رشتوں میں خوبصورت تعلقات اللہ کو پسند ہے

292

احسن: ابو میری دو مہینے سے فیس نہیں گئی آج تو ٹیچر نے سب کے سامنے میرا نام لے کر کہا کہ اگر اس مہینے بھی آپ کی فیس نہیں آئی تو اسکول سے نکال دیے جائو گے۔
ابو: بیٹا پریشان نہ ہو اللہ کرے گا بندوبست ہو جائے گا۔
اسلم (کمرے میں داخل ہوتے ہوئے): السلام علیکم
بھائی جان… اور یہ کس کی فیس کی بات ہو رہی ہے؟
بھائی جان: اس مہینے دونوں بچوں کی فیس نہ جا سکی ہے چلو چھوڑ کچھ نہ کچھ کرتے ہیں۔
اسلم (ناراضی سے) بھائی کچھ نہ کچھ کرتے ہیں کیا مطلب آپ نے ہم بھائیوں کو کیوں نہیں بتائی یہ بات… ہم غیر تو نہیں… آپ کے بھائی ہیں آپ کی اور ہماری تکلیفیں سانجھی ہیں۔
بھائی جان: ارے بیٹا ایسی کوئی بات نہیں تم دونوں بھائیوں کی بھی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور پھر ہر موقع پر تم لوگ ہی…
اسلم: بھائی جان ہم سب ایک چھت تلے رہتے ہیں بس اب آپ نہیںبولیں گے اسلم کی فیس کی ذمہ داری میری ہے آپ کے بچے ہم سب کے بچے ہیں ان کی تعلیم و تربیت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
……٭٭٭……
یہ کنبہ نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ تینوں بھائی چھوٹے موٹے کاروبار سے منسلک تھے۔ اس مہنگائی کے دور میں ایمان داری اور شرافت کی زندگی گزار رہے تھے بھائی جان کے تینوں بچے پڑھ رہے تھے بھائی جان کی کم آمدنی کی وجہ سے گھر کا تقریباً سارا خرچہ دونوں چھوٹے بھائی چلا رہے تھے۔ اگرچہ دونوں اولاد کی نعمت سے محروم تھے لیکن بھائی جان کی اولاد کو ہی اپنی اولاد سمجھتے تھے ’’یہ تیرا ہے اور یہ میرا ہے‘‘ والی کوئی بات نہ تھی۔
……٭٭٭……
شبیر (بھائی جان) اللہ میرے بھائیوں کو خوش رکھے اور انہیں بہت ساری خوشیوں سے نوازے کم آمدنی کے باوجود ہمارے تینوں بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں یہ سب اللہ کا کرم ہے اور میرے بھائیوں کی مہربانی ورنہ تو…
بیوی (ریحانہ) تو کیا آپ نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ آپ نے بھی تو ماں با پ کے بعد اپنے دونوں بھائیوں کو باپ جیسا پیار دیا ہے اگر آج وہ ایسا سب کچھ کر رہے ہیں تو کوئی احسان نہیں کر رہے ہیں اور ہاں (تینوں بیٹوں کی طرف دیکھ کر)
مہربانی فرما کر میرے بچوں کے سامنے بار بار اس بات کو نہ دہرایا کریں ورنہ یہ احساس کمتری میں مبتلاہو جائیں گے۔ اب خیر سے احسن کی نوکری لگ جائے گی تو پھر ہمیں کسی کے احسان اٹھانے نہیں پڑیں گے۔
شبیر: نیک بخت یہ غیریت کی کیسے بات کر رہی ہو… یہ بچے… ان سے ان کے چاچا اور چاچیاں بہت پیار کرتے ہیں وہ کوئی احسان نہیں کر رہے ہیں… لیکن ان کی بھلائی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
……٭٭٭……
ریحانہ اکثر و بیشتر بچوں کے سامنے بھی اپنے دیوروں اور دیورانیوں کے بارے میں اسی طرح گفتگو کرتی رہتی تھی اگرچہ شبیر اسے سمجھاتا رہتا کہ اللہ کی بندی وہ ہمارے ساتھ بھلائی کر رہے ہیں بھلائی کا بدلہ اگر ہم نہیں دے سکتے تو کم از کم ان کی برائی تو نہ کرو… تمہاری اس قسم کے رویے سے بچے بھی یہی منفی سوچ اپنائیں گے۔
……٭٭٭……
چند برسوں میں ہی شبیر اور ریحانہ کے تینوں بیٹے اچھے روزگار پر لگ گئے گھر میں آمدنی بڑھی تو ریحانہ کے رنگ ڈھنگ بھی بدلنے لگے نیا فرنیچر نئے طرز کے کپڑے ہی نہیں بلکہ انداز بھی بدل گئے۔
اسلم: یہ آج بھائی اور بھابھی سب کہاں ہیں ناشتہ نہیں کریں گے۔
شہلا: ہاں… میں نے بھابھی کو بلایا تھا۔ کہہ رہی تھی آپ لوگ ناشتہ کر لیں ہم کر چکے ہیں۔
اعجاز (چھوٹا بھائی) کر چکے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہو؟
ناشتہ تو ہم سب اکٹھے کرتے ہیں۔
میں ابھی اوپر جاتا ہوں بھائی جان کی طبیعت صحیح ہے؟ کہیں…
عصمت (اعجاز کی بیوی) آپ بیٹھ جائیں میں دیکھتی ہوں۔
……٭٭٭……
عصمت: بھابھی ریحانہ… آج میرا مطلب ہے ہم آپ کا ناشتہ پر انتظار کر رہے ہیں آئیے۔
ریحانہ: ارے بھئی ناشتہ تو ہم لوگ کر چکے اصل احسن، عمیر، شازمین تینوں کل سے کہہ رہے تھے کہ آج ناشتہ میں قیمہ اور پراٹھے کھائیں گے اس لیے میں نے صبح اٹھ کر جلدی سے اوپر ہی بنا لیے۔ بڑے دونوں تو آفس گئے اور شازمین بھی یونیورسٹی کے لیے تیار ہو رہی ہے۔
اب اکثر ایسے ہی ہونے لگا کہ ریحانہ اوپر کے پورشن کے باورچی خانے میں مزے مزے کے مرغن کھانے بنانے لگی کبھی کبھار شوہر کے کہنے پر بڑی ناگواری سے دیورانیوں کو کچھ بھیج دیتی۔ شبیر بیوی اور بچوں کے اس انداز پر خائف تھا لیکن گھر میں کوئی جھگڑا بھی کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے خاموش تھا…
آہستہ آہستہ ریحانہ نے مکمل طو رپر اپنے تمام معاملات کو علیحدہ کر لیا الگ کھانا پینا، گھومنا پھرنا، کار خریدنے کے بعد تو اس کے پائوں زمین پر نہیں ٹکتے۔ جب کہ دونوں چھوٹے دیور اب بھی بڑے بھائی اور ان کے بچوں کے ساتھ مخلص تھے۔
اگرچہ ریحانہ بھابھی ان کے بچوں میں وہ خلوص نہ تھا۔
……٭٭٭……
بیٹی کی شادی کے بعد ریحانہ نے دونوں بیٹیوں کی بھی شادی کردی۔ کچھ عرصے بعد دونوںبیٹے ملازمت کی غرض سے دوسرے ملک روانہ ہو گئے۔ بظاہر ریحانہ اور شبیر کو دنیا کی تمام نعمتیں حاصل تھیں لیکن تنہائی کا احساس تھا۔
اسلم (چھوٹے بھائی سے) بھائی جان دو دنوں سے نظر نہیں آرہے ہیں۔ خیریت ہے… کہیں گئے ہیں؟
اعجاز: ہمیں ایسے ان سے بے تعلق نہیں ہونا چاہیے میں دیکھتا ہوں اوپر جا کر…
……٭٭٭……
اعجاز: بھائی جان آپ سوئے ہوئے ہیں خیریت کیا ہوا (اعجاز بڑے بھائی کو دیکھ کر پریشان ہو گیا)
بھائی جان: نہیں بیٹا بس ایسے ہی موسمی بخار ہے۔
شاید (نقاہت سے) اب کچھ بہتر ہوں بس ذرا باتھ روم میں گر گیا تو ٹانگ میں درد ہے۔
اعجاز: نہیں بھائی، آپ اٹھیں میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جارہا ہوں۔ (اس نے اسی وقت اسلم کو بھی اطلاع دی)
ریحانہ (بڑی شرمندگی سے) میں… تو انہیں کہہ رہی تھی کہ اسلم یا اعجاز کو بلا لیتی لیکن…
……٭٭٭……
شبیر بھائی کی ٹانگ میں فریکچر آگیا تھا فوراً اسپتال میں داخل کر دیا گیا دونوں چھوٹے بھائی دن رات اسپتال میں اپنی ڈیوٹی دیتے رہے۔ آج وہ ڈسچارج ہو کر گھر آگئے تھے جس طرح دونوں چھوٹے بھائیوں نے انہیں سنبھالا تھا وہ ان کا شکریہ بھی نہیں ادا کر پارہے تھے۔
……٭٭٭……
اسلم: عصمت! بھائی جان کے لیے (نیچے کے پورشن) میرا والا کمرہ سیٹ کر دیا ہے وہ اوپر سیڑھیاں چڑھ کر نہیں جا سکتے۔
عصمت: جی میں نے اور شہلا بھابھی نے سیٹ کر دیا ہے۔ ان کی ضرورت کی ہر چیز رکھ دی ہے۔
شبیر: ارے نہیں بیٹا آپ لوگوں کو تکلیف ہو گی میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ جائوں گا۔
اعجاز: نہیں بھائی جان جب تک آپ بالکل صحیح نہیں ہو جاتے آپ نیچے پورشن میں ہی رہیں گے۔
عصمت: بھابھی ریحانہ آپ اپنا کمرہ دیکھ لیجیے کسی چیز کی کمی ہو تو بتا دیجیے گا۔
ریحانہ: لیکن… تم دونوں کہاں۔
اسلم: بھابھی کچھ دنوں کی بات ہے ہم ڈرائنگ روم میں رہ جائیں گے۔
ریحانہ: پھر تم یوں کرو احسن کے کمرے میں اوپر (اوپر پورشن میں) چلے جائو۔
اسلم: نہیں بھابھی، ابھی بھائی جان کو کچھ دن ہم دونوں چھوٹے بھائیوں کی ضرورت رہے گی اس لیے خیر ہے کچھ دن ہی کی تو بات ہے ذرا سب مل کر رہیں گے۔ (ہنستے ہوئے) شبیر دونوں بھائیوں کو بڑے پیار سے دیکھ رہے تھے جب کہ ریحانہ کو بڑی شرمندگی بھی محسوس ہو رہی تھی اس نے پچھلے چار پانچ سالوں میں دیوروں اور دیورانیوں کے ساتھ بڑا غیر مناسب برتائو رکھا تھا۔
……٭٭٭……
بے شک رب العالمین نے انسانوں کے لیے بہترین رشتے رکھے ہیں ان رشتوں کو جوڑے رکھنے کی تعلیم سے بھی نوازا ہے۔ یہی محبتوں کے رشتے وقت پر ایک دوسرے کے کام بھی آتے ہیں دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بغض و عداوت پالنے سے دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں لہٰذا ان برائیوں سے بچ کر رہنا چاہیے۔ اسی میں حسن معاشرت پوشیدہ ہے۔ اللہ کے نزدیک ان رشتوں کو خوبصورتی سے نبھانے پر انعام بھی ہے۔ (سبحان اللہ)

حصہ