منتخب غزلیں

142

آشفتہ چنگیزی
برا مت مان اتنا حوصلہ اچھا نہیں لگتا
یہ اٹھتے بیٹھتے ذکر وفا اچھا نہیں لگتا
جہاں لے جانا ہے لے جائے آ کر ایک پھیرے میں
کہ ہر دم کا تقاضائے ہوا اچھا نہیں لگتا
سمجھ میں کچھ نہیں آتا سمندر جب بلاتا ہے
کسی ساحل کا کوئی مشورہ اچھا نہیں لگتا
جو ہونا ہے سو دونوں جانتے ہیں پھر شکایت کیا
یہ بے مصرف خطوں کا سلسلہ اچھا نہیں لگتا
اب ایسے ہونے کو باتیں تو ایسی روز ہوتی ہیں
کوئی جو دوسرا بولے ذرا اچھا نہیں لگتا
ہمیشہ ہنس نہیں سکتے یہ تو ہم بھی سمجھتے ہیں
ہر اک محفل میں منہ لٹکا ہوا اچھا نہیں لگتا
…٭…
قربانی کے بکرے/سید محمد جعفری
پھر آ گیا ہے ملک میں قربانیوں کا مال
کی اختیار قیمتوں نے راکٹوں کی چال
قامت میں بکرا اونٹ کی قیمت کا ہم خیال
دل بیٹھتا ہے اٹھتے ہی قربانی کا سوال
قیمت نے آدمی ہی کو بکرا بنا دیا
بکرے کو مثل ناقۂ لیلیٰ بنا دیا
بکرے کے پیچھے پیچھے ہیں مجنوں کا بھر کے سوانگ
گر ہو سکے خریدئیے بکرے کی ایک ٹانگ
قیمت جو ٹانگ کی ہے لگا دے گی پھر چھلانگ
’’مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ‘‘
’’ٹیڑھا لگا ہے قط قلم سرنوشت کو‘‘
مہنگائی میں چلا ہے یہ بکرا بہشت کو
دیہات سے جو شہر میں بکروں کو لائے ہیں
معلوم ہو رہا ہے وہ جنت سے آئے ہیں
قیمت نے آسمان کے تارے دکھائے ہیں
بکرا نہیں خریدا گنہ بخشوائے ہیں
قربانی ایسے حال میں امر محال ہے
بکرا ’’تمام حلقۂ دام خیال ہے‘‘
قربانی ہو بھی جائے مگر کھنچ رہی ہے کھال
اے گوشت کھانے والو ذرا خود کرو خیال
بکرے کے ساتھ ہوتا ہے گاہک کا انتقال
گر قیمتیں یہی ہیں تو جینے کا کیا سوال
ہیں گلہ بان لوگوں کے پیچھے پڑے ہوئے
اور بکرا لے کے ہم بھی ہیں مرغے بنے ہوئے
چوراہوں پر کھڑے ہوئے بکروں کے ہیں جو غول
تو ان کے منہ کو کھول کے دانتوں کو مت ٹٹول
قیمت میں ورنہ آئے گا فوراً ہی اتنا جھول
سونے کا جیسے بکرا ہو ایسا پڑے گا مول
خود ہی کہے گا بکرا کہ تجھ میں اگر ہے عقل
’’اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل‘‘
بکرے تمام راہ میں ہنکارتے چلے
بنگلوں کے بیل بوٹوں پہ منہ مارتے چلے
جس گھر میں گھس گئے وہیں افطارتے چلے
اور جب ہلے جگہ سے تو سسکارتے چلے
گھر والے کہہ رہے ہیں کہ باہر نکال دو
بکرے مصر ہیں اس پہ کہ ڈیرہ ہی ڈال دو
بکرا جو سینگ والا بھی ہے اور فسادی ہے
اس نے سیاسی جلسوں میں گڑبڑ مچا دی ہے
چلتے ہوئے جلوس میں ٹکر لگا دی ہے
اور ووٹروں میں پارٹی بازی کرا دی ہے
بکرے ہیں لیڈروں کی طرح جن پہ جھول ہے
ہنکارتے ہیں چپ بھی کرانا فضول ہے
بکرے جو پھر رہے ہیں سڑک پر ادھر ادھر
جلسوں میں اور جلوسوں میں کرتے ہیں شب بسر
بکرے کی پوری نسل سے بیزار ہیں بشر
جمہوریت کے بکروں کی لے کیا کوئی خبر
ڈر ہے کہ بکرا بھوک کی ہڑتال کر نہ جائے
منحوس سب کے واسطے یہ سال کر نہ جائے
قربانیوں کا دور ہے بکروں کی خیر ہو
ہے اور بات حالت انسان غیر ہو
قرضے میں اس کا جکڑا ہوا ہاتھ پیر ہو
لیکن نصیب بکرے کو جنت کی سیر ہو
بکرے کے سر پہ آئے گی شامت ہی کیوں نہ ہو
’’اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو‘‘
بکروں کی اتنی گرمئ بازار دیکھ کر
اور قیمتوں کی تیزئ رفتار دیکھ کر
بکرا خریدا سستا سا بیمار دیکھ کر
جو مر گیا چھری پہ مری دھار دیکھ کر
میرے نصیب میں نہ تھی قربانی کی خوشی
اس مصلحت سے کر لی ہے بکرے نے خودکشی
…٭…
فیض احمد فیض
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
…٭…
خاطر غزنوی
جفائیں بخش کے مجھ کو مری وفا مانگیں
وہ میرے قتل کا مجھ ہی سے خوں بہا مانگیں
یہ دل ہمارے لیے جس نے رت جگے کاٹے
اب اس سے بڑھ کے کوئی دوست تجھ سے کیا مانگیں
وہی بجھاتے ہیں پھونکوں سے چاند تاروں کو
کہ جن کی شب کے اجالوں کی ہم دعا مانگیں
فضائیں چپ ہیں کچھ ایسی کہ درد بولتا ہے
بدن کے شور میں کس کو پکاریں کیا مانگیں
قناعتیں ہمیں لے آئیں ایسی منزل پر
کہ اب صلے کی تمنا نہ ہم جزا مانگیں
…٭…

اکبر الہ آبادی کے منتخب اشعار
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
۔۔۔۔
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
۔۔۔
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
۔۔
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے
۔۔
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے
نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے
۔۔
غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئے
میں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئے
۔۔۔
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
۔۔۔
اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا
۔۔۔۔۔

حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایا
کہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے
۔۔۔۔
جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے
۔۔
کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

…٭…

الطاف حسین حالی کے 10 منتخب شعر
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
٭٭٭
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
٭٭٭
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
٭٭٭
قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں
٭٭٭

…٭…

عبد العزیز خالد

بھولوں انہیں کیسے کیسے کیسے
وہ لمحے جو تیرے ساتھ گزرے
ہے راہنما جبلت ان کی
بے حس نہیں موسمی پرندے
اے دانشور مفر نہیں ہے
اقرار وجود کبریا سے
جانا کوئی کارساز بھی ہے
ٹوٹے بن بن کے جب ارادے
محراب عمود برج قوسیں
رس میں ڈوبے بھرے بھرے سے
بحر کافور میں تلاطم
بھونرا بیٹھا کنول کو چوسے
چاک افقی حریم زہرہ
رہ رہ کے مدن ترنگ جھلکے
جھلمل جھلمل بدن کا سونا
لہرائیں لٹیں کمر سے نیچے
کیا چاند سی صورتیں بنائیں
قربان اے نیلی چھتری والے
…٭…

یروشلم/نعیم صدیقی

یروشلم یروشلم تو ایک حریم محترم
تیرے ہی سنگ در پر آج منہ کے بل گرے ہیں ہم
تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بچشم نم
یروشلم یروشلم یروشلم یروشلم
…٭…

حصہ