونسل کی رکن غزالہ عزیز نے کہا کہ لوگوں کے کنفیوژ ردعمل کی وجہ صرف اور صرف نظامِ تعلیم ہے۔ آج نہ نصاب وقت کی ضرورت کے مطابق ہے اور نہ اساتذہ یہ نصاب مکمل کروا رہے ہیں۔ والدین پر دہری ذمے داری آگئی ہے کہ وہ تعلیم بھی دیں اور تربیت بھی۔
میڈیا ایکٹوسٹ صائمہ عاصم کے سوال کے جواب میں فاطمہ حسن نے کہا کہ ادب آج بھی لکھا جا رہا ہے، لیکن ہم ادب پڑھا نہیں رہے۔ انسان کو قابل بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ افراد خود سے درست فیصلہ کرنے کے قابل ہوسکیں۔ ادب شعور کا منبع ہے اور سب سے بہترین ادبی کتاب قرآن کریم ہے۔
میڈیا پر ایک سِم کے اسپانسر سے چلنے والے اشتہار کی مذمت کرتے ہوئے محترمہ فاطمہ حسن نے کہا کہ ایسے تمام اشتہارات کی مذمت کرتے ہیں جو معاشرتی بے حیائی کو فروغ دیں۔
مذاکرے کے اگلے سوال پر کہ ’’آج ڈرامے تہذیبی اخلاقیات کو توڑ مروڑ رہے ہیں؟‘‘ شیما صدیقی نے کہا کہ آج کے ڈراموں کی اخلاقیات کو درست سمت دینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بننے والے ڈرامے اقدار کے نمائندہ تھے، آج کل نمائندگی کا حق ادا نہیں ہورہا۔
فاطمہ حسن نے کہا کہ پیمرا میں کمپلین نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی شکایات اور روّیوں پر بروقت ردعمل دیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ آج کے سیاست دانوں کو دانش وروں کی ضرورت نہیں، اس لیے ہماری تعلیم سے دانش وری ختم ہوگئی ہے۔
غزالہ عزیز نے کہا کہ شعور ہی ہمارے مسائل کا حل ہے، لیکن شعور اس لیے بیدار نہیں ہورہا کہ جو تعلیم پہلے سے گھروں میں بچوں کو ملتی تھی وہ اب نہیں مل رہی۔ ہمیں بہتر مستقبل کے لیے اپنے تعلیمی اور خاندانی نظام پر توجہ رکھنا چاہیے۔
’’اچھی تربیت اب کیوں نہیں ہورہی؟‘‘ اس سوال کے جواب میں شیما صدیقی نے کہا کہ پہلے معاشرتی و خاندانی نظام بہت مضبوط تھا، بچے گھر میں دادی، دادا اور محلے کے بزرگوں سے بہت کچھ سیکھ لیتے تھے۔ گلیوں اور پارکوں میں کھیلنے والا دَور ہمارے بچوں کو نہیں مل رہا۔ بچے سارا وقت موبائل گیمز یا کارٹونز میں گزارنے لگے ہیں، جو غیر معیاری ہونے کے سبب بچوں کے کردار میں جھول بنا رہے ہیں اور میڈیا پر ایسے اشتہار چلائے جا رہے ہیں جو ہیجان پیدا کرنے کا سبب ہیں۔ اس کی بڑی مثال ٹیلی نار کے تعاون سے پیش کیا جانے والا اشتہار ہے۔ پھر پاکستانی چینلز کے ڈرامے دیور بھابھی کے رشتے اس طرح دکھا رہے ہیں کہ حیا اور پاکیزگی کی جو لکیر اللہ رب العالمین نے پہلے سے طے کی ہوئی ہے وہ تارتار ہوجائے۔
ثریا ملک کے سوال کے جواب میں جیو کی صحافی شیما صدیقی نے کہا کہ آج ہماری حکومت نے ڈراموں کی تخلیق کرنے والے اداروں کی نگرانی ختم کردی ہے۔ آج کے ڈراموں اور ماضی کے ڈراموں میں بے انتہا فرق نظر آتا ہے۔ ماضی کے ڈرامے ہماری اقدار کی پاسداری کرتے تھے، مگر آج کل یہ ادارے صرف بزنس کرتے ہیں۔
ماریہ اسماعیل نے کہا کہ معاشرے میں ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ماؤں کے پاس بچوں کو عبادات، معاشرت اور اخلاق سکھانے کا وقت نہیں ہے، یہ المیہ بن چکا ہے۔ ہمیں بچوں کو اچھے دوست بننا اور اچھے دوست بنانا بھی سکھانا چاہیے۔
’’اگر اس ماحول میں حکومت کی طرف سے ڈومیسٹک وائلنس بل آتا ہے تو ہم کو کیا کرنا چاہیے؟‘‘ صائمہ عاصم کے سوال پر الخدمت کی نگران نے کہا کہ ہم اپنی تہذیب ہی اپنے بچوں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری تہذیب ادب، حیا اور احترام سے مزین ہے۔ ڈومیسٹک وائلنس بل کو اندھا دھند تقلید کے تحت نافذ کرنا غلط ہے۔ باشعور عوامی افراد سے رائے لے کر اس بل کو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
غزالہ عزیز نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں بچوں کے مسائل انہی کی جگہ پر کھڑے ہوکر محسوس کرنے کی ضرورت ہے، تب ہی جنریشن گیپ پیدا نہیں ہوگا۔ ’’ہم اپنی تہذیب کو کیسے بچائیں؟‘‘ ثریا ملک کے سوال کے جواب میں فہمیدہ یوسفی نے کہا کہ تربیت کے مراحل میں ہمیں پہلے خود کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنی اقدار، سچ کی روایات اور احترام کو اچھی طرح پکڑیں تب ہی یہ خوبیاں ہماری نسلوں میں منتقل ہوں گی۔
الخدمت کی نگران ناہید افتخار نے فہمیدہ یوسفی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر ہم گھروں میں چھوٹے، بڑوں کا لحاظ رکھیں گے تو یہ عادت بچوں میں منتقل ہوگی۔ غزالہ عزیز نے کہا کہ ایسا بہت مشکل ہے کہ ریاست اپنے تمام اداروں کو ایک ساتھ لے کر چلے، لیکن تعلیمی نصاب اور اسکولوں میں تعلیمی نظام پر توجہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں چینلز کے پاس جاکر احتجاج کرنا چاہیے کہ ہماری مائیں، بہنیں، ساسیں ایسی نہیں ہیں جیسے یہ میڈیا دکھا رہا ہے۔
’’کیا قرآن تشدد کی اجازت دیتا ہے؟‘‘ اس سوال کے جواب میں تمام صحافیات نے اس کو رد کیا اور کہا کہ اسلام میں تشدد کی کہیں گنجائش نہیں۔
’’مگر ڈومیسٹک وائلنس بل تو یہی ہے؟‘‘صائمہ عاصم نے پھر سوال کیا جس پر صحافی حضرات نے کہا کہ ہمیں اس طرف آنا چاہیے کہ کمیٹی بنائیں تاکہ قانون کا سسٹم ٹھیک طریقے سے چیک کروایا جا سکے۔ مگر گورنمنٹ تو سوسائٹی کو شامل ہی نہیں کرتی!
ایسے مذاکرے ہوتے رہنے چاہئیں۔ پاکستان کی تہذیب لاالٰہ الااللہ ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں۔ اور جب تک ریاستی ستون درست کام نہیں کرتے تب تک گھر اور خاندان اپنا کام ضرور کریں۔ ہمارے گھر جتنے مضبوط ہوں گے ہماری شناخت معاشرے میں اتنی ہی مستحکم ہوگی۔
پروگرام کے آخر میں مہمانانِ گرامی کی ضیافت کے لیے چائے کا اہتمام کیا گیا۔ اس طرح یہ خوبصورت مذاکرہ اختتام کو پہنچا اور ہم تازہ سوچ لے کر گھر کو لوٹے۔

حصہ