باضمیر اور دلیر امریکی صحافی ہیلن تھامس

136

ہیلن تھامس کا تعلیمی اور صحافتی پس منظر:
ہیلن تھامس ۴اگست ۱۹۲۰ء کو امریکی ریاست کنکٹی کٹ کے ایک شہر ونچسٹر میں پیدا ہوئی۔ اس کے والدین، جارج تھامس اور میری طرابلس، لبنان سے ہجرت کرکے امریکہ آئے تھے۔ ان کے نوبچوں میں ہیلن کا ساتواں نمبر تھا۔ ہیلن نے روایتی تعلیم پائی اور ۱۹۴۲ء میں وائن سٹیٹ یونیورسٹی میں انگریزی مضمون میں گریجویشن کرلی۔ وہ عیسائیوں کے فرقے یونانی آتھوڈوکس چرچ سے تعلق رکھتی ہے۔
واشنگٹن ڈیلی نیوز نامی اخبار میں ہیلن کو پہلی ملازمت ملی۔ تاہم مالی مسائل کے شکار اخبار سے جلد اسے نکال دیا گیا۔ ہیلن پھر امریکی خبر رساں ایجنسی، یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل سے وابستہ ہوگئی۔ وہ اس کی ریڈیو سروس کے لیے خواتین کے موضوعات پر خبریں بنانے لگی۔ اسے ہر ہفتے ۲۴ڈالر تنخواہ ملتی۔ بعد میں ہیلن ایجنسی کے لیے ایک ہفتہ وار کالم ’’نیمز ان دی نیوز‘‘ (خبروں میں رہنے والے نام) لکھنے لگی۔ اس کالم کے سلسلے میں ہیلن نے واشنگٹن کی سینکڑوں مشہور ہستیوں سے انٹرویو کیے۔
یہودی فلسطین سے نکل جائیں:
یہ ۲۷مئی ۲۰۱۰ء کی حسین صبح تھی۔ امریکی حکمرانوں کے سفید محل، وائٹ ہائوس میں رنگ برنگ پھول اپنے خوشبوئیں بکھیر کر فضا معطر کیے ہوئے تھے۔ آج وائٹ ہائوس کے وسیع و عریض دالان میں خاصی گہما گہمی تھی۔ دراصل سفید محل کے یہودی اہلکار اپنا ایک مقامی تہوار منارہے تھے۔ اس تقریب میں یہودیوں کے کئی عیسائی دوست بھی شریک تھے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ خوشی کے اس موقع پر ایک بدمزہ واقعہ ظہور پذیر ہونے والا ہے۔
تقریب میں ممتاز امریکی صحافی، ہیلن تھامس بھی شریک تھی۔ وہ ایک میز پر دوستوں کے ساتھ بیٹھی کلام و طعام سے لطف اندوز ہورہی تھی کہ یہودی ربی (مذہبی رہنما) ڈیوڈ نیسنیوف اس کے پاس پہنچا۔ ڈیوڈ شوقیہ طور پر دستاویزی فلمیں بھی بناتا تھا۔ شاید اسی لیے اس نے آج بھی ویڈیو کیمرا تھام رکھا تھا۔
یہ تھی صورت حال جب ربی ڈیوڈ صحافی ہیلن کے پاس پہنچا تب دنیا کا ہر حساس انسان اسرائیلی حکومت کے ناروا اقدام پر چراغ پا تھا۔ ڈیوڈ نے کیمرہ ہیلن پر مرکوز کیا اور پوچھا ’’آپ اسرائیل کے متعلق کچھ کہیں گی؟ ہم ہر کسی سے اسرائیل کے متعلق رائے لے رہے ہیں‘‘۔
ہیلن: انہیں (یہودیوں کو) کو چاہیے کہ وہ خدا کے لیے فلسطین کی جان چھوڑیں اور وہاں سے نکل جائیں۔
ڈیوڈ: اوہ! اسرائیل کے متعلق آپ اچھی رائے نہیں دے سکتیں؟
ہیلن: یاد رکھیے، انہوں نے (یہود نے) ان (فلسطینیوں) کی زمین پر قبضہ کررکھا ہے اور وہ (فلسطینی) متاثر لوگ ہیں۔ انہیں (یہود کو) معلوم ہونا چاہیے کہ یہ جرمنی نہیں، یہ پولینڈ نہیں۔
ڈیوڈ: مگر وہ (یہودی فلسطین سے نکل کر) کہاں جائیں؟ وہ کیا کریں؟
ہیلن: اپنے گھر جائیں۔
ڈیوڈ: ان کا گھر کہاں ہے؟
ہیلن: پولینڈ، جرمنی۔
ڈیوڈ: گویا آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ یہودی پولینڈ اور جرمنی واپس چلے جائیں؟
ہیلن: اور امریکہ اور کہیں بھی! جو لوگ صدیوں سے اس جگہ (فلسطین میں) رہ رہے ہیں، انہیں وہاں سے نکالنے کی کیا تک ہے؟ آپ خود سوچیے۔
انٹرنیٹ پر جاری کردہ ربی ڈیوڈ اور ہیلن کی گفتگو
امریکا اور دنیا بھر میں بھونچال آگیا
یہ ساری بات چیت ویڈیو کیمرے میں محفوظ ہوگئی۔ ربی ڈیوڈ نے کچھ عرصہ توقف کے بعد فلمائی گئی یہ گفتگو ۶جون کو انٹرنیٹ پر جاری کردی اور … اور امریکہ میں جیسے بھونچال آگیا۔ یہ واقعی ایک ایسا زلزلہ تھا جو دنیا والوں کے سامنے امریکی حکومت اور معاشرے کی کہی جہتیں آشکارا کرگیا۔
دراصل ہیلن تھامس کوئی معمولی ہستی نہیں، وہ امریکہ کے واحد اخباری نمائندہ (رپورٹر) تھی جس کا نام وائٹ ہائوس پریس بریفنگ کے کمرے میں ایک کرسی پر کندہ ہے۔ وہ پہلی خاتون تھی جو امریکی حکومت کے مرکز آنے والے صحافیوں کی تنظیم، وائٹ ہائوس کریس پونڈینٹ ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئی۔ اسے یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ وائٹ ہائوس میں طویل ترین عرصہ کام کرنے والی اخباری نمائندہ تھی۔ سب سے بڑھ کر وہ ایک دلیر اور کسی جابر سے نہ دبنے والی صحافی تھی۔ وہ امریکی صدر سے ایسے تلخ مگر سچے سوال کرتی کہ وہ اچھے خاصے پریشان ہوجاتے۔ ہیلن کے سوالات کی کاٹ اور تیزی کا اندازہ اس واقعے سے لگایئے۔
ایک بار ایک امریکی رسالے، یو ایس ٹوڈے کے بانی، ال نیوہرتھ نے کیوبا کے تاریخی رہنما، فیڈل کاسترو سے سوال کیا
’’آپ کبھی امریکہ کے صدر نہیں بن سکتے، آپ کو اس ضمن میں سب سے زیادہ خوشی کس بات پر ہے؟
کاسترو نے کہا: ’’میں یہ سوچ کر خوش ہوجاتا ہوں کہ مجھے اخباری کانفرنس کے دوران ہیلن کے سوالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا‘‘۔
ربی ڈیوڈ سے باتیں کرتے ہوئے بھی ہیلن نے حسب روایت سچائی کو مدنظر رکھا اس نے سوالات کے وہی جواب دیے جن سے پوری دنیا واقف ہے، لیکن امریکی حکومت اور یہودی کھرب، ارب پتیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والے امریکی صحافی، سیاست داں وغیرہ اس تلخ سچائی کو ہضم نہ کرپائے۔ سب سے پہلے امریکی ذرائع ابلاغ نے ہیلن کے خلاف طوفان کھڑا کردیا۔ یوں لگا جیسے اس سے کوئی بہت بڑا جرم سرزد ہوگیا۔ جیسے اس نے کوئی بڑا گناہ کرڈالا ہے۔
جون ۲۰۱۰ء کو ہیلن تھامس نے اپنی ویب سائٹ پر یہ پیغام جاری کیا۔
ویب سائٹ پر ہیلن کی معذرت:
گذشتہ ہفتے میں نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے بارے میں جو تبصرہ کیا تھا میں اس پر تاسف کا اظہار کرتی ہوں۔ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن صرف اس وقت ہوگا جب کہ تمام فریق باہمی عزت و احترام اور برداشت کی ضرورت کو تسلیم کریں گے۔ خدا کرے کہ یہ دن جلد آئیں۔
سچ بولنے کی سزا:
ربی ڈیوڈ سے باتیں کرتے ہوئے بھی ہیلن نے حسب روایت سچائی کو مدنظر رکھا اس نے سوالات کے وہی جواب دیے جن سے پوری دنیا واقف ہے، لیکن امریکی حکومت اور یہودی کھرب، ارب پتیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والے امریکی صحافی، سیاست داں وغیرہ اس تلخ سچائی کو ہضم نہ کرپائے۔ سب سے پہلے امریکی ذرائع ابلاغ نے ہیلن کے خلاف طوفان کھڑا کردیا۔ یوں لگا جیسے اس سے کوئی بہت بڑا جرم سرزد ہوگیا۔ جیسے اس نے کوئی بڑا گناہ کرڈالا ہے۔
عام خیال یہ ہے کہ اپنی رائے یا اظہار کی آزادی جتنی امریکہ میں ہے، وہ کہیں اور نہیں ملتی، لیکن ہیلن کا معاملہ سامنے آتے ہی یہ تصور خاک میں مل گیا۔ ہیلن نے ربی کو جو کچھ کہا، اسے سچائی کے بجائے یہود دشمنی سے تعبیر کیا گیا چونکہ امریکہ میں بیشتر ٹی وی چینل، اخبارات، رسائل وغیرہ یہودیوں کے قبضے میں ہیں لہٰذا ذرائع ابلاغ یا میڈیا نے ہیلن کے خلاف تند و تیز مہم کا آغاز کردیا۔ حتیٰ کہ اسے چڑیل اور دیگر گھٹیا القابات سے نوازا گیا۔
بش انتظامیہ اور ہیلن تھامس(
۲۰۰۰ء میں امریکیوں کو اپنی تاریخ کے ایک انتہائی جنگجو صدر، جارج بش جونیئر سے پالا پڑا۔ موصوف کی جنگجویانہ فطرت ہیلن کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔ اسی لیے بش انتظامیہ اس کی شدید تنقید کا نشانہ بن گئی۔ جارج ڈبلیو بش کے اس پہلے دور صدارت میں ان کے پریس سیکریٹری ایری فلیشرز (Ari Fleischers) کے دہشت گردوں کو اسلحہ کی فراہمی کے بارے میں بیانات سے متعلق جب ہیلن تھامس نے ان سے سوال کیا ’’اسرائیلی یہ اسلحہ کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟‘‘ تو ایری فلیشرز نے جواب دیا ’’ہیلن فرق یہ ہے کہ …‘‘ کیا فرق ہے؟ ہیلن نے فلیشرزکی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
فرق یہ ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانا کیونکہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا، یاسر عرفات اور اسرائیل کے عوام دونوں سے دشمنی ہے‘‘… ہیلن نے دوبارہ ایری فلیشرز کی بات کاٹتے ہوئے ہا کہ فلسطین کے عوام اپنے خطہ زمین کے لیے لڑ رہے ہیں‘‘ جواب میں فلیشرز نے کہا کہ ’’میرے خیال میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا ایک بالکل مختلف بات ہے، خطہ زمین کے لیے بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا دہشت گردی کی حمایت کرنا ہے۔‘‘
’’امریکی تاریخ کا بدترین صدر‘‘
جنوری ۲۰۰۳ء میں وہ سوسائٹی آف پروفیشنل جرنلسٹس نامی تنظیم کے اجلاس میں شریک تھی۔ تب ایک اخبار ڈیلی بریز کا اسپورٹس صحافی اس سے آٹو گراف لینے آیا۔ اس نے ہیلن کو کچھ اداس دیکھا تو اداسی کی وجہ پوچھی۔ ہیلن نے کہا ’’میں (وائٹ ہائوس) میں امریکی تاریخ کے بدترین صدر کی رپورٹنگ کررہی ہوں۔‘‘
اس صحافی نے یہ جملہ اخبار میں شائع کردیا نتیجتاً صدر بش ہیلن سے اتنا ناراض ہوا کہ اسے اپنی اگلی پریس کانفرنس میں بلایا ہی نہیں۔ یہ پچھلے چالیس برس میں پہلا موقع تھا کہ ہیلن کسی صدر کی پریس کانفرنس میں شریک نہ ہوسکی۔ ورنہ وہ بیمار ہوتی یا کوئی بھی ضروری کام ہوتا، تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ صدارتی پریس کانفرنس میں ضرور شرکت کرتی تھی۔ہیلن نے صدر بش کے بارے میں اپنے تبصرے پر صدر سے معذرت کرلی۔
ہیلن کو ۱۹۷۶ء سے یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ صدارتی پریس کانفرنس میں وہی سب سے پہلا سوال کرتی تھی لیکن بش جونیئر ۲۰۰۳ء نے اس بے مثال روایت کا بھی خاتمہ کردیا۔ یہی نہیں، اس نے ہیلن کو نشست صف اول سے اٹھواکر پیچھے رکھوادی۔ بہانہ یہ گھڑا کہ چونکہ وہ اب کسی خبررساں ایجنسی کی نمائندہ نہیں لہٰذا وہ آگے کیسے بیٹھ سکتی ہے؟ ہیلن نے خاموشی سے یہ ظلم برداشت کیا۔ جب ایک صحافی نے اس سے دریافت کیا کہ اسے پیچھے کیوں پہنچایا گیا ہے تو وہ اپنی روایتی بے باکی سے بولی ’’وہ مجھے پسند نہیں کرتے … میں بہت زیادہ تلخ سوال پوچھتی ہوں۔‘‘
(جاری ہے)

حصہ