مظفر علی سید کا انٹریو

168

طاہر مسعود: آپ افسانے کے نقاد بھی ہیں لہٰذا میں چند سوال اس حوالے سے کرنے کی اجازت چاہوں گا۔ عام طور پر ہمارے ہاں افسانے پر معیاری تنقید کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ شاعری پر تنقید ی سرمایہ تو مل جاتا ہے‘ لیکن نقادوں نے افسانے جیسی اہم صنف کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ کیا یہ تاثر درست ہے؟
مظفر علی سید: افسانے پر تنقید لکھی گئی ہے لیکن زندہ تنقید نہیں۔ زندہ تنقید کی اصطلاح سے میری مراد ہے جو آپ کو چونکائے‘ بحث کرنے پر مجبور کرے‘ جو موضوع زیر بحث ہے اس کے بارے میں بصیرت کے دروازے کھولے۔ کم سے کم ہمیں یہ بتا سکے کہ اردو افسانے کا جو کلاسیکی دور ہم دیکھ آئے ہیں یعنی منٹو اور بیدی دور‘ ان لوگوں کا کمال کیا ہے؟ مدرسانہ تنقید اوّل تو ان مصنفین سے سروکار نہیں رکھتی کہ یہ داخل نصاب ہی نہیں ہیں۔ منٹو کو تو آپ جانتے ہیں کہ اہل مدرسہ کے نزدیک شجر ممنوعہ ہے اور بیدی ٹھہرے غیر پاکستانی۔
طاہر مسعود: معاف کیجیے‘آپ مدرسانہ تنقید کی اصطلاح کی وضاحت کرنا پسند کریں گے؟
مظفر علی سید: وہ جو ہمیں صرف امتحانوں کے سوالوں کے جواب دینا سکھائے۔ ظاہر ہے یہ مقصد بہت محدود ہے اور اس وقت تو اور محدود ہو جاتا ہے جب سوال پوچھنے و الے بھی وہی ہوں اور جواب جانچنے والے بھی وہی ہوں جن کی کتابیں بازار میں دستیاب ہیں۔
طاہر مسعود: کیا آپ ان مدرسے کے نقادوں کے نام لینا چاہیں گے؟
مظفر علی سید: نام نہ لیں‘ آپ کے ذہن میں نام آگئے ہوں گے۔
طاہر مسعود: افسانے کے نقادوں میں ایک نام وقار عظیم صاحب کا بھی ہے۔ آپ انہیں مدرسانہ تنقید کا نمونہ تصور کرتے ہیں؟
مظفر علی سید: وہ مدرسانہ تنقید کا ذرا بہتر نمونہ تھے اور شاید جب انہوں نے ابتداکی تھی تو اتنے مدرسانہ بھی نہیں تھے مگر بیچ میں انہوں نے جو رویے اختیار کیے ان کا آپ اس سے اندازہ کیجیے کہ منٹو‘ بیدی اور غلام عباس ان کی کتابوں سے بہ طور اہم ادیبوں کے برآمد نہیں ہوتے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوگی کہ تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ذمہ دار لوگ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بن جاتے ہیں اور کسی ایسے تخلیقی فن کار کے حق میں خطرہ مول لینے پر تیار نہیں ہوتے جس کے بغیر کوئی تحریر معنویت اختیار نہیں کرسکتی۔
طاہر مسعود: ممکن ہے ان ادیبوں کے بارے میں ان کی دیانت دارانہ رائے وہی ہو جس کا اظہار انہوں نے اپنے مضامین میں کیا ہے؟
مظفر علی سید: مجھے وقار عظیم صاحب کا نیاز حاصل رہا ہے۔ وہ شریف اور شائستہ آدمی تھے۔ خدا انہیں غریق رحمت کرے۔ اردو ادب میں ان کی کچھ خدمات بھی ہیں جن سے مجھے انکار نہیں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ معاصر ادب پر فیشن کا شکار ہو جانا بھی اتنا ہی خراب ہے جتنا کہ بلا لحاظ امتیاز سب کو درج گزٹ کرنا۔ اس کے مقابلے میں مثلاً عسکری کو دیکھیے کہ منٹو کے سلسلے میں ’’سیاہ حاشیے‘‘ پر لکھتے ہوئے اور ’’بابو گوپی ناتھ‘‘ پر لکھتے ہوئے اور ’’کھول دو‘‘ کے سلسلے میں عسکری نے کتنے بڑے خطرے کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ آپ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ادب میں مردانگی کا یہی مفہوم ہے اوراب پیچھے مڑ کر دیکھیے تو منٹو کی یہ پشت پناہی جو عسکری نے انجام دی وہ کتنا بڑا تنقیدی کمال معلوم ہوتا ہے۔ ذرا وقار صاحب کی کتاب کا منٹو والا باب اٹھا کر دیکھ لیجیے فوراً فرق محسوس ہو جائے گا۔
طاہر مسعود: آپ ممتاز شیریں کا بہ طور افسانے کی تنقید کے کن الفاظ میں ذکر کریں گے؟
مظفر علی سید: ان کا ذکر یقینا کرنا چاہیے۔ میں نے منٹو کے بارے میں ان کی تنقید پر ایک مطالعہ بھی لکھ رکھاہے مگرجیسا کہ میں نے لکھا ہے‘ ان کے ہاں علم زدگی بہت زیادہ ہے اور کچھ اشرافیت ان کے آڑے آجاتی ہے۔
طاہر مسعود: آپ انہیں بھی مدرسانہ لکھنے والوں کی صف میں کھڑا کریں گے؟
مظفر علی سید: جی نہیں‘ وہ یقینا ان سے بہتر ہیں‘ البتہ ان کے مقابلے میں عصمت چغتائی کا ایک مضمون جو ’’ہیروئن‘‘ کے نام سے ایک ’’ایک بات‘‘میں شامل ہے‘ اس کا انگریزی ترجمہ پطرس بخاری نے کیا‘ وہ مضمون ممتاز شیریں کی ساری کتاب پر بھاری ہے۔
طاہر مسعود: عصمت چغتائی کے مضمون میں وہ کون سا عنصر ہے جس کی بنا پر آپ اسے ایک کتاب پر بھاری قرار دے رہے ہیں؟
مظفر علی سید: نقاد کے ذریعے ہمیں یہ محسوس ہونا چاہیے کہ فکشن بہ طور ادب اور فکشن بہ طور صنعت میں کیا فرق ہے؟ اور جو لوگ فکشن کے ذریعے کمال ادب تک پہنچتے ہیں‘ انہوں نے یہ درجہ کیسے حاصل کیا؟ پھر اس سے بھی زیادہ فکشن کے ذریعے کیسے کیسے حالات تہذیبی اقدار‘ انسانی صورت حال کا المیہ اور زندگی کے ساتھ جہاد‘ یہ کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔ آپ نے غالب کا وہ فقرہ سنا ہوگا کہ ’’داستان سرائی منجملہ فنون سخن ہے‘‘ بات بہت ہمت افزا ہے‘ آج کے فکشن لکھنے والوں کے لیے‘ مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے دور میں فکشن کی غالب مقدار صنعتی اورتجارتی پیداوار سے زیادہ ہے اور فنِ سخن بہت کم‘بس اسی امتیاز کا نام فکشن کی تنقید ہے۔
طاہر مسعود: حسن عسکری کے بعد آپ افسانے کے کن نقادوں کو لائق توجہ سمجھتے ہیں؟
مظفر علی سید: اپنے ہاں مملکت خدادادِ پاکستان میں دو قسم کے لوگ فکشن کی تنقید کے نام پر کچھ لکھتے رہے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر برائے نام‘ مگر ہندوستان کے اردو ناقدین نے کچھ بہتر کوششیں ضرور کی ہیں۔ مثلاً عصری آگہی‘‘ کا بیدی نمبر آیا ہے۔ ’’اردو افسانہ روایت اور مسائل‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے کتاب مرتب کی ہے۔ اس میں کئی تحریریں ہیں جو فکشن کی اچھی تنقید کا نمونہ کہی جاسکتی ہیں اور لطیفہ یہ ہے کہ اس میں پاکستان کے صرف وہ لوگ شامل ہیں جو پریم چند سیمینار میں وہاں گئے تھے اور ان میں سے بھی ایک فکشن لکھنے والے انتظار حسین صاحب قدرے بہتر ہیں۔ میں خود فکشن نہیں لکھتا‘ ہاں فکشن کا ترجمہ کیا ہے۔ کچھ اور کروںگا۔ میں اس کے لیے قطعی ضروری نہیں سمجھتا کہ آدمی خود فکشن لکھتا ہو مگر غالب کے معیار کے اعتبار سے سخن کا معیار ہونا چاہیے اور اسے یورپ کے بڑے بڑے فکشن کے نقادوں سے واقفیت ہو یا نہ ہو‘ کم سے کم یہی معلوم ہو کہ مولانا رومؒ اپنی کہانیوں کی تعبیر و تشریح کس انداز سے کیا کرتے تھے اور ہماری تہذیب میں فلسفیوں تک نے فکشن لکھا ہے جیسے ابن طفیل‘ ابن سینا اور بہت سے دوسرے۔ تو قصہ دراصل دو لفظوں میں خلاصہ ہو سکتا ہے کہ حکمت اور حکایت کا آپس میں جو ربط ہے اس کی نشاندہی اور تعبیر اور اس کی قدر و قیمت کا تعین۔ اس کے بغیر فکشن کی تنقید کچھ اور ہو سکتی ہے فکشن کی تنقید نہیں ہو سکتی۔
طاہر مسعود: ہندوستان میں افسانے پر ڈاکٹر نارنگ‘ محمود ہاشمی‘ وارث علوی اور دیگر لوگ تنقید لکھ رہے ہیں۔ ان میں سے کن نقادوں کی تحریروں میں آپ کو زندہ تنقید کے نمونے نظر آرہے ہیں؟
مظفر علی سید: فکشن پر زندہ تنقید لکھنے کی صلاحیت سب سے زیادہ غالباً ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی تھی اس لیے کہتا ہوںکہ ادھر بہت دنوں سے ان کی کوئی ایسی تحریر دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ اگرچہ کتاب انہوں نے بہت اچھی مرتب کی ہے۔ نئے لکھنے والوں میں چند ایک آدمیوں میں خاصا جوہر ہے‘ مثلاً ابوالکلام قاسمی‘ ان سے سینئر لکھنے والے علی گڑھ کے استاد مقبول حسن خان جنہوں نے قرۃ العین حیدر پر لکھا ہے اور ایک رسالہ اسلوب احمد انصاری کی ادارت میں علی گڑھ سے نکلتا ہے ’’نقد و نظر‘‘ اس میں نہ صرف فکشن کی تنقیدیں بلکہ دوسری اصناف ادب پر بھی اس کے مختلف شماروں میں ایسی عمدہ تحریریں دیکھنے میں آئی ہیں کہ شاید کسی دوسرے رسالے میں ’’نگار‘‘ سمیت اتنے تسلسل اور تواتر کے ساتھ کسی نے اتنی اچھی چیزیں کم ہی پیش کی ہیں۔ یہاں تک کہ فرانسیسی فکشن کے جو لوگ امام ہوئے ہیں ان پر بھی اردو زبان میں نہایت عمدہ معیار کی تحریریں اسی رسالے میں دیکھنے میں آئی ہیں۔ البتہ اس کی صراحت کر دوں کہ نئے افسانے کے خلاف اور اس کے دفاع میں جو کچھ ہندوستان میں لکھا گیا ہے‘ اس کا معیار ایسا بلند نہیں۔ یہاں بھی شہزاد منظر اور مرزا عابد بیگ نے جدید اردو افسانے پر دو کتابیں لکھی ہیںجن میں کہیں کہیں کوئی ٹکڑا اچھا بھی آجاتا ہے مگر مجموعی طور پر شاید یہ کہنا نامناسب نہ ہوکہ فکشن کی تنقید کا کوئی اچھا نمونہ ان کے سامنے نہیں تھا اور ہوتا بھی کیسے جب کہ عسکری تک جنہیں اردو میں فکشن کا بہترین نقاد کہتا ہوں‘ ان کی یہ حیثیت اب تک لوگوں کی نظروں سے اوجھِل ہے۔
طاہر مسعود: آپ نے اپنی گفتگو میں خود بھی اس جانب اشارہ کیا ہے اور یہ بات میں نے کئی افسانہ نگاروں کی زبانی سنی ہے کہ وہ کسی غیر افسانہ نگار کو افسانے پر تنقید کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پیراکی کے اصول بتانے کا حق صرف ایک اچھے پیراک کو ہے۔
مظفر علی سید: آپ ایسا کوئی اصول نہیں بنا سکتے اس لیے کہ پھر ارسطو کو بھی بوطیقا لکھنے کا کوئی حق نہیں تھا اور ہماری تہذیب میں آپ دیکھیں کہ بہت سی ایسی شخصیتیں گزری ہیں جو شعر نہیں کہتی تھیں مگر شعر فہم تھیں اور شاعری پر ان کی کتابیں موجود ہیں۔ ہنری جیمس‘ ڈی ایچ لارنس خود ناول نگار تھے اور انہوں نے فکشن کی تنقید بھی لکھی ہے۔ فکشن کے نقادوں میں ایف آر لیوس صاحب ہیں اور ہنگری کے بوکانچ‘ انہوں نے کب اورکون سا فکشن لکھا۔ اور دوسری طرف یہ دیکھیے ہر فکشن لکھنے والا تو فکشن کا نقاد نہیں ہو سکتا جس طرح شعر لکھنے والا شاعری کا نقاد نہیں ہوسکتا۔ جب تنقید ایک علم ہے اور ایک ڈسپلن ہے توجو لوگ اس کی تربیت حاصل کریں گے چاہے وہ خود تخلیقی فن کار ہوں یا نہ ہوں‘ یہ کام انہیںہی زیب دے گا۔
طاہر مسعود: افسانے کی موجودہ دگرگوں صورت حال میں افسانے کے نقادوں پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟
مظفر علی سید: فکشن کی تنقید لکھنے والوں کے سامنے یہ حقیقت ہونی چاہیے کہ ہماری زبان میں فکشن دور ابتلا ہے گزر رہا ہے کہ انہیں اس کا تجزیہ بھی کرنا چاہیے اور تجزیے کا سارا الزام باد صید کے سر نہیں لگانا چاہیے۔ کچھ تو اس صورت حال کے پیدا کرنے میں خود فکشن لکھنے والوں کا قصور بھی ہوگا۔ اس کی نشاندہی بھی ضروری ہے اور نئے افسانے کے نام سے جو کچھ بھی ہمارے سامنے آتا ہے‘ اگر ہم اس میں کوئی امتیاز نہیں کرتے اور چار سطری اور چھ سطری فہرست ناموں کی بنا کر ہم ہر ایک کو خوش کر دیتے ہیں یا کم سے کم اس کی کوشش کرتے ہیں‘ یہ جو کچھ بھی ہو اس سے تنقید کا فریضہ تو ادا نہیں ہوتا۔ یعنی یوں کہیے کہ مجھے نئے افسانے میں مثال کے طور پر دو‘ تین افسانہ نگار اہم معلوم ہوتے ہیں اور جب میں نیا افسانہ کہتا ہوں تو میری مراد ہوتی ہے وہ افسانہ نگار جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد لکھنا شروع کیا۔ ظاہر ہے کہ اس دوران میں اردو افسانے کے 36 برس بیت چکے ہیں‘یعنی ساڑھے تین دہائیاں۔ تو کم سے کم چار مختلف Age Groupes کے لوگ میدانِ عمل میں اترے ہیں‘ مجھے ان میں سے اپنی پسند کے دو‘ تین‘ چار افسانہ نگار منتخب کرنے کا تنقیدی حق ہونا چاہیے اور ان پر اپنی توجہ مرکوز کرکے مجھے یہ حق ادا کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اب اگر کوئی مجھ سے تقاضا کرے کہ باقی پانچ چھ سو افسانہ نگاروںکا میں ذکر کیوں نہیں کرتا تو میری گزارش ہوگی کہ تنقید اور ڈائریکٹری میں کوئی فرق تو ہونا چاہیے اور افسوس کہ یہ فرق ہمارے غزل گو حضرات کی طرح ہمارے نئے افسانہ نگاروں کو بھی معلوم نہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی دوسرا ناقد اپنی پسند کے (اور پسند سے میری مراد ہے آزاد اور بلالحاظ گروہ بندی اور بلا لحاظ تعلقات) چند ایک دوسرے افسانہ نگاروں پر توجہ مرکوز کرے اور ان کا تجزیاتی مطالعہ کرکے ان کا کمالِ سخن واضح کرے تو میں اختلاف کے باوجود ایسے ناقد کی تحریر پڑھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اس طرح ممکن ہے باہمی اختلافِ نظر اور بحث و مباحثے کے ذریعے ہم کسی اتفاق نظر تک بھی پہنچ سکیں۔ مگر یہ کام ہمارے ہاں ہو نہیں رہا۔

حصہ