پروفیسر عنایت علی خان عظیم مزاح نگار شاعر

134

نامور مزاح نگار شاعر، کالم نویس،ادیب اور ماہر تعلیم پروفیسر عنایت علی خان کا شماراکبر الہ آبادی جیسے عظیم شعراء کی صف میں کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری کا معیار ہے ہی اتنا بلند کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اپنی ظریفانہ شاعری سے قوم کے ہر طبقے کو جھنجوڑنے کی کوشش کی اور اپنی ساری عمر ملک وملت کی اصلاح میں کھپا دی۔
وہ 10؍ مئی1935ء کو ہندوستان کی ریاست ٹونک میں پیدا ہوئے اور 26؍جولائی 2020ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔
قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد نومبر 1948ء میں ہجرت کرکے حیدرآباد میںسکونت اختیار کی۔ گورنمنٹ اسکول، حیدرآباد سے میٹرک اور سٹی کالج حیدرآباد سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔1962ء میں سندھ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحانات میں امتیازی پوزیشن سے کامیابی حاصل کی۔
تدریس کے حوالے سے انھوں نے بی ایڈ کا امتحان پاس کرکے اپنے علمی سفر میں ایک اور سنگ میل عبور کیا اور چار عشروں تک تدریس کے مقدس فریضے کو انجام دیتے رہے، اس دوران کیڈٹ کالج پٹارو، تعمیر نواسکول ، غزالی کالج اور مسلم کالج حیدرآباد وغیرہ سے وابستہ رہے۔ عنایت صاحب نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے زیر انتظام کئی درسی کتابیں بھی تحریر کیں مگر ان کی اصل وجہ شہرت ان کی لافانی شاعری ہے جس کی بنا پر وہ ہمیشہ اپنے بے شمار چاہنے والوں کے ذہنوں اور دلوں میں زندہ رہیں گے۔ اگرچہ انھوں نے دیگر اصناف میں بھی اپنا لوہا منوایا لیکن ان مزاحیہ شاعری ہی ان کی اصل پہچان رہی اور اپنے اسلوب کی وجہ سے ان کو اکبر ثانی بھی کہا جاتا تھا، ان کا انداز اکبر الہ آبادی سے ملتا تھا۔خود عنایت صاحب نے ایک انٹرویو میں کہا تھا:
’’میں اور میرے والد بھی اکبر الہ آ بادی سے بے حد متاثر ہیں۔ بلکہ میری شاعری میں اکبر الہ آبادی کا ہی رنگ نظر آتا ہے۔ اکبر الہ آبادی ایک ذہین اور بڑے شاعر تھے۔ انھوں نے سماجی مسائل پر اپنی شاعری کے ذریعہ بھرپور طنز کیا ہے، اور اپنی طنزیہ اور مزاحیہ شاعری کے ذریعے اپنی قوم کو مسائل اور ان کے حل کرنے کا شعور دیا۔انھوں نے مسلمانوں کی بھرپور نمائندگی کی‘‘۔
عنایت صاحب نہ صرف پیدائشی شاعر تھے بلکہ شاعری ان کے خون میں شامل تھی۔ ان کے والد ہدایت علی خان ٹونکی اپنے دور کے مشہور شاعر شمار کیے جاتے ہیں۔ اسی کے علاوہ ان کے نانا، دادا اور چچا جان بھی عمدہ شعر کہتے تھے ۔
میرے ان سے باقاعدہ تعلقات تو نہیں رہے ، البتہ تھوڑی بہت ملاقاتیں اور قلبی تعلق ضرور رہا۔ یہ شاید سن 2008ء کے اوائل کی بات ہے، جب انگریزی کے نامور صحافی اورمیرے دوست خالد رحمن (مرحوم) نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ انہیں اپنے کسی پروجیکٹ کے لیے عنایت صاحب کا انٹرویو ریکارڈ کرنا ہے، اس لیے کسی ماہر کیمرہ مین کے ساتھ آجائیں۔ میں ایک سینئر کیمرہ مین الطاف بھائی کو(جواس وقت ڈان نیوز ٹی وی میں تھے) اپنے ساتھ لے کر ایک صبح نارتھ ناظم آباد کے بلاک ایف پہنچ گیا، وہ شاید ان کے صاحبزادے کا گھر تھا۔ کیونکہ عنایت صاحب حیدر آباد میں رہتے تھے۔ انٹرویو تو خیر بہت عمدہ ہوا، لیکن اس دوران میں عنایت صاحب کے اخلاق، سادگی اور اپنائیت سے میںبہت متاثر ہوا۔ ہم لوگ ان کے پاس تقریباً ڈھائی تین گھنٹے رہے۔ خالدرحمن مرحوم بھی ہمارے ساتھ تھے، عنایت صاحب کی بات چیت میں بھی شگفتگی تھی اور وہ بہت محبت سے ہمیں ناشتہ کراتے رہے۔ اس ملاقات کی یادیں ہمیشہ دل پر نقش رہیں گی۔
اس کے بعد کئی مشاعروں اور پروگراموں میں ان سے ملاقات ہوتی رہی، نہ جانے کیوں میں ہر پروگرام میں ان سے ضرور ملتا ۔ مجھے یہ تو نہیں پتا کہ وہ مجھ سے واقف ہوئے تھے یا نہیں، البتہ میں ان سے بہت محبت کرنے لگا تھا، ان کی شاعری کی وجہ سے نہیں ، بلکہ ان کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے۔ شاعر، ادیب یا کوئی بھی نامور یا مشہور شخص کے کام کے بجائے لوگ اس کے اخلاق سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ بدمزاج ، تندخو یا مغرور شخص اپنی تخلیق کی بدولت تو صدیوں یاد رکھا جاسکتا ہے، مگر اس کے عہد کے لوگ جن سے وہ ملتا جلتا ہے، اس سے ہمیشہ عاجز ہی رہتے ہیں۔
ان کی یاد اس وقت شدت سے آئی ، جب ہم نے مطالعہ اور کتاب کلچر کے فروغ کے لیے قائم کیے گئے ادارہ علم دوست پاکستان کی جانب سے 9؍نومبر 2020ء کو پہلے علم دوست ایوارڈز کی تقریب منعقد کی اور پروفیسر عنایت علی خان کو بعد ازمرگ بہترین شاعر کا ایوارڈ دیا۔ وہ ایوارڈان کے صاحبزادے اطہر علی خان نے وصول کیا تھا۔
عنایت صاحب کا کلام براہ ِ راست دلوں پر اثرکرتا ہے، نامور دانشور، مصنف اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم نے لکھا ہے کہ پروفیسر عنایت علی خان کے کلام کی بنیادی خصوصیت ان کا وہ سماجی شعور ہے جو ان کی ساری شاعری میں اثر و تاثیر کا جادو جگاتا ہے۔ وہ اپنی شاعری کا مواد اپنے گرد و پیش سے حاصل کرتے ہیں اور اس میں اپنا تنقیدی شعور شامل کرکے اسے ایک ایسا رخ ایک ایسا زاویہ دیتے ہیں جو اُن کا امتیاز ہے۔ وہ عہد حاضر کے معاشرتی مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں۔ اور کیونکہ معاشرے کے شعور میں وہ مسائل و واقعات موجود ہوتے ہیں، اس لیے ان کی شاعری ہر سننے والے اور پڑھنے والے کو متاثر کرتی ہے۔ پروفیسر عنایت علی خان کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں، جن میں ازراہِ عنایت، عنایات اور عنایتیں کیا کیا، عنایت نامہ اس کے بعد کلیات عنایت شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ دو کتابیں بچوں کی نظموں اور کہانیوں پر مشتمل ہیں۔
اپنی قومی شناخت اورتشخص کے بارے میں وہ بہت واضح موقف رکھتے تھے۔مغرب کی تقلید سے پروفیسر عنایت علی خان کو شدید نفرت تھی۔ان کی تصانیف میں اپنی مٹی پر چلنے کا قرینہ بتایا گیاہے۔ وہ ظریفانہ شاعری کو مشغلے کے بجائے اپنی زندگی کا نصب العین سمجھتے تھے۔
پروفیسر عنایت علی خان کے چند اشعار قارئین کی نذر:
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
…٭…
ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں
بنے پھر ان کے ہم سفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہوگئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہوا ہے جدّہ میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آگئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
…٭…
سیب سے گال ہیں خوبانی کی جیسی تھوڑی
شربتی آنکھیں بھی چہرے پہ بڑی پیاری ہیں
ساری چیزیں اگر ایسی ہیں تو تقصیر معاف
تو پھر آ پ کی بیگم نہیں افطاری ہیں
…٭…
پروفیسر عنایت علی خان نے بچوں کے لیے چالیس کتب لکھیں۔بچوں کے لیے انھوں نے جو نظمیں اور کہانیاں لکھیں وہ بچوں میں بہت مقبول ہوئیں۔ پروفیسر عنایت علی خان نے ’’بول میری مچھلی‘‘ کے عنوان سے بچوں کے لیے جو تخلیقات پیش کیں اُن سے مولانا اسماعیل میرٹھی اور صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی یاد تازہ ہوگئی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے بھی پروفیسر عنایت علی خان کا منتخب کلام شائع کیا۔انھوں نے مختلف مدارج کے طلباکے لیے اِسلامیات، اُردو اور تاریخ کی کئی نصابی کتابیں بھی مرتب کیں۔
بچوں کی نفسیات سے پروفیسر عنایت علی خان واقف تھے۔انھوں نے جانوروں کی سبق آموز کہانیوں سے نئی نسل کو محبت،اخوت، محنت،لگن اورفرض شناسی کا درس دیا۔سال 2003ء میں پروفیسر عنایت علی خان کوبچوں کے بہترین ادیب کا ایوارڈ مِلا۔اُن کے لکھے ہوئے بچوں کے کئی پرگرام ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئے جنھیں بچوں نے بہت پسندکیا۔
پروفیسر عنایت علی خان کی گل افشانی ٔ گفتار سے محفل کِشت ِزعفران میں بدل جاتی تھی۔ اُن کی ایک مزاحیہ غزل جس کی ردیف ’’اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ ملک بھر میں ہونے والے مشاعروں میں اکثرفرمائش اِس کی جاتی تھی:
کسمسانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی
بِلبِلانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی
ایک رقاص نے گا گا کے سنائی یہ خبر
ناچ گانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی
اِس سے اندیشہ ٔ فردا کی جُوئیں جھڑتی ہیں
سَرکُھجانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی
اِس سے تجدید ِ تمنا کی ہوا آتی ہے
دُم ہِلانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی
اُس کے رُخسار پہ ہے اور تیرے ہونٹ پہ تِل
تِل مِلانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی
لان میں تین گدھے اور یہ نوٹس دیکھا
گھاس کھانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی
یہ شریعت کا نہیں گیس کا بِل ہے بیگم
بِلبِلانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی
حصول ِ رزق حلال کے لیے بیرونِ ملک جا نے والے غریب الوطنی کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔اُن کے لواحقین کی حریص نگاہیں اُن کی بھیجی ہوئی دولت پرہوتی ہیں نہ کہ اُن کی شخصیت پر۔ اپنی جنم بھومی کی محبت اور گھر کے اُداس بام،کُھلے در جب بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں کو پکارتے ہیں تو اُن کے خود غرض اور حریص لواحقین اُنھیں واپس آنے سے روکتے ہیں اور مزید زرومال جمع کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ہوسِ زرکے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے:
ابھی نہ آؤ لوٹ کر کہ گھر ابھی بھرا نہیں
بڑے نے جو لگائی تھی دُکان وہ چلی کہاں
میرے چچیرے بھائی کی بھی فیکٹری لگی کہاں
تمھارے چھوٹے والے کی بھی لاٹری کُھلی نہیں
ابھی تو چھوٹی والی کا جہیز بھی بنا نہیں
تمھارا وہ پلاٹ بھی ہے جوں کا توں پڑا ہوا
ڈرافٹ کوئی بھیجتے جو ٹھیک سا تو ٹھیک تھا
دُکانوں اور فلیٹس کی بُکنگ کا ذکر کیا کیا
ابھی تو ٹھیکے دار سے بھی تذکرہ ہو ا نہیں
ابھی نہ آؤ لوٹ کر کہ گھر ابھی بھرا نہیں
ابھی گئے برس جو تم مہینا بھر کو آئے تھے
تو سارے گھر کے واسطے عذاب ساتھ لائے تھے
عجب عجب نصیحتیں بِلا وجہ کی حُجتیں
میرے فلاں ڈرافٹ کی رقم کا تم نے کیا کیا
فلاں فلاں خطوط کا جواب کیوں نہیں دیا
فلاں پلاٹ کیوں لیا فلاں فروخت کیوں کیا
خیال گھر کی بہتری کا آپ کو ذرا نہیں
ابھی نہ آؤ لوٹ کر کہ گھر ابھی بھرا نہیں
ہوئے ہیں آ ٹھ سال ہی ابھی تمھیں گئے ہوئے
چچا ہیں بیس سال سے دبئی میں لگے ہوئے
جو دِل کو دِل سے راہ ہو تو کچھ نہیں یہ فاصلے
چچا کو کچھ ہوا نہیں چچی کو کچھ ہوا نہیں
ابھی نہ آؤ لوٹ کر کہ گھر ابھی بھرا نہیں
پروفیسر عنایت علی خان نے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد اتوار 26 جولائی کو کراچی میں وفات پائی، جہاں وہ اپنے صاحبزادے کے پاس علاج کی غرض سے مقیم تھے۔ دل کا دورہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا اور ماڈل کالونی کے قبرستان میں انھیں سپرد خاک کردیا گیا۔
اپنے آنسو ہنسی کے خوش رنگ دامنوں میں پنہاں کر کے سدا مسکرانے والا مزاح نگار ہماری بزمِ وفا سے اُٹھ گیا۔ اپنی گل افشانی ٔ گفتار سے محفل کو کشت زعفران میں بدل دینے والا یگانہ ٔ روزگارتخلیق کار دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے رُوٹھ کر وہاں چلاگیا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ لیکن وہ اپنے لافانی کلام کی بدولت ہمیشہ زندہ رہیں گے ، جس نے انہیں اکبر ثانی بنایا۔

حصہ