قیصر و کسریٰ (قسط 7)

93

وہ فطرتاً خونخوار نہیں تھا لیکن اس نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی تھی جس میں خاندانی قبائل حمیت پر جان دینا ایک نوجوان کا اولین فرض سمجھا جاتا تھا۔ اپنے معذور چچا اور اس کے کمسن بچوں کی بے بسی اُس کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ شام کی طرف روانہ ہوتے وقت اُس نے ہبیرہ، سالم اور سعاد کے سامنے منات کی قسم کھا کر یہ عہد کیا تھا کہ ’’جب میں واپس آئوں گا تو تم لوگ فخر سے سر اُٹھا کر یہ کہہ سکوں گے کہ ہم اپنے دشمنوں سے انتقام لے چکے ہیں اور شمعون بھی ہمیں اپنا مقروض ہونے کا طعنہ نہیں دے سکے گا۔ آپ کو اِس بات کا ملال نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے قبیلے کے سرکردہ لوگ لڑائی سے اُکتا چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میں ان کی غیرت کو زندہ کر سکوں گا‘‘۔ اور اب وہ صحرا کی ٹھنڈی ریت پر لیٹا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ نئی تلواریں جو اس نے شام سے حاصل کی ہیں عنقریب اُن جوانوں کے ہاتھ میں ہوں گی جو قبیلے کے ایک ایک مقتول کا انتقام لینے کا عہد کریں گے پھر کوئی عرب ہماری آئندہ نسلوں کو یہ طعنہ نہیں دے گا کہ تمہارے اسلاف اس قدر بے حمیت تھے کہ وہ دشمن کے خون سے اپنے عزیزوں کی روحوں کی پیاس نہ بجھا سکے۔ لیکن اس کا انجام کیا ہوگا؟ کیا ہمارے انتقام لے چکنے کے بعد یہ جنگ ختم ہوجائے گی؟ نہیں، یہ جنگ ختم نہیں ہوگی! ہماری غیرت و حمیت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے عزیزوں کی روحوں کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے دشمنوں کا خون پیش کریں۔ اور یہی حال بنو خزرج کا ہے۔ ہم دونوں اس جنگ کو جاری رکھنے پر یکساں مجبور ہیں۔ یہ انتقام در انتقام کا سلسلہ جاری رہے گا۔ کب تک جاری رہے گا؟
عاصم کے ذہن میں اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا وہ ذہنی الجھائو کی حالت میں دیر تک بے حس و حرکت لیٹا رہا۔ پھر حال اور مستقبل کے تلخ حقائق سے منہ پھیر کر، ماضی کے سپنوں میں پناہ لینے لگا۔ اسے بچپن کے وہ دن یاد آرہے تھے جب اوس اور خزرج پرامن ہمسایوں کی طرح رہتے تھے اور وہ خزرج کے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ اس زمانے میں یثرب کے نخلستان کتنے خوبصورت معلوم ہوتے تھے، ان دنوں بستیوں میں کتنی چہل پہل ہوتی تھی۔ اپنے بچپن کے ساتھیوں کی شوخیوں اور شرارتوں کے تصور سے عاصم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔
صحرا کی ہوا اب خاصی سرد ہوچکی تھی، وہ آگ جلانے کے ارادے سے اُٹھا۔ اچانک اُسے دور سے کسی کی آواز سنائی دی اور وہ چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگا، کچھ دیر بعد وہ اسے اپنا وہم سمجھ کر لکڑیوں کے ڈھیر کی طرف بڑھا لیکن چند اور آوازیں آئیں اور اس نے جلدی سے اپنی کمان اور ترکش اٹھانے کے بعد عباد کو جگاتے ہوئے کہا ’’عباد، ذرا ہوشیار ہوجائو میں نے اس ٹیلے کے اس طرف، کچھ آوازیں سنی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی قافلہ گزر رہا ہو، میں ابھی معلوم کرکے آتا ہوں‘‘۔
عباد اُٹھ کر اپنے ہتھیار سنبھالنے لگا اور عاصم تیزی سے ٹیلے پر چڑھنے لگا۔ چوٹی پر پہنچ کر اسے کچھ فاصلے پر الائو کی روشنی میں چند آدمی اور گھوڑے دکھائی دیئے۔ یہ لوگ الائو کے گرد بیٹھے ہونے کے بجائے کھڑے ہو کر کسی بات پر تکرار کررہے تھے۔ عاصم احتیاط سے قدم اٹھاتا ہوا آگے بڑھا اور ٹیلے سے نیچے اُتر کر چلنے کے بجائے زمین پر رینگنے لگا۔ کوئی بلند آواز میں چلا رہا تھا ’’میں نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا، میں منات اور عزیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ بہتان ہے، یہ جھوٹ ہے۔ سوتے میں کسی کے ہاتھ پائوں جکڑ دینا بہادری نہیں‘‘۔
اس کے بعد دوسری آواز سنائی دی ’’تم جھوٹے ہو اور تمہارے منات اور عزیٰ بھی جھوٹے ہیں‘‘۔
’’میں تمہارے خدا کی قسم کھاتا ہوں۔ موسیٰؑ کے خدا کی قسم۔ ٹھہرو! میری بات سنو! میں بے گناہ ہوں۔ میں نے اُسے ایک غلام کے ساتھ شرمناک حالت میں دیکھا تھا۔ اس لیے اس نے مجھ پر الزام لگادیا ہے‘‘
’’تم جھوٹے اور مکار ہو‘‘۔
’’یاد رکھو، میرا قبیلہ یثرب کے تمام یہودیوں سے انتقام لے گا‘‘۔
دو آدمیوں نے جھک کر جلتی ہوئی لکڑیاں اٹھائیں۔ اُس کے بعد پے در پے ضربوں کی آواز اور مضروب کی چیخیں سنائی دینے لگیں۔
عاصم کے لیے یہ تمام واقعہ ایک معما تھا۔ ان لوگوں کی باتوں سے وہ صرف اتنا سمجھ سکا کہ جس شخص کو زدوکوب کیا جارہا ہے وہ جکڑا ہوا ہے۔ اور زدوکوب کرنے والے یہودی ہیں۔ چند ثانیے وہ یہ فیصلہ نہ کرسکا کہ اُسے کیا کرنا چاہیے۔ ایک طویل اور کٹھن سفر کے بعد اپنی منزل مقصود کے قریب اسے بلاوجہ کسی خطرے کا سامنا کرنا گوارا نہ تھا۔ لیکن ایک بے بس انسان کی کرب انگیز چیخیں سن کر اس کی رگِ حمیت پھڑک اٹھی اور اس نے اچانک ایک آدمی کے پائوں کا نشانہ باندھ کر تیر چلادیا۔ زخمی ہونے والے نے ’’ہائے‘‘ کہہ کر لکڑی پھینک دی اور عاصم نے کمان میں دوسرا تیر چڑھاتے ہوئے بلند آواز میں کہا ’’بزدلو، خبردار! تم ہماری زد میں ہو اور اب ہمارے تیروں کا نشانہ تمہارے دل ہوں گے‘‘۔
فضا میں ایک ثانیے کے لیے سناٹا چھا گیا۔ پھر ایک آدمی بھاگا اور اچھل کر اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھتے ہوئے چلایا ’’بدو آگئے! یہاں سے بھاگو!‘‘
آن کی آن میں چاروں آدمی گھوڑوں پر سوار ہو کر رات کی تاریکی میں غائب ہوگئے اور عاصم الائو کی طرف دوڑا۔ وہاں رسیوں میں جکڑا ہوا ایک آدمی جس کا چہرہ خاک اور خون میں لت پت تھا بے ہوش پڑا تھا۔ اور بھاگنے والوں کے پانچ گھوڑے اور سامان سے لدے ہوئے دو اونٹ جھاڑیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ الائو کے قریب ہی پانی کا ایک مشکیزہ اور کھانے کے چند برتن پڑے تھے۔
عاصم نے جلدی سے پانی کا مشکیزہ اٹھا کر زخمی کے منہ پر چھینٹے مارے۔ اس نے کچھ دیر کراہنے کے بعد آنکھیں کھولیں اور وحشت ناک آواز میں چلایا۔ ’’میں بے قصور ہوں۔ میرے ہاتھ پائوں کھول دو، مجھے جانے دو‘‘۔
عاصم نے اُس کا بازو جھنجھوڑتے ہوئے کہا ’’تمہارے دشمن بھاگ گئے ہیں، اب تمہیں کوئی خطرہ نہیں‘‘۔
زخمی نے غور سے عاصم کی طرف دیکھا اور آنکھیں بند کرلیں۔ عاصم نے قریب پڑے ہوئے برتنوں میں سے مٹی کا ایک پیالہ اٹھایا اور پانی سے بھر کر اُس کے ہونٹوں سے لگادیا۔ زخمی نے آنکھیں کھولے بغیر پانی کے چند گھونٹ پی لیے۔ اُس کے سر اور کنپٹیوں سے خون بہہ رہا تھا۔ عاصم نے اُس کی قبا پھاڑ کر زخموں پر پٹیاں باندھیں اور پھر اپنا خنجر نکال کر اُس کے ہاتھوں اور پائوں کی رسیاں کاٹ ڈالیں۔ اس کے بعد اس نے ایک دھجی پانی سے ترکی اور اُس کے چہرے اور پیشانی سے خون صاف کرنے لگا۔
زخمی نے جلدی سے اُس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ عاصم نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا ’’گھبرائو نہیں، میرے دوست میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا‘‘۔
زخمی نے کہا ’’تم نے مجھے اپنی پناہ میں لے لیا ہے؟‘‘
’’ہاں! مجھے افسوس ہے کہ میں بروقت نہ پہنچ سکا۔ تم کون ہو اور وہ لوگ کون تھے؟‘‘
زخمی اُس کے سوال کے جواب دینے کے بجائے بولا ’’تم نے کہا ہے کہ مجھے اب کوئی خطرہ نہیں‘‘۔
’’ہاں تمہیں مجھ پر اعتماد کرنا چاہیے‘‘۔
عاصم نے بھیگے ہوئے کپڑے سے زخمی کا چہرہ پونچھتے ہوئے کہا ’’تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ میں نے پوچھا تھا کون ہو؟‘‘
زخمی نے آنکھیں کھولیں اور جواب دیا ’’تم جانتے ہو! میں کون ہوں؟‘‘
عاصم نے الائو کی روشنی میں غور سے اُس کی طرف دیکھا اور اپنے دل میں اضطراب، نفرت اور حقارت کا ایک طوفان محسوس کرتے ہوئے اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ یہ عمیر بن عدی تھا۔ جس کا خاندان اور قبیلہ اُس کے خاندان اور قبیلے کے خون کا پیاسا تھا۔ عاصم بے حس و حرکت کھڑا، یہ محسوس کررہا تھا کہ عمیر کے بزرگوں، بھائیوں اور عزیزوں کی روحیں اُس کے بزرگوں، بھائیوں اور عزیزوں کی روحوں کا مذاق اُڑا رہی ہیں اور وہ اپنے قبیلے سے بدعہدی کا مرتکب ہوچکا ہے۔
عمیر نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس کے پائوں پر رکھ دیا اور التجا آمیز لہجے میں بولا ’’عاصم، تم مجھے پناہ دے چکے ہو‘‘۔ اور عاصم اس طرح مضرب ہو کر پیچھے ہٹا جیسے کوئی زہریلا سانپ اُس کے پائوں پر رینگ رہا ہو۔
عباد نے چند قدم کے فاصلے سے آواز دی ’’عاصم! عاصم‘ تم ٹھیک ہو نہ؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں‘‘ اُس نے جواب دیا ’’تمہیں وہیں رہنا چاہیے تھا‘‘۔
عباد نے آگے بڑھ کر پوچھا ’’کیا ہوا، یہ گھوڑے کس کے ہیں۔ اور یہ نوجوان کون ہے؟‘‘
عاصم نے جھک کر اپنی کمان اٹھاتے ہوئے کہا ’’مجھے معلوم نہیں۔ آئو چلیں‘‘۔
عمیر نے درد ناک لہجے میں کہا ’’عاصم! تم اگر چاہو تو مجھ سے انتقام لے سکتے ہو۔ میں ان یہودیوں کے بجائے تمہارے ہاتھوں قتل ہونا بہتر سمجھتا ہوں‘‘۔
عاصم کچھ کہے بغیر وہاں سے چل دیا اور عباد ایک ثانیہ توقف کے بعد اُس کے پیچھے ہولیا۔ عمیر اُٹھ کر چلایا ’’عاصم، ٹھہرو! مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ یہاں رات کے وقت بھیڑیے مجھے نہیں چھوڑیں گے۔ مجھے اپنے ہاتھوں سے قتل کردو۔ عاصم! عاصم!‘‘۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھا لیکن چند قدم چلنے کے بعد منہ کے بل گرپڑا۔
عاصم رُک گیا۔ ا‘س نے عباد کی طرف دیکھا اور کہا ’’عباد! یہ عمیر ہے عدی کا بیٹا۔ اور میں اسے ایک مظلوم و بے بس انسان سمجھ کر پناہ دے چکا ہوں۔ اب میں اس پر ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا لیکن اِس کی مدد کرنا بھی میرے بس کی بات نہیں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسے مارنے والے کون تھے؟ تم جانوروں کو لے آئو میں یہاں تمہارا انتظار کروں گا‘‘۔
عباد نے کہا ’’اگر آپ اسے پناہ دے چکے ہیں تو اتنا ضرور یاد رکھیے کہ آپ ہبیرہ کے بھتیجے اور سہیل کے بیٹے ہیں۔
’’تم جائو!‘‘ عاصم نے برہم ہو کر کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ ہم فوراً یہاں سے روانہ ہوجائیں، اب مجھے آرام کی ضرورت نہیں‘‘۔
عباد چلا گیا اور عاصم واپس آکر عمیر کے پاس کھڑا ہوگیا۔ عمیر منہ کے بل پڑا ہوا تھا۔ عاصم نے قدرے توقف کے بعد اُسے آواز دی ’’عمیر! عمیر!‘‘ عمیر نے کوئی جواب نہ دیا۔ عاصم جھک کر اُس کی نبض ٹٹولنے لگا۔ وہ زندہ تھا۔ عاصم نے اُسے اُٹھایا اور الائو کے قریب لٹا دیا۔ الائو میں جلنے والی لکڑیاں انگاروں میں تبدیل ہورہی تھیں۔ عاصم نے ایک اونٹ کا پالان اتارا اور انگاروں کے اوپر رکھ دیا۔ جب آگ کے شعلے بلند ہونے لگے تو عمیر کی طرف متوجہ ہوا۔
عمیر نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اپنی نظریں عاصم کے چہرے پر گاڑ دیں اور نحیف آواز میں کہنے لگا۔
’’مجھے معلوم تھا کہ تم مجھے اس بیچارگی کی حالت میں چھوڑ کر نہیں جائو گے۔ تمہیں یاد ہے ایک دفعہ تم نے شمعون کے سامنے کہا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب بنواوس اور بنو خزرج متحد ہو کر یہودیوں کے خلاف لڑیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دن اب دور نہیں‘‘۔ (جاری ہے)
عاصم نے روکھے انداز میں کہا ’’مجھے تم سے کوئی دلچسپی نہیں، میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تمہیں مارنے والے کون تھے؟‘‘
’’وہ خیبر کے یہودیوں میں سے شمعون کا کوئی رشتہ دار تھا اور باقی اُس کے نوکر تھے۔ میں تمہیں اپنی پوری سرگزشت سناتا ہوں۔ مجھے پانی دو!‘‘۔
عاصم نے اُٹھ کر اُسے پانی پلایا اور عمیر نے اپنی سرگزشت شروع کی۔ ’’یہ یہودی خیبر سے گھوڑے خریدنے آیا تھا۔ اور شمعون کا مہمان تھا۔ جب اُس نے گھوڑے خرید لیے تو شمعون نے مجھ سے کہا کہ تم اسے خیبر تک پہنچا آئو۔ میرا باپ شمعون کارہا سہا قرضہ چکانے کا انتظام کرچکا تھا اور میں اسی ہفتے اس سے رہائی پا کر اپنے گھر جانے والا تھا۔ لیکن شمعون نے اتنا اصرار کیا کہ میں خیبر کے یہودی کے ساتھ جانے پر مجبور ہوگیا۔ یہودی نے اپنی طرف سے مجھے ایک معقول معاوضےکا لالچ بھی دیا تھا۔ یہ فیصلہ رات کے وقت ہوا تھا اور میں چاہتا تھا کہ روانگی سے پہلے اپنے گھر ہو آئوں لیکن ہمارا قافلہ پچھلے پہر روانہ ہوگیا اور مجھے اپنے گھر والوں کو یہ بتانے کا موقف بھی نہ ملا کہ میں خیبر جارہا ہوں۔ یہ جگہ ہماری دوسری منزل تھی۔ ہم یہاں غروب آفتاب کے بعد پہنچے۔ کھانا کھانے کے بعد یہودی نے مجھ سے کہا ’’تم سوجائو‘ پہلے پہر میرے آدمی پہرا دیں گے اس کے بعد تمہیں جگا دیا جائے گا۔ میں الائو کے پاس سو گیا۔کچھ دیر بعد مجھے کسی نے پائوں کی ٹھوکر سے جگایا۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو میرے ہاتھ پائوں جکڑے ہوئے تھے اور یہودی اور اُس کے نوکر میرے چاروں طرف کھڑے تھے۔ یہودی نے مجھے گالیاں دیں، اور اس کے نوکر مجھ پر ٹوٹ پڑے‘‘۔
عاصم نے پوچھا ’’خیبر کے یہودی کو تم سے کیا دشمنی تھی؟‘‘
عمیر نے جواب دیا ’’اُسے مجھ سے کوئی دشمنی نہ تھی لیکن شمعون مجھے کسی بہانے گھر سے دور بھیج کر قتل کرانا چاہتا تھا اور مجھے روانہ ہوتے وقت یہ بات معلوم نہ تھی۔ میں آپ کو پورا واقعہ سناتا ہوں۔ شمعون نے اپنی بیوی کی موت کے بعد خیبر کی ایک نوجوان لڑکی سے شادی کی تھی۔ اس بدقماش لڑکی نے شمعون کے غلام سے ناجائز تعلقات پیدا کرلیے۔ ایک رات میں نے انہیں مکان سے باہر باغ میں پکڑ لیا۔ وہ میرے پائوں پر گرپڑے مجھے اس عورت سے زیادہ غلام کی بے کسی پر رحم آگیا اور میں نے اُن سے وعدہ کیا کہ اگر آئندہ تم نے کوئی شرمناک حرکت نہ کی تو میں تمہارا راز افشا نہیں کروں گا۔ اس کے بعد چند دن خیریت سے گزر گئے۔ لیکن پھر شمعون کی بیوی مجھے پر ڈورے ڈالنے لگی۔ ایک دن شمعون اور اُس کے لڑکے شہر گئے ہوئے تھے اور میں باغ میں کام کررہا تھا۔ اس نے خادمہ کو بھیج کر مجھے بلایا لیکن میں نے شمعون کی غیر موجودگی میں اندر جانے سے انکار کردیا۔ رات کے وقت میں ڈیوڑھی کے باہر سورہا تھا کہ وہ میرے پاس آگئی۔ پاس ہی دو اور نوکر سو رہے تھے۔ میں بے عزتی کے خوف سے بھاگا اور سیدھا گھر چلا گیا۔ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ میں اب شمعون کے گھر نہیں رہنا چاہتا اس لیے آپ بلا تاخیر اس کا قرضہ چکادیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ میں اسی ہفتے قرضہ چکا دوں گا۔ لیکن اس وقت تم واپس چلے جائو۔ مجھے اندیشہ تھا کہ شمعون کی بیوی مجھ سے انتقام لینے کے لیے کوئی تہمت تراشے گی۔ وہ مجھے اس قسم کی دھمکیاں دے بھی چکی تھی۔ اس لیے میں اپنے باپ کے اصرار کے باوجود واپس نہ گیا۔ لیکن دو دن بعد شمعون خود مجھے لینے آگیا اور اس کی باتوں سے میرے خدشات دور ہوگئے۔ میرے والد نے مجھے شمعون کے ساتھ روانہ کرتے ہوئے اس بات کی تسلی دی کہ میں بہت جلد باقی رقم ادا کرکے تہمیں واپس لے آئوں گا‘‘۔
اس کے بعد تیسرے دن مجھے اس سفر پر بھیج دیا گیا۔ اس جگہ جب ان لوگوں نے مجھے گالیاں دینا شروع کیں تو میں سمجھ گیا کہ اس قدر اصرار کے ساتھ مجھے ان کے ہمراہ بھیجنے سے شمعون کا اصل مقصد کیا تھا۔ یہ یہودی بار بار مجھ پر الزام لگارہا تھا کہ میں نے اُس شخص کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے جس نے مجھے اپنے بچوں کی طرح پالا ہے۔ یہودی نے اپنے نوکروں کو حکم دیا تھا کہ وہ مجھے قتل کرکے راستے سے دور کسی جگہ دفن کردیں۔ ان حالات میں کون کہہ سکتا تھا کہ تم میری جان بچانے کو یہاں پہنچ جائو گے۔ یہودیوں نے کہا تھا کہ منات اور عزیٰ جھوٹے ہیں اور منات اور عزیٰ نے تمہیں میری مدد کے لیے بھیج دیا۔ عاصم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم مجھے یہاں مرنے کے لیے چھوڑکر نہیں جائو گے؟‘‘
عاصم نے کوئی جواب نہ دیا اور عمیر نے مایوسی کی حالت میں آنکھیں بند کرلیں۔ کچھ دیر خاموشی طاری رہی۔ بالآخر عمیر نے آنکھیں کھولتے ہوئے کہا ’’شمعون کو یقین ہوگا کہ میں مرچکا ہوں اور مجھے معلوم نہیں کہ میرے اچانک غائب ہوجانے کے متعلق وہ کس قسم کے قصے مشہور کرے گا۔ وہ مجھ پر کوئی ایسا الزام لگائے گا کہ میرے قبیلے کے لوگ مجھ پر لعنت بھیجیں گے۔ مجھے یہاں چھوڑ کر نہ جائو، اپنے ہاتھوں سے میرا کام تمام کردو اور میری لاش کو کسی ایسی جگہ چھپا دو کہ کسی کو سراغ نہ مل سکے۔ میں تمہاری مدد کے بغیر گھر نہیں پہنچ سکتا۔ اس ویرانے میں میری موت یقینی ہے‘‘۔
عاصم نے عمیر کی طرف دیکھا اور اضطراب کی حالت میں اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا ’’تم جانتے ہو کہ میں تمہیں اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جائوں گا۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔ اور وہ یہ کہ تم کسی سے میرا ذکر نہیں کرو گے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے قبیلے کے لوگ میرا مذاق اُڑائیں‘‘۔
’’مجھے تمہاری شرط منظور ہے‘‘۔ عمیر نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔
عاصم نے پوچھا ’’تم گھوڑے پر سواری کرسکو گے؟‘‘
’’مجھے معلوم نہیں‘‘۔ عمیر نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا ’’میرا سر پھٹ رہا ہے۔ اور میرا جسم سن ہورہا ہے لیکن میں کوشش کروں گا‘‘۔
’’ہمارا یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ کہیں آس پاس چھپ کر ہمیں دیکھ رہے ہوں گے‘‘۔
عاصم اور عمیر کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے اور اتنے میں عباد گھوڑا اور اونٹ لے کر پہنچ گیا۔
عاصم نے کہا ’’عباد! میں عمیر کو جلد از جلد اس کے گھر پہنچانا چاہتا ہوں۔ تم ان میں سے ایک گھوڑا پکڑ لائو‘‘۔
’’ٹھہریے! میرا گھوڑا شاید یہیں ہو میں اُسی پر سواری کروں گا‘‘۔ عمیر یہ کہہ کر اُٹھا اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سردبائے، لڑکھڑاتا ہوا جھاڑیوں سے بندھے ہوئے گھوڑوں کی طرف بڑھا۔
عباد نے عاصم سے پوچھا ’’آپ یہ باقی گھوڑے اور اونٹ یہیں چھوڑ جائیں گے؟‘‘
عاصم نے جواب دیا۔ ’’نہیں یہ غنیمت کا مال ہے، ان کی رسیاں کھول دو، یہ خود بخود ہمارے پیچھے بھاگیں گے لیکن اگر کوئی جانور پیچھے رہ جائے تو تمہیں اُس کی فکر نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں صبح تک ایک منزل ضرور طے کرلینی ہے۔ جب دھوپ تیز ہوجائے گی تو ہم کسی جگہ چند گھڑی سستا لیں گے۔ پھر، اگر راستے میں اس کی حالت زیادہ خراب نہ ہوگئی تو ہم کل رات گھر پہنچ جائیں گے‘‘۔
O
آفتاب غروب ہوچکا تھا اور عدی کے مکان کے ایک کشادہ کمرے میں چراغ جل رہا تھا۔ سمیرا ایک نو عمر، صحت مند اور خوبصورت لڑکی چراغ کے قریب بیٹھی کپڑے سینے میں مصروف تھی۔ عدی کا چھوٹا لڑکا نعمان جس کی عمر پندرہ سال کے لگ بھگ تھی اس کے قریب دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ عدی کا دوسرا لڑکا عتبہ کمرے میں داخل ہوا اور نعمان کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا ’’سمیرا، تم دو دن سے اس میں لگی ہوئی ہو یہ قمیص کب ختم ہوگی؟‘‘
صفحہ65سے74تک
سمیرا نے جواب دیا ’’مجھے وقت ہی کہاں ملتا ہے۔ سارے دن گھر کے کام میں مصروف رہتی ہوں‘‘۔
نعمان نے کہا ’’اخی! سمیرا نے ہماری قمیصیں کبھی اتنے شوق سے نہیں سیں‘‘۔
’’بس، ختم ہوگئی‘‘۔ سمیرا نے جلدی جلدی چند ٹانکے لگانے کے بعد دانتوں سے دھاگا توڑا اور سوئی پاس ہی ایک طاقچے میں رکھ دی، پھر اُس نے قمیص پھیلا کر اپنے بھائیوں کو دکھاتے ہوئے کہا ’’کیوں ٹھیک ہے نہ ؟‘‘
عتبہ نے اپنے کشادہ چہرے پر ایک شرارت آمیز تبسم لاتے ہوئے کہا ’’مجھے تو بالکل پسند نہیں۔ شاید عمیر کو پسند آجائے۔ اب ہمیں کھانا دو بھوک لگ رہی ہے‘‘۔
’’نہیں پہلے مجھے یہ قمیص پہن کر دکھائیے‘‘۔
عتبہ نے کہا ’’بہت اچھا، لیکن اگر مجھے پسند آگئی تو میں اُتاروں گا نہیں‘‘۔
سمیرا نے بے چین ہو کر کہا ’’جلدی کیجیے، وہ آنے والے ہیں‘‘
نعمان نے کہا ’’اخی! ابا جان کو بہت دیر ہوگئی ہے ہمیں معلوم کرنا چاہیے‘‘۔
’’وہ آرہے ہوں گے‘‘ عتبہ نے یہ کہتے ہوئے اپنی قمیص کے اوپر نئی قمیص پہن لی۔
نعمان نے کہا ’’ارے یہ تو بہت ڈھیلی ہے‘‘۔
سمیرا نے جواب دیا ’’لیکن عمیر کے بالکل ٹھیک آئے گی، اُس دن وہ آئے تھے تو میں نے اُن کا ناپ لے لیا تھا‘‘۔
عتبہ نے کہا ’’سمیرا! تم عمیر کا بہت خیال رکھتی ہو‘‘۔
سمیرا نے بگڑ کر جواب دیا ’’کیوں نہ رکھوں، کیا ہمارے خاندان پر اُس کا احسان سب سے زیادہ نہیں؟ اُس نے ہماری خاطر اتنے سال ایک ذلیل یہودی کی نوکری میں گزار دیے ہیں‘‘۔
عتبہ نے کہا ’’ارے، تم تو خفا ہوگئیں، میں نے یہ کب کہا ہے کہ خاندان پر اُس کا احساس نہیں‘‘۔
باہر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی اور سمیرا نے مضطرب ہو کر کہا ’’وہ آرہے ہیں۔ آپ جلدی سے قمیص اُتار دیں‘‘۔
عتبہ نے قمیص اُتار کر اُسے دے دی۔ عدی کمرے میں داخل ہوا۔
سمیرا نے قدرے بے چین ہو کر پوچھا ’’ابا! آپ اکیلے آئے ہیں، بھائی کو ساتھ کیوں نہیں لائے؟‘‘
عدی جواب دینے کے بجائے نڈھال ہو کر بیٹھ گیا۔ اور سمیرا اور اُس کے بھائی اُس کے تیور دیکھ کر سہم گئے۔
چند ثانیے کمرے میں خاموشی طاری رہی، بالآخر سمیرا نے کہا ’’کیا ہوا آپ پریشان کیوں ہیں؟‘‘
عدی نے گھٹی ہوئی آواز میں کہا ’’مجھے عمیر سے یہ توقع نہ تھی‘‘۔
عتبہ نے پوچھا ’’ابا جان! عمیر نے کیا کیا؟ کیا گھر آنے سے انکار کردیا؟‘‘
’’اگر وہ گھر آنے سے انکار کردیتا تو مجھے اتنی تکلیف نہ ہوتی۔ لیکن اُس نے مجھے دنیا کے سامنے ذلیل کردیا۔ اب کوئی یہودی ہمارا اعتبار نہیں کرے گا‘‘۔
سمیرا نے کرب انگیز لہجے میں پوچھا ’’ابا جان بتائیے تو سہی اُس نے کیا کیا‘‘۔
’’وہ شمعون کے گھر سے دو سو دینار چوری کرکے بھاگ گیا؟‘‘
عتبہ نے کہا ’’نہیں ابا جان! یہ بات ناقابل یقین ہے۔ عمیر چوری نہیں کرسکتا۔ اُس کے بدترین دشمن بھی اُسے چور ہونے کا الزام نہیں دیں گے‘‘۔
’’پھر وہ بھاگا کیوں؟‘‘ میں نے اتنی مصیبتوں سے شمعون کا قرضہ چکایا تھا۔ صرف بیس دینار باقی تھے اور وہ بھی میں آج لے کر گیا تھا۔ اب یکایک اُس کے غائب ہوجانے سے شمعون کا ہر الزام صحیح سمجھا جائے گا‘‘۔
عتبہ نے کہا ’’ہمارے قبیلے کا کوئی آدمی اس الزام کو درست تسلیم نہیں کرے گا‘‘
عدی نے جواب دیا ’’ہمارے قبیلے کے آدمیوں کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یثرب کے یہودی شمعون کی بات رد نہیں کریں گے۔ وہ انہیں ہمارے خلاف بھڑکائے گا اور اگر یہودیوں نے ہم سے لین دین بند کردیا تو اس کی ساری ذمہ داری میرے خاندان پر ہوگی‘‘۔
عتبہ نے پوچھا ’’عمیر کب سے غائب ہے؟‘‘
’’اُسے غائب ہوئے تین دن ہوچکے ہیں۔‘‘
’’تین دن؟ اور شمعون نے آپ کو آج اطلاع دی ہے؟‘‘
عدی نے جواب دیا ’’شمعون کہتا ہے کہ گھر میں نقدی کے صندوق کی کنجیاں اکثر اُس کے پاس رہتی تھیں۔ پرسوں اُس نے مجھے کنجیاں واپس دیتے ہوئے کہا کہ اب میرا جی یہاں نہیں لگتا۔ تمہارے قرضے کی باقی رقم دوچار دن کے اندر اندر ادا ہونے والی ہے۔ اس لیے مجھے اجازت دیجیے۔ میں نے اُسے روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے اس قدر اصرار کیا کہ میں نے اُسے زبردستی روکنا مناسب نہ سمجھا‘‘۔
سمیرا نے کہا۔ وہ یہودی یقینا جھوٹ بولتا ہے اگر عمیر نے اُس کے گھر میں چوری کی ہوتی تو وہ اُسی وقت بھاگتا ہوا آپ کے پاس آتا‘‘۔
عدی نے جواب دیا ’’لیکن شمعون یہ کہتا ہے کہ چوری کے متعلق اُسے ابھی معلوم نہیں ہوا ہے۔ میرے وہاں پہنچنے سے تھوڑی دیر پہلے کوئی اس سے قرض مانگنے آیا تھا۔ اُس نے نقدی کا صندوق کھولا، تو معلوم ہوا کہ دو سو دینار کی ایک تھیلی غائب ہے‘‘۔
عتبہ نے کہا ’’ابا جان! یہ سراسر جھوٹ ہے۔ عمیر کہا کرتا تھا کہ شمعون اپنے بیٹے پر بھی اعتبار نہیں کرتا۔ یہ اُس کی شرارت ہے۔ اگر میرے بھائی کو بھاگنا تھا تو اس نے ایک ہی تھیلی کیوں اٹھائی، پورا صندوق خالی کیوں نہیں کیا؟ پھر وہ گھر کے سوا جا کہاں سکتا تھا؟‘‘
عدی نے کہا ’’بیٹا مجھے بھی یقین نہیں کہ عمیر ایسی حرکت کرسکتا ہے لیکن ایک بات شمعون کے حق میں جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ عمیر غائب ہے۔ وہ نہ شمعون کے گھر میں ہے اور نہ یہاں آیا ہے۔ کوئی باشعور آدمی یہ نہیں مانے گا کہ وہ بلاوجہ کہیں بھاگ گیا ہے۔ جب تک اُس کا پتا نہیں چلتا ہم کسی سے آنکھ اُٹھا کر بات نہیں کرسکتے۔ تم فوراً اُس کی تلاش شروع کردو، وادی میں اُس کے جتنے دوستوں کو تم جانتے ہو، اُن کے پاس جائو ممکن ہے کہ وہ شرم و ندامت کی وجہ سے کسی کے گھر چھپا ہوا ہو۔ نعمان تم بھی جائو۔ شمعون نے مجھے آٹھ پہر کی مہلت دی ہے۔ اور کہا ہے کہ اگر اس عرصے میں مجھے چوری کا مال واپس نہ ملا تو میں یہ واقعہ تمام وادی میں مشہور کردوں گا۔ میں شہر جاتا ہوں ممکن ہے وہ شراب کے نشے میں چور کہیں پڑا ہو۔ یا کسی جواری کے ہتھے چڑھ کر سب کچھ گنوا چکا ہو اور اب شرم سے منہ چھپائے پھرتا ہو۔ نوکروں کو بھی اپنے ساتھ لے جائو۔ اور دیکھو کسی کو یہ نہ بتانا کہ شمعون نے اُس پر الزام لگایا ہے۔ پوچھنے والوں سے صرف یہ کہنا کہ وہ گھر سے روٹھ کر کہیں چلا گیا ہے۔ پہلے اپنے تمام رشتہ داروں کے پاس جائو اس کے بعد اُس کے دوستوں سے معلوم کرو‘‘۔
عدی اُٹھ کر باہر جانے لگا تو سمیرا نے کہا ’’ابا جان! مجھے یقین ہے کہ میرا بھائی بے قصور ہے لیکن اگر اُس سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو اُس پر سختی نہ کیجیے گا! اُس نے برسوں سے زندگی کی کوئی خوشی نہیں دیکھی اور آج اُسے گھر آنا تھا‘‘۔
عدی نے جواب دیا ’’مجھے تمہاری نصیحتوں کی ضرورت نہیں، تم دعا مانگو کہ وہ ہمیں زندہ سلامت مل جائے‘‘۔
باب۵
عدی اور اُس کے بیٹوں کو گھر سے نکلے ایک پہر گزر چکا تھا اور سمیرا چراغ کی روشنی میں تنہا بیٹھی انتہائی درد اور خلوص کے ساتھ یہ دعا مانگ رہی تھی ’’اے منات! تجھ سے دنیا کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ تجھے معلوم ہے کہ عمیر کہاں ہے؟ اُسے مصیبت سے بچا۔ اگر اُس نے چوری کی ہے تو اُس کی پردہ پوشی کر، اور اگر شمعون نے اُس پر تہمت لگائی ہے تو اُسے ذلیل و خوار اور رسوا کر۔ اگر عمیر واپس آگیا تو میں مرتے دم تک تیرا احساس نہ بھولوں گی۔ میں ہر سال تیرے لیے نذرانہ لے کر قدید جایا کروں گی۔ لیکن اگر تونے اس مصیبت میں ہمارا ساتھ چھوڑ دیا تو میں تجھ سے روٹھ جائوں گی اور تیری جگہ لات، مبل اور عزیٰ کی پوجا کیا کروں گی۔ میں گھر گھر جا کر یہ اعلان کروں گی کہ تجھ سے کسی بھلائی کی اُمید رکھنا حماقت ہے۔ اے منات! اگر تونے ہماری مدد نہ کی تو لوگ تیرا مذاق اڑائیں گے‘‘۔
سمیرا چند بار یہ کلمات دہرانے کے بعد دیر تک بے حس و حرکت بیٹھی رہی۔ اچانک اُسے ایک آہٹ سنائی دی اور وہ بھاگ کر باہر نکل آئی۔ صحن میں پہنچ کر اُس نے محسوس کیا یہ گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز ہے۔ اُس کا باپ اور بھائی گھر سے پیدل گئے تھے اور انہیں رخصت کرنے کے بعد اُس نے صحن کا پھاٹک بند کردیا تھا، تاہم اُسے خیال آیا کہیں عمیر نہ ہو اور وہ دوڑتی ہوئی پھاٹک کی طرف بڑھی۔ گھوڑا پھاٹک کے قریب رُکا اور سمیرا نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا ’’کون ہے؟‘‘
کسی نے باہر سے دریافت کیا ’’یہ عدی کا گھر ہے؟‘‘
(جاری ہے)
’’ہاں! اُس نے مضطرب ہو کر جواب دیا ’’تم کون ہو؟‘‘
باہر سے آواز آئی ’’دروازہ کھولیے۔ میں عمیر کو لے کر آیا ہوں یہ زخمی ہے‘‘۔
ایک بہن کی محبت اچانک ہر خوف پر غالب آگئی اور سمیرا نے جلدی سے دروازہ کھول دیا۔
عاصم گھوڑے پر سوار تھا اور اُس نے عمیر کو اپنے آگے ڈال رکھا تھا۔
’’کہاں ہے میرا بھائی؟‘‘ سمیرا نے کرب انگیز لہجے میں سوال کیا۔
’’گھبرایے نہیں یہ بے ہوش ہے لیکن خطرے کی کوئی بات نہیں۔ آپ کسی آدمی کو بلائیے‘‘۔
سمیرا نے کہا ’’اس وقت یہاں کوئی نہیں آپ اسے اندر لے چلیں۔‘‘
عاصم اندر داخل ہوا اور مکان کے دروازے کے سامنے گھوڑا روکتے ہوئے بولا ’’ذرا اسے سہارا دیجیے‘‘۔
سمیرا نے دونوں ہاتھوں سے عمیر کو سہارا دیا اور عاصم گھوڑے سے اتر کر اسے اپنے کندھے پر ڈالتے ہوئے بولا ’’آپ اس کے لیے بستر بچھائیے‘‘۔
سمیرا بھاگ کر کمرے میں چلی گئی اور عاصم عمیر کو اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔
سمیرا نے جلدی سے ایک تخت پر بچھونا بچھا دیا اور عاصم نے عمیر کو لٹادیا۔ چراغ کی روشنی میں عمیر کے خون آلود کپڑے دیکھ کر سمیرا کچھ دیر سکتے کے عالم میں کھڑی رہی اور پھر یکایک عاصم کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔
’’انہیں کس نے زخمی کیا ہے؟ آپ انہیں کہاں سے لائے ہیں؟ یہ کب سے بے ہوش ہیں؟ آپ کون ہیں؟‘‘
پھر وہ عمیر کے دونوں بازو پکڑ کر جھنجھوڑنے لگی ’’بھائی جان! بھائی جان‘‘۔
عاصم نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا ’’آپ گھبرائیں نہیں۔ آپ کے بھائی کو ابھی ہوش آجائے گا‘‘۔
’’آپ کو یقین ہے کہ انہیں کوئی خطرہ نہیں؟‘‘ سمیرا نے بڑی مشکل سے اپنی سسکیاں ضبط کرتے ہوئے پوچھا۔
’’مجھے یقین ہے‘‘
سمیرا نے کمرے کے کونے سے ایک چوکی گھسیٹ کر عمیر کے بستر کے قریب کرتے ہوئے کہا ’’آپ بیٹھ جائیں‘‘
وہ بیٹھ گیا اور قدرے توقف کے بعد بولا ’’ابھی ان کے سر کے زخم سے خون رِس رہا ہے۔ آپ پٹی باندھنے کے لیے کوئی صاف کپڑا لے آئیے‘‘۔
سمیرا بھاگ کر دوسرے کمرے سے ایک چادر لے آئی اور یکے بعد دیگرے سے دو ٹکڑے پھاڑ کر عاصم کے سامنے رکھ دیے۔ جب وہ تیسری پٹی پھاڑنے لگی تو عاصم نے کہا ’’بس یہ کافی ہیں اور کپڑا ضائع کرنے کی ضرورت نہیں‘‘۔
عاصم عمیر کے سر سے خون آلود پٹیاں کھولنے لگا تو سمیرا نے کہا ’’زخم داغنے کی ضرورت ہے تو آگ جلادوں‘‘۔
’’نہیں زخم گہرے نہیں صرف اوپر کی جلد پھٹ گئی ہے‘‘۔
’’تو میں ایک دوالاتی ہوں اُس سے خون بند ہوجاتا ہے‘‘۔ سمیرا یہ کہہ کر طاقچے سے چمڑے کی تھیلی اُتار لائی۔ عاصم نے پٹیاں کھولیں اور سمیرا نے تھیلی سے ایک سفوف نکال کر زخموں پر چھڑک دیا۔ اس کے بعد عاصم نے نئی پٹیاں باندھ دیں۔
عمیر نے آہستہ آہستہ کراہنے کے بعد چند گہرے سانس لیے اور نحیف آواز میں پانی مانگا۔ سمیرا پانی کا کٹورا لے آئی۔ عاصم نے گردن کے نیچے ہاتھ رکھ کر عمیر کو اُٹھایا اور سمیر نے پانی کا کٹورا اُس کے منہ سے لگادیا۔ پانی کے چند گھونٹ پینے کے بعد عمیر نے آنکھیں کھولیں۔ اور عاصم نے آہستہ سے اُس کا سر تکیے پر رکھ دیا۔ عمیر کچھ دیر عاصم کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر اُس نے کمرے کی چھت اور دیواروں پر نظر دوڑائی اور بالآخر اپنی نگاہیں سمیرا کے چہرے پر گاڑ دیں۔ سمیرا نے مسکرانے کی کوشش کی اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔
’’بھائی جان! بھائی جان! میں ابھی آپ کے لیے دعا مانگ رہی تھی‘‘۔
عمیر نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور سمیرا نے اپنا سر اُس کے سینے پر رکھ دیا۔
’’ابا جان، کہاں ہیں؟‘‘ اُس نے پیار سے سمیرا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ آپ کو داش کررہے ہیں‘‘۔ سمیرا نے ہولے ہولے سسکیاں لیتے ہوئے جواب دیا۔
’’عتبہ اور نعمان؟‘‘
’’وہ بھی آپ کو ڈھونڈنے گئے ہوئے ہیں‘‘۔
عمیر نے آنکھیں بند کرلیں۔
’’بھائی جان‘‘ سمیرا قدرے توقف کے بعد بولی ’’آپ کہاں چلے گئے تھے؟ آپ نے ہمیں کیوں نہ بتایا کہ آپ کہیں جارہے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ آپ چوری کرکے نہیں بھاگے، شمعون نے آپ پر بہتان باندھا ہے۔ لیکن آپ تھے کہاں؟ آپ خاموش کیوں ہیں؟ بھائی جان! آپ کو مجھ سے کوئی بات چھپانے کی ضرورت نہیں۔ آپ یثرب کے تمام یہودیوں کو لوٹ لیں تو بھی آپ میرے بھائی ہیں۔ ابا جان بہت خفا تھے۔ لیکن آپ فکر نہ کریں میں انہیں منالوں گی‘‘۔
عمیر نے کوئی جواب نہ دیا۔ سمیرا نے سر اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا اور پھر عاصم کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔
’’یہ پھر بے ہوش ہوگئے ہیں‘‘۔
اُس نے جواب دیا ’’تمہارے بھائی کو آرام کی ضرورت ہے۔ کچھ دودھ ہے تو لے آئو‘‘۔
’’دودھ بہت ہے، میں ابھی لاتی ہوں‘‘۔ سمیرا یہ کہہ کر باہر نکل گئی۔
O
عاصم کا خیال تھا کہ وہ عمیر کو اُس کے گھر پہنچاتے ہی واپس چلا آئے گا۔ اور راستے میں اُس کے لیے سب سے بڑی ذہنی اُلجھن یہ تھی کہ عدی اور اُس کے خاندان کے افراد اُس کے ساتھ کس طرح پیش آئیں گے۔ اگرچہ ابھی امن کے دن ختم نہیں ہوئے تھے۔ لیکن بنو خزرج کے کسی گھر کی چار دیواری میں قدیم رکھنا اُس کے نزدیک ایک غیر متوقع بات تھی۔ اگر عمیر بے ہوش نہ ہوتا، تو آبادی کے قریب پہنچتے ہی اُن کے راستے جدا ہوجاتے، وہ یہ سوچ کر اس گھر کے دروازے تک پہنچا تھا۔ کہ میں عمیر کو اُس کے باپ اور بھائیوں کے حوالے کرتے ہی لوٹ جائوں گا۔ اگر کسی نے پوچھا کہ تم کون ہو تو میں جواب دیئے بغیر گھوڑے کو ایڑ لگادوں گا اور وہ عمیر کو اس حالت میں دیکھ کر میری طرف زیادہ توجہ بھی نہ دیں گے۔ لیکن اب وہ کسی ندامت یا پریشانی کا احساس کیے بغیر اپنے دشمن کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک خواب تھا، ایک ناقابل یقین خواب۔ اور سمیرا کو دیکھنے کے بعد اس خواب کے تلخ اور اضطراب انگیز پہلو بتدریج اُس کی نگاہوں سے اوجھل ہورہے تھے۔ سمیرا کا چہرہ فطرت کے اُن مظاہر کی دلکشی کا آئینہ دار تھا جن کی ایک ہلکی سی جھلک سے دیکھنے والوں کی نگاہوں کے زاویے بدل جاتے ہیں۔
عاصم کو دشمن کے مقابلے میں انتہائی سنگدلی کا ثبوت دینے کی تربیت دی گئی تھی اور عمیر کی اعانت کے ہر مرحلے میں اسے یہ محسوس ہورہا تھا کہ وہ اپنی قبائلی اور خاندانی روایت سے غداری کررہا ہے۔ لیکن اب اُس کی ذہنی کیفیت میں ایک غیر متوقع تبدیلی آرہی تھی۔ جب اُس نے سمیرا کو کرب و اضطراب کی حالت میں دیکھا تھا تو اُس کے ذہن میں تکلیف کی ایک ہلکی سی لہر اُٹھی تھی۔ اور عمیر کے ہوش میں آنے پر سمیرا کی مسکراہٹوں سے اُسے ایک طرح کی تسکین اور راحت محسوس ہوئی تھی۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے یہ بھول چکا تھا کہ سمیرا اُس کے دشمن کی بیٹی ہے اور وہ ایک چھت کے نیچے جمع ہونے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر تک نہ رہی۔ وہ لمحات، جو اُسے ماضی کے تلخ ایام پر حاوی محسوس ہوئے تھے، گزر گئے اور یہ تمام واقعات اُسے ایک خواب سے زیادہ بے حقیقت محسوس ہونے لگے۔ وہ اُٹھ کر بھاگ جانا چاہتا تھا، کہ سمیرا دودھ کا برتن اور پیالہ لیے کمرے میں داخل ہوئی اور اُس نے کہا ’’میں آپ کا گھوڑا اصطبل میں باندھ کر اُس کے آگے گھاس ڈال آئی ہوں۔ میں نے اُس کی زین بھی اُتار دی ہے۔ میں آپ کے لیے بھی دودھ لے آئی ہوں۔ میں نے اُس میں شہد ڈال دیا ہے۔ بھائی جان شہد بہت پسند کرتے ہیں۔ آپ انہیں اٹھائیں‘‘۔
عاصم نے عمیر کا بازو ہلایا اور اُس نے آنکھیں کھولے بغیر کہا ’’مجھے سونے دو‘‘۔
’’بھئی، تمہاری بہن دودھ لائی ہے، تھوڑا سا پی لو‘‘۔ عاصم نے اُسے زبردستی سہارا دے کر بٹھادیا۔ عمیر نے غنودگی کی حالت میں آنکھیں کھولیں۔ سمیرا کے ہاتھ سے دودھ کا پیالہ لیا اور بڑے بڑے گھونٹ بھرنے کے بعد دوبارہ لیٹ گیا۔
سمیرا نے کہا ’’بھائی جان ایک پیالہ اور پی لیجیے‘‘۔
’’نہیں نہیں، مجھے تنگ نہ کرو‘‘ عمیر نے آنکھیں بند کرکے کروٹ بدلتے ہوئے کہا۔
سمیرا نے دودھ کا پیالہ بھر کر عاصم کو پیش کیا لیکن اُس نے جواب دیا ’’نہیں نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں‘‘۔
’’آپ دودھ نہیں پیا کرتے؟‘‘ سمیرا نے معصومانہ انداز میں سوال کیا۔
’’پیتا ہوں لیکن اس وقت مجھے اشتہا نہیں‘‘۔
وہ بولی ’’یہ غلط ہے میں بچپن سے اپنے باپ اور بھائیوں کے لیے کھانا پکاتی ہوں اور میرا تجربہ ہے کہ مرد خواہ عمر کے کسی حصے میں ہوں، اُن کی بھوک اُن کے چہرے سے نظر آجاتی ہے۔ آپ کی صورت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مجھے کچھ کھانے کو چاہیے‘‘۔
عاصم نے سمیرا کی طرف دیکھا، وہ مسکراتے ہوئے بولی ’’لیجیے، آپ کے لیے کھانا بھی موجود ہے۔ میں ابھی لاتی ہوں‘‘۔
عاصم کو سمیرا کی چمکتی ہوئی آنکھوں کی التجا حکم سے زیادہ موثر محسوس ہوئی اور اُس نے قدرے تذبذب کے بعد اُس کے ہاتھ سے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ سمیرا اپنے بھائی کے پائوں کی طرف بیٹھ گئی۔
عاصم نے دودھ پی کر پیالہ واپس کرتے ہوئے کہا ’’آپ کو میرے گھوڑے کی زین نہیں اُتارنی چاہیے تھی۔ میں صرف آپ کے بھائی کو پہنچانے یہاں آیا تھا اور اب واپس جانا چاہتا ہوں‘‘۔
سمیرا نے دودھ کا ایک اور پیالہ بھر کر اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’لیجیے! مجھے آپ کا چہرہ یہ بھی بتا رہا تھا کہ آپ بہت تھکے ہوئے ہیں۔ اور شاید کئی راتوں سے نہیں سوئے۔ اس لیے میں نے دوسرے کمرے میں آپ کا بستر بھی بچھادیا ہے۔ مجھے ایک بات پر ندامت ہے۔ میں اس سے پہلے یہ نہ دیکھ سکی کہ آپ بھی زخمی ہیں۔ میں بھائی جان کی وجہ سے بہت پریشان تھی‘‘۔

حصہ