قیصر و کسریٰ قسط(15)

120

کعب نے کہا ’’یہ درست ہے کہ عرب ضدی اور جاہل ہیں اور اپنی جہالت و گمراہی پر فخر بھی کرتے ہیں۔ لیکن تم نے شاید یہ نہیں سنا کہ مکہ میں ایک شخص، جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، اس جہالت اور بے راہ روی کے خلاف آواز بلند کرچکا ہے۔ انہیں اصنام پرستی، بے حیائی، جھوٹ، لوٹ مار اور قتل و غارت سے منع کرتا ہے۔ انہیں سمجھاتا ہے کہ تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو۔ اور میں نے سنا ہے کہ قریش جو عرب کے تمام قبائل سے زیادہ مغرور اور خود پسند ہیں، بتدریج اُس کی طرف مائل ہورہے ہیں۔
اہل عرب جہالت اور گمراہی کی دلدل میں اِس لیے پھنسے ہوئے ہیں کہ کسی نے انہیں سلامتی کا راستہ نہیں دکھایا۔ اُن کی نسلی اور قبائلی منافرتیں اس لیے زندہ ہیں کہ کسی نے انہیں اتحاد کی برکتوں سے آشنا نہیں کیا۔ وہ اپنے معاشرے کی ہر برائی پر اس لیے نازاں ہیں کہ اُن کے ہاں نیکی یا اچھائی کا تصور موجود نہیں، لیکن اگر کسی نے اُن کی ذہنی کایا پلٹ دی تو وہ ایک ایسی قوت کے مالک بن جائیں گے جس کی مثال ماضی کی تاریخ پیش نہیں کرسکتی۔ یہ ایک ایسا سیل رواں ہوگا جو اپنے راستے کی ہر دیوار کو تنکوں کی طرح بہا لے جائے گا‘‘۔
یہودیوں کے ایک بااثر قبیلے قینقاع کے ایک سردار نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’’اگر آپ کا اشارہ محمدؐ کی طرف ہے تو آپ اطمینان رکھیے! وہ ہمارے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں کرسکتا۔ آپ اُس کے متعلق سنی سنائی باتوں سے پریشان ہوگئے ہیں۔ خدا کی قسم! مکہ جا کر میں اُسے دیکھ آیا ہوں۔ وہاں لوگ اُس کا مذاق اڑاتے ہیں، اُس کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں۔ قریش کے چند آدمیوں کے سوا مکہ کے انتہائی بے بس مفلس اور نادار لوگ اُس کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ اور اُن کی حالت یہ ہے کہ انہیں آئے دن زدوکوب کیا جاتا ہے۔ انہیں جھلستی ہوئی ریت پر لٹایا جاتا ہے اور اُن کے سینوں پر پتھر رکھ دیے جاتے ہیں‘‘۔
’’ہاں! وہ اِس کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ مکہ میں قریش کا مقابلہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ نبی یا تو قریش کے ہاتھوں قتل ہوجائے گا یا پھر اُسے مکہ سے نکلنا پڑے گا۔ اِس لیے آپ کو اُس کے متعلق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اِس وقت یہاں کے مسائل پر غور کرنا چاہیے اور اِس جگہ کا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ اوس و خزرج جلد از جلد ایک دوسرے کے خلاف بھڑک اُٹھیں تا کہ عاصم یا عدی جیسے لوگ اُن کی توجہ ہماری طرف مبذول نہ کرسکیں‘‘۔
کعب نے کہا ’’مکہ کے نبی کا ذکر کرنے سے میرا مقصد تمہیں مرعوب کرنا نہ تھا۔ میں صرف تمہارے ذہن میں یہ بات بٹھانی چاہتا تھا کہ تمہیں یہ فرض نہیں کرلینا چاہیے کہ اوس و خزرج ہمیشہ ایک دوسرے سے برسرپیکار رہیں گے۔ اُن کے درمیان کسی وقت بھی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ وہ دو بھائیوں کی اولاد ہیں اور ان کا خون ایک ہے اس لیے ہمیں اس بات پر خاص توجہ دینی چاہیے کہ عاصم اور عدی جیسے لوگ اُن پر اثر نہ ڈال سکیں‘‘۔
ایک یہودی بولا ’’جناب! آج یہ حالت ہے کہ اوس کر ہر آدمی عاصم کو ملامت کررہا ہے اور خزرج کا ہر آدمی عدی اور اُس کے بیٹے کو بزدلی سے بے غیرتی کا طعنہ دے رہا ہے۔ آپ کو اِس بات کی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ یہ لوگ کسی کو متاثر کرسکتے ہیں‘‘۔
شمعون جوا ںتک خاموش بیٹھا تھا بولا ’’جناب! میں آپ کو ایک اچھی خبر سناتا ہوں۔ عاصم کا چچا میرا مقروض تھا اور وہ بھی میرا قرضہ چکانے آیا تھا‘‘۔
کعب نے برہم ہو کر کہا ’’ہم سب تمہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں لیکن اس خبر میں ہمارے لیے خوشی کی کون سی بات ہے؟‘‘
حاضرین ہنس پڑے اور شمعون نے اپنی پریشانی پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’جناب! میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ میں نے اُس سے قرضہ وصول نہیں کیا‘‘۔
کعب نے پوچھا ’’میں اس فیاضی کی وجہ دریافت کرسکتا ہوں؟‘‘
’’جناب! میں اُسے خوش کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اُس سے کہا تھا کہ عاصم کے طرزِ عمل سے مایوس ہونے کے بعد تمہیں دوسروں کی اعانت کی ضرورت ہے۔ میں تمہارے خاندان کے مقتولین کا انتقام نہیں لے سکتا لیکن اتنا ضرور کرسکتا ہوں کہ مناسب وقت آنے تک اس رقم کا تقاضا نہ کروں۔ اس لیے ابھی یہ رقم اپنے پاس رکھو، میں اس پر ایک سال تک تم سے کوئی سود نہیں لوں گا‘‘۔
’’اور وہ تمہاری اس فیاضی پر خوش ہوگیا تھا؟‘‘
’’جی ہاں! وہ کہتا تھا کہ میں اِس رقم سے اپنے قبیلے کے چند اور آدمیوں کو مسلح کرسکوں گا۔ اُس نے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے آج کے واقعات کو کوئی اہمیت نہیں دی وہ یہ سمجھتا ہے کہ عدی کے بیٹے نے عاصم پر جادو کردیا ہے‘‘۔
کعب نے کہا ’’اب میں تمہیں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ اگر تمہارے پاس خزرج کا کوئی آدمی آئے تو اُس کے ساتھ بھی تمہارا یہی سلوک ہونا چاہیے۔ میں تم سب کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں، تم اوس اور خزرج دونوں کو اپنی حمایت کا یقین دلاتے رہو۔ اگر تمہارا روپیہ انہیں لڑائی پر آمادہ کرسکتا ہے تو اُس کا اِس سے بہتر مصرف اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ اوس اور خزرج کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کے لیے اُن کے شعراء سے بہت کام لیا جاسکتا ہے۔ تم درپردہ اُن کی سرپرستی کرتے رہو۔ عدی، عمیر اور عاصم کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے یہ لوگ بہت خطرناک معلوم ہوتے ہیں، ممکن ہے ہمیں آگے چل کر اُن کا تدارک کرنا پڑے۔ لیکن فی الحال ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کرتے کیا ہیں‘‘۔
O
ان واقعات کو تین مہینے گزر چکے تھے اور یثرب کے یہودی اِس بات پر پریشان تھے کہ اِس عرصے میں اوس و خزرج کے درمیان کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔ وہ اپنے اپنے باغوں اور چراگاہوں میں، تیغ زنی، تیر اندازی اور نیزہ بازی کی مشق کیا کرتے تھے۔ اور گھروں سے باہر ہمیشہ مسلح ہو کر نکلتے تھے، اس بات کا احتمال ہر وقت رہتا تھا کہ مبادل کسی پگڈنڈی، کسی گلی یا بازار میں دو افراد یا دو گروہ ایک دوسرے کا راستہ روک کر کھڑے ہوجائیں۔ پھر کسی کی زبان حرکت میں آئے، دوسرا جواب دے اور اچانک اُن کے سینوں میں غصے اور انتقام کی دبی ہوئی چنگاریاں بھڑک اُٹھیں۔ لیکن وہ ایک دوسرے سے کترا کر نکل جاتے۔ اُن کی تلواروں کو نیاموں سے باہر آنے کے لیے صرف کسی بہانے کی ضرورت تھی۔ وہ غضب ناک نگاہوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور بسا اوقات اُن کے ہاتھ تلواروں کے قبضوں تک پہنچ جاتے تاہم کسی کو پہل کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔
عاصم کے لیے امن کے یہ دن انتہائی صبر آزما تھے۔ وہ گھر کے اندر اپنے عزیزوں اور گھر سے باہر اپنے دوستوں کے لیے ایک اجنبی بن چکا تھا۔ وہ چراگاہوں میں اپنے مویشی لے کر جاتا تو قبیلے کے بوڑھوں اور جوانوں کی نگاہیں اُسے ہر وقت اس بات کا احساس دلاتیں کہ وہ کسی انتہائی گھنائونے فعل کا مرتکب ہوا ہے۔ اُسے مردانہ کھیل اب بھی پسند تھے اور وہ اپنے قبیلے کے نوجوانوں کے ساتھ تیغ زنی اور تیر اندازی کے مقابلوں میں حصہ لیا کرتا تھا، لیکن جب کوئی اوس اور خزرج کی گزشتہ لڑائیوں کا ذکر چھیڑ کر اُسے برانگیختہ کرنے کی کوشش کرتا تو وہ اضطراب کی حالت میں منہ پھیر لیتا۔
اُس کا چچا دور جاہلیت کے عربوں کی ہر بُری خصلت کا نمائندہ تھا۔ خاندانی غرور اُسے اپنے قبیلے کے لوگوں کے سامنے یہ تسلیم کرنے کی اجازت نہ دیتا تھا کہ اُس کا بھتیجا غیرت و حمیت سے محروم ہوچکا ہے۔ وہ عاصم کے ناقابل فہم ردعمل کی صرف ایک ہی توجیہ کرتا تھا، اور وہ یہ تھی کہ عدم یا اُس کے بیٹے نے عاصم پر جادو کردیا ہے۔ وہ اپنے ہر عزیز اور جان پہچان کے آدمی کو سمجھانے کی کوشش کرتا کہ میرے بھائی کا بیٹا ایسا نہیں تھا۔ وہ ایک شیر تھا اور خزرج کے کسی آدمی کو اُس کی ہمسری کا دعویٰ نہ تھا۔ وہ اس کا راستہ چھوڑکر بھاگ جاتے تھے۔ وہ اپنے باپ، بھائیوں اور عزیزوں کا خون کیسے بھول سکتا ہے! وہ قبیلے کے نوجوانوں کو مسلح کرنے کے لیے شام سے تلواریں لایا تھا کہ ہم اپنے بھائیوں اور عزیزوں کا انتقام لے سکیں۔ منات کی قسم! اب اس پر جادو کا اثر ہے‘‘۔
اور اس جادو کا اثر زائل کرنے کے لیے وہ کئی جتن کرچکا تھا۔ وہ قدید جاکر منات کے بت کے سامنے دعائیں مانگ چکا تھا۔ اُس نے یثرب کے لوگوں سے تعویذ اور گنڈے حاصل کیے تھے۔ یثرب کے یہودی جو آسیب کا اثر زائل کرنے میں مشہور تھے باری باری اُس کے گھر آچکے تھے۔ زبردستی اس کے ہاتھ پائوں باندھ کر اُسے مختلف بوٹیوں کی دھونی دی گئی تھی۔ اُس کے سامنے عجیب و غریب منتر پڑھے گئے تھے، اور کئی متبرک مقامات کی مٹی اُس کے جسم پر مَلی گئی تھی۔ عاصم احتجاج کرتا تھا۔ وہ چلّا چلّا کر کہتا تھا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ مجھ پر کسی جادو کا اثر نہیں۔ لیکن کوئی اُس کی چیخ پکار پر کان دھرنے کو تیار نہ ہوتا۔
جب ہبیرہ چاروں طرف سے مایوس ہوچکا تو شمعون نے ایک ایسے یہودی کا پتا دیا جو ہر آسیب کا علاج جانتا تھا۔ ہبیرہ منت اور خوشامد کے بعد اس یہودی کو اپنے گھر لے گیا اور اُس نے مسلسل تین پہر، کئی منتر پڑھنے کے بعد ہبیرہ کو علیحدہ لے جاکر کہا ’’تمہارے بھتیجے پر ایک خطرناک جادو چل گیا ہے۔ اب اس کا صرف ایک علاج ہے، لیکن میں تمہیں بتا نہیں سکتا‘‘۔
’’کیوں؟‘‘ ہبیرہ نے پریشان ہو کر پوچھا۔
’’اس لیے کہ میں ایک یہودی ہوں، اگر تم نے کسی کو بتادیا تو میں مصیبت میں پھنس جائوں گا‘‘۔ جب ہبیرہ نے باری باری عرب کے تمام بتوں کا نام لے کر یہ قسم کھائی کہ میں کسی سے آپ کا ذکر نہیں کروں گا تو یہودی نے کہا ’’اگر عاصم اپنے ہاتھ سے جادو کرنے والے کو قتل کردے اور اس کے بعد خون آلود تلوار میرے پاس لے آئے تو میں فوراً اس جادو کا اثر زائل کردوں گا‘‘۔
’’لیکن جادو کس نے کیا ہے؟‘‘
’’یہ معلوم کرنا آپ کا کام ہے۔ میں صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ ایسا جادو کسی خطرناک دشمن کو زیر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے‘‘۔
’’میں اُس دشمن کو جانتا ہوں‘‘۔
اس کے بعد ہبیرہ کے سامنے زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ عاصم کو عدی اور اُس کے بیٹے کے قتل پر آمادہ کرنا تھا، اور اس مقصد کے لیے وہ باری باری اپنے قبیلے کے اُن شعرا کو گھر لایا کرتا تھا جن کا آتشیں کلام عاصم کے دل میں غصے اور انتقام کی آگ بھڑکا سکتا تھا۔ یہ شعراء اُس کے باپ اور بھائیوں کے دردناک قتل کے واقعات بیان کرتے تھے۔ اُن کی قبروں کی تاریکی کا ہولناک منظر کھینچتے تھے۔ اُن کی پیاسی روحوں کی فریاد سناتے تھے جو دشمن کے خون کے لیے پکار رہی تھیں۔ آخر میں وہ عدی اور عمیر کی خوشیوں کا ذکر کرتے جنہوں نے جادو کے اثر سے قبیلہ اوس کے ایک قابلِ فخر نوجوان کو مردانہ خصائل سے محروم کردیا تھا۔
ہبیرہ کی انتھک کوششوں کو دیکھ کر کبھی کبھی عاصم کو یہ شبہ ہونے لگتا کہ شاید یہ باتیں صحیح ہوں۔ لیکن پھر وہ اپنے دل سے یہ سوال کرتا کہ اگر عدی یا عمیر نے مجھ پر جادو کردیا ہے تو اُن پر کس نے جادو کیا ہے؟ اگر میں نے عمیر کو اپنا دشمن جانتے ہوئے اُس کی جان بچائی تو کیا انہوں نے بھری محفل میں میری حمایت نہیں کی؟ اگر میرے عزیز واقارب مجھے یہ طعنہ دیتے ہیں کہ میں اپنے باپ اور بھائیوں کا خون بھول چکا ہوں تو کیا عدی کو اُس کے عزیز وا قارب یہ طعنہ نہیں دیتے ہوں گے کہ وہ اپنے تین بیٹوں اور دو بھائیوں کا خون بھول چکا ہے۔ پھر وہ سمیرا کے متعلق سوچتا، اور اُسے اپنے تیرہ و تار ماحول میں نئی امیدوں اور آرزوئوں کے چراغ جھلملاتے دکھائی دینے لگتے۔
سمیرا سے پہلی ملاقات کے بعد وہ پورے ایک مہینے ناقابلِ برداشت ذہنی کشمکش میں مبتلا رہا۔ میں وہاں نہیں جائوں گا، مجھے اُس سے دوبارہ ملاقات کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، زندگی میں ہمارے راستے اور منزلیں مختلف ہیں۔ عدی کو ایک اتفاقی حادثے نے متاثر کیا ہے لیکن وہ اپنی بیٹی کے متعلق کوئی طعنہ برداشت نہیں کرے گا۔ اور سمیرا کو بھی یہ معلوم ہے کہ میں اُسے مایوسی کے آنسوئوں کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ لوگ ہمارا مذاق اڑائیں گے اور سرزمینِ عرب کا کوئی گوشہ ہمیں پناہ نہیں دے سکے گا۔ میں اُسے دوبارہ نہیں دیکھوں گا۔ پھر جب نیا مہینہ قریب آرہا تھا تو اُسے اپنے خیالات و عزائم میں ایک لچک سی محسوس ہونے لگی۔ وہ سوچتا: جب جنوب کے اُفق سے وہ تابناک ستارہ نمودار ہوگا تو وہ میری راہ دیکھ رہی ہوگی۔ اگر میں وہاں نہ گیا تو وہ کیا خیال کرے گی؟ نہیں! مجھے ایک بار اُس سے ضرور ملنا چاہیے۔ صرف یہ بتانے کے لیے کہ یہ نری دیوانگی ہے۔ ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر ممکن نہیں۔ میری تنگ و تاریک دنیا میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تم میرے قبیلے کے ہر فرد کو اپنا دشمن پائو گی، اور تمہارے قبیلے کا ہر فرد تمہارے باپ اور بھائیوں کو طعنے دے گا۔ سمیرا تمہاری عافیت اِسی میں ہے کہ تم مجھے بھول جائو۔
پھر جب رات کے وقت وہ ٹیلے کے دامن میں کھڑے ایک دوسرے کی دھڑکنیں سن رہے تھے تو اُن میں سے کسی کو بھی اس بات کا احساس نہ تھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ وہ ماضی کی تلخیاں اور مستقبل کے خدشات بھول چکے تھے۔ وہ جس حال میں سانس لے رہے تھے اُس کا ایک ایک لمحہ انہیں ماضی کے برس ہا برس پر حاوی معلوم ہوتا تھا۔
’’سمیرا!‘‘ وہ کہہ رہا تھا ’’میں تمہیں یہ بتانے آیا تھا کہ میں دوبارہ یہاں نہیں آئوں گا‘‘۔ (جاری ہے)
سمیرا ہنس پڑی، اور تاریک رات کا دامن اچانک مسرت کے اَن گنت ستاروں سے جگمگانے لگا۔ عاصم کو اپنے الفاظ کھوکھلے، بے معنی اور مضحکہ خیز محسوس ہونے لگے۔ وہ ایک دوسرے کے قریب بیٹھ گئے اور عاصم نے قدرے سنجیدہ ہوکر کہا ’’سمیرا تمہیں میری بات کا یقین نہیں آیا؟‘‘
’’کس بات کا؟‘‘
’’یہی کہ میں پھر یہاں نہیں آئوں گا‘‘۔
وہ بولی ’’نہیں، اگر آپ یہ بات ہزار بار دہرائیں تو بھی میں یقین نہیں کروں گی‘‘۔
’’کیوں…؟‘‘
’’مجھے معلوم نہیں! میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ آپ کسی کا دل نہیں دُکھا سکتے‘‘۔
’’لیکن اِس کا انجام کیا ہوگا؟‘‘
’’مجھے معلوم نہیں‘‘۔
’’تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اوس و خزرج ایک دوسرے کے دشمن ہیں، اور ان کی دشمنی ہمارے درمیان آگ کے ایک پہاڑ کی طرح حائل رہے گی‘‘۔
’’اس وقت مجھے آگ کا پہاڑ دکھائی نہیں دیتا‘‘۔ سمیرا نے دوبارہ ہنسنے کی کوشش کی لیکن ایک مغموم قہقہہ اُس کے حلق میں اٹک کر رہ گیا۔
کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔ بالآخر عاصم نے پوچھا ’’تم کیا سوچ رہی ہو سمیرا؟‘‘
اُس نے جواب دیا ’’میں یہ سوچ رہی ہوں کہ ہم نے دن کی روشنی میں ایک دوسرے کو نہیں دیکھا‘‘۔
’’تم جانتی ہو کہ دن کی روشنی میں ہم ایک دوسرے کو شاید کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔ اور یہ بھی محض اتفاق تھا کہ ہم نے پچھلی دفعہ چراغ کی روشنی میں ایک دوسرے کو دیکھ لیا تھا۔ ہماری رفاقت، تاریک رات کے مسافروں کی رفاقت ہے۔ اور تاریک رات میں بھٹکنے والے مسافر کبھی کبھی ایک دوسرے سے بچھڑ بھی جایا کرتے ہیں‘‘۔
سمیرا نے گفتگو کا رُخ بدلتے ہوئے کہا ’’کاش! ہم دو ستارے ہوتے اور ساری رات ایک دوسرے کو تکتے رہتے‘‘۔
’’تمہیں ستارے بہت پسند ہیں؟‘‘
’’ہاں!‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’میں ہمیشہ ستاروں کی طرف دیکھا کرتی ہوں۔ آپ کو معلوم ہے شام کے وقت مغرب سے ایک نہایت چمکدار ستارہ طلوع ہوتا ہے؟‘‘
’’ہاں! اُسے زہرہ کہتے ہیں‘‘۔
’’میں اُسے اپنا ستارہ سمجھتی ہوں‘‘۔
’’اور میں نے زہرہ کے بجائے اُس کا نام سمیرا رکھ دیا ہے۔‘‘
’’اور یہ ستارہ…‘‘ اس نے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’کچھ دنوں سے مجھے بھی بہت پسند ہے اور میں نے اس کا بھی ایک نام رکھ دیا ہے۔‘‘
’’کیا نام ہے وہ؟‘‘
’’عاصم‘‘۔ سمیرا نے جواب دیا۔
وہ دیر تک باتیں کرتے رہے۔ بالآخر عاصم نے کہا ’’اب مجھے جانا چاہیے‘‘۔ (جاری ہے)
وہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ سمیرا نے کہا ’’عاصم یہ مہینہ بہت طویل تھا، اور اگلا مہینہ میرے لیے اس سے بھی زیادہ طویل ہوگا۔ تم آئو گے نا؟ لیکن تمہیں جواب دینے کی ضرورت نہیں، مجھے یقین ہے کہ تم آئو گے۔‘‘
’’میں ضرور آئوں گا‘‘۔
اور دوسرے مہینے عاصم نسبتاً زیادہ یقین اور خود اعتمادی کے ساتھ یہ ارادہ لے کر آیا تھا کہ سمیرا سے اُس کی یہ ملاقات آخری ہوگی، لیکن جب وہ ٹیلے کے دامن میں پہنچا تو سمیرا وہاں موجود نہ تھی۔ وہ دیر تک انتظار کرتا رہا۔ بالآخر مایوس ہوکر وہاں سے چل دیا۔ ایک صبر آزما انتظار کی کوفت کے باوجود وہ اپنے دل میں یہ اطمینان محسوس کررہا تھا کہ وہ ایک تلخ فریضہ ادا کرنے سے بچ گیا ہے۔ اگر سمیرا خود ہی یہ سمجھ گئی ہے کہ میں اُسے آلام و مصائب کے سوا کچھ نہیں دے سکتا تو اُس نے برا نہیں کیا۔ لیکن ٹیلے سے نیچے اُترتے وقت جب اُسے یہ خیال آیا کہ شاید وہ بیمار ہو یا کسی اور وجہ سے نہ آسکی ہو تو وہ اپنے دل میں ایک اضطراب سا محسوس کرنے لگا۔ کچھ دیر تذبذب اور پریشانی کی حالت میں کھڑے رہنے کے بعد وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا چل دیا۔ لیکن تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اُسے کسی کی آواز سنائی دی ’’ٹھیریے!‘‘
وہ رُک گیا۔ سمیرا بھاگتی ہوئی آگے بڑھی اور ہانپتے ہوئے بولی ’’میرا خیال تھا کہ آپ جاچکے ہوں گے۔ آج نعمان کو بخار ہے اور ابا جان اُس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ابھی سوئے ہیں، مجھے افسوس ہے کہ آپ کو اتنی دیر انتظار کرنا پڑا، لیکن میرے لیے گھر سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ اب بھی مجھے ڈر ہے کہ نعمان کہیں ابا جان کو جگا نہ دے۔ وہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد بے چین ہوکر اُٹھ بیٹھتا ہے۔ اِس لیے میں جاتی ہوں لیکن اب میں ایک مہینے آپ کا انتظار نہیں کروں گی۔ نعمان کی علالت کی وجہ سے میں شاید دو تین دن گھر سے نہ نکل سکوں، اِس لیے آپ کو اگلے ہفتے آنا چاہیے۔ آپ آئیں گے نا؟‘‘
عاصم نے کہا ’’سمیرا میں تم سے یہ کہنا چاہتا تھا کہ…‘‘
سمیرا نے جلدی سے بات کاٹتے ہوئے کہا ’’جب آپ دوبارہ آئیں گے تو ہم جی بھر کر باتیں کرسکیں گے۔ اگلے ہفتے آج ہی کے دن آدھی رات کے وقت میں آپ کا انتظار کروں گی۔ اگر آپ اگلے ہفتے نہ آسکیں تو اس چاند کی چودھویں رات کو ضرور آئیں۔ بتائیے آپ کب آسکتے ہیں؟ آپ خاموش کیوں ہیں؟‘‘
عاصم نے کہا ’’بہت اچھا سمیرا، میں چودھویں رات کو یہاں آنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن اگر میں نہ آسکوں تو تم برا تو نہ مانو گی؟‘‘
’’نہیں! میں یہ سمجھوں گی کہ آپ کسی مجبوری کے باعث نہیں آسکے لیکن میں اُس کے بعد ہر رات آپ کا انتظار کیا کروں گی۔ اگر مجھے نعمان کے متعلق اطمینان ہوتا تو میں آپ کو کل ہی یہاں آنے پر مجبور کرتی اب یہ چودہ دن مجھے چودہ مہینوں سے زیادہ طویل محسوس ہوں گے‘‘۔
عاصم نے کہا ’’لیکن چاندنی رات میں ہمارے لیے یہ ٹیلا محفوظ نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اس طرف آگیا تو ہمیں دور سے دیکھ لے گا‘‘۔
’’یہ جگہ بالکل اُجاڑ ہے۔ ہمارا گھر بستی کے آخری سرے پر ہے۔ رات کے وقت اِس طرف کوئی نہیں آتا۔ پھر بھی ہمیں احتیاط کرنی چاہیے۔ دیکھیے چاند کی روشنی میں ہمارا باغ زیادہ محفوظ ہوگا۔ میں اِدھر سے دائیں طرف باغ کے کونے میں آپ کا انتظار کروں گی۔ وہاں گھنے درختوں میں چاند کے سوا ہمیں کوئی نہیں دیکھ سکے گا۔ اب میں جاتی ہوں‘‘۔
عاصم نے مضطرب سا ہو کر کہا ’’سمیرا ذرا ٹھہرو!‘‘
رہ رُک گئی تو عاصم نے ایک ثانیہ توقف کے بعد کہا ’’تم نے یہ کہا تھا کہ ہم ابھی تک ایک دوسرے کو دن کی روشنی میں نہیں دیکھ سکے۔ سنو! اگر کل طلوع آفتاب کے وقت تم اس ٹیلے کے دوسری طرف آسکو تو میں گھوڑے پر سوار ہر کر اِدھر سے گزرنے کی کوشش کروں گا‘‘۔
’’لیکن اگر آپ نہ آئے تو میں غروب آفتاب تک وہیں بیٹھی رہوں گی‘‘۔
’’میں ضرور آئوں گا‘‘۔
سمیرا وہاں سے چل پڑی۔ چند قدم اُٹھانے کے بعد رُکی اور ایک ثانیہ مڑ کر دیکھنے کے بعد بھاگتی ہوئی درختوں میں روپوش ہوگئی۔ عاصم کچھ دیر بے حس و حرکت کھڑا رہا اور پھر ایک لمبی سانس لینے کے بعد اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ اُسے اِس بات کا احساس ضرور تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم نہیں رہ سکا۔ لیکن وہ کسی پریشانی یا اضطراب کی بجائے ایک طرف کا سکون اور اطمینان محسوس کررہا تھا۔ وہ اپنے دل میں کہہ رہا تھا۔ یہ اچھا ہوا کہ مجھے اُس سے بات کرنا کا موقع نہیں ملا۔ اتنی مختصر سی ملاقات میں میں اُسے کس طرح تمام باتیں سمجھا سکتا تھا۔ اُس کے آنسو پونچھنے، تسلی دینے اور حال اور مستقبل کی ہولناکیوں کے متعلق اُسے اپنا ہم خیال بنانے کے لیے وقت کی ضرورت تھی۔ لیکن کیا یہ درست ہے کہ اگر آج مجھے اُس کے ساتھ اطمینان سے باتیں کرنے کا موقع مل جاتا تو ہماری یہ ملاقات آخری ہوتی؟‘‘
عاصم اپنے دل کی گہرائیوں میں اِس سوال کا جواب تلاش کررہا تھا اور اُسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ایک بے پناہ محبت کے سامنے اُص کے ذہنی حصار کی تمام بنیادیں مسمار ہورہی ہیں اور وہ ایک ایسی چیز سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے جو اُس کی روح کی گہرائیوں میں اُتر چکی ہے۔ اُس کا سکون و اطمینان پھر ایک بار اضطراب میں تبدیل ہورہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا ’’سمیرا، کاش! ہم ایک دوسرے کو نہ دیکھتے۔ کاش! تم عدی کی بیٹی یا میں سہیل کا بیٹا نہ ہوتا۔ میں تمہیں کیسے سمجھا سکوں گا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے نہیں ہیں۔ میں اپنے آپ کو بھی یہ کیسے سمجھا سکتا ہوں کہ میں نے جس راستے پر قدم اُٹھایا ہے وہ سمیرا کے گھر کی چاردیواری کے باہر ہی ختم ہوجاتا ہے اس سے آگے اس کی کوئی منزل نہیں۔ ہم کس قدر مجبور اور بے بس ہیں، ہم کتنے نادان اور بیوقوف ہیں۔ نہیں، نہیں، سمیرا مجھے ایک نہ ایک دن ہمت سے کام لینا پڑے گا۔ اگر اگلی ملاقات پر نہیں تو اُس سے اگلی ملاقات پر مجھے اپنے دل پر جبر کرکے تم سے یہ کہنا پڑے گا کہ ہم نے جو خواب دیکھے ہیں اُن کی کوئی تعبیر نہیں۔ ہم نے امیدوں کے جو محل تعمیر کیے ہیں اُن کی کوئی بنیاد نہیں۔ ہمارے مقدر میں محرومی اور بدنصیبی کے سوا کچھ نہیں، پھر ہم اُس دن کا انتظار کیوں کریں جب زمانے کے بے رحم ہاتھ ہمیں زبردستی ایک دوسرے سے جدا کردیں۔ ہم اپنے اپنے خاندانوں اور قبیلوں کو یہ موقع کیوں دیں کہ وہ تلواریں سونت کر ہمارے درمیان کھڑے ہوجائیں۔ ہم ایک تاریک اور خطرناک راستے پر اتنی دور کیوں چلے جائیں کہ ہمارے لیے مڑ کر دیکھنا بھی مشکل ہوجائے۔ سمیرا! میری سمیرا! مجھ سے وعدہ کرو کہ تم ہمت سے کام لو گی۔ تم آنسو نہیں بہائو گی۔ میں اپنے انجام سے نہیں ڈرتا۔ لیکن میں تہیں اُن راستوں پر نہیں لے جائوں گا جو کانٹوں سے بھرے ہیں۔ تم ایک عورت ہو اور تمہارے آلام و مصائب میرے لیے ناقابل برداشت ہوں گے۔
گھر میں اپنے بستر پر لیٹتے وقت عاصم کو صبح کی ملاقات کا وعدہ یاد آیا اور وہ دیر تک کروٹیں بدلتا رہا اور پھر اگلے دن طلوع آفتاب کے وقت عاصم نے ٹیلے کے قریب اپنا گھوڑا روکا اُسے اچانک یہ محسوس ہوا کہ اُس کی دنیا کی ساری دلفریبی رعنائی اور لکشی سمٹ کر سمیرا کے وجود میں آگئی ہے۔ وہ اُس کے سامنے چند لمحات سے زیادہ نہ رُک سکا لیکن یہ چند لمحات اُس کے شعور و احساس کی ساری وسعتوں کو اپنے آغوش میں لے چکے تھے۔
سمیرا کے چہرے پر اُمید کی روشنی، ہونٹوں پر زندگی کی مسکراہٹیں اور آنکھوں میں محبت کی التجائیں تھیں۔ اور اِس روشنی، ان مسکراہٹوں اور ان التجائوں کے سامنے اُسے اپنے ماضی کے آلام و مصائب، حال کی اُلجھنیں اور مستقبل کے خدشات بے حقیقت محسوس ہورہے تھے۔
انہوں نے دبی زبان سے ایک دوسرے کا نام لیا اور اُن کی خاموش دنیا نغموں سے لبریز ہوگئی۔
سمیرا نے کہا ’’عاصم! اب آپ چلے جائیں‘‘۔ اور اِس کے ساتھ ہی اُس کی خوبصورت آنکھیں آنسوئوں سے چھلک اُٹھیں۔ عاصم نے ایسا محسوس کیا کہ کسی نے اُسے جھنجھوڑ کر خواب سے بیدار کردیا ہے۔ اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور گھوڑے کو ایڑ لگادی۔
باب۸
ایک دن سہ پہر کے وقت ہبیرہ اپنے مکان کے صحن میں، کھجور کے گھنے درختوں کے نیچے سورہا تھا اور سعاد اس سے چند قدم کے فاصلے پر بیٹھی اُون کات رہی تھی۔ عاصم صحن میں داخل ہوا اور سعاد نے اُسے دیکھتے ہی منہ پھیر کر یہ گیت گانا شروع کردیا۔
’’دشمن نے میرے عم زاد پر جادو کردیا ہے۔ اُس کے ہاتھ تلوار اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ اب ان روحوں کی پیاس کون بجھائے گا جو دشمن کے خون کے لیے تڑپ رہی ہیں‘‘۔

حصہ