منتخب غزلیں

148

مرزا غالب
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل
گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہونے تک
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
…٭…
ماہر القادری
کس قیامت کی گھٹا چھائی ہے
دل کی ہر چوٹ ابھر آئی ہے
درد بدنام تمنا رسوا
عشق رسوائی ہی رسوائی ہے
اس نے پھر یاد کیا ہے شاید
دل دھڑکنے کی صدا آئی ہے
زلف و رخسار کا منظر توبہ
شام اور صبح کی یکجائی ہے
ہم سے چھپ چھپ کے سنورنے والے
چشم آئینہ تماشائی ہے
دل تمنا سے ہے کتنا بے زار
ٹھوکریں کھا کے سمجھ آئی ہے
تم سے ماہرؔ کو نہیں کوئی گلہ
اس نے قسمت ہی بری پائی ہے
…٭…
عبد العزیز خالد

بھولوں انہیں کیسے کیسے کیسے
وہ لمحے جو تیرے ساتھ گزرے
ہے راہنما جبلت ان کی
بے حس نہیں موسمی پرندے
اے دانشور مفر نہیں ہے
اقرار وجود کبریا سے
جانا کوئی کارساز بھی ہے
ٹوٹے بن بن کے جب ارادے
محراب عمود برج قوسیں
رس میں ڈوبے بھرے بھرے سے
بحر کافور میں تلاطم
بھونرا بیٹھا کنول کو چوسے
چاک افقی حریم زہرہ
رہ رہ کے مدن ترنگ جھلکے
جھلمل جھلمل بدن کا سونا
لہرائیں لٹیں کمر سے نیچے
کیا چاند سی صورتیں بنائیں
قربان اے نیلی چھتری والے
…٭…
عبد الحفیظ نعیمی

اس طلسم روز و شب سے تو کبھی نکلو ذرا
کم سے کم وجدان کے صحرا ہی میں گھومو ذرا
نام کتنے ہی لکھے ہیں دل کی اک محراب پر
ہوگا ان میں ہی تمہارا نام بھی ڈھونڈو ذرا
بدگمانی کی یہی غیروں کو کافی ہے سزا
مسکرا کر پھر اسی دن کی طرح دیکھو ذرا
وقت کے پتھر کے نیچے اک دبا چشمہ ہوں میں
آؤ پیاسو مل کے یہ پتھر اٹھاؤ تو ذرا
حسن اک دریا ہے صحرا بھی ہیں اس کی راہ میں
کل کہاں ہوگا یہ دریا یہ بھی تو سوچو ذرا
دو کلوں کے بیچ میں اک آج ہوں الجھا ہوا
میری اس کم فرصتی کے کرب کو سمجھو ذرا
وسعت کون و مکاں بھی اب ہوئی جاتی ہے تنگ
اور بھی کچھ اے جنوں والو ابھی سمٹو ذرا
تھک گئے ہوگے بہت پر پیچ تھی چاہت کی راہ
آؤ میری گود میں سر رکھ کے سستا لو ذرا
ایک مٹتے لفظ کے بھی کام آ جاؤ کبھی
سنگ دل پر مٹنے سے پہلے مجھے لکھ لو ذرا
ہے تعاقب میں نعیمیؔ سایہ سا اک روز و شب
دوست ہی شاید ہو کوئی مڑ کے تو دیکھو ذرا
…٭…
کے الیکٹرکپ /وفیسر عنایت علی خان کی نظم

جب واپڈا والوں سے کہا جا کے کسی نے
یہ کس نے کہا ہے ہمیں راتوں کو سزا دو
بولے ہمیں اقبال کا پیغام ملا تھا
اُٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
اور اُٹھتے ہوئے بَاس نے یہ اور کہا تھا
کاخِ اُمراء کے در و دیوار سجا دو
کاخِ امرا کے کہیں فانوس نہ بُجھ جائیں
بہتر ہے چراغِ حرم و دیر بجھا دو
جس زون سے ورکر کو میسر نہ ہو روزی
اس زون میں کُنڈوں کا چَلن اور بڑھا دو
جو بندۂ مومن نہ ہو سَیٹنگ پہ رضامند
دو لاکھ کا بِل ہاتھ میں تم اِس کے تھما دو
…٭…
الطاف حسین حالی کے منتخب اشعار
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
…٭…
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
…٭…
قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں
…٭…
یروشلم/نعیم صدیقی

یروشلم یروشلم تو ایک حریم محترم
تیرے ہی سنگ در پر آج منہ کے بل گرے ہیں ہم
تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بچشم نم
یروشلم یروشلم یروشلم یروشلم
…٭…

دلاور فگار
عجب اخبار لکھا جا رہا ہے
کہ منشا وار لکھا جا رہا ہے
لکھی ہے حال دل میں ہائے ہوز
یہ حال زار لکھا جا رہا ہے
کہیں گولی لکھا ہے اور کہیں مار
یہ گولی مار لکھا جا رہا ہے
میں رشتہ دار ہوں اس کا سو مجھ کو
سرشتہ دار لکھا جا رہا ہے
مزاج یار برہم ہے کہ اس کی
مجاز یار لکھا جا رہا ہے
سمندر پار پڑھنے جا رہا ہوں
سمندر پار لکھا جا رہا ہے
…٭…
ابن انشا
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانا کیا
پھر ہجر کی لمبی رات میاں سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو شرمانا کیا گھبرانا کیا
اس روز جو ان کو دیکھا ہے اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی وہ بات بھی تھی افسانا کیا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانا کیا
اس کو بھی جلا دکھتے ہوئے من اک شعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا یوں ماٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا
…٭…

اس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا

تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں

میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا

مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر

راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا

ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفا

اک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاؤں گا
ہنس کے بولا کرو بلایا کرو

آپ کا گھر ہے آیا جایا کرو

مسکراہٹ ہے حسن کا زیور

مسکرانا نہ بھول جایا کرو

حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہو

جھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو

تاکہ دنیا کی دل کشی نہ گھٹے

نت نئے پیرہن میں آیا کرو

کتنے سادہ مزاج ہو تم عدمؔ

اس گلی میں بہت نہ جایا کرو

اتنا چپ چاپ تعلق پہ زوال آیا تھا

دل ہی رویا تھا نہ چہرے پہ ملال آیا تھا

صبح دم مجھ کو نہ پہچان سکا آئینہ

میں شب غم کی مسافت سے نڈھال آیا تھا

پھر ٹپکتی رہی سینے پہ یہ شبنم کیسی

یاد آئی نہ کبھی تیرا خیال آیا تھا

کہکشاں میرے دریچوں میں اتر آئی تھی

میرے ساغر میں ترا عکس جمال آیا تھا

اب نہ وہ ذوق وفا ہے نہ مزاج غم ہے

ہو بہو گرچہ کوئی تیری مثال آیا تھا

اکبر الہ آبادی کے منتخب اشعار
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
…٭…
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
…٭…
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
…٭…
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
…٭…
جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے
…٭…
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے
…٭…
رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد
…٭…
اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے
…٭…
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے
…٭…

میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے
نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے
۔۔
غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئے
میں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئے
۔۔۔
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
۔۔۔
اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا
۔۔۔۔۔

حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایا
کہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے
۔۔۔۔
جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے
۔۔
کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

حصہ