خود کلامی

299

مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ ـ’’آغاؔ تنہا رہتے تھے اس لیے خود اپنی ہی صحبت میں بگڑ گئے‘‘۔کیا واقعی کوئی بندہ اپنے آپ ہی اتنا بگڑسکتا ہے کہ کسی کو منہ دکھانے کے لائق ہی نہ رہے ؟خود کلامی کے اس موضوع پر میں آپ کو دنیا کی ایک ناکام اورکامیاب خاتون کا دل کو چھونے والا واقعہ سناوں گا۔آئیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ ’’خودکلامی ‘‘یعنی خود سے بات کرنا کسے کہتے ہیں؟کیا یہ مصروفیت صرف اکیلے میں ہوتی ہے یاجب ہم بھیڑ بھاڑ میں ،کسی بڑے کام کے وقت بھی یہ ذہنی کھسر پھسر جاری رہتی ہے؟تو کیا بات کہنے کا فن جاننے والابھی خود سے بات کرنے کا ڈھنگ نہیں جانتا؟ ۔ان سوالوں کا کھراجواب یہ ہے کہ ’’تعمیری خیالات جو ہم سے بات کرتے ہیں وہ حیات بخش ہوتے ہیں جو بڑی مہمات کے ساتھی ہوتے ہیں اور تخریبی خیالات بہت تباہ کن ، شک بنیاد، اور دہشت اساس ہوتے ہیں ‘‘۔
بھلی بات تو اس چڑیا کی طرح ہوتی ہے جو ہمارے ذہن کے تازہ کھیتوں اور کھلیانوں میںایک نغمۂ بہار گاکر چلی جاتی ہے۔ پھرہماری زندگی بہاروںکے انتظار سے جڑجاتی ہے۔ ذہن اس بات سے بنا نغمہ سن کر کسی بڑے کام کی طرف چل پڑتا ہے۔رہی بُری بات ، وہ تودماغ کا دہی کرتے رہتی ہے۔ اچھے بھلے کام میں اچانک سے ابھرنے والے ایک وسوسے کو ہم اپنے سر کی ہنڈیا میں پکا تے رہتے ہیں ۔ پھر وہی کاڑھا ہم گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں۔ہم میں سے اکثر جگ جیتنے کے سارے ہنر سیکھ رکھے ہیں لیکن خود سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں سیکھا۔ جبکہ منفی خیالات کا حملہ کسی بھی سمت سے ہو سکتاہے۔ اس کے بچاو کی ترکیب کیا ہے؟ مولانا روم ؔنے اپنے اشعار میں یہ بات کہی تھی کہ ’’برے خیالات اجنبی مہمانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ سو تم اپنی ذات میں ایک مہمان خانے کی گنجائش رکھو۔ یہ خیالات پل بھر کے پڑائو کے بعد تمہاری دنیا سے چلے جائیں گے۔ لیکن ہاں ! یہ یاد رکھنا !کہ تم انھیں ہر گز اپنے بستروں اور تنہائیوں کا ساتھی نہ بنانا اور نہ ان سے الجھناـ‘‘
جب جب دماغ ،کوئی الٹی پٹی پڑھائے تو ہمارکا م بس اتنا سا ہے کہ ہم اس خیال کی جھرتی لے لیں۔ اور اس سے پوچھیں کہ تو کیا چاہتا ہے؟ تیرا اعتبار ہم کیوں کریں ؟ اگر تیری بات مان لیں تو ہمیں اس سے کیا فائدہ ہوگا؟۔ورنہ ایک خیال پورے حواس کو اپنی چاکری پر لگا دے گا۔ بے موسم خیالات کی جھڑی لگ جائے گی۔دل بھیگ جائے گا اور ذہن ڈوب جائے گا۔چھوٹی بات کوبھی جوکھم والی مہم جتلائے گا۔تمنائوں کو قیدکردے گا۔ ارادوں کے پاوں میں زنجیر ڈال دے گا۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ یہ ہلکی سی سرگوشی ہمارے پورے وجود میں دھاڑتی پھرے گی۔ اس کی چیخوں سے ہم تھم جائیں گے۔ جب کہ ایک خیال کو ہم نے عزم و ارادہ بنا لیا ہے تو بھی الٹے پاوں پلٹ جانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔قرآن کریم اردوں پر جمے رہنے والوں کو جیت کی بشارت کچھ اس انداز سے دیتا ہے :
’’اگر تم فیصلہ کرلو تو پھر خدا پر بھروسہ کرنا،بے شک خدا بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتاہے ۔‘‘
یعنی اگر ہم اپنی مہمات کو رب رنگ بنانا چاہتے ہیں یا اپنی تمناوں میں خدا کی شرکت چاہتے ہوں تو ارادوں کو ٹال مٹول کے حوالے نہ کریں۔ ڈل مل یقین والے تو بے پیندے کے لوٹے ہوتے ہیں۔ ہمیں اس رسواکن زندگی سے بچ بچ کر جینا ہوگا۔ ارداہ ہمارا اپنا ہوتا ہے۔ ہماری اولاد کی طرح۔ کیا ہم کبھی کسی ہم سائے کے طعنہ پریا کسی اٹھائی گیر ے کی باتوں پر طیش میں آکر اپنی اولاد کو گھر سے باہر پھینک سکتے ہیں۔نہیں نا ں ،ہر گز نہیں ۔ منفی خیالات کی طومار دماغ کی وہ بڑبڑاہٹ ہے جو عزم بھلادیتی ہے۔جس سے منزل کے نشانے چوک جاتے ہیں۔ دھواں دھواں منظروں میں،غبار آلودہ خیالات کے چھکڑ میں ہمیں اپنا راستہ بنانا ہوگا ۔یہ ہر دن کے ،عادی خیالات کا مینڈکوں کی طر ح ٹرانا ہے ۔اس پر کان نہ دھریں اور اپنا سفر جاری رکھیں۔ بس ہوش سے اپنے اندر کے بھونپو کو مدھم رکھیں۔
اس کے برعکس ایک بہتر ’’خیال ‘‘کو ہم باربار دیکھ کر ،سوچ سمجھ کر اس کو ’’انتخاب و اختیار‘‘ کے مرحلے سے گزاتے ہیں تو وہ ہمارا ’’رویہ ‘‘بنتا ہے اور اس رویے کو اپنا نے کے سبب ہم ایک نئے ’’تجربہ‘‘ سے گزرتے ہیں اور نیا تجربہ ہمیں ایک نئے ’’جذبہ‘‘ سے مالامال کرتاہے تب جاکر ہماری زندگی نیکیوں اور کامیابیوں سے آباد ہوتی ہے۔ بلکہ پوری زندگی خوش آہنگ ہوجاتی ہے۔ ورنہ ایک شرابی کی چال دیکھیں ،حالت نشہ میں اس کا ایک قدم آگے اور چار قدم پیچھے۔ دائیں بائیں بہکنے کا شمار ہی کیا۔ اپنے ہی خیالوں سے ٹن ہوکربہکے بہکے جینا اور اس پر اس جینے پر اصرار کرنے کو ضد پر کہوںگا کہ ہمیں’’یہ ٹھن ٹھن گوپالا چھوڑنا ـ‘‘ ہوگا۔
میں دمام سعودی عرب میں رہتا ہوں ۔خود کلامی کے موضوع سے جڑا ایک عالمی کردار اس شہر میں مدتوں رہ چکا ہے۔ جس کا نام تھاFlorence Chadwik ۔اس خاتون کو تیراکی کا بڑا شوق تھا۔وہ امریکن شہری تھی۔ اسکول میں تیراکی کے مقابلوں میں تھوڑے وقت اور تھوڑے سے فاصلے سے جڑی شرطوں پر اکثر وہ ناکام ہوجاتی تھی لیکن بڑے فاصلوں ، گہرے سمندروں اور دیر تک تیرنے کی شرطوں پر وہ جیت جاتی تھی۔وقت گزرا، شادی ہوگئی،تیراکی کی چند ایک کامیابیوں کے بعد وہ گرہست بن گئی اور تیرنا چھوڑدیا۔ساحل سمندر پر بیٹھے ہوئے ایک دن اپنے شوہر سے حسرت سے کہنے لگی ’’میں اسکول کے مقابلوں کے سوئمنگ پول کے بجائے سمندروں میں تیرکر تاریخ بنانے کا مزاج رکھتی ہوں۔باوجود کہ عمر گزرگئی لیکن آج بھی سمندروںکی بڑی سے بڑی خلیج کو پار کرسکتی ہوں۔ تب اس کے شوہر نے کہا یہ دیکھو San diago کا ساحل ہے ، سمندر بھی سامنے ہے،کود جائواور تاریخ بنائو ۔اس نے اپنے ہم سفر کی ڈھارس پر سمندرمیں چھلانگ لگادی۔ اوررات دیرگئے تیرتی رہے ۔
بات جب عالمی ریکارڈ اور سمندراور خلیج پارکرنے کی بات آئی تو اس مہم کو مکمل کرنے کے لیے اس کو پیسوں کی ضرورت کا اندازہ ہوا تاکہ ٹرینر اور سیکورٹی افراد کی فیس،بدن پر لگائے جانے والا گریس اور دیگر آلات خریدنے کی قیمت اداکرسکے۔اس نے نوکری تلاش کرنی شروع کردی۔ وہ اسٹینوگرافر تھی لیکن اس کی آنکھوں میں طوفانی سمندروں کو پارکرنے کا خواب تھا۔سعودی عرب میں ،آرمکو کمپنی میں ملازمت ملی ۔ ہفتہ میں چھٹی کے دو ون وہ دمام کے ساحل پر خلیجِ فارس کے پانی میں صبح سے شام تک اپنی مشق کرتی۔ ویسے تو ہجرت کئی لوگ کرتے ہیں۔ بلکہ آج بھی دمام کے خوبصورت ساحل پر لوگ کباب، اور نو بہ نو کھانے کھانے اور وقت گزاری کے بہانے زندگی ضائع کرتے ہیں۔ لیکن Florence نے وسائل سے بہل کراپنے خوابوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اپنا خواب رہن رکھ کر روٹی نہیں کمائی۔ تھوڑی سی بچت ہوتے ہی وہ اپنے ملک واپس گئی اور English Channel کو پار کرنے کا اعلان کردیا۔
مہم کی تیاریاں مکمل ہوگئیں۔نگران کشتی ، کشتی میں سواراس کے ماں باپ، بندوق تانا ہوا ایک سپاہی تاکہ کسی خوں خوار یا شارک مچھلی کے امکانی حملہ پر تیرنے والے کو بچایا جاسکے۔وہ سمندر میں اتر پڑی تقریباً 16گھنٹے تک تیرتی فلورینس ،طوفانوں سے لڑتی ہوئی ساحل سے صرف ایک میل کے فاصلے پر ہمت ہار گئی۔ کشتی میں سوار سب نے ڈھارس بندھائی کہ تم جیت رہی ہو۔ تم عالمی ریکارڈ بناچکی ہو۔ ہمت مت ہارنا۔ وہ لگاتار انکارکرتی رہی۔جولائی 1950 کی دن اپنے بدترین ہار سمیٹے ہوئے گھر آئی اور اپنی ہار کا اعلان کیا۔
دو ماہ اس نے ایک سوال کے جواب کی جستجومیں گزارے اور جواب ملتے ہی اس نے پھرایک نئی مہم کا اعلان کیا۔اس کو جواب ملا کہ ہاری ہوئی مہم میں سمندر کے اندر طوفان نہیں تھا بلکہ اس کے ذہن میں تھا۔ اس دن موجیں سفاک نہیں تھی بلکہ اس کی روح میں ایک ہنگام تھا۔
اب دوسری مہم شروع کرنے کی گھڑی آئی۔اس دن سمندرمیں موجیں وحشت ناک تھی۔سردی جان لیوا تھی۔شارک کے نظر آنے کی خبر بار بار آرہی تھی۔سمندر کی پوری چادرپر کہرا چھاچکاتھا۔موسمی پیش قیاسی تسلی بخش نہیں تھی لیکن وہ عزم کرچکی تھی ۔ وہ ساحل پر انتظار کرتی رہی کہ ذرا موجیں تھمیںتو وہ سمندر میں کود پڑے۔ لیکن موجیں تھمتی نہ تھیں۔ تھوڑے انتظار کے بعد وہ بوجھل بدن سے کود پڑی۔اس بار موسم نے اس کا ساتھ نہیں دیا ، کہرا بھی گہرا تھا۔فلڈلائیٹ کی بڑی روشنی رات کو سمندر میں نہیں ڈالی جاسکتی تھی ،جس سے مچھلیوں کے حملہ کا امکانی خطرہ تھا۔فلورینس کو تیرتے تیرے جب کئی گھنٹے گزرگئے تب بیچ سمندر میں کشتی قریب کرتے ہوئے اس کی ماں ، ٹرینر اور شوہر نے کہا واپس آجاو ۔سردی سے پانی برف بن رہا ہے۔ یہ رات آج تمہاراجسم جمادے گی ۔موجیں کی تیزدھارتمہارابدن کاٹ دے گی۔ اس نے مسکراتے ، مچھلیوں کی طرح بل کھاتے ہوئے کہا کہ ’’آج تو ساحل میرے پاوں چومنے کے انتظار میں ہے۔ آج تو تاریخ میراموڈ پوچھ کرگئی ہے۔آج فطرت کی تمام طاقت میرے ساتھ ہے۔ دیکھو تو آج میں تیرکہاں رہی ہوں۔ آج میں خود سے باتیں کررہی ہوں۔ میرے کانوں کو ابھی کئی گیت اور نغمہ سننے ہیںجو میں نے ساتھ لائے ہیں۔ مجھے دیکھو،میں موجوں پر رقص کررہی ہوں۔ آ ج کوئی چیز بھی میری راہ کی رکاوٹ نہیں ہے۔ خدا میرے ساتھ ہے۔ فطرت میری دوست ہے ۔ میرے راستے میں نہ کہراہے ،نہ سردی ہے، نہ شارک ۔ راز یہ ہے کہ پچھلی بار میں نے خود سے غلط باتیں کیں تھی تو تاریخ نے مجھے رد کردیا ۔ مجھے ساحل نے دھتکار دیا ۔ آج مثبت خیالات کے ایندھن سے طاقت پارہی ہوں۔ آج میری خود سے جوبات ہورہی ہے وہ مکمل الگ ہے۔میرے تصورکی دنیا نے ساحل دیکھ لیا۔ میرے یقین کو اعزاز مل گیا۔دیکھو تو پہلی با رمیں نے16 گھنٹے کھپائے اور ناکام رہی۔اور آج 13 گھنٹوں میں سمندر پار کرچکی ہوں۔یہ تو پہلا انعام ہے خدا کا۔ اب مجھے خود سے بات کرنا آگیا۔ مجھے بزدل بنانے والے شک پر ہنسنا، دہشت سے بہلنا اور مہمات کو اپنی جان بنانا آگیا۔میں یہ راز پاچکی ہوں کہ خود کلامی کے خیال سے توانیاں چھن جاتی ہیں۔ حوصلہ ہارجاتے ہیں۔ اور اسی خود کلامی کی بھلی باتوں سے جیت مقدر ہوجاتی ہے۔ آرزویں مکمل ہوتی ہیں۔ زندگی تاریخ ساز ہوجاتی۔
دوستو یہ وہ تمام باتیں تھیں جو گاہے فلورینس نے صحافیوں کو اور اپنے چاہنے والوں کو بتائی تھیں۔سچائیوں سے محبت کرنے والے ہمیشہ عالم گیر صداقتوں کے پالیتے ہیں ۔ اور بہانہ گربھیڑ تو توہمات اور خدشات میں گھری رہتی ہے۔مجھے نبی رحمتؐ کا قول فیصل یاد آیا۔ جن کی انگلیاں کائنات کی نبض پر ہوتی ہے۔ حیات کی دھڑکن کا پتا دیتی ہے۔ کہا’’اَناَ النَّبی اَلمَلہِمہ ، میں مہمات کا نبی ہوں‘‘۔چلیے اپنی اپنی زندگی میں ہم سب اپنے اپنے مہمات کو منتخب کرتے ہیں۔اقبال کہتے ہیں۔
جو بات حق ہو وہ مجھ سے چھپنی نہیں رہتی
خدا نے مجھ کو دیا ہے دلِ خبیر و بصیر

حصہ