عوام خوب جانتے ہیں

213

کل میرے ظرف اور صبر کا امتحان تھا۔ ظاہر ہے جس محفل میں شاکر اور ثاقب موجود ہوں وہاں بیٹھنا، یا یوں کہیے ان کی باتیں سن کر خاموشی اختیار کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ ان کے فلسفے سننا اور اسے برداشت کرنا کوئی معمولی بات نہیں، اور اگر ایسے میں طاہر بھی آجائے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ یہی کچھ کل رات اُس وقت دیکھنے میں آیا جب طاہر نعرے مارتا ہوا ہمارے درمیان آبیٹھا۔ اس پہلے کہ میں مزید بیان کروں، یہ بتاتا چلوں کہ یہ تینوں سیاسی طور پر مختلف جماعتوں سے منسلک ہیں، یعنی ان کے سیاسی نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ اچھے دوست ہیں، یہ الگ بات کہ دورانِ گفتگو نوبت لڑائی جھگڑے تک جا پہنچتی ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پھر بھی یہ ایک دوسرے سے تعلقات خراب نہیں کرتے۔ طاہر چونکہ پی ٹی آئی کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے اس لیے کچھ زیادہ ہی جذباتی ہے، کہنے لگا:
”دیکھا تم نے، خان صاحب کراچی والوں سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ جو لوگ کہتے تھے خان کراچی کے لیے کچھ نہیں کرے گا اُن کی آوازیں بند ہوگئی ہیں۔“
طاہر کو شیخیاں مارتے دیکھ کر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا، پھر میں نے سوچا مجھے کیا، جو کہتا ہے کہنے دو۔ لیکن کیا کروں انسان ہوں، کب تک برداشت کرتا! غلطی سے پوچھ لیا ”کیوں تلملا رہے ہو؟“ بس پھر کیا تھا، ہم تھے اور طاہر تھا، کہنے لگا:
”میاں! وزیراعظم نے کہا ہے کہ کراچی پورے ملک کا معاشی حب ہے، کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ خان صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے اس کی اہمیت کا پوری طرح اندازہ نہیں لگایا۔ 1970ء کی دہائی میں کراچی تیزی سے ترقی کررہا تھا، جب 1980ء کی دہائی میں یہ ٹیک آف کرنے لگا تو یہاں انتشار شروع ہوگیا، یہ شہر سارے پاکستان کو ساتھ لے کر جارہا تھا، کراچی کے مسائل نے پورے ملک کو متاثر کیا، ہم نے کراچی کا ٹرانسفارمیشن پلان بنایا ہے۔ یہ پلان صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ہوگا، کراچی پوری دنیا سے انویسٹمنٹ کھینچ سکتا ہے جس کے لیے انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہے جس میں ٹرانسپورٹ سب سے اہم ہے، اسی لیے ہم نے کراچی سرکلر ریلوے جیسی عوامی سہولت کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے، کراچی میں پہلے کبھی اس طرح کی انویسٹمنٹ نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہیے تھی۔ کے سی آر اس معاملے میں انتہائی اہم قدم ہے جو شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا رش کم کرے گا، اس کے بعد گرین لائن بھی بہت مدد کرے گی۔ کراچی کا پہلا مسئلہ آبادی ہے، یہ شہر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بنڈل آئی لینڈ کا فائدہ سندھ کو ہے، نوکریاں سندھ خصوصاً کراچی والوں کو ملیں گی، اور اس سے شہر پر آنے والا پریشر کم ہوگا۔ بنڈل آئی لینڈ پر باہر سے انویسٹمنٹ آنے کو تیار ہے، جس کی وجہ سے ملک میں ڈالرز آئیں گے۔ کراچی کا دوسرا مسئلہ پانی کا ہے۔ شہر کراچی میں دو سال تک پانی کی نعمت پہنچ جائے گی۔ ہماری جانب سے تیزی کے ساتھ مکمل کیے جانے والے منصوبوں پر عوام حیران ہیں، کیوں کہ انہیں صرف منصوبوں کے اعلانات سننے کی عادت ہے، بڑے پراجیکٹس اس لیے مکمل نہیں ہوتے۔ دیکھا تم نے، وزیراعظم کو ہر چیز کا ادراک ہے۔ اتنے زیادہ منصوبوں کے متعلق جان کر اب تو مان لو کہ خان ہی وہ واحد رہنما ہے جو نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کے لیے ترقی کی نوید ہے۔“
طاہر کی باتوں بلکہ یوں کہیے کہ اُس کی طرف سے بیان کردہ ترقیاتی منصوبوں کی لمبی چوڑی فہرست سن کر شاکر کیسے خاموش رہ سکتا تھا؟ وہ تو پھٹ پڑا، کہنے لگا:
”آؤ بھائی! شہر کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس شہر کی ترقی کے پیچھے میاں صاحب کی سوچ کا بڑا عمل دخل ہے۔ کراچی میں امن و امان نوازشریف کی وجہ سے بحال ہوا۔ ظاہر ہے جہاں امن ہوتا ہے ترقیاتی منصوبے وہیں لگتے ہیں۔ جہاں تک کراچی سرکلر ریلوے جیسی عوامی سہولت کا تعلق ہے یہ بھی میاں صاحب کا ہی منصوبہ ہے۔ تمہارے لیڈر نے بنے بنائے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگانے کے سوا کیا ہی کیا ہے! اس شہر کا سب سے بڑا مسئلہ امن وامان ہی تھا، یہ کریڈٹ میاں صاحب کا ہی ہے۔ نوازشریف نے 90 کی دہائی میں بھی کراچی میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے آپریشن کروایا، اسی طرح 2013ء میں اقتدار ملتے ہی دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نہ صرف اختیارات دیے بلکہ اس اہم مسئلے پر ذاتی طور پر توجہ دی، جس کی وجہ سے یہاں امن قائم ہوا۔ جب حالات بہتر ہوئے تو شہر کو پانی کی سپلائی کا بڑا منصوبہ دیا، گرین لائن جیسی آرام دہ سروس کے لیے فنڈز دیے، کراچی سے پشاور تک موٹر وے کا جال بچھایا۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ کراچی کے میگا پروجیکٹ میاں صاحب کی دین ہیں۔“
اب ثاقب کی باری تھی، مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا:
”آپ ان کی جانب توجہ نہ دیں، یہ تو یونہی اپنا منجن بیچتے رہیں گے، بس ایسے ہی بے پر کی ہانکتے رہیں گے، جبکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ نعمت اللہ خان ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے کراچی کی خدمت اور اس کے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کسی سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ تباہ حال شہری انفرااسٹرکچر، ٹریفک اور سیوریج کے ابتر نظام کو شاندار حکمت عملی اور تیز رفتاری سے بہتری کی جانب گامزن کیا۔ یہ نعمت اللہ خان ہی تھے جنہوں نے اربوں روپے کی لاگت سے بڑی شاہراہیں تعمیر کرائیں، کروڑوں روپے کی لاگت سے چورنگیوں کی تزئین و آرائش کے بعد ان کو سگنلائزڈ کیا۔ شہر میں سڑکوں، فلائی اوورز، انڈر پاسز اور پلوں کا جال بچھا دیا۔ شاہراہوں، چوراہوں اور گلیوں میں روشنی کا بہترین انتظام کرکے ایک مرتبہ پھر کراچی کو ”روشنیوں کا شہر“ بنادیا، جبکہ ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے کے لیے ”اربن ٹرانسپورٹ اسکیم“ شروع کی، اور پہلی دفعہ 500 بڑی، کشادہ اور ائیرکنڈیشنڈ بسیں کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں نظر آئیں۔ پیدل چلنے والوں کے لیے درجنوں پلوں کی تنصیب کے علاوہ ڈرائیوروں کی تربیت کے لیے ڈرائیور اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 470 مقامات پر خوبصورت بس شیلٹرز تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح ماس ٹرانزٹ کے لیے ایک غیر ملکی کمپنی سے معاہدہ کیا جس کے تحت 87 کلومیٹر طویل مقناطیسی ریل چلائی جائے گی۔ اور جس سرکلر ریلوے کا کریڈٹ یہ دونوں اپنی جماعتوں کو دے رہے ہیں اُس سرکلر ریلوے کے لیے بھی نعمت اللہ خان نے ہی کام کیا۔ شہر میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے ساتھ ساتھ اورنگی، بلدیہ، کورنگی اور نارتھ کراچی تک اس کی توسیع کا منصوبہ بھی منظور کرایا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ نعمت اللہ خان ہی تھے جنہوں نے اپنے پہلے ہی بجٹ میں تعلیم کی مد میں ریکارڈ 31 فیصد رقم مختص کی۔ آج کراچی کے اسکولوں کی بدلی ہوئی حالت انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کے مختلف جدید ٹریننگ کورسز اور ”پروفیشنل ٹریننگ پروگرام“ میں ہزاروں اساتذہ کی تربیت کا سلسلہ شروع کرایا۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس سے قبل شہر میں 88 کالج تھے، اُن کے4 سالہ دور میں ریکارڈ32 نئے کالجوں کا اضافہ ہوا۔ جہاں تک صحت سے متعلق اداروں کا تعلق ہے تو اس پر بھی خاصا کام کیا گیا۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ 10 چیسٹ پین سینٹرز، امراضِ قلب کے جدید ترین اسپتال کا قیام، کڈنی ڈائیلاسز سینٹر، جدید ترین ”ڈائیگنوسٹک سینٹر“ بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی بھاری صنعتوں کی شہر سے باہر منتقلی کی بھرپور مہم چلائی، 300 پارکس کو ازسرنو تعمیر کرایا،300 پلے گراؤنڈز کی حالت بہتر بنائی، بے شمار فلڈ لائٹس کی تنصیب کرائی، جبکہ کراچی کے 18 ٹائونز میں سے ہر ٹاؤن کو کم از کم ایک ماڈل پارک بنا کر دیا۔ اسی طرح دامنِ کوہ، باغ ابنِ قاسم اور گٹر باغیچہ پارکس جیسے میگا پروجیکٹس کا آغاز بھی نعمت اللہ خان کے دور میں ہوا۔ اب آجائیں پینے کے صاف پانی کے منصوبوں کی جانب… پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے ”کے تھری واٹر سپلائی پروجیکٹ“ شروع کیا، واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تنصیب اور سیوریج کے پانی کو ری سائیکل کرکے کارخانوں کے لیے قابلِ استعمال بنانے کے معاہدے کیے، سیوریج کے نظام کی بہتری کے لیے اربوں روپے خرچ کیے، 50 سال پرانی پائپ لائنوں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی اور نئے پمپس کی تنصیب کرائی۔ کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھانے کے لیے500 سولڈ ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشن تعمیر کیے۔ نعمت اللہ خان نے کراچی کی کچی آبادیوں میں بسنے والوں کو لیز پر زمین فراہم کی جس سے لاکھوں غریب لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔ فکر ملی ٹرسٹ، قرآن و سنہ اکیڈمی، المرکز الاسلامی، سٹیزن کمیونٹی بورڈ، تھانوں میں لائبریریوں کا قیام، پبلک مقامات پر ائیرکنڈیشنڈ لائبریریوں کی تعمیر، ویمن اسپورٹس کمپلیکس اور ویمن لائبریری کمپلیکس کی تکمیل، اور مختلف اسلامی، اصلاحی اور سماجی پروگراموں کا انعقاد نعمت اللہ خان کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ سب سے بڑھ کر شہری حکومت کے بجٹ میں حیران کن حد تک اضافہ کیا اور اسے 5 ارب سے 43 ارب تک لے گئے۔ 29ارب روپے کا ”تعمیر کراچی پروگرام“ بھی آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ہے اصل خدمت… یہ ہے ترقی… اور یہ ہے کراچی سے محبت۔ بات صاف ہے، اگر کراچی کو کسی نے اپنا شہر سمجھا ہے تو وہ صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی ہے۔“
ان تینوں دوستوں کی باتیں سن کر میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ کراچی سے محبت کرنے والوں کو عوام خوب جانتے ہیں۔

حصہ