گھریلو حادثات : ابتدائی طبی امداد کیسے کی جائے؟

312

گھر میں سب خوش تھے، بڑی بیٹی بابا سے اٹکھیلیاں کر رہی تھی، بابا بھی بیٹی سے باتیں کر کے خوش ہو ر ہے تھے۔ پھربابا کلینک چلے گئے، بیٹی نے ڈرائنگ روم کی ڈسٹنگ کی۔ دوسرے کمروں کی بھی صفائی کی۔ مما سے کہا: میں نہانے جاتی ہوں۔ پندرہ منٹ ہوگئے، بیٹی باتھ روم سے نہ نکلی۔ ماں کو تشویش ہوئی، دروازہ کھٹکھٹایا، کوئی جواب نہ ملا۔ چھوٹے بہن بھائی بھی پریشان ہوگئے۔ ماں دوڑی دوڑی باہر گئی۔ کھڑکی سے دیکھا۔ بیٹی باتھ ٹب میں بے ہوش پڑی، مشکل سے سانس لے رہی تھی۔ چھوٹے بہن بھائی باہر بھاگے کہ کسی کو مدد کے لیے بُلائیں۔ ماں کو دنیا اندھیر نظرآئی۔ بابا آئے، بیٹی کو اٹھایا۔ لرزتے ہاتھوں سے ہسپتال پہنچایا۔ طبی امداد دی گئی۔ آکسیجن لگائی گئی۔ دو گھنٹے بعد ہوش آیا تو بتایا کہ میں نہا کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ واش روم میں گیس کی وجہ سے سانس لینا دوبھر ہوگیا۔ بولنے کی کوشش کی بول نہ سکی۔ کھڑی کھڑی گر گئی۔ پھر کچھ پتہ نہیں چلا۔ واش روم میں نیا انسٹا گیزر لگا تھا جس سے گیس لیک ہو کر سانس گھٹنے کا باعث بنی۔
زندگی میں ہر قدم، ہر موڑ اور ہر لمحہ حادثات کے امکانات ہوتے ہیں۔ چونکہ حادثات کی نوعیت اور وقت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لہٰذا کسی حادثہ کی صورت میں فوری طور پر صحیح اور مکمل علاج کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم کسی حادثہ کے فوراً بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوئے بغیر اگر عمومی نوعیت کی آسان اور سادہ تدابیر اختیار کی جائیں تو بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ چوٹ لگنا، جل جانا، کرنٹ لگنا، سانپ یا کتے کا کاٹنا اور دم گھٹنا وغیرہ جیسے حادثات گھروں میں ہوتے رہتے ہیں۔ ان حادثات کی صورت میں مریض کی جان بچانے والے فوری اقدامات کے بارے میں ہر مرد اور عورت کو علم ہونا چاہیے۔ آنے والی سطور میں انہی تدابیر کو مختصراً بیان کیا گیا ہے۔
٭گیس کی وجہ سے سانس میں رکاوٹ ہو یا د م گھٹنے لگے تو فوراً اس جگہ سے نکلنے کی کوشش کریں۔ مریض بے ہوش ہو تو اسے فوری طور پر ہسپتال شفٹ کریں۔
٭غسل خانے کے اندر کسی صورت میں گیزر نہ لگوائیں۔ چھوٹا گیزر یا بڑا، اسے ہمیشہ باتھ روم سے باہر لگوائیں۔ اندر آنے والی گیس پائپ بار بار چیک کریں۔ پائپ سے لیک ہو کر بھی گیس جاں لیوا ثابت ہو سکتی ہے، جیسا کہ اوپر بیان کردہ واقعہ میں ہوا۔
٭باتھ روم میں کھڑکی یا ایگزاسٹ فین ضرور لگوائیں۔
٭سونے سے پہلے گیس کا مین سوئچ بند کر دیں اور چولہے کے تمام knobs چیک کر لیں۔
٭کمرے میں کسی صورت میں گیس ہیٹر جلا کر نہ سوئیں۔ گیس کی مین سپلائی بند کر کے سوئیں۔
٭حادثے کی صورت میں فوری طور پر ایمبولینس بلائیں۔
٭حادثے کی صورت میں مریض کو آکسیجن لگائیں اور فوری طور پر ہسپتال لے جائیں۔
بجلی کا کرنٹ لگنا
بجلی کا کرنٹ اکثر خطرناک ثابت ہوتا ہے اگر کسی کو بجلی کا کرنٹ لگ جائے تو مندرجہ ذیل اقدامات فوری طور پر کریں۔
٭سب سے پہلے بجلی کا مین سوئچ بند کریں۔
٭اپنی حفاظت کریں، مریض کو چھونے سے پہلے ربڑ کے جوتے پہنیں یا کسی لکڑی کے تختے، کتاب یا اخبار پر کھڑے ہوں۔
٭صاف اور خشک دستانے استعمال کریں اور ننگی تاروں کو کسی لکڑی کی مدد سے ہٹائیں۔
٭مریض کو ہٹانے کے بعد اس کے کپڑوں کو ڈھیلا کریں اور اسے تازہ ہوا میں سانس لینے دیں۔
٭بے ہوش ہونے کی صورت میں مصنوعی سانس جاری کرنے کی کوشش کریں۔
٭جلد از جلد مریض کو ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کریں۔
سانپ کا کاٹنا
زہریلے سانپ کے کاٹنے سے موت واقع ہو سکتی ہے۔ فوری طور پر کیے گئے درج ذیل اقدامات مریض کی جان بچا سکتے ہیں۔
جس حصے پر سانپ نے کاٹا ہو اسے بالکل ساکن رکھیں جتنا زیادہ حصہ ہلایا جائے گا اتنی ہی تیزی کے ساتھ زہر خون میں پھیل جائے گا۔
٭اٹ والی جگہ کے تھوڑا سا اوپر کوئی کپڑا باندھ دیں۔
٭فوری طور پر سانپ کے زہریلے دانت کے ہر نشان پر کسی صاف چاقو سے ایک چیر لگائیں۔
٭پھر پندرہ منٹ تک زخم میں سے زہر چوس کر باہر تھوکتے جائیں۔
٭اگر سانپ کاٹے ہوئے آدھ گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہو تو نہ کٹ لگائیں اور نہ ہی زہر چوسیں۔
٭اگر منہ میں زخم یا چھالے ہوں تو پھر زہر چوسنے کی کوشش نہ کریں۔
٭صحیح قسم کا تریاق گھر میں موجود ہو تو اس کا ٹیکہ لگا دیں۔
٭مریض کو ہسپتال پہنچانے کا انتظام کریں۔
جلنا
بچوں میں اکثر جلنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں کیونکہ بچے دیا سلائی یا آگ والی دوسری اشیاء سے کھیلنا پسند کرتے ہیں۔
جب کوئی جلنے کا حادثہ ہو جائے تو:
٭سب سے پہلے آگ یا جس چیز سے آگ لگی ہو مریض کو اس سے دور کریں۔
٭جسم کے جلے ہوئے حصے کو چلتے ہوئے پانی کے نیچے رکھیں یا اسے ٹھنڈے پانی میں ڈبو دیں۔
٭جلے ہوئے حصے سے انگوٹھی، چوڑیاں، پیٹی اور جوتے وغیرہ اتاریں۔
٭مریض کو لٹا دیں اور زخمی حصے کو کسی پٹی، صاف کپڑے یا روئی سے ڈھانپ دیں۔
٭مریض اگر ہوش میں ہو تو اسے جوس یا دودھ وغیرہ پلائیں۔
٭سب سے پہلے آگ والی جگہ سے پرے ہٹ جائیں۔
٭آگ کے شعلوں کو پانی وغیرہ سے بجھانے کی کوشش کریں۔
٭اگر کوئی چیز نہ ملے تو کوئی موٹا کپڑا، کمبل یا چٹائی اپنے سامنے رکھ کر متاثرہ شخص کے گرد لپیٹ دیں تاکہ ہوا بند ہونے کی وجہ سے آگ بجھ جائے۔
٭کبھی نائلون یا جلد آگ پکڑنے والا کپڑا استعمال نہ کریں۔
٭اگر کسی کے کپڑوں کو اکیلے ہونے کی صورت میں آگ لگ جائے تو اسے چاہیے کہ فوراً زمین پر لیٹ کر لڑھکنیاں کھائے تاکہ آگ کے شعلے ماند پڑ جائیں۔
٭کپڑوں میں آگ لگنے کی صورت میں کھلی فضا میں نہ دوڑیں۔
چوٹ لگنا
بھاگتے دوڑتے یا اچھلتے کودتے بچوں کو اکثر چوٹ لگ جاتی ہے۔ چوٹ لگنے کی صورت میں زخم بھی ہو سکتا ہے۔ ہڈی کو موچ آ سکتی ہے یا ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔
چوٹ لگنے کی صورت میں پہلا اور اہم کام خون کو روکنا ہوتا ہے۔
خون روکنے کے لیے
٭سب سے پہلے مریض کو تسلی دیں اور اسے آرام کے ساتھ بٹھا یا لٹا دیں۔
٭اگر زخم بڑا اور گہرا ہو تو اسے چلتے ہوئے پانی سے صاف کریں اور وقتی طور پر صاف اور خشک روئی یا صاف کپڑے سے ڈھانپ دیں۔
٭زخم والی جگہ پر کوئی پٹی رکھ کر اسے 5 سے 10 منٹ تک زور سے دبائیں، اگر زخم زیادہ ہو تو زخم کی دونوں اطراف کو پکڑ کر آہستہ سے ملائیں اور اوپر پٹی باندھ دیں۔
موچ آنے کی صورت میں
٭چوٹ لگنے سے موچ بھی آ سکتی ہے۔ اس صورت میں زخمی حصے کو اوپر اٹھائیں۔
٭زخمی یا موچ والی جگہ پر برف لگائیں۔
٭کوئی صاف کپڑا موچ والی جگہ پر باندھ دیں۔
ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں
٭زخمی حصے کو سہارا دیں۔
٭زیادہ حرکت سے پرہیز کریں۔
٭اگر میسر ہو تو مریض کو کوئی درد کم کرنے والی دوا دیں۔
٭زخم کے اوپر پٹی باندھ دیں۔
ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ جتنی جلدی ہو سکے مریض کو ہسپتال پہنچائیں۔
سانس رکنا
بعض اوقات گھر میں کھانا کھاتے وقت روٹی یا گوشت وغیرہ کا ٹکڑا گلے میں سانس کی نالی میں پھنس کے دم گھٹنے کا باعث بن سکتا ہے اس صورت حال سے نپٹنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔
اگر مریض بیٹھا یا کھڑا ہو تو:
٭مریض کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنے دونوں بازو اس کی کمر کے گرد ڈال دیں۔
٭ایک ہاتھ کی مٹھی بنا کر پسلیوں سے ذرا نیچے انگوٹھے والی طرف سے اس کے پیٹ پر رکھیں اور اوپر والے دوسرے ہاتھ سے اپنی مٹھی کو اوپر کی سمت یک لخت ایک جھٹکے سے دبائیں۔
٭یہ عمل اس کے پھیپھڑوں سے ہوا کو جبراً باہر نکال دے گا جس سے اس کا حلق آزاد ہو جائے گا اگر ضرورت پڑے تو یہ عمل کئی بار دہرائیں۔
اگر مریض پہلے سے ہی بے ہوش ہوچکا ہو تو:
٭اسے سیدھا لٹا دیں۔
٭اپنے ہاتھ کی ہتھیلی اس کی ناف اور پسلیوں کے درمیان رکھ دیں۔ اب اوپر کی طرف ایک تیز اور زور دار جھٹکا لگائیں۔ اگر ضرورت پڑے تو یہ عمل کئی بار دہرائیں۔ اس کے باوجود بھی سانس بحال نہ ہو تو فوراً منہ در منہ سانس بہم پہنچانے کا طریقہ استعمال کریں۔
اگر اکیلے میں گلے میں کوئی چیز اٹک جائے:
اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر پسلیوں کے درمیان رکھ کر اوپر کی جانب ایک دم جھٹکیں۔ کسی کرسی کی پچھلی سمت یا میز کے کونے سے پیٹ کو پسلیوں کے نیچے سے دبائیں یعنی جس کسی چیز سے بھی سینے کی ہڈی پر دباؤ آئے گا جس سے پھیپھڑے پھیل کر رکاوٹ دور کرنے میں مدد کریں گے۔
اگر ایک سال سے کم عمر بچے کا سانس بند ہو جائے:
بچے کو اپنی گود میں یا کسی بستر پر لٹائیں۔ اپنے ہاتھوں کی بڑی اور چھوٹی انگلیوں سے پسلیوں کے نیچے سے اوپر کی سمت یک لخت جھٹکے سے دبائیں اس وجہ سے پھیپھڑوں میں سے ہوا خارج ہوگی اور رکاوٹ خود بخود دور ہو جائے گی۔
ڈوبنا
٭جب کوئی شخص ڈوبنے لگے تو وہی شخص اسے بچانے کے لیے پانی میں کودے جو اچھی طرح پانی میں تیر سکتا ہو۔
٭ڈوبنے کی وجہ سے پھیپھڑوں میں پانی جانے کی وجہ سے سانس بند ہو سکتا ہے۔
٭سب سے پہلے ڈوبنے والے کو پانی سے نکال کر زمین یا کسی تختے پر لٹا دیں۔
٭مریض کے منہ سے جھاگ، جھاڑیاں یا کوئی اور چیز جو سانس لینے میں رکاوٹ بن کر رہی ہو اسے ہٹا دیں۔
٭جلد سے جلد مریض کا سانس بحال کرنے کی کوشش کریں۔
٭جب مریض سانس لینا شروع کر دے تو اسے پہلو کے بل لٹا دیں۔
٭مریض کو زیادہ سے زیادہ گرم فضا میں رکھیں اور اس کے گیلے کپڑے اتار کر اس کے جسم کو خشک کر کے کسی خشک کپڑے سے ڈھانپ دیں۔
٭مزید علاج کے لیے مریض کو جلد از جلد ہسپتال پہنچانے کا انتظام کریں۔
مصنوعی سانس کی ترکیب
٭اگر مریض سانس نہ لے رہا ہو تو فوراً اسے مصنوعی سانس دینا شروع کر دیں۔
٭سانس رکنے کی خواہ کوئی بھی وجہ ہو اس سے چند لمحات میں دماغی نقصان یا موت واقع ہو سکتی ہے اس لیے نہایت ضروری ہے کہ مصنوعی سانس شروع کر دیا جائے۔
٭مریض کو پشت کے بل لٹا کر اس کے چہرے کو قدرے ایک طرف کریں۔
٭ایک ہاتھ سے مریض کی گردن کو اوپر اٹھائیں اور دوسرے ہاتھ کے ساتھ اس کے سر کے اوپر کے حصے کو پکڑ کر اس کے سر کو پیچھے کی طرف جھکائیں۔ پہلے گہرا سانس لیں۔ پھر اپنے منہ کو مریض کے منہ پر اس طرح رکھیں کہ آپ کے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر اس طرح چسپاں ہوں کہ ہوا خارج نہ ہو سکے۔
٭دوسرے ہاتھ سے اس کی ناک بند رکھیں۔ اب مریض کے منہ میں سانس لینا شروع کریں جب آپ دوسرا سانس لیں گے، اس کی ہوا خود بخود خارج ہو جائے گی۔ جب تک مریض کا سانس بحال نہ ہو اس کے منہ میں سانس لینے کا عمل جاری رکھیں۔
کتے کا کاٹنا
ہمارے دیہات میں آوارہ کتوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اس لیے کتے کے کاٹے ہوئے اکثر لوگ ہسپتال لے جائے جاتے ہیں۔
جب کسی کو کتا کاٹ جائے تو:
٭زخم کو صابن اور گرم پانی کے ساتھ اچھی طرح صاف کریں۔
٭اگر کتا باؤلا ہو تو پھر زخموں کو نائٹرک ایسڈ سے صاف کریں مگر چہرے کے زخموں کے لیے ٹنکچر آیوڈین استعمال کریں۔
٭مریض کو ATS کا ٹیکہ لگائیں۔
٭اس کے بعد مریض کو صحیح اور مکمل علاج کے لیے کسی ہسپتال میں کتے کے کاٹے کے علاج کے سینٹر پر لے جائیں۔
کیڑوں کا کاٹنا
اگر کسی کو کوئی کیڑا، شہد کی مکھی وغیرہ کاٹ جائے تو:
٭سب سے پہلے کاٹے کی جگہ سے ڈنگ نکالیں۔
٭زخم کی جگہ پر ایمونیا، سرکہ، کافور یا لیموں کا جوس لگائیں۔
٭اگر کوئی چیز نہ ملے تو زخم کو لوہے یا نمک کے ساتھ اچھی طرح رگڑیں۔

حصہ