نور مقدم۔۔۔ظاہر جعفر۔۔۔انسانم آرزوست

656

احمد، مسلم اور ابودائود میں ہے کہ غامدیہ قبیلے کی ایک صحابیہؓ تھیں۔ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتی ہیں اور زنا بالرضا کا اقرار کرتے ہوئے اپنے حمل کا اعتراف کرتی ہیں۔ آپؐ منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ وہ دوسری جانب آکر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ وہ سزا چاہتی ہیں، پاک ہونا چاہتی ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ وضع حمل کے بعد آجانا۔ وہ پھر آجاتی ہیں۔ پھر آپؐ کہتے ہیں کہ بچہ شیرِ مادر پر ہے، پھر آجانا۔ وہ چھ ماہ بعد پھر روٹی کا ٹکڑا تھامے حاضر ہوجاتی ہیں اور بالآخر سنگسار کردی جاتی ہیں۔
مجرموں سے منہ تو نہیں پھیرے جاتے۔ تفتیشی ٹیمیں بٹھائی جاتی ہیں، ان کے حلیے فرضی طور پر متعین کیے جاتے ہیں، راستوں پر ناکے لگائے جاتے ہیں، پولیس حرکت میں آتی ہے، زیادہ بڑے مجرم کے لیے سر کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرزِعمل یعنی منہ پھیرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ یہی کہ غلاظت جہاں ہے وہاں پڑی رہنے دی جائے، تعفن کو پھیلانے سے سوسائٹی کی مجموعی فضا آلودہ ہوگی۔
نور مقدم اور ظاہر جعفر… یہ خالصتاً پولیس کیس ہے۔ بہیمانہ قتل کی سزا عدالت مقرر کرے گی۔ اگر سوشل میڈیا پر لوگ اسی واقعہ کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لیتے رہیں، کیا لازم ہے کہ ہر ایک اظہار خیال کرے، اپنی رائے دے اور ہم اسی واقعے کی گونج سنتے رہیں!
سماج کو واقعی منہ پھیرنا چاہیے۔ ہر سوسائٹی میں یہ عنصر کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے۔ جیسے معذور ہوتے ہیں، جیسے پیدائشی نامکمل بچے ہوتے ہیں، جیسے مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ہوتے ہیں… وہ بہت سے نہیں ہوتے۔ معاشرے میں خیر کا عنصر اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ معذورین کو بھی سنبھال لیتا ہے، چیریٹی کے اداروں کے تحت مساکین اور یتامیٰ کا بھی سہارا بن جاتا ہے۔ غالب خیر ہی کو رہنا چاہیے۔ معاشرے کے پاکیزہ عناصر کا پیر غلاظت کے گڑھوں کے ان ڈھکنوں پر ہونا چاہیے۔ ہمارے سماج کی بدقسمتی کہ ہر کچھ دن بعد ایک ایسے واقعے کی بازگشت… اور طرفہ تماشا یہ کہ بات یوں نہیں ہوتی کہ ظالم یہ اور مظلوم یہ… خاتمہ جرم کا ہونا چاہیے۔ بات یوں جاکر ٹھیرتی ہے کہ یہ مرد اور یہ عورت… ظالم مرد ہے اور مظلوم عورت۔ ایک مرد نے عورت کے ساتھ یہ کیوں کیا؟ ریاست کہاں ہے؟ عالمی ادارۂ انصاف کہاں ہے؟ شاہراہِ دستور پر کیوں سناٹا ہے؟ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں ہلچل کیوں نہیں؟ ہم ”معصوم“ اور ”بے چاری“ عورتوں کے ساتھ اس سماج کے ظالم مرد کیا کررہے ہیں؟ دنیا کو بتائو، ہمارے سماج کا یہ مکروہ چہرہ عالمی جرائد کے سرورق کی زینت بننا چاہیے۔ آج پھر ایک مرد نے ایک عورت کے ساتھ یہ ظلم کیا ہے۔ ٹی وی کے ایک چینل پر ’’مظلوم عورتوں کی نمائندہ“ ایک خاتون کہہ رہی تھیں کہ معاشرے سے ظلم اُس وقت ختم ہوجائے گا جب مرد اس ظلم کو محسوس کرنے لگیں گے۔ سوال یہ ہے کہ وہ بے حس مرد ہیں کہاں؟
ہمارے سماج میں جو مرد ہیں وہ یا تو باپ ہیں یا بھائی، شوہر ہیں یا بیٹا۔ گھر میں ماں سے زیادہ باپ پریشان ہوتا ہے اگر بیٹی کو تعلیمی ادارے سے واپسی میں دیر ہوجائے، بہن سے زیادہ بھائی پریشان ہوتا ہے اگر چھوٹی بہن ٹریفک میں پھنس جائے۔
اس طرح کے واقعات کو فیمنسٹ سوسائٹی کی تشکیل کے لیے استعمال کرنا، مردوں کو عورتوں کے حقوق کا قاتل قرار دینا… یہ کن لوگوں کے ایجنڈے ہیں، ہم سب بہ خوبی واقف ہیں۔
بات کو تھوڑا سا آگے بڑھائیں۔ اگر ایک لڑکا بے راہ رو ہے، اُس نے ایک لڑکی پر، جس سے اُس کے ہر طرح کے تعلقات تھے، بدترین ظلم کیا تو والدین نے کیسی تربیت کی ان بچوں کی؟ کون کہے گا کہ باپ کے ساتھ ماں قصوروار نہیں ہے! باپ تو تلاشِ معاش کے لیے بیشتر وقت گھر سے باہر ہی گزارتے ہیں۔ بچوں کی تربیت میں کلیدی کردار تو ماں کا ہوتا ہے۔ یہاں ان دونوں کی مائیں کہاں سو رہی تھیں؟ ان کو کیوں نہ پتا چلا کہ ان کی اولادیں بداخلاقی و بدکرداری کی اتنی اتھاہ دلدل میں اتر چکی ہیں۔
تربیت ایک دن یا چند سال کا کام تو نہیں ہوتی۔ گھروں کا ماحول والدین تشکیل دیتے ہیں۔ بیٹی کے بوائے فرینڈز ہیں تو ماں بروقت شادی کے لیے باپ پر زور کیوں نہیں ڈالتی؟ باپ سے بچوں کے روز و شب کیوں چھپائے جاتے ہیں؟ ماں اور بچوں میں اتنے فاصلے کیوں ہیں کہ ماں کو پتا ہی نہیں اولاد کس جہنم کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ یہاں بھی قصوروار گھر کا ماحول اور والدین بالخصوص ماں کی تربیت ہے۔
غریب گھرانوں کے بچے حسرت رکھتے ہیں کہ کاش ہمارے والدین کے پاس سرمایہ ہوتا تو ہم بھی اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھتے، ہم بھی شہر کے پوش علاقوں میں رہتے، نئی برانڈ کی گاڑی ہوتی، سیر سپاٹے کرنے کبھی بیرونِ ملک بھی جاتے۔
اس واقعے نے یہ قلعی بھی کھول دی کہ جو بچے منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں، جن کی سب خواہشیں لبوں پر آنے سے پہلے ہی پوری ہوجاتی ہیں، جہاں باپوں کی زندگی کا ایک ہی مشن ہوتا ہے کہ:
تیری ہر خواہش ہو پوری
ہے تمنا یہ میری
جہاں ’’پیرنٹنگ“ اسی کو سمجھا جاتا ہے کہ بچے کی ہر ضد پوری کی جائے، اس کو ہر تعیش مہیا کیا جائے، اس کو کسی مشقت میں نہ ڈالا جائے، اس کے جذبات کو کبھی بھی ٹھیس نہ لگے… اس ”کلاس“ کے بچے زندگی میں کم ہی کوئی بڑا کام یا معاشرے کی کوئی خدمت کر پاتے ہیں۔ بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھ کر دیکھیں۔ مجبوری، احساسِ محرومی انسان کو جدوجہدپر ابھارتے ہیں۔ جن کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں وہ اُن کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں جن کو ہر تعیش میسر ہوتا ہے۔
دھن دولت کی بس یہ حقیقت ہے کہ آج پوش گھرانے کے دو بچے ہر گھر کا عنوان ہیں۔ عبرت کے ساتھ ان کے والدین اور اسٹیٹس کا ذکر ہورہا ہے۔ دولت کے نشے نے کیا گل کھلائے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی فقر کو اپنے اور اُمت کے لیے پسند نہیں کیا تھا… کیوں کہ مال کا فتنہ، فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ ہے۔ دولت کی ریل پیل اکثر کردار کو بہا کر لے جاتی ہے۔
بات وہیں آکر رکتی ہے کہ ہم لاکھ واویلا کریں، اصل مسائل کے بجائے انہی عنوانات کو کھوجتے رہیں، لیکن ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ریاست کی باگیں ہم نے اُن لوگوں کے ہاتھوں میں دی ہیں جو خود ایلیٹ کلاس کے نمائندہ ہیں، ان کو معاشرے کے حقیقی مسائل کا ادراک ہے، نہ وہ کرنا چاہتے ہیں۔
کتنے برس سے یہ خبر میڈیا پر موضوع بنتی رہی ہے کہ اسلام آباد کے اسکولوں میں منشیات عام ہورہی ہے، مافیا سرگرم ہے، منشیات کا دھندہ عروج پر ہے۔ مغربی ممالک میں منشیات جرم نہیں، وہاں ایسے واقعات میں بھی ”خبریت“ نہیں ہوتی۔ نہ وہاں ریپ کے واقعات میڈیا پر آتے ہیں نہ خودکشی کے، نہ بوائے فرینڈ کے ہاتھوں زخمی ہونے کے۔ اس لیے کہ اُس تہذیب کی جڑوں میں جو بیج پڑے ہیں گھر اسی کے شایانِ شان ہیں۔ جب آپ اپنی تہذیب کو خودکشی کے دہانے پر لے آئے، معاشرے کے وسائل سمٹ کر چند ہاتھوں میں آگئے، تعلیمی اداروں میں منشیات عام ہونے لگی، مخلوط تعلیم الگ اپنے اثرات دکھا رہی ہے، سماج میں خیر کے پہلو اتنے بے بس ہیں کہ اگر چوکیدار دروازہ کھول دیتا تو نور مقدم بچ سکتی تھی… اگر چیخ و پکار سن کر پڑوسی گھر پر ہلہ بول دیتے تو مجرم شاید اقدام ِقتل سے باز آجاتا۔
اسلام آباد میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مسجد حفصہ کا اندوہناک واقعہ یاد آجاتا ہے جس کی ابتدا ہی ”مساج سینٹروں“ کے خلاف احتجاج سے ہوئی تھی کہ چائنیز، مساج سینٹرز کے نام پر، سرِعام فحاشی پھیلا رہے ہیں۔ اور جواباً ریاست حرکت میں آئی تو بمباری لال مسجد پر ہوئی۔ قال اللہ اور قال الرسولؐ کہنے والی زبانیں لہولہان ہوگئیں، ملبے کے ڈھیر سے اُن کی سربریدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔
مولانا مودودیؒ تو تقریباً سو برس قبل ان تعلیم گاہوں کو ’’قتل گاہیں“ کہہ گئے ہیں۔ ان قتل گاہوں سے نکلنے والوں کا ریکارڈ کئی اونٹوں پر آسکتا ہے۔ لیکن ہر ذی عقل (معاشی حیوان) ’’انسان“ کب ہوتا ہے؟ ’’بڑے آدمیوں“ کی بھیڑ میں، بے پناہ ہجوم میں انسانوں کو تلاش کرنا پڑتاہے۔ ایسے انسان جو اپنی قسمت کے فیصلے خود کریں۔ جہاں اقتدار کی باگیں ان کے ہمدردوں کے پاس ہوں، جن کو سماجی مفاد عزیز ہوں۔ ہاں! سماج کی تربیت میں آپ میڈیا کے کردار کی کیسے نفی کر سکتے ہیں! نورمقدم کے کیس میں ڈراموں کی جھلک ہے جہاں شادی کو بوجھ ثابت کیا جاتا ہے، جہاں خاندانی زندگی کو فساد کی جڑ، اور مرد کو عورت کا دشمن ثابت کرنے پر سارا زور لگایا جاتا ہے۔
آج ہمارے شہروں کے گرد پیرِ رومی کا ’’شیخ“ چراغ ہاتھوں میں لیے پھر رہا ہے کہ ’’انسانم آرزوست“۔

حصہ