قیصرو کسریٰ قسط(13)

120

عمیر نے کہا ’’ابا جان! آپ کو شمعون نے یہ بتایا ہے کہ وہ یہودی جس کے گھوڑے چھینے گئے تھے، کون تھا؟‘‘
’’نہیں! میں نے اُس سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی‘‘۔
’’آپ نے اُس سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ اُس پر حملہ کس جگہ ہوا تھا؟ اور جب اُس پر حملہ ہوا تھا تو وہ کیا کررہا تھا؟‘‘
’’نہیں! لیکن ان بے ہودہ سوالات سے تمہارا کیا مطلب ہے؟ کیا تم…‘‘ آخری الفاظ عدی کے حلق میں اٹک کر رہ گئے اور وہ سکتے کے عالم میں عمیر کی طرف دیکھنے لگا۔
عمیر نے کہا ’’ابا جان! یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے نوکروں کے ساتھ ایک بے بس آدمی کو زدوکوب کررہا ہو اور اس بے بس آدمی کی چیخیں سن کر کوئی مسافر وہاں آنکلا ہو۔ اور اُس کی للکار سے یہ ظالم اپنے اونٹ اور گھوڑے چھوڑ کر بھاگ گئے ہوں۔ اور پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مظلوم نوجوان جسے اُس کے ساتھی ادھ موا کرکے چھوڑ گئے ہوں، آپ کا بیٹا ہو… ابا جان! بعض حقائق ناقابل یقین معلوم ہوتے ہیں اور تکلیف دہ بھی‘‘۔ آخری الفاظ کے ساتھ عمیر کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔
عدی نڈھال سا ہو کر بیٹھ گیا۔ اور دیر تک خاموشی سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھتا رہا۔
عمیر نے کہا ’’ابا جان! وہ عاصم تھا ہمارے بدترین دشمن کا بھتیجا اور وہ مجھے بستی کے باہر چھوڑ کر نہیں بلکہ اس کمرے میں پہنچا کر گیا تھا‘‘۔
عدی کرب کی حالت میں چلایا ’’لیکن تم نے یہ باتیں مجھے پہلے کیوں نہ بتائیں، سمیرا کم از کم تمہیں مجھ سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا‘‘۔
عمیر نے کہا ’’ابا جان! عاصم نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں ان واقعات کا کسی سے ذکر نہیں کروں گا‘‘۔
لیکن کیوں؟‘‘
’’ہوسکتا ہے کہ وہ میری جان بچانا ایک جرم سمجھتا ہو اور اُسے اِس جرم کی تشہیر گوارا نہ ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے خاندان اور میرے قبیلے کے سامنے وہ میری تذلیل نہ چاہتا ہو۔ میں نے اُس سے بے بسی کی حالت میں اعانت طلب کی تھی۔ اور اُسے میری حالت پر رحم آگیا تھا۔ ہم دونوں اپنی اپنی روایات سے غداری کررہے تھے۔ ہم دونوں مجرم تھے اور کوئی مجرم اپنے جرم کی تشہیر پسند نہیں کرتا۔ اُس نے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے میرا تذکرہ نہیں کیا۔ لیکن مجھ میں شاید اتنی ہمت نہیں۔ آپ مجھے بے غیرتی اور بے حیائی کا طعنہ دے سکتے ہیں لیکن میرے محسن کو مطعون نہیں کرسکتے‘‘۔
عدی نے کہا ’’اُس نے میرے سر پر پہاڑ رکھ دیا! لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سہیل کے بیٹے اور ہبیرہ کے بھتیجے نے میرے بیٹے کی جان بچائی ہو۔ منات کی قسم! میرے خاندان سے وہ اس سے بدتر انتقام نہیں لے سکتا تھا‘‘۔
عمیر نے کہا ’’ابا جان! آپ نے شمعون کو میرے متعلق تو نہیں بتادیا؟‘‘
’’نہیں! اگر تم نے مجھے منع نہ کیا ہوتا تو شاید میں یہ غلطی کر بیٹھتا۔ آج میرے ساتھ اُس کا رویہ بہت شریفانہ تھا۔ اُس کی باتوں سے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنی چوری کے بجائے تمہاری سلامتی کے لیے زیادہ فکر مند ہے‘‘۔
’’ابا جان! اُسے اب صرف اس بات کی فکر ہوسکتی ہے کہ اگر میں زندہ ہوا تو اُس کے لیے یثرب میں سانس لینا مشکل ہوجائے گا‘‘۔
باب6
کعب بن اشرف اپنے مکان کے سامنے کھجوروں کی چھائوں میں یثرب کے سرکردہ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کے دائیں بائیں اور پیچھے یہود قبائل کے رہنما اور سامنے ایک طرف بنواوس اور دوسری طرف بنو خزرج کے بااثر لوگ بیٹھے تھے۔ اُن کے درمیان کچھ جگہ خالی تھی۔ تماشائی جن میں سے اکثر یہودی تھے ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑے تھے اور اُن کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا تھا۔ کعب نے ایک قیمتی قبا پہن رکھی تھی۔ وہ خود ایک چھوٹے سے قالین پر بیٹھا تھا اور دوسرے معززین کھجور کی چٹائیوں پر مدت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اوس و خزرج ایک جگہ جمع تھے اور اس جگہ تلواروں کی جھنکار سنائی نہیں دیتی تھی۔ کعب بن اشرف کی ہدایت کے مطابق وہ خالی ہاتھ آئے تھے۔ لیکن نہتے ہونے کے باوجود اُن کے تیور بتارہے تھے کہ وہ یہاں امن وعافیت کی تلاش میں نہیں آئے۔ انہیں ایک دوسرے کے عزائم کے متعلق کوئی خوش فہمی نہ تھی۔ وہ صرف یہودیوں کی خوشنودی حاصل کرنے آئے تھے۔ قبیلہ خزرج کے معززین کو یہ اُمید تھی کہ اُن کے حریف اس مجلس سے رسوا ہو کر نکلیں گے اور وہ اپنی تلواریں خون آلود کیے بغیر ایک اہم فتح حاصل کرسکیں گے۔ اگر یہودی بگڑ گئے تو بنواوس کے لیے یثرب کی زمین تنگ ہو جائے گی۔ اور بنو اوس ہر قیمت پر یہودیوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے تھے، انہیں اِس بات کا شدید احساس تھا کہ خزرج اور یہودیوں کے اتحاد کے بعد اُن کے لیے یثرب کی فضاء میں سانس لینا مشکل ہوجائے گا۔
عدی اردگرد جمع ہونے والے تماشائیوں کی صف سے نمودار ہوا اور آگے بڑھ کر کعب بن اشرف کے سامنے خالی جگہ کھڑا ہوگیا۔ اُس کے قبیلے کے آدمیوں نے ہاتھ کے اشاروں سے اُسے اپنی طرف بلانے کی کوشش کی لیکن اُس نے کسی کی طرف توجہ نہ دی۔
کعب نے کہا ’’عدی، بیٹھ جائو!‘‘
عدی نے کہا ’’میں صرف اِس لیے آیا ہوں کہ مجھے آپ کا پیغام ملا تھا۔ میں اِس اجتماع کی کارگزاری میں کوئی حصہ لینا نہیں چاہتا۔ اور چونکہ یہ معاملہ سراسر قبیلہ اوس کے ایک فرد اور آپ کی قوم کے ایک آدمی سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے یہ کسی طرح مناسب نہ تھا کہ میرے قبیلے کے معززین یہاں جمع ہوتے۔ ہمارے تعلقات ایسے نہیں کہ ہم ایک جگہ بیٹھ سکیں‘‘۔
کعب نے شمعون اور دائود کی طرف دیکھا اور پھر عدی کی طرف متوجہ ہو کر کہا ’’اگر یہ جھگڑا عاصم اور دائود تک محدود ہوتا تو آپ میں سے کسی کو بھی یہاں آنے کی ضرورت نہ تھی۔ میری قوم اتنی گئی گزری نہیں کہ اسے اپنے مسائل دوسروں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ ممکن ہے کہ اس جھگڑے سے آپ کا تعلق ہم سب سے زیادہ ہو۔ آپ بیٹھ جائیں ہم ہبیرہ اور اُس کے بھتیجے کا انتظار کررہے ہیں۔ ان کے آنے پر آپ دیکھ لیں گے کہ میں نے آپ کو بلاوجہ تکلیف نہیں دی۔ مجھے کل کسی نے آپ کے بیٹے کے اچانک غائب ہوجانے کی اطلاع دی تھی۔ یہ خبر بہت افسوس ناک ہے! اُس کا کوئی سراغ ملا؟‘‘
عدی نے جواب دیا ’’نہیں! مجھے اس کا کوئی سراغ نہیں ملا‘‘۔
چند تماشائیوں کی آوازیں سنائی دیں ’’وہ آرہے ہیں‘‘۔
عدی اپنے قبیلے کے معززین میں بیٹھ گیا اور ایک ثانیہ بعد ہبیرہ اور عاصم تماشائیوں کے ہجوم سے نکل کر آگے بڑھے۔ ہبیرہ اپنے قبیلے کے آدمیوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا لیکن عاصم کھڑا رہا۔
کعب نے کہا ’’نوجوان! تم بھی بیٹھ جائو‘‘
عاصم نے جواب دیا ’’نہیں، میں ایک ملزم ہوں اور کھڑا رہنا ہی بہتر سمجھتا ہوں‘‘۔
کعب نے کہا ’’تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ جو گھوڑے اور اونٹ تمہارے گھر سے برآمد ہوئے ہیں وہ دائود کی ملکیت تھے؟‘‘
’’معلوم نہیں! وہ مجھے رات کے وقت راستے میں ملے تھے۔ اور میں انہیں لاوارث سمجھ کر اپنے گھر لے آیا تھا۔ چونکہ دائود انہیں اپنی ملکیت ثابت کرتا تھا اس لیے میں نے اُس کے حوالے کردیئے۔
کعب بن اشرف نے کہا ’’یہ عجیب بات ہے کہ راستے میں اتنے لاوارث جانور تمہارا انتظار کررہے تھے میں کئی بار اُسے رستے گیا ہوں مگر مجھے کبھی ایک بکری بھی نہیں ملی‘‘۔
قبیلہ خزرج کے آدمیوں نے قہقہہ لگایا اور بنو اوس خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔
عاصم نے کہا ’’اگر آپ کو بکری نہیں ملی تو یہ میرا قصور نہیں۔ ممکن ہے آپ اتنے خوش قسمت نہ ہوں۔ یا رات کے وقت آپ کی آنکھیں دور تک نہ دیکھ سکتی ہوں‘‘۔
محفل پر ایک سناٹا چھا گیا اور یہودی غضب ناک ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ہبیرہ چلایا۔ ’’عاصم! ہوش سے کام لو‘‘۔ اور پھر قبیلہ اوس کے ایک معمر آدمی نے کعب سے مخاطب ہو کر کہا ’’جناب! آپ عاصم کے لیے جو سزا تجویز کریں گے ہمیں منظور ہوگی‘‘۔
کعب نے دائود کی طرف متوجہ ہو کر کہا ’’دائود! تم کیا کہنا چاہتے ہو‘‘۔
دائود اُٹھ کر بولا ’’جناب! عاصم نے رات کے وقت ہم پر حملہ کیا تھا۔ ہمیں اپنے ایک ساتھی کی لاش چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ میرا ایک غلام بھی زخمی ہوا اور میں اُسے راستے کی ایک بستی میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنے جانوروں کے متعلق خاموش ہوسکتا ہوں کہ وہ مجھے مل چکے ہیں۔ میں اپنے نوکر کے بارے میں بھی درگزر کرسکتا ہوں کہ اُس کا زخم تشویش ناک نہیں۔ میں یہ بھی معاف کرنے کو تیار ہوں کہ عاصم نے، کسی سابقہ دشمنی کے بغیر مجھ پر امن کے دنوں میں حملہ کیا تھا۔ لیکن یہ معاف نہیں کرسکتا کہ اُس نے میرے ایک بے گناہ ساتھی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اور رات کی تاریکی میں اُسے تلوار اُٹھانے کا موقع بھی نہیں دیا‘‘۔
دائود کے ایک ساتھی کے قتل ہو جانے کی خبر بنوخزرج کے لیے خاص طور پر مسرت بخش تھی۔ اب انہیں یقین ہوچکا تھا کہ یہ یہودیء اس بات پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
کعب نے پوچھا ’’قتل ہونے والا کون تھا؟‘‘
’’جناب! پیشتر اس کے کہ میں آپ کے سوال کا جواب دوں، آپ کو اس بات کا اطمینان کرلینا چاہیے کہ یہ لوگ اسی جگہ کشت و خون شروع نہیں کردیں گے‘‘۔
’’تم اطمینان رکھو! میں ان سے پرامن رہنے کا وعدہ لے چکا ہوں، مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ قوت آزمائی کے لیے میرا گھر منتخب نہیں کریں گے‘‘۔
دائود نے کہا ’’جناب! مقتول قبیلہ خزرج کا ایک نوجوان تھا۔ اُس کا نام حمیر تھا۔ حمیر بن عدی‘‘۔
محفل پر ایک ثانیہ خاموشی طاری رہی۔ پھر قبیلہ خزرج کے آدمی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، اُن کی آوازیں آہستہ آہستہ بلند ہونے لگیں۔ لیکن عدی جس کی آنکھوں میں وہ انتقام کی آگ کے شعلے دیکھنا چاہتے تھے انتہائی سکون و اطمینان کے ساتھ عاصم کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کسی نے اُسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا ’’عدی! سنتے ہو۔ عمیر کو عاصم نے قتل کردیا‘‘۔ اور عدی نے جواب دیے بغیر اُس کے ہاتھ جھٹک دیے۔ بنو خزرج کی آوازیں چیخوں میں تبدیل ہورہی تھیں۔
’’خاموش! خاموش‘‘۔ کعب دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے چلایا اور جب محفل میں قدرے سکون کے آثار پیدا ہوئے تو اُس نے عاصم کی طرف متوجہ ہو کر کہا ’’تم کچھ کہنا چاہتے ہو؟‘‘
عاصم بولا ’’میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دائود جھوٹا ہے۔ میں نے کسی کو قتل نہیں کیا‘‘۔
دائود نے کہا ’’جناب! امن کے دنوں میں ایک عرب کو قتل کرنے کا جرم ایسا نہیں کہ عاصم اپنے قبیلے کے مستقبل سے بے پروا ہو کر اس کا اعتراف کرلے۔ یہ تو حمیر کی لاش بھی کہیں چھپا چکا ہے اور ہم کوشش کے باوجود اُسے تلاش نہیں کرسکے۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ میں نے کوئی بات غلط کہی ہے تو شمعون سے پوچھ لیجیے‘‘۔
کعب نے کہا ’’کیوں، شمعون! تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
شمعون نے جواب دیا ’’جناب! عمیر کئی سال سے میرے پاس رہتا تھا۔ ایک دن خدا جانے اُس کے دل میں کیا سمائی کہ وہ میرے گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں چلا گیا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ میرے گھر سے کچھ نقدی بھی اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ اس واقعے کی اطلاع میں نے اس کے باپ کو دے دی تھی۔ اس کے بعد دائود اپنے گھوڑے تلاش کرتا ہوا یہاں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ عمیر یثرب سے نکلنے کے بعد، اُس کے ساتھ ہوگیا تھا۔اب یہ نہیں کہہ سکتا کہ عمیر کو کس نے قتل کیا ہے لیکن دائود کے جانوروں کے علاوہ میرا وہ گھوڑا بھی جو عمیر کے پاس ہے۔
اگر عمیر ابھی تک گھر نہیں پہنچا تو ہمارے لیے یہ یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ بدنصیب قتل ہوچکا ہے۔ اور مجھے اس بات کا بے حد ملال ہے کہ اس کے قاتل نے امن کے دنوں کا بھی احترام نہیں کیا۔ میں نے عدی کو یہ تو بتادیا تھا کہ عمیر میرے گھر سے چوری کرکے بھاگ گیا ہے۔ لیکن دائود سے باقی واقعات سننے کے بعد مجھے یہ بتانے کا حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ قتل ہوچکا ہے۔ میری خاموشی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دائود ابھی تک اس کی لاش تلاش نہیں کرسکا۔ میرا خیال تھا کہ زخمی ہونے کے بعد شاید وہ کہیں چھپ گیا ہو۔ لیکن اتنے دنوں کے بعد بھی اگر وہ واپس نہیں آیا تو اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ اُس کے قاتل اُس کی لاش بھی ٹھکانے لگا چکے ہیں۔ اگر دائود کا بیان صحیح مان لیا جائے تو عمیر کا قاتل عاصم کے سوا اور کون ہوسکتا ہے؟۔ (جاری ہے)
کعب عدی کی طرف متوجہ ہوا ’’آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟‘‘
عدی اپنی جگہ سے اُٹھ کر آگے بڑھا اور عاصم کے قریب کھڑا ہوگیا۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اُس نے عاصم کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں اور پھر اچانک اُس کے بازو پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے چلایا ’’بیوقوف! تم خاموش کیوں ہو؟ یہ کیوں نہیں کہتے کہ عمیر قتل نہیں ہوا، زندہ ہے اور اُس کے باپ نے تمہاری بے بسی کا تماشا دیکھنے کے لیے اسے اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے۔ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ تم اُسے اپنے کندھے پر اُٹھا کر میرے گھر لائے تھے؟‘‘
محفل پر ایک سکتہ سا طاری ہوچکا تھا۔ عدی کا ایک رشتہ دار اُٹھ کر آگے بڑھا اور اُس کے بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے چلایا ’’عدی! ہمت سے کام لو۔ عمیر کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ قبیلہ کا ہر فرد تمہارے دکھ میں شریک ہے‘‘۔
عدی نے اُسے دھکا دے کر پیچھے ہٹادیا اور چلایا ’’مجھے تمہاری ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ تم سب پاگل ہوگئے ہو‘‘۔
کعب نے کہا ’’اسے گھر لے جائو، صدمے سے اِس کے حواس ٹھیک نہیں رہے‘‘۔
عدی چلایا ’’میرے حواس بالکل ٹھیک ہیں۔ آپ کو اس وقت شمعون اور دائود کی فکر کرنی چاہیے۔ اُن سے پوچھیے کہ اب تمہاری زبانیں کیوں گنگ ہوگئی ہیں‘‘۔ حاضرین کی نگاہیں شمعون اور دائود کی طرف مرکوز ہوگئیں۔ عدی نے قدرے توقف کے بعد مڑ کر عاصم کی طرف دیکھا ’’یہاں ایک ایسا گواہ موجود ہے جو تمہیں بے گناہ ثابت کرسکتا ہے تم اُسے آواز کیوں نہیں دیتے؟ وہ ان لوگوں کے سامنے آنے کے لیے تمہارے اشارے کا منتظر ہے۔ تمہارا جرم صرف یہ ہے کہ تم نے حمیر کو موت کے منہ سے چھڑایا ہے اور تمہیں ڈر ہے کہ تمہارے قبیلے کے لوگ تمہیں مطعون کریں گے۔ لیکن میں اپنے قبیلے کے لوگوں کے طعنوں سے نہیں ڈرتا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ تم نے میرے بیٹے کی جان بچائی ہے اور میں تمہارا احسان مند ہوں‘‘۔ رات کے وقت چند یہودی اُسے زردوکوب کررہے تھے اور تم اُس کی چیخیں سن کر بے چین ہوگئے تھے۔ اگر تمہارا یہ خیال تھا کہ تمہارا احسان مند ہونا میرے لیے باعث ننگ و غار ہے تو تم غلطی پر تھے۔ عمیر! عمیر!! تم آسکتے ہو‘‘۔
عمیر تماشائیوں کی پچھلی صف سے نکل کر آگے بڑھا اور عدی اور عاصم کے قریب پہنچ کر کھڑا ہوگیا۔ ناک اور آنکھوں کے سوا اُس کا چہرہ چادر میں چھپا ہوا تھا۔ حاضرین دم بخود ہو کر اُس کی طرف دیکھنے لگے۔ اُس نے اپنے چہرے سے چادر ہٹائی اور کعب بن اشرف کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ ’’یہ درست ہے کہ مجھے امن کے زمانے میں قتل کرنے کی سازش کی گئی تھی لیکن عاصم کا اس سازش سے کوئی تعلق نہیں۔ میرے مجرم آپ کے دائیں ہاتھ بیٹھے ہیں۔ شمعون تم مجھے پہچانتے ہو؟‘‘

حصہ