اماں جی

105

اماں جی کے گھر بچیوں کی رونق لگی رہتی تھی۔ ان کے پاس بچیوں کے لیے کچھ کھانے کو ہر وقت موجود ہوتا تھا۔ اُن کی پوتیاں اور نواسیاں بھی ہر وقت اماں جی کی چارپائی کے گرد محفل لگائے رکھتی تھیں۔ آج بھی لڑکیوں کے پاس سوال تھا اور اماں جی بیٹھی اپنی کمزور آنکھوں کو استعمال کرتے ہوئے سوئی دھاگے کے ساتھ کپڑے پر کڑھائی کررہی تھی۔ ان کے ہاتھ میں ایسا ہنر تھا کہ کپڑے میں جان پیدا کردیتی تھیں، اور دیکھنے والا تعریف کیے بغیر جا نہیں سکتا تھا۔ بچیاں آپس میں کھسر کھسر کررہی تھی۔
اماں جی بولیں ’’میری بچیو! اپنی اماں سے کون سی بات پوچھنی ہے؟‘‘
اماں جی کی بات پر بچیاں شرمانے لگ گئیں۔ گھر میں بچیوں کی آمد جاری تھی، اور جب تعداد زیادہ ہوجاتی تو اماں اپنا کام چھوڑ کر لڑکیوں کی طرف منہ کرلیتیں۔
ایک بچی شرماتے ہوئے بولی ’’بات سخت ہے مگر سب لڑکیاں اس خوف کا شکار ہیں۔ اماں! سب کہتے ہیں دور بدل گیا ہے، ماں بن کر لڑکی بوڑھی ہو جاتی ہے، اولاد کی پیدائش سے کم عمری میں بوڑھی نظر آنے لگتی ہے، اس کے سنہرے دور کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اماں! سب کا ماننا ہے کم خوب صورت کو کوئی نگاہ پسند نہیں کرتی، عورت کی چمک دمک تب تک ہی رہتی ہے جب تک وہ جوان اور اولاد کی ذمہ داری سے آزاد رہتی ہے۔ مرد عورت کو اولاد کی بیڑیوں میں جکڑ کر اس کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے، ہمارے پاس ایسی مثالیں موجود ہیں جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ’ماں‘ سننے میں خوب صورت اور بننے میں تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ اماں! آج کی بچیاں ڈرتی ہیں، کہتی ہیں اکثر بیٹوں کی جگہ آقا پیدا ہوجاتے ہیں اور مائوں کی محنت ضائع ہو جاتی ہے، ماں بننے کے بعد اولاد کی محبت عورت کو کمزور کردیتی ہے ہم دیکھتے ہیں مائوں کا حال… وہ محبت میں مر جاتی ہیں اور اولاد ان کی زندگی کھا جاتی ہے۔‘‘
دوسری بولی ’’کیا ہم غلام ہیں؟ کیا ہماری زندگی خوف کی نذر ہوجائے گی؟ یہ سب حالات ہمیں کمزور کریں گے؟‘‘
اماں دیکھ رہی تھیں کہ سب لڑکیوں کی آنکھوں میں یہی سوال تھا۔ اتنا سخت سوال سن کر وہ بھی حیران تھیں کہ بچیوں کا ذہن کس طرف مڑ رہا ہے! ان کو سوالوں کے جواب نہ ملے تو یہ آنے والی نسلوں کو خوف اور تباہی کی طرف لے جائیں گی۔
اماں بولیں ’’جب رب کسی عورت کو ماں بناتا ہے تو اس کو علم سے نواز دیتا ہے۔ وہ ایسا علم ہوتا ہے جو کسی اسکول، کالج سے نہیں ملتا۔ اگر کسی عورت کے پاس ہزار ڈگریاں ہوں، تب بھی وہ اس علم کو نہیں جان سکتی اگر وہ ماں نہیں ہے۔ دنیا کی نگاہوں سے دیکھو گی تو تم خوب صورتی کے معیار کو کبھی سمجھ نہیں پائو گی۔ جوانی سب پر آتی ہے، مجھ پر بھی آئی تھی، کیا میں سنبھال سکی؟ مگر جو علم مجھے ماں بن کر ملا وہ مجھے کوئی ڈگری نہیں دے سکتی تھی۔ مائوں کے جملے اولاد کو بڑا انسان بنادیتے ہیں۔ مائوں کے حوصلے ہی اولاد کو دنیا سے لڑنے کی طاقت دیتے ہیں۔ جن قوموں کی مائوں کی عقل سلامت ہے انہی قوموں کے جھنڈے بلند ہیں۔ مرد تو اولاد کی شکل میں عورت کو عزت دیتا ہے، جو عورت مرد کو اولاد دے وہ اس دن کی خوشی بار بار دہراتا ہے، ایسے جیسے کوئی احسان اس نے اپنے سر لے لیا ہو۔ بچیو! اولاد کو دیکھ کر عورت کے اندر محبت کا پھول کھل اٹھتا ہے۔ افسوس کہ تم لوگوں نے دوسروں کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا ہے۔‘‘اماں خاموش ہوئیں، عینک اتاری اور اسے صاف کرنے لگیں۔ بچیاں خاموشی سے اماں کو دیکھ رہی تھیں۔
’’رب نے مائوں کو سارے مسائل کا حل بتادیا ہے۔ وہ جب اولاد کو بولنا سکھاتی ہے تو اس کے درد کو، بھوک کو، پیاس کو سمجھتی ہے… اولاد گونگی ہو تب بھی۔ اور ساری زندگی اولاد اپنا درد ماں کے پاس لے کر آتی ہے اور سکون لے کر جاتی ہے، پریشانی کا حل لے کر جاتی ہے۔ ماں کا کمرہ ایک کتب خانہ ہوتا ہے۔ وہ عورت کیسے کمزور ہو سکتی ہے جس کے قدموں میں جنت ہو! وہ عورت کیسے کمزور ہو سکتی ہے جس کے ایک جملے میں اتنی طاقت ہو کہ اگر اُس کا بیٹا قوم کا سربراہ ہو مگر جب اُس کے پاس جائے تو اُس کے قدموں میں بیٹھ جائے! کیا یہ کمزور عورت کی نشانی ہے؟ میری بچیو! ملازمہ دوسروں کے گھروں کا کام کرتی ہے۔ اپنے گھر کا، خاوند کا، بچوں کا کام گھر والی کرتی ہے۔ جو اپنے گھر کے کام کو برا سمجھے اُس عورت کو اپنی سوچ بدلنیچاہیے۔ وہی عورتیں نوازی جاتی ہیں جو رشتوں کے تقدس کو سمجھ پاتی ہیں، کیوں کہ عورت ایسی زنجیر ہے جو خاندان کو مضبوط کرتی ہے۔ تمہارا یہ خوف شیطان کی چال ہے جو ہماری نسلوں میں فتنہ برپا کرنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے مائوں کی مضبوطی قوم کی مضبوطی ہے، اور وہ ہماری آنے والی نسلوں کو تبھی تباہ کر سکتا ہے جب ہماری عورتوں کی سوچ کو خراب کردے۔ اپنے خوف کو دور کرو اور ان باتوں سے توبہ کرو۔ اچھی امید ہی اچھے مستقبل کی ابتدا ہے۔‘‘
اماں جی خاموش ہوئیں تو سب بچیوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ اماں جی سے اپنے سوال کا جواب پاکر سب مطمئن اور خوش تھیں۔ اماں جی نے پاس پڑا تھیلا کھولا اور سب کو میٹھا بانٹنا شروع کردیا۔
آج اماں جی اِس دنیا میں نہیں رہیں، مگر وہ عورتیں جنہوں نے اماں جی سے فیض حاصل کیا تھا، اپنے جوانوں کو اُن کی قبر پر لاتی تھیں اور اماں جی کو بتاتی تھیں کہ ہمارے بچے اس قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ آپ کی باتوں اور دعائوں نے ہمیں تباہی سے بچا لیا ہے۔

حصہ