سوچنے کی باتیں

148

قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک
برادرانِ اسلام! دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیںجن کے پاس اللہ کا کلام بالکل محفوظ‘ تمام تحریفات سے پاک‘ ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجودہے جن الفاظ میں وہ اللہ کے رسولِ برحق پر اترا تھا‘ اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللہ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حد و حساب نعمتوں سے محروم ہیں۔قران ان کے پاس اس لیے بھیجاگیا تھا کہ اس کو پڑھیں‘ سمجھیں‘ اس کے مطابق عمل کریں اور اس کو لے کر خدا کی زمین پر خدا کے قانون کی حکومت قائم کر دیں۔ وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنے آیا تھا۔وہ انہیں زمین پر خدا کا اصلی خلیفہ بنانے آیا تھا‘ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انہوں نےاس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نے ان کو دنیا کا امام اور پیشوا بنا کر بھی دکھا دیا‘ مگر اب ان کے ہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں‘ اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گھول کر پئیں اور محض ثواب کے لیے نے بلاسمجھے بوجھے پڑھ لیا کریں۔
اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے۔ اس سے نہیں پوچھتے کہ ہمارے عقائد کیا ہونے چاہئیں؟ ہمارے اعمال کیا ہونے چاہئیں؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں؟ ہم لین دین کس طرح کریں؟ دوستی اور دشمنی میں کس قانون کی پابندی کریں؟ خدا کے بندوں کے اور خود اپنے نفس کے حقوق ہم پر کیا ہیں اور انہیں ہم کس طرح ادا کریں؟ ہمارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا؟ اطاعت ہمیں کس کی کرنی چاہیے اور نافرمانی کس کی؟ تعلق کس سے رکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میںہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کس چیز میں؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی چھوڑ دی ہیں۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے‘گمراہ اور خود غرض لوگوں سے اور خود اپنے نفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں اور انہی کے کہے پر چلتے ہیں۔ اس لیے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ان کا ہوا اور اسی کو یہ آج ہندوستان میں‘ چین اور جاوا میں‘ فلسطین اور شام میں‘ الجزائر اور مراکش میں‘ ہر جگہ بری طرح بھگت رہے ہیں۔ قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے۔ جتنی اور جیسی خیر تم اس سے مانگو گے یہ تمہیں دے گا۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمے کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی‘ ذلیل و بے حقیقت چیزیں مانگتے ہو تو یہیں تمہیں ملیںگی۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرشِ الٰہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تویہ تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا۔ یہ تمہارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو‘ ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے۔
حضرات! جو ستم ظریفیاں ہمارے بھائی مسلمان اللہ کی اس کتابِِ پاک کے ساتھ کرتے ہیں وہ اس قدر مضحکہ انگیز ہیں کہ اگر یہ خود کسی دوسرے معاملے میں کسی شخص کو ایسی حرکتیں کرتے دیکھیں تو اس کی ہنسی اڑائیں‘ بلکہ اس کو پاگل قرار دیں۔ بتایئے! اگر کوئی شخص حکیم سے نسخہ لکھوا کر لائے اور اسے کپڑے میں کپڑے میں لپیٹ کر گلے میں باندھ لے یا اسے پانی میں گھول کر پی جائے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کو اس پر ہنسی نہ آئے گی؟ اور آپ اسے بے وقوف نہ سمجھیں گے؟ مگر سب سے بڑے حکیم نے آپ کے امراض کے لیے شفا اور رحمت کا جو بے نظیر نسخہ لکھ کر دیا ہے اس کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے رات دن یہی سلوک ہو رہا ہے اور کسی کو اس پر ہنسی نہیں آتی۔ کوئی نہیں سوچتا کہ نسخہ گلے میں لٹکانے اور گھول کر پینے کی چیز نہیں‘ بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کی جائے۔
فہم قرآن اور عمل بالقرآن لازم ہے:
بتایئے! اگر کوئی شخص بیمار ہو اور علمِ طب کی کوئی کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ جائے اور یہ خیال کرے کہ محض اس کتاب کو پڑھ لینے سے بیماری دور ہو جائے گی تو آپ اسے کیا کہیں گے؟
کیا آپ نہ کہیں گے کہ بھیجو اسے پاگل خانے میں‘ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے؟ مگر شافیِ مطلق نے جو کتاب آپ کی امراض کا علاج کرنے کے لیے بھیجی ہے اس کے ساتھ آپ کا یہی برتائو ہے۔ آپ اس کو پڑھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ بس اس کے پڑھ لینے ہی سے تمام امراض دور ہو جائیں گے‘ اس کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں‘ نہ ان چیزوں سے پرہیز کی ضرورت ہے جن کویہ مضر بتا رہی ہے۔ پھر آپ خود اپنے اوپر بھی وہی حکم کیوں نہیں لگاتے جو اس شخص پر لگاتے ہیں جو بیماری دور کرنے کے لیے صرف علمِ طب کی کتاب پڑھ لینے کو کافی سمجھتا ہے؟
آپ کے پاس اگر کوئی خط کسی ایسی زبان میں آتا ہے جسے آپ نہ جانتے ہوں تو آپ دوڑے ہوئے جاتے ہیں کہ اس زبان کے جاننے والے سے اس کا مطلب پوچھیں۔ جب تک آپ اس کا مطلب نہیں جان لیتے آپ کو چین نہیں آتا۔ یہ معمولی کاروبار کے خطوط کی ساتھ آپ کا بتائو ہے جن میں زیادہ سے زیادہ چار پیسوں کا فائدہ ہو جاتا ہے‘ مگر خداوندِ عالم کا جو خط آپ کے پاس آیا ہوا ہے اور جس میں آپ کے لیے دین و دنیا کے تمام فائدے ہیں‘ اسے آپ اپنے پاس یونہی رکھ چھوڑتے ہیں‘ اس کا مطلب سمجھنے کے لیے کوئی بے چینی آپ میں پیدا نہیں ہوتی۔ کیا یہ حیرت اور تعجب کا مقام نہیں؟
اللہ کی کتاب پر ظلم کا نتیجہ:
یہ باتیں میں ہنسی دل لگی کے لیے نہیں کر رہا ہوں۔ آپ ان باتوں پر غور کریں گے تو آپ کا دل گواہی دے گا کہ دنیا میں سب سے بڑھ کر ظلم اللہ کی اس کتابِ پاک کے ساتھ ہو رہا ہے اور یہ ظلم کرنے والے وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بے شک وہ ایمان رکھتے ہیں اور اسے جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں‘ مگر افسوس یہ ہے کہ وہی اس پر سب سے زیادہ ظلم کرتے ہیں اور اللہ کی کتاب پر ظلم کرنے کا جو انجام ہے وہ ظاہر ہے۔ خوب سمجھ لیجیے! اللہ کا کلام انسان کے پاس اس لیے نہیں آیا کہ وہ بدبختی اور نکبت و مصیبت میں مبتلا ہو:
’’یہ (سعادت اور نیک بختی کا سرچشمہ ہے) شقاوت اور بدبختی کا ذریعہ نہیں ہے۔‘‘ (طہٰ 1-2:20)
یہ قطعی ناممکن ہے کہ کوئی قوم خدا کے کلام کی حامل ہو اور پھر دنیا میں ذلیل و خوار ہو‘ دوسروں کی محکوم ہو‘ پائوں میں روندی اور جوتیوں سے ٹھکرائی جائے‘ اس کے گلے میں غلامی کا پھندا ہو اور غیروں کے ہاتھ میں اس کی باگیں ہوں اور وہ اس کو اس طرح ہانکیں جیسے جانور ہانکے جاتےہیں۔ یہ انجام اس کا صرف اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ کے کلام پر ظلم کرتی ہے۔ بنی اسرائیل کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ ان کے پاس توراۃ اور انجیل بھیجی گئی تھیں اور کہا گیا تھا:
’’اگر وہ توراۃ اور انجیل اور ان کتابوں کی پیروی پر قائم رہتے جو ان کے (رب کی طرف سے ان کے پاس) بھیجی گئی تھیں تو ان پر آسمان سے رزق برستا اور زمین سے رزق ابلتا۔‘‘ (المائدہ: 66:5)
مگر انہوں نے اللہ کی ان کتابوں پر ظلم کیا اور اس کا نتیجہ یہ دیکھا کہ:
’’اُن پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ خدا کے غضب میں گھِر گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے اور اس لیے کہ وہ اللہ کی نافرمان ہو گئے تھے حد سے گزر گئے تھے۔‘‘ (البقرہ: 61:2)
پس جو قوم خدا کی کتاب رکھتی ہو اور پھر بھی ذلیل و خوار اور محکوم و مغلوب ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہ ضرورت کتابِ الٰہی پر ظلم کر رہی ہے اور اس پریہ سارا وبال اسی ظلم کا ہے۔ خدا کے اس غضب سے نجات پانے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ اس کی کتاب کے ساتھ ظلم کرنا چھوڑ دیا جائے اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر آپ اس گناہِ عظیم سے باز نہ آئیں گے تو آپ کی حالت ہرگز نہ بدلے گی‘ خواہ آپ گائوں گائوں کالج کھول دیں اور آپ کا بچہ بچہ گریجویٹ ہو جائے اور آپ یہودیوں کی طرح سود خواری کرکے کروڑ پتی ہی کیوں نہ بن جائیں۔
مسلمان کسے کہتے ہیں:
حضرات! ہر مسلمان کو سب سے پہلے جو جو چیز جاننی چاہیے وہ یہ ہے کہ ’’مسلمان‘‘کہتے ہیں کس کو ہیں اور ’’مسلم‘‘کے معنی کیا ہیں۔ اگر انسان یہ نہ جانتا ہو کہ ’’انسانیت‘‘ کیا چیز ہے اور انسان و حیوان میں فرق کیا ہے تو وہ حیوانوں کی سی حرکات کرے گا اور اپنے آدمی ہونے کی قدر نہ کرسکے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو یہ نہ معلوم ہو کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں اور مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز کس طرح ہوتا ہے تو وہ غیر مسلموں کی سی حرکات کرے گا اور اپنے مسلمان ہونے کی قدر نہ کرسکے گا۔ لہٰذا مسلمان کو اور مسلمان کے ہر بچے کو اس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتاہے تو اس کے معنی کیا ہیں‘ مسلمان ہونے کے ساتھ ہی آدمی کی حیثیت میں فرق واقع ہو جاتا ہے‘ اس پر کیا ذمے داری عائد ہو جاتی ہے اور اسلام کے حدود کیا ہیں جن کے اندر رہنے سے آدمی مسلمان رہتا ہے اور جن کے باہر قدم رکھتے ہی وہ مسلمانیت سے خارج ہو جاتا ہے‘ چاہے وہ زبان سے اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا جائے۔
اسلام کے معنی:
اسلام کے معنی ہیں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری۔ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دینا اسلام ہے۔ خدا کے مقابلے میں اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جانا ’’اسلام‘‘ ہے۔ خدا کی بادشاہی و فرماں روائی کے آگے سر تسلیم خم کر دینا ’’اسلام‘‘ ہے۔ جو شخص اپنے سارے معاملات کو خدا کے حوالے کر دے وہ مسلمان ہے‘ اور جو اپنے معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھے یا خدا کے سوا کسی اور کے سپرد کر دے وہ مسلمان نہیں ہے۔ خدا کے حوالے کرنے یا خدا کے سپرد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب اور اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو ہدایت بھیجی ہے اس کو قبول کیا جائے‘ اس میں چوں و چرا نہ کی جائے اور زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے اس میںصرف قرآن او رسنتِ رسولؐ کی پیروی کی جائے۔ جو شخص اپنی عقل اور دنیا کے دستور اور خدا کے سوا ہر ایک کی بات کو پیچھے رکھتا ہے‘ اور ہر معاملے میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے‘ اور جو ہدایت وہاں سے ملے اس کو بے چوں و چرا مان لیتا ہے اس کے خلاف ہر چیز کو رد کر دیتا ہے‘ وہ اور صرف وہی ’’مسلمان‘‘ہے‘ اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کو بالکل خدا کے سپرد کر دیا اور اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنا ہی ’’مسلمان‘‘ ہونا ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص قرآن اور سنتِ رسولؐ پر انحصار نہیں کرتا‘ بلکہ اپنے دل کا کہا کرتا ہے‘ یا باپ دادا سے جو کچھ ہوتا چلا آتا ہو‘ اس کی پیروی کرتا ہے یا دنیامیں جو کچھ ہو رہا ہو اس کے مطابق چلتا ہے اور اپنے معاملات میں قران اور سنت سے یہ دریافت کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے یا اگر اسے معلوم ہو جائے کہ قرآن و سنت کی ہدایت یہ ہے اور پھر وہ اس کے جواب میں کہتاہے کہ میری عقل اسے قبول نہیں کرتی اس لیے میں اس بات کو نہیں مانتا‘ یا باپ دادا سے تو اس کے خلاف عمل ہو رہا ہے لہٰذا میں اس کی پیروی نہ کروں گا یا دنیا کا طریقہ اس کے خلاف ہے‘ لہٰذا میں اُسی پر چلوں گا‘ تو ایسا شخص ہر گز مسلمان نہیں ہے۔ وہ جھوٹ کہتا ہے اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔
مسلمان کے فرائض:
آپ جس وقت کلمہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں اور مسلمان ہونے کا اقرار کرتے ہیں اسی وقت گویا آپ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ کے لیے قانون صرف خدا کا قانون ہے‘ آپ کا حاکم صرف خدا ہے‘ آپ کو اطاعت صرف خدا کی کرنی ہے‘ اور آپ کے نزدیک حق صرف وہ ہے جو خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کے ذریعے سے اور آپ کے نزدیک صرف وہ ہے جو خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کے ذریعے سے معلوم ہو۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ مسلمان ہوتے ہی خدا کے حق میں اپنی آزادی سے دست بردار ہو گئے۔ اب آپ کو یہ کہنے کا حق ہی نہ رہا کہ میری رائے یہ ہے‘یا دنیا کا دستور یہ ہے یا ان کااندازانکا رواج یہ ہے یا فلاح حضرت یا فلاح بزرگ یہ فرماتے ہیں۔ خدا کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مقابلے میں اب ان میں سے کوئی چیز بھی آپ نہیں کرسکتے۔ اب آپ کا کام یہ ہے کہ ہر چیز کو قرآن اور سنت کے سامنے پیش کریں‘ جو کچھ اس کے مطابق ہو قبول کریں اور جو اس کے خلاف ہو اسے اٹھا کر پھینک دیں خواہ وہ کسی کی بات اور کسی کا طریقہ ہو۔ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہنا اور پھر قرآن و سنت کے مقابلے میں اپنے خیال یا دنیا کے دستور یا کسی انسان کے قول یا عمل کو ترجیح دینا‘ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جس طرح کوئی اندھا اپنے آپ کو آنکھوں والا نہیں کہہ سکتا اور کوئی نکٹا اپنے آپ کو ناک والا نہیں کہہ سکتا۔ اسی طرح کوئی ایسا شخص اپنے آپ کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا جو اپنی زندگی کے سارے معاملات کو قرآن اور سنت کا تابع بنانے انکار کرے اور خدا اور رسولؐ کے مقابلے میں اپنی عقل یا دنیا کے دستور یا کسی انسان کے قول و عمل کو پیش کرے۔
جو شخص مسلمان نہ رہنا چاہتاہو اور اسے کوئی مسلمان رہنے پر مجبور نہیں کر سکتا‘ اسے اختیار ہے کہ جو مذہب چاہیےاختیار کرے اور اپنا جو نام چاہے رکھ لے‘ مگر جب وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مسلمان اسی وقت رہ سکتا ہے جب تک وہ اسلام کی سرحد میں رہے۔ خدا کے کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو حق اور صداقت کا معیار تسلیمِ رکنا اور اس کے خلاف ہر چیز کو باطل سمجھنا اسلام کی سرحد ہے۔ اس سرحد میں جو شخص رہے وہی مسلمان ہے۔ اس سے باہر قدم رکھتے ہی آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے اور مسلمان کہتا ہے تو خود وہ اپنے نفس کو بھی دھوکادیتا ہے اور دنیا کو بھی۔
’’اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں‘ وہی کافر ہیں۔‘‘ (المائدہ 44:5)

حصہ