شہید عامر سعید کی یادیں

334

30اگست کی تاریخ جب بھی آتی ہے جسم میں ایک جھرجھری سی آجاتی ہے۔بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد کراچی حیدرآباد میں ایم کیوایم کا طوطی بول رہا تھا ۔17اگست 1988کو سانحہ بہالپور رونما ہوچکا تھا جس میں صدر ضیاء الحق سمیت پاک فوج کی اعلی کمانڈ امریکی سفیر سمیت لقمہ اجل بن چکے تھے ۔ایم کیو ایم کو ضیاء الحق اور غوث علی شاہ نے جماعت اسلامی کو کنٹرول کرنے کے لئے قائم کیا تھا لیکن یہ فارمولہ ان کے کنٹرول سے ہی باہر ہوگیا اور چشم فلک نے دیکھا کہ دہشت اور غنڈہ گردی کی ایماء پر قائم ہونے والی تنظیمیں جب کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہیں تو پھر ان پتنگوں کی ڈوریں بین الاقوامی قوتوں کے ہاتھ میں آجاتی ہیں ۔فرعون اور نازیوں جیسی بننے والی تنظیمیں جب قائم کی جاتی ہیں تو پھر ہلاکو خان اور چنگیز خان کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں ۔ایم کیو ایم نے روزاول سے ان فاشسٹ تنظیموں کی طرز پر کام کیا اور اپنے مخالفین پر دہشت پھیلانے کیلئے شہر میں وہ قتل وغارت گری اور لوٹ مار کا وہ بازار قائم کیا کہ الاما ن الحفیظ ،پہلے کراچی میں لسانیت کی آگ بھڑکائی اور کراچی کے لوگوں کو پنجابی ،پٹھان ،سندھی ،بلوچوں سے لڑایا۔مختلف زبانیں بولنے والی قوموں کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کو بھی انتہائی شدت کے ساتھ نہ صرف یہ کہ دیوار سے لگایا بلکہ شہر کو کوفہ اور کربلا بنا دیا گیا۔ایم کیوایم کی فسطاطیت کے اس دور میں بڑی بڑی سیاسی مذہبی جماعتوں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور ایک طرح سے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی گئی۔کراچی شہر جو کہ پاکستان کی سیاست کا دماغ کہلاتا تھا اور اس شہر کی سیاسی شخصیات جن میں شاہ احمد نورانی ،پروفیسر غٖفوراحمد ،معراج محمد خان ،شیر باز خان مزاری ،این ڈی خان ،محمود اعظم فاروقی ،منورحسن ،شاہ فرید الحق ،مشتاق مرزا کا پورے ملک میں طوطی بولتا تھااور برنس روڈ اور نشتر پارک جہاں بڑے بڑے جلسے منعقد ہوتے تھے وہ سب ایک خواب بن گئے۔
کراچی میں اگر حقیقی بنیادوں پر اگر کسی نے ایم کیو ایم کاڈٹ کر مقابلہ کیا تو وہ جماعت اسلامی اور اس کے کارکن ہی تھے۔جبکہ جے یوپی کے علامہ شاہ احمد نورانی نے بھی ایم کیو ایم کو خوب للکارا۔پیپلز پارٹی نے 1988میں سندھ میں بننے والی حکومت میں ایم کیو ایم سے اتحاد کیا اور انھیں وزارتیں بھی دی لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی سے ایم کیو ایم کی آنکھ مچولی جاری رہی اور پی ایس ایف کراچی کے صدر نجیب احمد بھی اسی خونی سیاست کی لپیٹ میں آگئے ۔جماعت اسلامی جو کہ اول روز سے ایم کیو ایم کی طرز سیاست کی سخت مخالف تھی ۔اس نے ایم کیو ایم کو خوب لتاڑا اور دہشت وحشت کی فضا میں کلمہ حق بلند کیا ۔ایم کیو ایم سے قبل اے پی ایم ایس او کی بنیاد جامعہ کراچی میں رکھی گئی اور اسے وہاں سے ہی دین بیزار لوگوں نے پرورش اورسرپرستی کی گئی اورکراچی میں خوب نفرت کی آگ کو بھڑکایا گیا۔جامعہ کراچی میں بھی اے پی ایم ایس کے سامنے کوئی کھڑا ہوا تو وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے نہتے کارکنان ہی تھے جو کہ کلاشنکوف کلچر کے سامنے عملی طورپر میدان عمل میں کود پڑے۔اے پی ایم ایس او کے بعد مہاجر قومی موومنٹ بننے پر الطاف حسین سب سے زیادہ جماعت اسلامی سے ہی خائف رہتے تھے اور جماعت اسلامی کو اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی سمجھتے تھے ۔الطاف حسین نے اپنے سرپرستوں کی ایماء پر جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف ایک بھرپور مہم شروع کر دی جماعت اسلامی کے کارکنان کو چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ان کے گھروںپر حملے کئے جاتے کالجز اور یونی ورسٹیوں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان پر وہ ظلم ڈھائے گئے جنھوں نے نازیوں کے ظلم کو بھی شرمادیا ۔لیکن شاباش ہے اسلامی جمعیت کے ان پاک بازبہادر پرعزم نوجوانوں پر کے وہ دین کی ظاطر ان ظالم جابر قوتوں کے سامنے ڈٹ گئے اور استقامت کی وہ تاریخ دھرائی کہ جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔
اہل کراچی باخوبی واقف ہیں کہ 1986سے لیکر تیس بتیس سال تک اس لسانی جماعت نے کس طرح شہر میں اپنا کنٹرول قائم کر کے اپنے مخالفین کا قتل عام کیا۔لوگوں کے جسموں پر ڈرل مشین سے سوراخ کئے گئے،ان کے جسموں کو سگرٹ سے سلگایا گیا ،تمام قومیتوں سے لڑنے مرنے کے بعد اپنے مفادات کے لئے متحدہ قومی موومنٹ بنا کر سب سے دوستی کرلی گئی لیکن اردو بولنے والے مخالفین کیلئے کوئی معافی نہیں تھی ۔الطاف حسین کی اس خونی سیاست کی بھینٹ دس لاکھ سے زائد شہری ہلاک ہوئے ور شہر کی نامور شخصیات جن میں حکیم محمد سعید،محمد اسلم مجاہد ،مرزا لقمان بیگ ،ڈاکٹرپرویز محمود،عظیم احمد طارق،بدر اقبال،عبدالرازق خان ،زہیر اکرم ندیم ،نجیب احمد ،منورسہروردی،رشید بھیا،نزیر ساجد،طارق خان ودیگر اہم شخصیات کو اس خونی سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا۔کالج اور یونی ورسٹیوں سے جو اسلامی جمعیت طلبہ کے بیس کیمپ کے طور پر کام کر رہے تھے ۔یہ معصوم بچے جو کہ دین اسلام سے سرشار اسلامی انقلاب کا خواب سجائے اپنی اصل زندگی میں قدم رکھ رہے تھے اور یہ نوجوان اپنے اسلاف کی طرح خود کو قائد اعظم ،علامہ اقبال ،لیاقت علی خان ،سرسید احمد خان ،ڈاکٹر قدیر اور مفتی شفیع بنانے کے خواب سجائے ان علمی درسگاہوں میں قدم رکھ ررہے تھے لیکن نازیوں کے شہنشاہ انھیں کن کٹا،لنگڑا،ٹنٹا،اندھا،کانا بنا دیا اور بانیان پاکستان کی اولادوں کے چہروں پر کالک مل دی گئی ۔پاکستانی ایجنسیوں سے ہاتھ کرنے کے بعد الطاف حسین بین الاقوامی قوتوں کا کھلونا بن گئے لیکن بکری ماں کب تک خیر منائے گی ۔پریس کلب پر پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کرنے پر ان ایجنسیوں کے ہوش ٹھکانے آئے تو پھر انھوں نے قائد کو بھی خوب ٹھکانے لگایا اور یہ بات عملی طور پر ثابت گئی کہ پاکستان کی ایجنسیاں جب چاہے اور جس کو چاہے ان اور آوٹ کر سکتی ہیں ۔
کراچی کے عوام اب بلاشبہ سکون چین کی زندگی گزار رہے ہیں ۔خوف دہشت وحشت اور بوری میں بند لاشوں کے کلچر کے ساتھ ساتھ الطاف حسین کا چیپٹر بھی اب تقریبا کلوز ہوچکا ہے ۔کراچی شہر میں جماعت اسلامی سمیت تمام کی تمام سیاسی ،دینی جماعتیں آزاانہ طور پر اپنی اپنی سرگرمیاں کر رہیں ۔ہمیں ان لمحات میں اپنے ان شہیدوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنھوں نے اپنا خون اور جان دے کر اس شہر کی آب یاری کی اور غنڈہ گردی کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا گیا۔عامر سعید شہیدحقوق کے ٹھیکداروںکے ہاتھوںشہید ہونے والے شہداء کے اس کارواں کا پہلا شہید تھا ۔اس دھان پان کے معصوم نحیف سے نوجوان کو ظالم دہشت گردوں نے حسن اسکوائر سے اغواء کیا اور اس کے کمزور سے جسم پر سات گولیاں ماری گئی ۔30اگست 1988سے لیکر آج تک اسلامی جمعیت کے درجنوں نوجوان اس غنڈہ گرسی کی سیاست کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے حوالے کرچکے ہیں اور ان کے پیچھے اسلامی جمعیت طلبہ کے دیگر نوجوان عامر بن عباس ،سعد بن صلاح،فرحان آصف،سید واصف عزیز،محسن اخترودیگر اپنے رب کے حضور شہادت کا رتبہ پا کرپیش ہوگئے ہیں ۔اس سے قبل 15اگست 1969کواسلامی چھاتروشیبر (اسلامی جمعیت طلبہ )ڈھاکہ یونی ورسٹی کے ناظم عبدالماک کو مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے کارندوں نے لاٹھی ،سریوں سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایااور ہمارا وہ پیارا بنگالی نوجوان اسلام اور پاکستان سے محبت کے جرم میںشہید کر دیا گیا۔عبدالمالک کی شہادت پر بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے تاریخ ساز جملہ ادا کیا تھا ۔سید مودودی ؒ نے کہا کہ ,شہید عبدالمالک کی شہادت اس راہ حق میں پہلی شہادت تو ہوسکتی ہے لیکن آخری نہیں،،سید مودودی ؒکی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی اور اس کے بعد26فروری 1981کو جامعہ کراچی میں پی آئی اے کا جہاز اغوا کرنے والو نے اسلامی جمعیت بطلبہ کے حافظ محمد اسلم کو شہید کردیا۔شہادتوں کا قافلہ رواں دواں ہے اورشہید آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں ۔کراچی میں جو امن ،سکون ،چین ہے اس کے پیچھے ان شہدا کا مقدس لہو ہے۔بے شک عامر سعید شہید ودیگر شہداء کو حیات جادوانی عطا ہوئی اور وہ سب اپنی منزل پا گئے لیکن یہ بات بھی اظہر الاالشمس ہے کہ شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ خراج لے گااپناحساب لے گا۔شہید عامر سعید اور دیگر شہدا ء آج ہم سے بس یہ کہہ رہے ہیں کہ ,لہو ہمارا بھلا نہ دینا۔

حصہ