جذبہ ہے جواں

98

یہ دنیا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ تاریک ہوتی جارہی ہے… ہر آن بپا ہوتے فتنے اور شر یہاں انسان کا جینا مشکل کرتے جارہے ہیں‘ کہیں انسان انسانیت کے درجے سے بہت نیچے گِر چکا ہے اور کہیں مال و زر کی چکاچوند نے انسان کو دنیا کا ہی حریص بنادیا ہے… اس افراتفری اور شرانگیز ماحول میں روشنی کی ایک ایسی کرن بھی ہے جو آج بھی تاریکی پھیلاتے شر کا مقابلہ کررہی ہے۔
روئے زمین پر نورِ ایمان سے لبریز اور اللہ کی نافرمانیوں پر بے چین دلوں کے لیے بہت بڑی نعمت ہے وہ اجتماعیت، جسے اللہ کی کچھ بندیوں نے ابلیس کی فتنہ انگیزیوں کے بالمقابل برپا کیا اور رب تعالیٰ نے اْن خالص دلوں کی نیتوں کو یوں قبول کیا کہ قرآن پاک کو اس اجتماعیت کے لیے راہ نما…اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اس قافلے کے ہر فرد کے لیے مشعلِ راہ بنا دیا۔ یہ خالقِ کائنات ہی کا فضل ہے کہ آج یہ اجتماعیت اپنے قیام کے 52 سال مکمل کرچکی ہے۔
وہ اجتماعیت جسے اسلامی جمعیت طالبات کا نام دیا گیا۔ اور جس میں شامل ہونے والے ہر فرد نے قرآن پاک اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھائے ہوئے طریقوں کے مطابق انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کا فن سیکھا ہے۔
جمعیت… اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو شیطان کے تیروں سے چھلنی آج کے معاشرے کے لیے فتنوں کے مقابل ڈھال بنی ہوئی ہے۔ دنیا کی محبت میں قید دلوں کے لیے حقیقی کامیابی و فلاح کا ذریعہ ہے۔ اللہ کی وہ بندیاں جو دنیاوی فتنوں سے تھک کر جب سہارے کی متلاشی ہوتی ہیں تو جمعیت بڑھ کر انہیں تھام لیتی ہے اور قرآن کے سائے میں انہیں جنت الفردوس کی جانب جانے والے راستے پر کھڑا کردیتی ہے۔
دنیاوی فائدوں کے لیے استوار کیے جانے والے غرض کے رشتے جب دلوں کو دْکھ دیتے ہیں تو جمعیت انہیں اللہ کی خاطر محبت سکھانے کے لیے وہاں موجود ہوتی ہے۔
جمعیت وہ قافلہ ہے جو پچاس سال سے کتابِ ہدایت قرآن پاک کی رہنمائی میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ ایسا قافلہ، جس کے راہی مشکلات میں اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع کرتے ہیں اور خوشیوں میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں۔ شیطان کے وسوسے اور ناکامی و مایوسیاں اس قافلے کے کسی فرد کو ڈگمگانے نہیں دیتیں، بلکہ مشکلات ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں۔
وہ لوگ جو ہر وقت اللہ کی رضا کی جانب ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے گامزن رہتے ہیں اور اللہ کے دین کی طرف اللہ کی بندیوں کو بلانے کی جدوجہد میں مشغول رہتے ہیں۔ طالبات کو دنیاوی فتنوں سے بچانے کے لیے، اور انسانیت کی خیر خواہی کی غرض سے قائم کی جانے والی یہ اجتماعیت بلاشبہ بہت انمول نعمت ہے۔
اس اجتماعیت سے وابستہ اللہ کی بندیاں معاشرے کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کے خود بھی جوہر دکھاتی ہیں اور دوسروں کو بھی مواقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ میدانِ عمل میں آگے آکر دنیا میں مثبت سوچ کو عام کریں۔
تعلیم کا میدان ہو یا بزنس کا‘ انڈسٹری ہو یا تعلیمی ادارہ‘ کوئی چھوٹی سی جاب ہو یا بڑے بڑے ایونٹ رکھوانا اور ان کے تمام انتظامات کرنا‘ گھریلو کام ہوں یا باہر نکل کر پروفیشنل دنیا میں کام کرنا‘ پڑھائی کو ساتھ لے کر چلنے کی بات ہو یا ٹائم مینجمنٹ کی عملی تصویر بن کر دکھانا‘ بڑے پیمانے پر پُراثر ورکشاپس رکھوانا ہو یا طالبات کے مسائل پر بات کرنی ہو۔ میدانِ عمل کے سیکڑوں شعبوں پر جمعیت کے چراغ جگمگاتے نظر آتے ہیں۔
بے غرض اور پُرخلوص نیت رکھنے والا اس اجتماعیت کا ہر فرد بس یہ چاہتا ہے کہ دجالی فتنوں کے شکنجے میں جاتی انسانیت اللہ کے راستے کی جانب واپس آجائے۔ وہ راستہ جو جنت الفردوس کو جاتا ہے… جو اللہ کے رسولؐ کا راستہ ہے… وہ راستہ جو مشکلات کے کانٹوں سے بھرا ہوا لیکن ایمان اور یقین کے نور سے چمک رہا ہے۔
جب وطنِ عزیز میں سازشوں اور بے حیائی کا عفریت مسلمان گھرانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا تب وقت کی ضرورت کا ادراک کرکے یہ اجتماعیت کھڑی کی گئی۔ جب تک قلعۂ اسلام کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کی کوششیں جاری رہیں گی، جمعیت کا ہر فرد کمربستہ رہے گا۔ جب تک اس قافلے کا ہر فرد قرآن پاک کو زادِراہ بنائے رکھے گا، یہ سفر جاری رہے گا اِن شاء اللہ۔
وہ سنگِ گراں جو حائل ہے
رستے سے ہٹا کر دم لیں گے
ہم راہِ وفا کے راہ رو ہیں
منزل ہی پہ جا کے دم لیں گے

حصہ