عید الاضحی پر قربانی اور ہمارا طریقہ عمل

104

ماسی کام والی: باجی تھوڑا سا اور گوشت ڈال دیں ہم آٹھ نو بندے ہیں۔ سب کو ایک ایک بوٹی مل جائے گی۔
مسز سہیل: تم لوگوں کا پیٹ تو بھرتا ہی نہیں ہے‘ جتنا دو کم ہے یہ لو (اس نے غصے سے) گائے کے گوشت میں سے دو‘ تین چھیچھڑے نما ٹکڑے اٹھا کر ماسی کی تھیلی میں ڈال دی۔
سہیل صاحب: ماشاء اللہ گائے کافی بڑی تھی‘ پورے محلے میں ہماری گائے سب سے بڑی اور جاندار تھی کم از کم چار من گوشت تو ہوگا ہی۔
مسز سہیل (طنزیہ مسکراتے ہوئے) اب برابر والوں خو ہی دیکھو دو بکرے قربانی کیے ہیں ایک تو چھوٹا تھا میں نے تو رحیمہ بہن سے کہا کہ اس بکرے کو تو سنبھال کر رکھو کہیں کوئی چیل نہ لے اُڑے۔ (پھر زور زور سے قہقہے لگانے لگی) مسز سہیل نے دو‘ تین پیکٹ (تقریباً آدھا کلو) کے ناگواری سے پڑوسیوں کو بھجوا دیے۔
سہیل صاحب: چار پیکٹ دوسرے بھی بنا لو۔
عاقب (بیٹا): شام کو دونوں پھوپھیوں اور ماموں کے گھر بھی دے آیئے گا۔
ارے ہاں سامنے بلڈنگ میں یعقوب صاحب رہتے ہیں انہوں نے قربانی نہیں کی اس سال‘ انہیں بھی تھوڑا سا گوشت بھجوا دینا۔
مسز سہیل نے شوہر کو غصے سے دیکھا اب ایرے غیرے سب کو گوشت بانٹتی پھروں اور آپ کی بہن صاحبہ وہ کون سا ہمارے گھر گوشت بھیجتی ہیں نہ ہی…
سہیل صاحب (بیوی کی بات کاٹتے ہوئے) نیک بخت ثمینہ بہن ایک بکرا ہی قربانی کرتی ہیں ان کا سسرال بھی بڑا ہے‘ سب کو بھیجتی ہیں تو بچتا ہی کیا ہوگا… اور یعقوب صاحب کو…
مسز سہیل: بس بس آپ کی بہن کو تو بھجوا رہی ہوں لیکن یہ یعقوب صاحب کی بیوی تو صحیح طریقے سے سلام بھی نہیں کرتیں۔
سہیل صاحب (ہنس کر): نیک بخت تم ہی اچھی طرح سلام کر لیا کرو۔
…٭…
آج عید قرباں کا ساتواں دن تھا۔
مسز سہیل: اے ہے سارے گھر میں بدسبو ہو گئی ہے‘ گوشت ڈیپ فریز والا تو صحیح حالت میں ہے لیکن فریج والا خراب ہو رہا ہے‘ لائٹ بھی تو بار بار جا رہی ہے۔
انعم: اللہ امی! واقعی میں فریج سے تو پانی بھی نکال کر نہیں پیا جارہا ہے… آپ اس گوشت کو ماسی کو دے دیں۔
مسز سہیل: اے ہاں یہ صحیح ہے… اس نے بیٹی کے ساتھ مل کر فریج میں سے گائے کا گوشت نکالا جو تقریباً آٹھ‘ دس کلو تھا‘ اوپر اوپر سے تو پھر بھی صحیح تھا تھیلوں میں سے باہر نکالا تو نیچے والا گوشت بالکل سبز رنگ کا ہو چکا تھا۔
مسز سہیل (ماسی سے جو اس وقت باتھ روم دھو کر لائونج کی صفائی کرنے آئی تھی) یہ لو خیرالنساء ماسی یہ گوشت لے جانا جا کر پکا لینا۔
ماسی نے گوشت کی طرف دیکھا تو کہنے لگی نہ… نہ باجی یہ تو بالکل سڑ چکا ہے مجھے گھر جاتے جاتے ابھی تو گھنٹہ اور لگے گا جب تک تو…
مسز سہیل (بیٹے عاقب سے): بیٹا! یہ گوشت سامنے کچرا کنڈی میں ڈال کر آئو‘ بلی‘ کتے کھا لیں گے۔
عاقب: امی یہ تو بہتر زیادہ گوشت ہے اور… اور اس وقت دن کی روشنی میں… رات کو پھینک آئوں گا۔
مسز سہیل: دیکھ نہیں رہے ہو سارے گھر میں بدبو ہو گئی ہے‘ شام تک تو نہ جانے کیا حالت ہوگی۔
مجبوراً عاقب گوشت کا بڑا تھیلا لے کر گیا۔ اس نے پوری کوشش کی کہ لوگوں کی نظر نہ پڑے لیکن بہت سے لوگوں کی نظروں سے بچ نہ سکا۔
سرمد (احمد صاحب سے) یار کیا اللہ کی نعمتوں کی بے حرمتی ہے؟ کس طرح ضائع کیا گیا ہے رزق‘ محلے میںدس گھر ایسے ہیں جو قربانی نہیں کرتے اگر ان دس گھروں میں عید کے دن یہ گوشت بھجوا دیا جاتا تو یقینا انہیں بھی خوشی ہوتی۔
…٭…
خدیجہ: الحمدللہ گوشت تو ماشاء اللہ اچھا ہے اور صحیح نکلا ہے‘ کٹائی بھی مناسب ہو گئی ہے۔
اسماعیل صاحب: ہاں اللہ کا شکر ہے… ماشاء اللہ جانور بھی فربہ اور خوب صورت تھا۔
خدیجہ: ارے امبر بیٹا! آجایئے پہلا کام تو اس کی تقسیم ہے‘ آپ باورچی خانے کی الماری سے شاپرز (تھیلیاں) اور پین اور کاپی بھی لے کر آئیں۔
خدیجہ نے شوہر اور بیٹوں کے ساتھ مل کر ان رشتے دروں کے لیے پیکٹ بنائے (گوشت کے) جو کسی وجہ سے اس سال قربانی کرنے سے محروم رہ گئے تھے۔ (سسرال اور میکے کے وہ گھر اس کی نظروں میں تھے۔)
عاصم بیٹا! ہر پیکٹ میں اتنا گوشت ڈالو کہ ایک وقت کا پیٹ بھر کر سالن بن سکے۔
خدیجہ: ارے یہ والا پیکٹ اٹھانا… یہ ریحانہ کے لیے ہے اس میں زیادہ گوشت ڈالنا۔ بیٹا امبر صحیح ناموں کے اسٹیکر لگانا… لو اس پر ریحانہ کا نام لکھنا‘ بے چاری غریب عورت ہے‘ دو وقت تو سالن بن سکے۔ خدیجہ لسٹ میں نام دیکھ دیکھ کر پیکٹ بنواتی گئی۔ رشتے داروں کے بعد اس نے اسی طرح ماسیوں اور چوکیداروں کے لیے پیکٹ بنوائے۔
عاقب: اور امی یہ گوشت آپ نے الگ کیا ہوا ہے؟
خدیجہ: بیٹا غریب آبادی میں بہت سے لوگ ہیں ان تک پہنچانا بھی فرض ہے۔
…٭…
یہ دونوں مذکورہ بالا واقعات اور حالات اکثر و بیشتر ہمارے سامنے عیدالاضحی پر نظر آتے ہیں‘ میری نظروں سے بھی گزرے… آپ سب خود بھی صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمیں اس موقع پر کس طرح گوشت کی تقسیم کرنی چاہیے… اور قربانی اخلاص و مسنون طریقے سے انجام دینے میں ہی اجر ہے۔ آپؐ کی زندگی سے ہمیں زندگی کے تمام امور کی انجام دہی کے لیے روشن مثالیں ملتی ہیں۔ نیکی کا ہر عمل جس میں نیت صرف رب العالمین کی رضا درکار ہو‘ قبولیت کا درجہ رکھتی ہے۔ احادیث مبارکہ سے تو یہ بھی واضح ہے کہ قربانی کے جانور کی خریداری کے وقت کن چیزوں کا خیال رکھنا ہے جیسا کہ ترمذی کی حدیث مبارکہ سے واضح ہے کہ ایسے لنگڑے جانوروں کی قربانی نہ کی جائے جس کا لنگڑا پن واضح ہو‘ نہ ایسے اندھے جانور کی جس کا اندھا پن واضح ہو اور نہ ایسے بیمار جانور کی جس کی بیماری واضح ہو اور نہ ایسے لاغر‘ کمزور کی قربانی کی جائے جس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔ اسی طرح ترمذی کی حدیث سے یہ بھی واضح ہے کہ گائے‘ اونٹ کی قربانی میں سات افراد تک کی شراکت ہو سکتی ہے جیسا کہ فرمایا کہ ’’ہم نے آپؐ کے ساتھ حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے کو سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا۔‘‘ (ترمذی)
قربانی کے بعود اس کے گوشت کی تقسیم کا مرحلہ آتا ہے۔ بندہ خود بھی تناول فرماتا ہے‘ عزیز و اقارب ‘ آس پڑوس اور خصوصی طور پر غربا کا حصہ بھی نکالتا ہے۔ میرے دین نے ہر عمل کے موقع پر حقوق العباد کو مدنظر رکھا ہے۔
سبحان اللہ… قربانی کے گوشت کی تقسیم کا یہی افضل طریقہ ہے۔ بجائے اپنے فریزر اور فریج کو بھرنے سے آس پاس پر نظر ضرور دوڑانی چاہیے یہی طریقہ ہمیں آپؐ اور صحابہؓ کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ گرچہ قربانی کا تمام گوشت خود اپنے گھر میں رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن افضل طریقہ اور سنت نبویؐ بھی یہی ہے کہ دوسروں کو بھی شامل کیا جائے اور یقین کریں اس عمل سے آپ کو سکون ملے گا‘ اپنے آس پاس عزیز و اقارب میں بھی نظر رکھیں کہ جو قربانی کے فریضہ سے محروم رہے ہیں ان تک حصہ ضرور پہنچائیں۔ پھر اگلا مرحلہ ہے گوشت کا استعمال جی ہاں بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ گوشت کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں بلکہ سبزیوں اور ترکاریوں کا کھانا ترک کر دیا جاتا ہے‘ میز پر صرف گوشت کی ڈشز نظر آتی ہیں عید کے دنوں میں۔ یہ روش غلط ہے‘ ہر چیز کا استدمال اعتدال کے ساتھ کرنے میں نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہے۔ میرے مولا نے ہر سبزی‘ ہر کھانے میں نہ صرف غذائیت بلکہ افادیت رکھی ہے۔ میرے نبیؐ گوشت کھانا پسند فرماتے تھے گوشت آپ کی پسندیدہ غذا تھی لیکن اعتدال اور توازن برقرار رکھتے۔ اکثر لوگ اس قدر گوشت استعمال کرتے ہیں کہ نہ صرف بدہضمی کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ کولیسٹرول بڑھ جانے کی شکایت بھی کرتے ہیں زیادہ مرغن و مسالحے دار غذائیں کبھی کبھار تو ہضم کی جاسکتی ہیں لیکن روز اور ہر کھانے کے وقت ان کا استعمال نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
دین اسلام ضابطۂ حیات ہے‘ کھانے پینے کے آداب اور طریقے بھی ہمیں پہنچائے گئے ہیں۔ زیادہ پیٹ بھر کر کھانے سے روکا گیا ہے‘ آرام سے بیٹھ کر داہنے ہاتھ سے کھانا کھانا سنت نبویؐ ہے۔ ایک صحابی رسول فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور آپؐ کی پرورش میں تھا اور (کھاتے وقت) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا۔ اس لیے آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو‘ داہنے سے کھایا کرو اور برتن میں اپنی جانب سے کھایا کرو۔ (مفہوم حدیث)
غرض کہ تمام عبادات میں حقوق العباد کی ادائیگی اور معاشرتی زندگی کو مستحکم کرنے کے لیے تعلیمات سے نوازا گیا ہے جس کو مکمل طور پر اپنانا اور اپنی ذات کو …… کرنا بندہ مومن کا اوّلین کا فرض ہے۔ انہی تعلیمات سے اپنی اولاد کو آراستہ رکرنا بھی والدین کا فرض اوّلین ہے۔
عموماً بڑوں کا کیا گیا عمل‘ چھوٹٰے بھی اپناتے ہیں چنانچہ جو والدین بچوں سے ’’اچھائی‘‘ کی توقع رکھتے ہیں‘ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ’’اچھائی‘‘ اپنی ذات میں پیدا کریں۔
رب العزت ہم سب کو بھی سنتِ ابراہیمی قربانی کا فریضہ صحیح طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے کیوں کہ میرے رب کو ہمارا اخلاص ہی پسند ہے۔ سبحان اللہ۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورۃ الحج میں فرمایا کہ اللہ تک تمہاری قربانیوں کا گوشت یا خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

حصہ