رنگوں کی کہانی

128

وہ چھ سہیلیاں ایک ہی گھر؎، بلکہ ایک ہی کمرے میں رہتی تھیں، یہاں آئے انہیں زیادہ دن نہیں ہوئے تھے لیکن وہ یہاں سے نکل کر کسی کے کام آنا چاہتی تھیں اور آخر ایک دن وہ وقت بھی آگیا جب زین اپنے بابا کے ساتھ آیا اور دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ انہیں بھی لے گیا وہ بہت خوش تھیں اب انہیں اس کمرے سے نکل کر سانس لینے کا مو قع ملے گا۔
زین صاحب چھ سال کے تھے، بہت دنوں کے بعد اسکول کھلنے پر وہ بہت خوش تھے، خاص طور پر نئی نئی کتابیں، کاپیاں ڈرائنگ بکس اور کلرز خریدنے کا انہیں بہت شوق تھا لیکن اپنی لاپروا طبیعت کے سبب وہ چیزوں کو سنبھال نہیں پاتے تھے- چھ سہیلیاں اصل میں رنگین پینسلیں تھیں-
ایک دن زین صاحب کو ڈرائنگ بنانے اور ان میں رنگ بھر نے کا جوش چڑھا لہٰذا پینسلیں نکالنے کا وقت آگیا- انہوں نے پہلے ایک آم کی تصویر بنائی پیلا رنگ بھرنے کے لیے انہوں اس رنگ کی پینسل نکالی اور تیزی سے آم میں رنگ بھرنے لگے- پینسل ان کی اس بے دردی پر تکلیف سے دل ہی دل میں رونے لگی پھر اچانک جانے کیا سوجھی کہ ڈبیہ سے پئنسل تراش یعنی شاپنر نکال کر اسے چھیلنے لگے اب تو پینسل کی چیخیں نکل گئیں لیکن پینسل کی کون سنتا انہوں نے اسے چھیل چھیل کے اتنا چھوٹا کر دیا کہ انہیں دوسری سہیلیوں سے شرم آنے لگی- زین صاحب نے اسی پہ بس نہ کی بلکہ ہری نیلی کالی لال اور نارنجی پینسلوں کا بھی یہی حال کیا- کالی پینسل کو تو بغیر کسی وجہ کے دونوں طرف سے چھیل کر مزید چھوٹا کر دیا- اب رنگ بھرنے سے ان کا دل بھر چکا تھا- پینسلیں چھوٹی ہو گئی تھیں انہوں نے ان پینسلوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا اور سب کچھ پھیلا چھوڑ کر فٹ بال کھیلنے چل دیے-
چھ سہیلیاں ایک بار پھر ایک جگہ تھیں مگر بہت زخمی حالت میں- سب نے ایک دوسرے سے دکھ درد کہے اور زین کے لیے دعا کرنے لگیں کہ اللہ اسے اچھا اور سمجھ دار بچہ بنائے کوئی اپنی چیزوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے- ہم تو اس کے کام آنے والے تھے مگر اس نے ہمیں کسی کام کا نہ چھوڑا کچھ دیر بعد جب زین کی امی کا گزر اس کے کمرے کی طرف سے ہوا تو کمرے کی حالت دیکھ کر وہ پریشان ہو گئیں انہوں نے سب چیزیں سمیٹیں جگہ جگہ پینسل چھیلنے کی وجہ سے کچرا ہو رہا تھا رنگین کچرا دیکھ کر انہوں نے پینسلیں تلاش کیں جو انہیں کہیں نہیں ملیں- اچانک ان کی نظر ردی کی ٹو کری پر پڑی جہاں نئی نویلی پینسلیں بری حالت میں پڑی تھیں انہوں نے جھٹ سے پینسلیں اٹھائیں صاف کی اور انہیں ایک ڈبے میں رکھ دیا- پینسلوں کو بھی کچھ سکو ن ملا –
کچھ ہی دیر بعد زین کو یاد آیا کہ انہیں ڈرائنگ کا ہو م ورک کرنا ہے رنگین پینسلیں وہ پھینک چکے تھے لہٰذا وہ امی کے پاس پہنچے اور نئی پینسلوں کی ضد کرنے لگے- امی اور ابو نے صاف منع کر دیا کہ روز روز یہ چیزیں نہیں دلائی جا سکتیں اپنی چیزوں کا خیال رکھنا سیکھو- اس پر انہیں یاد آیا کہ وہ ردی کی ٹوکری سے پینسلیں نکال کر کام چلا سکتے ہیں- بھاگ کر ٹوکری کی طرف پہنچے تو خالی ٹو کری ان کا منہ چڑا رہی تھی اب تو وہ ڈرائنگ ٹیچر کی ڈانٹ کے ڈر سے رونے لگے اور امی کو پوری بات بتائی- امی نے انہیں سمجھایا چیزوں کو طریقے سے استعمال کرنا چاہیے تاکہ ان کے ضائع ہونے کا خدشہ بھی نہ ہو اور آپ کے کام میں رکاوٹ بھی نہ آئے- جو بچے اپنی چیزوں کی قدر نہیں کرتے وہ ہمیشہ دوسروں کے محتاج رہتے ہیں یعنی ہر وقت کسی سے ربر، پینسل، شاپنر اور کتاب مانگتے رہتے ہیں-
زین کو اب سمجھ آگئی تھی کہ انہوں نے پینسلوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا لیکن فی الحال یہ مسئلہ کیسے حل ہو- امی سے آئندہ چیزوں کا خیال رکھنے کا وعدہ کرنے پر پینسلیں ان کے حوالے کیں اور پینسلیں بھی خوش تھیں کہ زین اب انہیں طریقے سے استعمال کرے گا کیوں کہ ان کو تو بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ وہ دنیا میں رنگ بھر سکیں ۔
پیارے بچو! اپنی چیزوں کی اپنے ملک کی قدر کیجئے تاکہ آپ بڑے اور کامیاب انسان بن سکیں۔

حصہ