عظیم سرور ، آواز کی دنیا کا مقبول نام

219

اتوار 12 ستمبر کی صبح 8 بجے ہم سو کر اٹھے اور فون دیکھا تو اسکرین پرعابد حسین کی یہ المناک خبر اسکرین پر موجود تھی کہ عظیم سرور بھائی کا انتقال ہوگیا ہے۔ ایسے محسوس ہوا جیسے اپنے جسم کا ایک حصہ اچانک جدا ہوگیا ہو۔ ان سے ہمارا تعلق اور رشتہ کچھ اسی قسم کا تھا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ہم نے ان کے چھوٹے بھائی محمد یوسف کو فون پر پوچھا ”یہ اچانک کیسے ہوا؟“ تو ان کا کہنا تھا کہ وہ چند دن پہلے تک بالکل ٹھیک تھے اور معمول کے مطابق اپنے کام کررہے تھے کہ ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ ڈاکٹر کو دکھایا، انہوں نے اسپتال داخل کرنے کا مشورہ دیا، اور لیاقت نیشنل اسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ ذیابیطس کی شدت ہے۔ اس پر جلد قابو پالیا گیا، لیکن پھر گردے میں انفیکشن کی شکایت ہوئی۔ اس پر بھی کنٹرول ہوگیا اور ان کو انتہائی نگہداشت کے کمرے سے عام وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ اب وہ ٹھیک تھے اور ہم انہیں اسپتال سے گھر لے جانے کا سوچ رہے تھے کہ ان پر غشی طاری ہوئی اور وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اللہ کی امانت تھی جو اس نے واپس لے لی تھی۔ کل نفس ذائقہ الموت
12ستمبر 2021ء کی تاریخ کو اس لحاظ سے یاد رکھا جائے گا کہ اس دن ریڈیو پاکستان کا ایک بڑا نام، اردو زبان کا عالمی براڈ کاسٹر، روزنامہ جنگ کا سینئر ترین کالم نگار، پاکستان میں کھیلوں کو عالمی سطح پر روشناس کرانے والا، آج کل کے ٹی وی چینلوں کے صبح کے پروگرام کا بانی،افسانہ او نغمہ نگار،پاکستان اور اسلام سے سچی محبت کرنے والے جرات مند سپاہی اور ہمارا عزیز ترین بھائی عظیم سرور اپنے خالق حقیقی کی رحمتوں کے سائے میں چلا گیا، اور اس طرح ریڈیو پاکستان کو اپنے مقبول پروگراموں عالمی اسپورٹس راؤنڈ اَپ،صبح پاکستان، آواز خزانہ، جیدی کے ساتھ، ڈیلمون شو کیسٹ سیریز،جیدی کے مہمان،رنگ ہی رنگ، قرآن کی تلاوت و ترجمہ، پروگرام روشنی کے ذریعے پاکستان کے کونے کونے اور قریہ قریہ مشہور کرنے والی مقبول ترین آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ عظیم بھائی نے ریڈیو پر جو پروگرام بھی شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے اسے ریڈیو کا مقبول اور سب سے زیادہ سنا جانے والا پروگرام بنادیا تھا، اور پاکستان اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی اور اردو جاننے والے ان کے پروگرام کا باقاعدہ انتظار کرتے اور سنتے تھے۔
عظیم سرور کی عمر 16 سال تھی اور وہ کالج میں سال اوّل کے طالب علم تھے کہ 1958ء میں کوئٹہ ریڈیو سے اناؤنسر کی حیثیت سے براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا، اور 2002 میں 60 سال کی عمر میں ڈپٹی کنٹرولر اور ریڈیو کے ”ماہنامہ آہنگ“ کے مدیر کے عہدے سے سبک دوش ہوئے، لیکن سبک دوشی کے بعد بھی انتقال سے چند ماہ قبل تک ریڈیو اور مختلف ٹی وی چینلوں پر اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے۔ اس طرح وہ سرکاری طور پر 44 سال اور مجموعی طور پر 63 سال براڈ کاسٹنگ کرتے رہے جو کسی بھی براڈ کاسٹر کا براڈ کاسٹنگ میں طویل ترین عرصہ ہے۔ انہوں نے اس طویل عرصے میں پروگرام خود سوچے، ان کے اسکرپٹ لکھے اور خود ہی پیش کیے، اور وہ سارے پسند کیے گئے اور مقبول بھی ہوئے۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے متعدد ڈرامے بھی لکھے، جن میں ”آواز کے سائے“، ”خواب آزاد ہیں“ اور ”برف اور ہونٹوں کے سراب“ بڑے مقبول ہوئے۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہوں نے نغمہ نگاری بھی کی اور ان کے کئی نغمے مہدی حسن اور تاج ملتانی نے گائے۔ وہ ٹی وی کے پروگراموں میں بھی بلائے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حج کی کوریج اور ریاض الجنہ سے براہِ راست دعا، اور 1974ء کی لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کا شرف بھی بخشا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں ہاکی کے کھلاڑی رہ چکے تھے، اس لیے کھیلوں سے خصوصی دلچسپی تھی، جس نے ان سے ریڈیو کا مقبول ترین پروگرام ”عالمی اسپورٹس راؤنڈ اپ“ شروع کرایا۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ دادا بھائی سینٹر میں ان کے اسٹوڈیو میں ہوتی تھی، اور اس میں دنیا بھر سے کھیلوں کی خبریں شامل ہوتی تھیں۔ ان کے حصول اور تیاری میں وہ سارے نام شامل تھے جو آج کل اخبارات اور ٹی وی چینلوں میں اسپورٹس کے بڑے بڑے ایڈیٹر، اینکرز، کمنٹیٹر اور تجزیہ نگار ہیں۔ ان میں عبدالماجد بھٹی، سید محمد صوفی، ابراہیم خان، احسان قریشی، عارف افضال عثمانی، سید خالد محمود، اظہر حسین، یحییٰ حسینی، شاہد ہاشمی، سردار خان، مرزا اقبال بیگ ،فاروق احمد خان ، اویس نصیر اور انور اللہ حسینی شامل ہیں۔ سینئر صحافی عبدالجبار خان بھی ان کے پروگرام ”صبح پاکستان“ کے لیے کام کرتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے اُن سے مائیک کے سامنے بولنے، مختصر خبر لکھنے، کھیلوں کی کمنٹری کرنے اور کھیلوں پر تبصرہ کرنے کے گُر سیکھے۔ یہ سب ہی ان کو کھیلوں کی دنیا کا گُرو اور استاد سمجھتے تھے۔ ان کی لکھنے کی صلاحیت سے اخبارات کے ایڈیٹرز بھی آگاہ تھے، ان میں جنگ کے ایڈیٹر یوسف صدیقی بھی شامل تھے۔ انہوں نے ان کو جنگ میں کالم لکھنے کی ترغیب دی اور 1969ء سے جنگ میں ان کے کالم شائع ہونا شروع ہوئے جو کئی عشروں تک چھپتے رہے۔ ان کے موضوعات زیادہ تر پاکستان اور اسلام ہوتے تھے۔
عظیم سرور کا سب سے بڑا اور یادگار کارنامہ مفکرِ اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی مشہور عالم تفسیر ”تفہیم القرآن“ کی آواز ( آڈیو ) کی صورت میں پیش کش ہے، جس میں ان کی سحر انگیز آواز قیامت تک ‎گونجتی اور سننے والوں کو قرآن مجید کا ابدی پیغام پہنچاتی اور اپنا جادو جگاتے رہے گی، اور اس کا اجر ان کو ملتا رہے گا۔ تفہیم القرآن کی آڈیو یوٹیوب اور اسلام 360 کے علاوہ اب ڈیجیٹل میڈیا کی درجنوں ویب سائٹس پر بھی موجود ہے اور اس کو دنیا بھر میں سنا جاتا ہے۔ ان کا یہ وہ قابلِ فخر اعزاز ہے جو اردو کا کوئی اور براڈ کاسٹر حاصل نہ کر سکا۔اس آڈیو میں تفہیم القرآن کا دیباچہ، سورتوں کا تعارف اور ترجمہ ان کی آواز میں ہے، جب کہ تفہیم کا مقدمہ اور تفسیر کے حواشی کا زیادہ حصہ سفیر حسن سبزواری کی آواز میں ہے۔پروگرام کے مطابق تفسیر کے پورے حواشی ان ہی کو ریکارڈ کرانے تھے اور وہ تین چوتھائی حصہ ریکارڈ کراچکے تھے کہ وہ رضائے الٰہی سے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔تفسیری حواشی کے بقیہ حصے تنظیم اسلامی کے اشفاق حسین نے پڑھنا شروع کیے، لیکن تھوڑے عرصے بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا، جس کے بعد اسے مکمل کرنے کا شرف پروفیسر عبدالقدیر سلیم کو حاصل ہوا۔ یہ سارا کام جماعت اسلامی کے شعبہ سمع و بصر کے زیر اہتمام ہوا تھا، جس کے سربراہ جماعت اسلامی کے نشرو اشاعت کے مرکزی مشیر برادرم شاہد شمسی تھے۔ اس پروجیکٹ کی قوتِ محرکہ شیخ محبوب علی اور پروفیسر مسلم سجاد تھے۔ مسلم بھائی اُن دنوں کراچی سے اپنے بڑے بھائی اور جماعت اسلامی کے نائب امیر خرم جاہ مراد کی ترغیب پر جماعت کے مرکز منصورہ لاہور منتقل ہوئے تھے اور ترجمان القرآن کے عملی مدیر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ جب بھی کراچی آتے، اس پروجیکٹ پر ضرور بات کرتے۔ ہم بھی کسی نہ کسی حوالے سے اس کے ہر مرحلے میں شامل رہے۔تفہیم القرآن کی ریکارڈنگ عظیم بھائی کے اپنے اسٹوڈیو میں ہوئی، جو شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے سامنے دادا بھائی سینٹر میں تھا۔ یہ ان کی آواز کے جادو کا اثر تھا کہ مفتی تقی عثمانی نے جب ”آسان ترجمہ قرآن“ مکمل کیا اور اس کو آواز کی صورت میں منتقل کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے ڈاکٹر فیاض عالم کے توسط سے اسے اُن کی آواز میں ریکارڈ کرایا۔ عظیم بھائی نے جس نسخے سے ریکارڈنگ کے وقت ترجمہ پڑھا تھا، وہ 2016ء میں ہماری امریکا سے کراچی آمد پر اپنے آٹوگراف کے ساتھ ہمیں ہدیہ کردیا تھا۔ وہ اب ان کی حسین یادوں کے ساتھ ہمارے ساتھ موجود رہے گا، اور جب بھی ہم اس سے تلاوت قرآن کریں گے تو اس کا اجر ان کو پہنچتا رہے گا۔ اس کے علاوہ برادرم مسلم سجاد نے مولانا مودودیؒ کے بعض کتابچوں کی بھی ان کی آواز میں ریکارڈنگ کرائی تھی، لیکن اب وہ شاید دستیاب نہیں ہیں۔ زاہد حسین چھیپا نے بھی اپنی مشہور عالم اسلامی ایپ اسلام 360 کے لیے صحیح بخاری کی سیکڑوں حدیثوں کی ان سے ریکارڈنگ کرائی۔ تفہیم القرآن کی آڈیو کے اس کامیاب تجربے سے متاثر ہوکر ہم نے عظیم بھائی کو سید قطب شہیدؒ کی شہرئہ آفاق تفسیر فی ضلالتہ القرآن کے اردو ترجمے کو تفہیم کی طرح صوتی آواز میں منتقل کرنے کے پروجیکٹ پر آمادہ کیا۔ اس کے لیے وسائل بھی فراہم کردیئے اور کام شروع ہوگیا۔ انہیں اس تفسیر کے سارے تراجم بھی فراہم ہوگئے، لیکن ہم دونوں کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنا بڑا اور جان جوکھوں کا کام ہے۔ لیکن عظیم بھائی نے ہمت نہ ہاری اور تمام سورتوں کا تعارف اور سورتوں میں دیئے گئے پیغام اور ہدایات کو اختصار کے ساتھ مرتب کیا، اور اس نئے اسکرپٹ کی اپنی آواز میں 15 گھنٹوں پر مشتمل ریکارڈنگ کرائی۔ یہ آڈیو اس وقت ڈاکٹر فیاض عالم کے پاس ہے اور توقع ہے کہ وہ اس کو جلد ہی یوٹیوب اور دوسری ویب سائٹس پر اپ لوڈ کردیں گے۔
‎عظیم بھائی سے ہمارا برادرانہ تعلق 55 برسوں پر محیط ہے، اور ان کی یادوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ فلم کی طرح سامنے آرہا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا، کہاں سے شروع کریں۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے ان کا نام سب سے پہلے ہم نے 1964ء میں کسی وقت سنا تھا۔ ہم اردو کالج میں دوسرے سال کے طالب علم تھے اور کالج میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اور نشرواشاعت کے شعبے سے وابستہ تھے۔ جمعیت کے دفتر میں ایک بار اس امر کا جائزہ لیا جارہا تھا کہ اخبارات میں اسلامی سوچ رکھنے والے صحافی کون کون ہیں؟ جن چند صحافیوں کا نام لیا گیا، ان میں عظیم سرور کا نام بھی شامل تھا۔ پھر معلوم ہوا کہ یہ ریڈیو میں ہیں، بڑے باصلاحیت ہیں، جمعیت کو پسند کرتے ہیں اور کبھی کبھی دفتر بھی آتے ہیں۔ ایک سال بعد ایک دن ایک دبلا سا چھریرے بدن کا نوجوان دفتر آیا اور اپنا تعارف عظیم سرور کے نام سے کرایا۔ ہم نے نام تو سن رکھا تھا لیکن یہ ہمارے تصوراتی خاکے کے برعکس تھے۔ چند منٹ کی بات چیت ہی سے وہ بے تکلف ہوگئے اور ایسا محسوس ہوا کہ ہم ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ریڈیو میں ہیں اور لکھنے لکھانے کا شوق ہے۔ درمیان میں ایک طویل وقفہ آیا اور بہت عرصہ ان سے ملاقات نہ ہوئی۔ ہم نے بی اے کرلیا تھا، اور کراچی یونیورسٹی میں شعبہ صحافت میں داخلہ لے لیا تھا، اور سالِ اوّل میں تھے کہ ہم اپریل 1967ء میں روزنامہ جنگ کے ادارتی عملے میں شامل ہوئے تو ان سے ملاقاتیں دوبارہ شروع ہوگئیں۔ اُس وقت ریڈیو پاکستان کراچی میں سعید نقشبندی اور عبدالرب شجیع بھی تھے۔ ان سے عظیم بھائی کے توسط سے روابط ہوئے تھے۔
‎عظیم بھائی سے تعلقات میں روزبروز اضافہ ہی ہوتا رہا، اور اب ان کے جہانگیر روڈ والے گھر پر بھی آنا جانا شروع ہوگیا۔ جسمانی معذوری کو انہوں نے کبھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ بننے دیا۔ ریڈیو پر وہ نئے نئے پروگرام سوچتے، ان کی منظوری لیتے، ان کے اسکرپٹ خود لکھتے اور خود ہی ان کو پیش کرتے، اور اپنی مدھر آواز کو ریڈیو کی لہروں کی نذر کرتے تو لوگ جھوم جھوم اٹھتے۔ اس زمانے میں ریڈیو ہی سب سے بڑا نشریاتی ذریعہ تھا۔ شہروں سے زیادہ 80 فی صد دیہی علاقوں میں لوگ بڑے شوق سے ریڈیو ہی سنتے تھے۔ خبروں کے علاوہ انٹرٹینمنٹ کے پروگراموں کا ذریعہ بھی یہی ریڈیو تھا۔ ”حامد میاں کے یہاں“ اور سلسلہ وار ڈرامائی پروگرام سننے کے لیے لوگ بے چینی سے منتظر رہتے تھے۔ کراچی ان کو پسند اور راس آگیا تھا، یہاں ان کے جسم کی عضلاتی سختی کا علاج ہورہا تھا۔ اگر وہ تبادلے کو قبول کرتے تو ان کی مسلسل ترقی کا عمل جاری رہتا، لیکن انہوں نے ترقی پر اپنے علاج اور راحت کو ترجیح دی۔ 1978ء میں ڈاکٹروں نے ان کے لیے آپریشن تجویز کیا اور ان کو سرکاری خرچ پر لندن بھیجا گیا، جہاں ان کے کولہے کی ہڈی کو تبدیل کیا گیا، جس سے ان کا جسم بہت حد تک سیدھا ہوگیا اور ان کے اٹھنے اور بیٹھنے میں تکلیف کم ہوگئی۔ کراچی میں ان کا رابطہ ریڈیو پاکستان کی ایک بڑی شخصیت اور اس کے معمار سلیم گیلانی سے ہوگیا تھا۔ انہوں نے اس باصلاحیت ہیرے کو پہچان لیا اور براہِ راست اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ ان کا تبادلہ ٹرانسکرپشن کے شعبے میں کردیا گیا۔ اس شعبے میں رہتے ہوئے انہیں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع ملا۔ ان کا سلیم گیلانی سے تعلق ان کے انتقال تک قائم رہا۔ یہ تعلق اس قدر گہرا تھا کہ 1986ء میں جب سلیم گیلانی کے ساتھ محکمہ جاتی ناانصافی کا خدشہ پیدا ہوا تو عظیم بھائی نے ہمارے توسط سے پیر پگارا سے اس کا ازالہ کرایا اور وہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بنادیئے گئے۔
عظیم بھائی سے ہمارے روابط بڑھے تو ان کے دفتر آنا جانا شروع ہوا۔ یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ دو تین بلیاں ان کی آمد کی منتظر رہتی تھیں۔ عظیم بھائی گھر سے اپنے لیے لنچ لاتے تو دفتر آکر چپڑاسی سے ان بلیوں کےلیے دودھ منگواتے اور وہیں دفتر کے ایک کونے میں رکھے ایک برتن میں ڈلوا دیتے، اور وہ بلیاں اس سے شکم سیر ہوجاتیں۔ یہ ان کا روز کا معمول تھا۔ یادیں بے شمار ہیں لیکن ہم چند ہی کو بیان کریں گے جن سے واضح ہوگا کہ ہم دونوں میں محبت کا رشتہ کتنا مضبوط اور گہرا تھا۔ 1972ء میں جب ہم ڈیسک سے رپورٹنگ میں آئے تو انہوں نے ہماری ملاقات مشہور شاعر اور براڈ کاسٹر احمد ہمدانی سے کرائی اور سفارش کی کہ وہ ہم سے کوئی کام لیں۔ چنانچہ احمد ہمدانی نے صبح سویرے ملک کے سارے اخبارات کی شہ سرخیوں پر مبنی پروگرام لکھنے کا پروگرام دیا، جس کو شمیم نامی ایک خاتون آرٹسٹ پیش کیا کرتی تھیں۔ یہ پروگرام کئی سال تک چلتا رہا۔ اس سے ہمیں کچھ اضافی آمدنی ہوجاتی تھی۔ اسی طرح سندھ اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ بھی ہماری ذمہ داری تھی اور ہم اس کے اجلاسوں کی کوریج کرنے لگے تو یہ عظیم بھائی ہی تھے جنہوں نے ہمارا نام اسمبلی کی اس روداد کو ریڈیو پر پیش کرنے والوں میں شامل کرایا جس کو سندھ اسمبلی ریزیومے کہا جاتا تھا اور اس کا معاوضہ ملتا تھا۔
صحافیوں کو بلاک 4۔اے گلشن اقبال میں رہائشی پلاٹ ملے، جن میں ہم بھی شامل تھے۔ ہم نے 1979ء میں اس پر مکان کی تعمیر کا ارادہ کیا تو عظیم بھائی سے مشورہ کیا۔انہوں نے بڑی حوصلہ افزائی کی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور عملی طورپر تعاون بھی کیا۔اب ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ سگے بھائیوں جیسا تعلق قائم ہوگیا تھا۔1980ء کے عشرے کی بات ہے کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشت گردی عروج پر تھی۔ ٹارگٹ کلرز جگہ جگہ مخالفین خاص طور پر جماعت اسلامی اور جمعیت کے کارکنوں کو چن چن کر نشانہ بنارہے تھے۔ لسانی نفرت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا، ہم نے صحافی سوسائٹی میں اپنے گھر پر کُل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں ایم کیو ایم کے سوا ساری سیاسی، مذہبی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں اور کراچی اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، مزدوروں کی منتخب سی بی اے یونینز اور دوسری پروفیشنل تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ یہ کراچی کا نمائندہ اجلاس تھا، جس میں پروفیسر غفور نے کراچی میں قیام امن کے لیے اعلامیہ کراچی جاری کیا کہ چھ ماہ کے لیے ساری سیاسی سرگرمیاں معطل کی جائیں اور ساری جماعتیں قیام امن کے لیے کام کریں۔ عظیم بھائی نے اس کانفرنس کے انتظامات میں بھرپور ساتھ دیا اور بڑی مقدار میں شامی کباب گھر سے بنوا کر لائے۔
یہ بھی اسی عشرے کا واقعہ ہے کہ اللہ کی مہربانی اور ہمارے توسط سے ایک بزرگ بابا عمرے پر روانہ ہوئے تو ہمارا بھی دل للچایا کہ عمرے پر جانا چاہیے، لیکن وسائل نہیں تھے۔ ایک دن عظیم بھائی کسی کام سے ہمارے گھر آئے اور جانے لگے تو ہم بھی ان کی کار میں دفتر کے لیے ان کے ساتھ ہولیے۔ ہم جب سہراب گوٹھ کے چوراہے پر پہنچے تو اچانک عظیم بھائی نے یوٹرن لیا اور کہا کہ ”ہم واپس آپ کے گھر جارہے ہیں“۔ ہم نے تجسس آمیز نگاہوں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں؟ تو ان کے جواب نے حیران کردیا: ”میری نظر سہراب گوٹھ کے چوک پر ایک بڑے اشتہاری بورڈ پر پڑی جس میں احرام پہنے ایک بزرگ کو ہاتھ میں تسبیح لیے دعا مانگتے دکھایا گیا ہے، جیسے وہ حج یا عمرے پر ہوں۔ (یہ کسی ٹریول ایجنسی کا اشتہار تھا)، اللہ نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ عمرے پر چلتے ہیں“۔ ہم نے کہا ”اچھا خیال ہے، اللہ آپ کو مبارک کرے“۔ اس پر بہت ناراض ہوئے اور کہا ”میں اکیلا نہیں، ہم دونوں جائیں گے، اور ہم گھر واپس اس لیے جارہے ہیں کہ آپ اپنا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لے لیں۔ ہم آج ہی کارروائی شروع کرتے ہیں“۔ ہم نے بہت منع کیا لیکن وہ نہ مانے۔ ہم نے اپنا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لیا اور شہر جاتے ہوئے انہوں نے بھی گلشن اقبال میں اپنے گھر سے اپنا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لیا۔ اسی دن ٹکٹ لیے گئے اور ایک دو روز میں عمرہ ویزہ بھی لگ گیا۔ بابا کی عمرے پر روانگی کے پورے ایک ہفتے بعد ہم دونوں بھی عمرے کے لیے محوِ پرواز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمرے کو ہمارے لیے وی آئی پی بنادیا تھا۔ ہم نے پی آئی اے میں عظیم بھائی کی وجہ سے جاتے اور آتے فرسٹ کلاس میں سفر کیا۔ مکہ مکرمہ میں ہمارے اراکانی دوست امان اللہ قربان نے اپنے گھر میں ہمارے قیام کا انتظام کیا اور ڈرائیور کے ساتھ گاڑی فراہم کی، جو ہمیں حرم مکی میں نمازوں کے اوقات میں لے جاتی اور واپس لے آتی۔ اسی طرح ہم ان کی گاڑی ہی میں مدینہ گئے اور وہاں بھی امان بھائی نے ہمارے قیام کا اہتمام کیا۔ اس قیام کے دوران انہوں نے مکہ اور مدینہ میں ہمارے دوست امان اللہ کے رشتے داروں اور دوستوں کے ساتھ خوب محفلیں جمائیں اور ان کو اپنی پند و نصائح پر مبنی گفتگو اور حسبِ حال لطائف سے محظوظ کیا۔
ہمارے جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم نے کراچی میں کوئی 22 برس اسکوٹر پر سواری کی۔ اس دوران کئی بار حادثات سے دوچار ہونا پڑا۔ ایک بار شدید حادثہ ہوا کہ اسکوٹر چلانا چھوڑنا پڑا۔ آنے جانے میں سخت دشواری ہوگئی۔ عظیم بھائی کو معلوم ہوا تو انہوں نے معمول بنا لیا کہ رات کو اپنا پروگرام پیش کرنے کے بعد رات 11بجے ہمیں دفتر سے لیتے اور گھر چھوڑ کر اپنے گھر آتے۔ یہ سلسلہ مہینوں تک جاری رہا۔
جولائی 2010ء کے اواخر یا اگست کے شروع کی بات ہے، رمضان المبارک شروع ہونے میں ہفتہ دس دن ہی باقی تھے کہ جیو کے سی ای او میر ابراہیم کی ای میل ملی کہ جیو میں مذہبی پروگرام کے پیش کار معروف اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو فارغ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے ہمیں دفتر میں بلایا اور اطلاع دی کہ اس ہنگامی صورت حال میں مذہبی پروگرام اب آپ کی اضافی ذمہ داری ہے اور آپ اس کے لیے جو ضروری عملہ رکھنا چاہیں، رکھ لیں۔ ہم نے بہت منع کیا کہ ہم عالم ہیں اور نہ اینکر پرسن، اس لیے یہ ذمہ داری ادا نہ کرسکیں گے۔ لیکن وہ نہ مانے، اور بادل ناخواستہ اسے قبول کرنا پڑا۔
ہم نے بڑے غور و فکر کے بعد فوری طور پر جن تین چار افراد کی سفارش کی، ان میں عظیم سرور بھائی، ڈاکٹر عامر طاسین، ڈاکٹر علی عمران اور فرحان محمد خان شامل تھے۔ کرنٹ افیئر کے ڈائریکٹر عدنان اعوان، پی ٹی وی کے سابق جنرل منیجر امیر امام اور پروڈکشن کے ذیشان کا بھی تعاون حاصل رہا۔ پہلے سال لاہور کے اداکار اور میزبان نورالحسن نے، اور 2011ء میں بلال قطب نے مذہبی پروگراموں کو جیو کی اسکرین پر پیش کیا۔ عظیم بھائی کو نئی ٹیم کا سربراہ بنایا گیا۔ ان کے تعاون سے اتنی مختصر مدت میں رمضان کے کامیاب پروگرام ہوئے کہ ہمیں اور پوری ٹیم کو تعریفی اسناد جاری کی گئیں۔ اس کامیابی کا سہرا عظیم بھائی کے سر تھا۔عظیم بھائی کے ساتھ گزرا دو سال کا یہ عرصہ زندگی کا یادگار زمانہ ہے ،اُن کا معمول تھا کہ جمعہ کی نمازجامع مسجد خضرامیں پڑھتے تھے اور واپسی میں سب کے لیے وہاں کی مشہور کچوریاںلے کرآتے تھے۔
ہم اکتوبر 2012ء میں امریکا آگئے تو انہوں نے ہمیں اور سارہ بیٹی کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا اور پڑھنے کے لیے کچھ وظائف بھی بتائے۔ امریکا آنے کے بعد ہمیں تین بار 2013ء،2015ء اور 2016ء میں پاکستان جانے کا موقع ملا تو ان سے بار بار ملاقات ہوئی۔ دو بار انہوں نے ہمارے اعزاز میں کے ڈی اے آفیسرز کلب اور بندو خان میں شاندار عشایئہ دیا جس میں ان سے فیض پانے والے اسپورٹس کی دنیا کے سب صحافیوں نے شرکت کی۔ دوری کے باوجود ان سے رابطہ رہتا تھا۔ ان سے آخری بار کوئی دو ہفتے قبل بات ہوئی تھی۔ ہم ان کو امریکا میں بزرگ جوانوں کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کے لیے عرصے سے دعوت دے رہے تھے، لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔ ہم نے انہیں آئی فون رکھنے پر آمادہ بھی کرلیا تھا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، اور وہ ہم سب کو سوگوار چھوڑ کر راہی عدم ہوگئے۔
عظیم سرور 2 اگست 1942ء کو سیالکوٹ میں کینٹ کے علاقے میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فوج کے کنٹریٹر تھے۔ انہوں نے پرائمری اور میٹرک تک تعلیم وہاں کے اسلامیہ ہائی اسکول سے حاصل کی۔ جب میٹرک کیا تو ان کی عمر 15 سال تھی۔ اسی سال ان کے والد، خاندان کے ساتھ کوئٹہ کی فوجی چھاؤنی منتقل ہوگئے اور نوجوان عظیم سرور نے کالج میں داخلہ لے لیا۔ کوئٹہ میں ان کا آبائی گھر اب بھی موجود ہے اور اب وہ سیالکوٹ ڈیفنس سوسائٹی کی حدود میں شامل ہوگیا ہے، اس میں ان کے چچازاد رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عظیم سرور میں لکھنے لکھانے کی صلاحیت بچپن ہی سے ودیعت کررکھی تھی۔ وہ اور ان کے ایک چچا زاد بھائی محمد اسلام اسکول کے زمانے ہی میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھتے تھے اور خود ان کی نقلیں تیار کرتے اور بچوں میں پیسہ دو پیسہ میں فروخت کرتے۔ اس سے ان کو اپنا جیب خرچ پورا کرنے میں بڑی مدد ملتی۔ وہ اسکول میں کھلنڈرے مشہور تھے اور سارے کھیلوں میں دلچسپی لیتے، لیکن ہاکی کا کھیل ان کا پسندیدہ ترین کھیل تھا۔ وہ اسکول اور کوئٹہ میں کالج کی ٹیم کے اچھے کھلاڑی بن گئے۔ اس وقت چاق چوبند نوجوان تھے اور کسی قسم کی جسمانی معذوری سے دوچار نہیں تھے۔ کالج کے پہلے سال میں تھے کہ ان کو ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں اناؤنسرز کی خالی آسامیوں کی اطلاع ملی۔ انہوں نے بھی آڈیشن کے لیے درخواست بھیج دی۔ اس میں کامیاب ہوئے اور 1958ء میں ان کے براڈکاسٹنگ کے کیریئر کا آغاز ہوگیا جو سرکاری طور پر 44 سال اور غیر سرکاری طور پرانتقال سے چند ہفتے قبل 63 برس تک جاری رہا۔ اسی سال ان کے والد کا انتقال ہوگیا اور اپنے تین بھائیوں نعیم سرور، محمد یونس اور محمد یوسف، اور تین بہنوں کی تعلیم اور اخراجات کی ذمہ داری بھی ان پر آگئی، جس کو انہوں بحسن و خوبی نبھایا۔ ان کے دو بھائیوں نعیم اور یونس کا انتقال ہوچکا ہے، اس وقت ایک بھائی محمد یوسف اور دو بہنیں حیات ہیں۔ ان کی شادی ریڈیو ہی میں ان کے ساتھ کام کرنے والی نادرہ یوسف نامی خاتون سے 1991ء میں ہوئی۔ تاہم وہ بھی شادی کے کوئی 15 سال بعد شکاگو میں انتقال کرگئیں جہاں وہ اپنے بھائیوں کے پاس آئی ہوئی تھیں۔ ان کی کوئی اولاد نہیں۔ ان کے بہن بھائیوں کے بچے ہی ان کی اولاد تھے اور زندگی بھر ان ہی کے لیے کام کرتے رہے۔
ابھی عظیم بھائی کوئٹہ ہی میں تھے اور ان کو ریڈیو کی ملازمت کرتے چند سال گزرے تھے کہ اچانک ان کے جسم کے جوڑوں میں تکلیف شروع ہوئی جس کی وجہ سے ان کے جسم کے عضلات میں سختی آتی گئی۔ اس کا علاج شروع کیا گیا، لیکن مرض بڑھتا ہی گیا۔ اسی حالت میں پڑھائی اور ملازمت جاری رکھی اور 1963ء میں کراچی تبادلہ ہوگیا۔ کراچی بڑا شہر تھا، یہاں علاج معالجے کی سہولتیں زیادہ تھیں۔ انہوں نے کراچی ہی کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا اور جہانگیر روڈ کے ایک چھوٹے سے سرکاری کوارٹر میں رہائش اختیار کرلی۔ اس دوران ان کا علاج جاری رہا اور 1978ءمیں لندن میں ان کا بڑا آپریشن ہوا، جس کے دوران ان کی کولہے کی ہڈی کو تبدیل کیا گیا۔اس کے بعد پوری زندگی کچھ دواؤں کے ساتھ گزری۔
انہوں نے جسمانی معذوری کے باوجود اپنے شعبے میں ترقی کا سفر جاری رکھا۔تاہم اس امر نے ان کو دُکھی انسانیت کی خدمت کرنے پر ابھارا۔انہوں نے ریکی اور ذہنی علوم کی لندن سے باقاعدہ تربیت لی اور اس کے ذریعے علاج شروع کردیا۔دادا بھائی سینٹر میں اپنے اسٹوڈیو میں یہ سلسلہ شروع کیا اور ملازمت سے سبک دوشی کے بعد اس میں اضافہ کردیا۔ بہت جلد اس کی شہرت ہوگئی اور مریض ان کے پاس آنے لگے۔ جن قابلِ ذکر افراد نے ان سے علاج کرایا اور شفا پائی اُن میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی، موجودہ وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، ڈاکٹر فاروق ستار، وسیم اختر، مصطفےٰ کمال، خواجہ شمس الاسلام ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ ہمارے بیٹے اعجاز عارف کی ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہوئی۔ وہ امریکا میں تھا اور ڈاکٹروں نے آپریشن کی تجویز دی تھی۔ عظیم بھائی سے مشورہ کیا۔ انہوں نے آپریشن سے منع کیا اور کہا کہ اس طرح وہ معذور ہوجائے گا۔ ان کے تجویز کردہ علاج پر عمل کیا گیا تو اعجاز ٹھیک ہوگیا۔ عائشہ باوانی کے اسمٰعیل باوانی ان کے علاج سے ٹھیک ہوئے اور اتنے متاثر ہوئے کہ جب عظیم بھائی کو کلینک کے لیے جگہ کی ضرورت پڑی تو انہوں نے نہ صرف عائشہ باوانی کالج میں کشادہ جگہ فراہم کی، بلکہ دو افراد کو ان کی خدمت کے لیے بھی فراہم کردیا۔آپ اپنے نام کی طرح عظیم اور سرور تھے ،آپ کی رحلت صدمہ عظیم ہے ،اللہ تعالی مغرفت فرمائے۔

تصاویر کیپشن
…..
2015میں عشایئہ کے موقع پر لیا گیا گروپ فوٹو
بیٹھے ہوئے (دائیں سے ) عارف افضال عثمانی،عارف الحق عارف،عظیم سرور اور ماجد بھٹی۔ پیچھے کھڑے ( دائیں سے )سردار خان،احسان قریشی،محمد عثمان ،سید خالد محمود، شاہد ہاشمی اور منیر الحق
……………..
تصویر 2
….
راجہ ظفر الحق سے بہترین پروڈیوسر کا ایوارڈ لیتے ہوئے۔
……………………………..
عظیم صاحب کے مین تصویر کے علاوہ یہ دو تصاویر کیپشن کےساتھلگادیں.

حصہ