ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کا انٹریو(حصہ دوم)

156

اب اردو افسانے میں ایک رجحان علامتی تمثیلی کہانیوں کا وجود میں آیا ہے۔ جب بھی کوئی نیا رجحان سامنے آتا ہے تیسرے درجے کے اذہان اسے فیشن کے طور پر اپناتے ہیں اور جب کوئی رجحان فیشن بن جاتا ہے تو فارمولے کی زد میں آجاتا ہے اوراس کے اندر اصل تخلیقی جوہر کم ہوجاتا ہے۔ ایسا علامتی کہانی کے ساتھ بھی ہوا۔ اگرچہ علامتی کہانی نے حقیقت کی ہمہ جہتی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے اور یہ فکشن کے ایک بہت ہی صحت مند رجحان کے طور پر اردو میں راسخ ہو چکی ہے اور اس نے ادبی اقدار کی بحالی کا حق بھی ادا کیا ہے۔ فکشن کے تمام تقاضوں کو علامتی کہانی پورا نہیں کرسکی اس لیے اس کی تقلیدی شکلیں بھی سامنے آئیں۔ اب بعض کہانیاں علامتی کہانیوں کے نام پر ایسی بھی لکھی جاتی ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ نہ تو یہ افسانہ ہے‘ نہ انشانیہ ہے بلکہ یہ کچھ اور چیز ہے۔
1975-76ء کے لگ بھگ افسانے میں ایک نئی بحث شروع ہوئی جو اس وقت تک جاری ہے کہ کہانی میں کہانی پن ہونا چاہیے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 1955-60ء میں ایک نعرہ نئی کہانی کا لگایا گیا تھا۔ اس میں بالخصوص ایک رجحان یہ بھی تھا کہ نئے افسانے اس عنصر کو خارج کرنا چاہیے جس کو افسانہ کہتے ہیں‘ تب وہ افسانہ نیا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ یہ شدید غلطی تھی اردو میں ہمیں اپنی ثقافتی روایتوں کو بالکل نہیں بھولنا چاہیے اور اتنی بات ہم جانتے ہیں کہ ہزاروں سال پرانی ہندوستانی فکر کی روایت میں بھی جاتکا کہانیاں ہیں‘ پنچ تنتر کی کہانیاں ہیں۔ اگر آپ اسلامی روایت کو دیکھیں تو داستانی ادب ہے اور حکایتوں میں دانش اور عقل کے رموز و نکات کم سے کم لفظوں میں اور واقعاتی طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ ڈھانچا واقعاتی ہے لیکن اگر آپ اس کی گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوگا کہ اسلوب یا پیرایہ تمثیلی ہے کردار محض نام ہے‘ اصل کردار نہیں ہیں۔ داستانوں کے کرداروں کے پیچھے اگر آپ دیکھیں تو وہ وسیع تر حقیقتوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مثنوی مولوی معنوی میں رومی کی جو حکایات ہیں یا سعدی کی جو حکایات ہیں انہیں آپ پڑھیں تو کردار محض جسمانی کردار نہیں ہیں‘ ان کے اندر وسیع تر حقیقتوں اور انسانی تجربوں کی گونج موجود ہے۔
اردو زبان جس کا ثقافتی پس منظر یہ ہے‘ اس میں کہانی میں سے کہانی پن کا اخراج کر دیا گیا جس کے مضر نتائج جلد ہی سامنے آئے۔ چنانچہ یہ بحث شروع ہوتی ہے کہ کہانی کی اصل پہچان توکہانی پن ہے‘ لہٰذا پچھلے دس برس کی کہانی میں آپ کہانی کی بازیافت کا عمل دیکھ سکتے ہیں۔ اب علامتی کہانی ایک طرح سے چیلنج کی زد میں آئی ہے صرف علامتی کہانی‘ کہانی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔ ہمارے فن کاروں کا فرض ہے کہ وہ نئی حقیقت نگاری کا حق ادا کریں۔ کہانی نے بغاوت کی تھی رومانویت سے‘ سطحیت سے‘ خطابت سے‘ فارمولا زدگی سے‘ اکہری جذباتیت سے۔ کہانی نے کبھی بغاوت نہیں کی پریم چند کے ’’کفن‘‘ سے یا سعادت حسن منٹو کے فن سے۔ اسی طرح بیدی کا فن بھی جو حقیقت نگاری کا فن ہے جس میں عورت اور مرد کا دکھ درد ابھرتا ہے‘ اس حقیقت نگاری کو بھی کہانی نے کبھی رد نہیں کیا۔ آج کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی کہانی کا حق بھی کہانی میں اد اکیا جانا چاہیے۔
طاہر مسعود: آپ نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ نئے افسانہ نگاروں کی جو کھیپ آئی ہے‘ یہ اوسط درجے کی ذہنیت کی یلغار کی صورت میں آئی ہے اور اس کھیپ میں شامل افسانہ نگاروں نے جو افسانے لکھے ہیں وہ رواجی اور تقلیدی نوعیت کے ہیں۔ اب آپ کی کیا رائے ہے کہ اس صورت حال میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: یہ آواز میں نے 1980ء میں اٹھائی تھی اور اس مضمون کا عنوان تھا ’’نئے افسانہ نگاروں کے لیے لمحہ فکریہ‘ مقلدین کی یلغار‘‘ ظاہر ہے کہ ان چھ برسوں میں صورت حال کچھ نہ کچھ بدلی ہے اور کچھ نئی آوازیں ایسی ہیں جن سے امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں لیکن اب بھی میرا کہنا یہ ہے کہ منٹو‘ کرشن اور بیدی کے زمانے میں جس طرح بہترین اذہان کہانی میں ایک نئے ولولے کے ساتھ ابھرے اور پھر اس کے بعد ایک بغاوت کی لہر اٹھی جسے ہم منسوب کرتے ہیں‘ انتظار حسین‘ سریند پرکاش اور بلراج منیرا کی نسل کے افسانہ نگاروں سے‘ اس کے بعد بہت سے ایشوز سامنے آئے کہ فلاں فلاں رحجان سے گریز کرنا ہے۔ انحراف کا پیمانہ یہ ہو‘ اجتہاد یا انحراف کے انقطاع کا منظر نامہ یہ ہو۔ ادھر 1970ء کے بعد جو نسل آئی ہے ان کے ایشوز صاف نہیں ہیں۔ یہ نسل توسیع ہے انتظار حسین اور انور سجاد کی۔ ان کے پاس بغاوت کا وہ شعلہ نہیں۔ وہ مقدس آگ نہیں ہے جو پچھلی نسل کے پاس تھی۔ یہ لوگ زیادہ سے زیادہ یہ کر رہے ہیں کہ علامتی کہانی میں جو کمیاں رہ گئی ہیں‘ ان کو پورا کیا جائے۔ 1980ء میں جب میں نے نئی کہانی کے سلسلے میں آواز اٹھائی تو میری شدید مخالفت ہوئی۔ آپ نے ’’معاصر‘‘ میں انیس ناگی کا مضمون دیکھا ہوگا‘ انہوں نضے لکھا کہ نارنگ جو نئی کہانی کے علم بردار تھے‘ اب وہی اس کے مخالفت کر رہے ہین۔ حالانکہ بات یہ نہیں تھی۔ میں آج بھی علامتی کہانی کی حمایت کرتا ہوں لیکن علامتی کہانی ہی کُل کہانی نہیں ہے۔ تمثیلی کہانی بھئی کُل کہانی نہیں ہے۔ جس شخص کا ذہن و شعور دعلامتی کہانی لکھنے پر قادر نہ ہو‘ جس کا باطنی اور تخلیقی تجربہ اس قدر پے چیدہ نہ ہو جو کسی ایسے سوال کو نہ لینا چاہتا ہو جس کا اظہار سوائے علامت یا استعارے کا استعمال کیے نہ ہو سکتا ہو‘ اسے چاہیے کہ وہ سیدھی سادی کہانی لکھے۔ سیدھی سادی کہانی کو تو مجروح نہ کرے۔ بہت بڑی تعداد قارئین کی ایسی ہے جو سیدھی سادی کہانی پڑھنا چاہتی ہے۔ اس قاری کو آپ کہانی سے محروم کریں گے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا کہ جو سستا ادب ہے جو انتہائی معمولی درجے کا ادب ہے‘ وہ ان ضرورتوں کو پورا کرے گا۔ آپ کا تخلیقی ادب جس کی سنجیدہ علمی سطح بھی ہے‘ وہ عوام سے دور ہوتا جائے گا۔ آپ خود دیکھیں کہ کرشن چندر‘ منٹو اور بیدی کے زمانے میں اب کے زمانے تک آپ کا افسانہ اتنا ادبی ہو گیا ہے کہ عوامی ضرورتوں سے دور ہو گیا ہے۔ میری کوشش ہے کہ ایسے افسانہ نگار بھی سامنے آئیں اور آئے ہیں جن میں راولپندی سے رشید امجد‘ محمد منشا یاد‘ مرزا حامد بیگ‘ احمد جاوید‘ احمد دائود‘ کراچی سے اسد محمد خاں‘ زاہدہ حنا‘ ممبی میں انور قمر‘ سلام بن رزاق‘ ساجد رشید‘ علی امام نقوی‘ بہار سے شوکت حیات‘ رضوان احمد‘ عبدالصمد‘ آگرے سے سید محمد اشرف‘ گورکھ پور سے طارق چھتاری غرضیکہ بیس پچیس افسانہ نگار ہیں۔ ان افسانہ نگاروںمیں بعض کے یہاں جوہر نظر آتا ہے۔ اس نسل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے اوپر کوئی لیبل لگانا نہیں چاہتی۔ ترقی پسندی کا نہ غیر ترقی پسندی کا۔ یہ کہنا چاہتی ہے کہ جو ہمارے مسائل ہیں‘ ان کے تئیں ہم بیدار ہیں اور کہانی کا حق ادا کرنا چاہیے ہیں۔ یہ خوش آئند تبدیلی ہے کہ ان لوگوں کی نظر کہانی کے جوہر پر ہے۔
طاہر مسعود: 1970ء کے بعد جو نسل سامنے آئی ہے‘ ان کے افسانوں میں خاص طور پر یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ ان کا بیانیہ کمزور ہوتا ہے۔ ان کے افسانے پڑھنے والوں کو اپنی گرفت میں لینے سے قاصر نظر آتے ہیں جیسا کہ پچھلی نسل کے افسانہ نگاروں میں یہ صلاحیت تھی کہ کہانی خواہ کم زور ہی کیوں نہ ہو‘ وہ اپنے بیانے کی قوت سے قاری کو پورا افسانہ پڑھنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: یہ بات کسی حد تک صحیح ہے‘ ہندوستان اور پاکستان میں 1970ء کے بعد کی نسل سے کوئی افسانہ نگار ایسا نہیں اٹھا ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ یہ اس نسل کا انتظار حسین‘ انور سجاد یا سریندر پرکاش ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اہم ایشوز پر اب جا کر ذہن صاف ہوئے ہیں اور آئندہ امید کی جاسکتی ہے۔ ادھر کچھ زمانہ زبان کے معاملے میں شکست و ریخت کا ایسا گزرا ہے کہ زبان اور بیانیے پر سے توجہ ہٹ گئی ہے۔ اس کا نقصان پہنچا ہے اور نقصان یہی پہنچا ہے کہ بیانیہ کمزور ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں نئی حسیت پیدا ہوئی ہے۔ اس کا اثر آئندہ پانچ برس کے بعد دکھائی دے گا۔ اس وقت موجودہ نسل سے کسی بڑے فن کار کی توقع رکھنا اور یہ کہنا کہ آگے چل کر ان میں سے کوئی منٹو‘ کرشن یا بیدی بنے گا‘ درست نہیں ہے کیوں کہ ایسی صورت تو دکھائی نہیں دیتی۔
طاہر مسعود: آپ کے خیال میں آئندہ چل کر کہانی تکنیک اور مواد کے اعتبار سے اظہار اور اس کے طریقۂ کار کے لحاظ سے کیا رخ اختیار کرے گی یعنی اردو کہانی کے آئندہ کیا امکانات ہیں؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: امکانات تو بے حد روشن ہیں اس لیے کہ میں افسانے کو اردو کی ثقافتی روایت کی ایک بنیادی ضرورت سمجھتا ہوں۔ شاعری میں جو مرکزیت غزل کوحاصل ہے‘ نثری اصناف میں وہی مرکزیت ثقافتی وجوہ سے افسانے کو حاصل ہے۔ ہماری وہ ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں جو افسانے سے پوری ہوتی ہیں‘ ناول سے بھی نہیں۔ افسانہ تو مرکزی صنف بن چکا ہے۔ رہی یہ بات کہ آگے چل کر افسانہ کیا سمت اختیار کرے گا؟ اس وقت نئی تنقید کی طرف سے ایک یلغار یہ ہو رہی ہے کہ تمثیلی کہانی یا تمثیلی افسانہ نگاری نہایت اسفل طریقہ کار ہے اور علامتی کہانی کو جو چیز کم زور کر رہی ہے وہ تمثیل ہے۔ خاص طور پر وارث علوی اور باقر مہدی نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات غلط ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ نئے افسانے کو خطرہ ترقی پسند افسانے سے نہیں ہے بلکہ تمثیلی کہانی اور داستانوی ادب سے ہے۔ غالباً ان کی مراد انتظار حسین کے فن سے ہے یعنی انتظار حسین کی کہانی کو بہ قول ان لوگوں کے اگر داستانوی کہانی مان لیا جائے تو یہ کہانی نئے افسانے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال ہی غلط طریقے پر وضع کیا گیا ہے۔ انتظار حسین کے فن کو داستانوی کہانی کہنا اپنی کم فہمی کا ثبوت دینا ہے۔ دوسرے یہ کہ تمثیل میں اور تمثیلی پیرایہ کار میں فرق کرنا چاہیے۔ انتظار حسین کے یہاں تمثیل نہیں ہے بلکہ تمثیلی پیرایہ کار ہے اور آج کے ادب میںخصوصاً یورپی ادب اور تیسری دنیاکے ممالک میں جو بہترین ناول لکھے جارہے ہیں‘ ان میں بھی علامت کے ساتھ ساتھ تمثیل کا عمل جاری و ساری ہے۔ پھر یہ کہ قدیم ہندوستان اور اسلامی فکشن میں ہمیشہ تمثیلی عنصر رہا ہے۔ علامت تو ہم نے مغرب سے لی ہے۔ یہ بالکل باہر کی چیز ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مغرب سے ہم کوئی چیز مستعار نہیں لے سکتے۔ افسانے کا موجودہ ڈھانچہ‘ ناول اور ڈرامے کا تصور‘ جدید آزاد نظم یہ سب مغرب کی دین ہے۔ تصور کو باہر سے لینے میں کوئی برائی نہیں مگر وہی تصور آپ کے یہاں قبولیت کی سند پائیں گے جو آپ کی ثقافتی روایت سے لگاکھاتے ہوں ورنہ وہ رد ہو جائیں گے۔ افسانے میں بھی اگر آپ کہیں کہ وہی افسانہ یا نیا افسانہ ہے جو علامتی ہوگا تو علامت تو بالکل اوڑھی ہوئی چیز ہے اور پچھلے بیس برسوں کے ادب میں بھی اعلیٰ علامتی کہانیاں بہت کم نکلیں گی۔ علامتی کہانیاں لکھنا بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر ایسی علامتی کہانی کامیابی کے ساتھ لکھی گئی ہے جس میں زیادہ تر علامتی عنصر‘ تمثیلی عنصر کے ساتھ مل گیا ہے۔ تمثیل کی گنجائش نہ صرف ہے بلکہ ثقافتی تقاضوں کی وجہ سے ہمیشہ رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تمثیلی طریقہ کار میں جس طرح سے کہانی کے جوہر کی حفاظت ہوتی رہی ہے‘ اگر آج کے افسانہ نگار اس کی حفاظت کریں گے تو اس سے افسانے کا بھلا ہی ہوگا۔
طاہر مسعود: ایک نقاد نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ جدید زندگی اتنی پے چیدہ و تہ دار ہوگئی ہے کہ اس کی بوقلمونیوں کا احاطہ اب صرف ناول یا منظوم ڈرامے کی اصناف ہی میں ممکن ہے‘ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: کسی بھی زبان میں کوئی ا دب اپنے پس منظر اور حالات سے ہٹ کر تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ یہ توقع ضرور کی جاسکتی ہے کہ بڑے سے بڑا ناول لکھا جائے کیوں کہ موجودہ زندگی کی بہترین ترجمانی ناول کے کینوس پر ہوسکتی ہے۔ آپ نے کہا کہ منظوم ڈرامے میں لیکن ڈرامے کی روایت ہمارے یہاں بہت کمزور ہے۔ ڈرامے سے تو میں بالکل توقع نہیں کرتا کہ یک لخت کوئی بہت بڑا ڈراما نگار اردو میں پیدا ہو جائے گا۔ تھیٹر کی روایت تو ایک زمانے میں اردو میں تھوری بہت چلی بھی تھی لیکن آپ کو معلوم ہے کہ فلم کے آتے ہی وہ پٹ گئی۔ دوسری بات یہ کہ ناول کی روایت اردو میں موجود ہے۔ آزادی کے بعد اچھے ناول لکھے گئے۔ اگرچہ ان کی تعداد زیادہ نہیں۔ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر ان کو گن سکتے ہیںلیکن بہر کیف ناول کی روایت ہے۔ پھر یہ کہ زندگی کی پے چیدگی کے بارے میں ضروری نہیں کہ اس کا اظہار کسی خاص صنف میں کیا جائے۔ اس کے لیے کسی خاص صنف کا تقاضا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر جاپانی شاعری کو لیجیے وہاں حقیقت کا جدید سے جدید پے چیدہ سے پے چیدہ اظہار اگر فن کی سطح پر ہوگا تو ہائیکو کے ذریعے ہوگا۔ جس طرح ے اردو میں صدیوں سے زندگی کی تمام پے چیدگیوں کا اظہار غزل کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ ناول سے میں مایوس نہیں ہوں لیکن یہ کہنا کہ زندگی کی پے چیدہ حقیقتوں کا اظہار صرف ناول یا صرف منظوم ڈرامے میں ہو سکتا ہے‘ درست نہیں۔ ہاں ایک بات اور‘ ہم شاعری میں مختصر نظم کی طرف بہت زیادہ چلے گئے ہیں۔ ادھر تنقید بھی کچھ کوشش کر رہی ہے کہ اردو میں طویل نظمیں لکھی جائیں۔گو میں سمجھتا ہوں کہ تنقید کا کام ہدایت نامے جاری کرنا نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں فن پارے کی اہمیت کو سب سے مقدم سمجھتا ہوں۔ تنقید تخلیق کا بدل ہرگز نہیں ہے۔
(جاری ہے)
طاہر مسعود: آپ نے تنقید میں ساختیاتی اور اسلوبیاتی تنقید کی راہ اپنائی ہے۔ تنقید کے اس زاویے کی طرف آپ نے توجہ کیوں کی؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو تنقید میں یہ نسبتاً نیا میدان تھا یا اس کے علاوہ بھی کوئی سبب ہے؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: حقیقت یہ ہے کہ تنقید صرف ذوقِ سلیم کا کام ہے۔ ناقد کی حیثیت ایک تربیت یافتہ قاری کی ہے اور تنقید سچی اور اصلی تنقید جو محسوس کرکے کی جاتی ہے۔ کسی فن پارے کے حسن کاری کو پرکھنے کی یا تفہیم و تحسین شناسی کرنے کی‘ دراصل یہ سرے کا سارا معاملہ جمالیاتی ذوق کا ہے۔ اس میں کوئی فیصلہ نہ نفسیات کرسکتی ہے نہ عمرانیات نہ لسانیات اور نہ ہی اسلوبیات‘ اسلوبیاتی تنقید سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ غلط فہمیاں نفسیاتی تنقید کے بارے میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں لیکن اس کے بارے میں لوگ سوال کم اٹھاتے ہیں لیکن اسلوبیاتی تنقید کے بارے میں لوگ سوال زیادہ اٹھاتے ہیں اس لیے کہ لسانیات کا علم عام نہیں ہے اور جو چیز نئی ہوتی ہے اس سے بعض لوگوں کو اپنی اجارہ دری پر ضرب پڑتی محسوس ہوتی ہے۔ پہلی بات تو اسلوبیاتی تنقید کے بارے میں یہ عرض کروں گا کہ اسلوبیاتی تنقید‘ جمالیاتی تنقید یا اقداری تنقید کا بدل ہرگز نہیں ہے۔ جس طرح تنقید میں علم نفسیات سے‘ عمرانیات سے‘ تاریخ سے (جس میں ثقافت‘ تمدن اور تمام روایات آجاتی ہیں) مدد لے سکتے ہیں تو زبان کے علم کی شاخ جو لسانیت کہلاتی ہے‘ اگر اس سے ادب میں مدد لی جائے تو اس کے بارے میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے لیکن پریشانی یوں پیدا ہوتی ہے کہ لسانیت ایک سائنس ہے اور ادب فنون لطیفہ کی جان ہے۔ سائنس کی مدد سے آپ آرٹ کو سمجھ یا پرکھ نہیں سکتے کہ لسانیات سائنس ضرور ہے لیکن زبان کے تفاعل کے بارے میں جیسی مدد اور جیسی روشنی لسانیات سے حاصل ہو سکتی ہے‘ اتنی مدد نہ ہمیں نفسیات سے مل سکتی ہے نہ عمرانیات سے اور نہ ہی تاریخ سے۔ اگر آپ تھوڑی سی لسانیات جانتے ہیں یعنی زبان میں آوازیں کس طرح کام کرتی ہیں‘ ان کی تخصیص کس طرح سے شعوری یا غیر شعوری طور پر ہوتی ہے۔ زبان میں لفظ کی کیا مرکزیت ہے؟ جملے کس طرح بنتے ہیں اور ہر فن کار جس کا اپنا اسلوب ہے‘ اپنا چہرہ ہے‘ اپنی شناخت ہے‘ اپنی تخلیقی انفرادیت ہے‘ اس کے یہاں جملوں کے انداز دوسروں کے یہاں جملوں کے انداز سے مختلف ہوں گے۔ جس طرح سے آپ کسی شخص کو اس کے ہاتھ کی لکیروں سے پہچان سکتے ہیں اسی طرح ہم اسلوبیات کی مدد سے کسی بھی فن کار کی تخلیقی شخصیت‘ اس کی انفرادیت کا نہایت آسانی سے تعین کر سکتے ہیں اور اس حد تک صحیح کرسکتے ہیں کہ کوئی اس کو غلط ثابت کر ہی نہیں سکتا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ادب کی دنیا میں خواہ وہ شعری عظمت ہو یا نثری‘ انفرادیت کے بغیر کوئی بات نہیں بنتی آپ کی اپنی شناخت کیا ہے؟ یہ جو سیکڑوں ہزاروں ذہنوں کا کاررواں ہے اس میں آپ نے جو چراغ روشن کیا ہے اس کی روشنی دوسروں کی روشنی سے کس حد تک الگ ہے۔ آپ نے کن کن چراغوں سے اپنا چراغ جلایا ہے اور آپ کے اپنے چراغ کی نوعیت اور اس کی روشنی کی اہمیت کیا ہے؟ یہ ساری چیزیں لسانیات کی مدد سے حل ہو سکتی ہیں اور جس کی ذریعے ادب کو سمجھنے میں زبردتی مدد ملتی ہے۔ میرے اپنے علم کی جو حدود ہیں‘ ان کے اندر رہتے ہوئے کوشش کرتا رہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ چیزوں کو پڑھوں اور جتنی بھی ترقی و توسیع اس میدان میں ہو رہی ہے‘ ان سب تک میری رسائی ہو سکے۔ ویسے یہ تو ممکن نہیں کیوں کہ علم کے اُفق روز بہ روز وسیع ہو رہے ہیں لیکن جتنی بھی تھوڑی بہت لسانیات میں نے پڑھی ہے اس سے میرے تو چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں۔ اگر میں تاریخی تنقید لکھ رہا ہوں یا میں اردو افسانے پر لکھ رہا ہوں‘ اس میں بھی ادب کی لطف اندوزی میں لسانیات سے پیش بہا مدد مل سکتی ہے اور یہ ایسی مدد ہے جس کو دو اور دو چار کی زبان میں نہیں سمجھایا جاسکتا۔ اسلوبیات سے آئندہ چل کر تنقید میں مدد ملنے کی توقع ہے اور یہ وہ جہت ہے زبان کے مطالعے کی اور ادب کی تحسین شناسی کی جو آگے چل کر اور بھی روشن ہوگی۔
میں نے اسلوبیات پر اس لیے توجہ نہیں کی کہ اردو میں اس پر پہلے نقادوں کی توجہ نہیں تھی اور مجھے اس پر توجہ کرنی چاہیے تھی بلکہ میری اپنی طبیعت کے جو تقاضے ہیں‘ اس کے تئیں کوشش کرتا رہتا ہوں کہ ادب کے مطالعے میں زبان سے مدد لوں۔ زبان کی مدد سے آپ کی حسیت کہیں زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ گویا یہ روشن کا ایسا چراغ ہے جس سے آپ ادب کی تہوں تک اتر سکتے ہیں۔ ہم اکثر فن پارے کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور فن کار کی شخصیت سے بحث کرنے لگتے ہیں۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہم فن کار کے جس نظریے بحث کر رہے ہیں وہ نظریہ شعر میں فکر محسوس بنا ہے یا نہیں۔ لسانیات نے مجھے ایک بات یہ بھی سکھائی ہے کہ نقاد کی ساری توجہ فن پارے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اگر اس میں کچھ ایسی تہیں کھلتی ہیں جن کے لیے سوانح‘ تاریخ‘ شخصیت یا پس منظر سے مدد کی ضرورت ہے تو یہ مدد ضرور لیجیے لیکن یاد رکھیے کہ اصل چیز فن پارہ ہے‘ اصل چیز شعر و افسانہ ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ ساختیات کے بارے میں ابھی لوگوں کو زیادہ معلوم نہیں ہے۔ دو ایک مضمون لکھے گئے ہیں جن میں سے ایک مضمون محمد علی صدیقی نے ’’اوراق‘‘ میں لکھا تھا اور ایک آدھ کسی غیر ملکی اسکالر نے۔ اس کے علاوہ ساختیات کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اب عام طور پر تحریروں میں لفظ ’’اسٹرکچر‘‘ دیکھنے لگا ہوں جسے لوگ ’’ساخت‘‘ کے معنی میں استعمال کر رہے ہیں‘ حالانکہ اسٹرکچر کے یہ معنی نہیںہے۔ اسٹرکچر ازم ہر گز زبان کی ظاہری سطح سے بحث نہیں کرتی۔ اس کا کوئی تعلق ہئیت یا فارم سے نہیں ہے۔ جب ادب پر ساختیات کا اطاق ہوتا ہے تو اس میں زیادہ تر بحث معنیات کی ہوتی ہے اور اس بات کو اردو والے نہیں جانتے اور معنی سے بھی مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی ایک لفظ اور اس کے معنی۔ ساختیات سے مراد وہ رشتہ ہے جو ایک تصور کا دورے تصور اور دوسرے تصور کا تیسرے تصور تیسرے تصور کا ان تمام تصورات سے جو ایک معاشرے یا کسی ایک فن پارے میں یا کسی ایک فن پارے میں یا کسی ایک صنف میں موجود ہے۔ گویا کہ ربط اور تضاد کا وہ رشتہ جو ایک عنصر اور دیگر عناصر کے مابین موجود ہے جس کی بنیاد تصاد پر ہے لیکن یہ تضاد معنی رکھتا ہے اپنے کسی نہ کسی ربط کی وجہ سے اور وہ ربط‘ ربط باہم بھی ہو سکت اہے‘ کسی ایک عنصر سے بھی اور کسی پورے فریم سے بھی۔ گویا اسٹرکچر کا تصور خاصا پے چیدہ اور ہمہ گیر نوعیت کا ہے۔ میں فکشنکی تنقید میں ساختیات سے مدد لیتا ہوں اور اسے مجھے بہت روشنی ملتی ہے۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ پورا ڈھانچہ ننگا ہو کر سامنے آجاتا ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کی کڑیاں کون کون سی ہیں۔ گویا میں اسلوبیاتی اور ساختیاتی علوم کی شاخوں کو اقداری اور جمالیاتی تنقید کے ساتھ Assimilate کرتا ہوں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس میں‘میں کس حد تک کامیاب ہوا ہوں۔ اس کا فیلہ تو پڑھنے والے کر سکتے ہیں یا وقت کرے گا مثال کے طور پر عرض کروںگا محمد منشا یاد کی کہانی ہے ’’تماشا‘‘ یہ بہت اچھی کہانی ہے۔ بہت کم کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جسے پڑھ کر آپ صدمے سے دوچار ہوتے ہیں۔ میں اس کہانی کو پڑھ کر شدید صدمے سے دوچار ہوا۔اس کہانی کا میں نے ساختیاتی تجزیہ کرنے کی کوشش کی۔اس کی چر‘ چھ ساختیے دیکھے ہیں مثلاً اس کہانی کو بیانیے کے طور پر دیکھیں تو تشفی بخش ہے۔ تمثیلی اور علامتی کہانی کے طور پر دیکھیں تو تشفی بخش ہے۔ ہر صورت میں جو نتائج نکلتے ہیں ان میں باہمی ربط و تضاد موجود ہے۔ اس کہانی کے چار‘ چھ ساختیے جو بنتے ہیں انہیںفن کار نے نہایت احتیاط سے گھڑا ہے۔ فن کاری محنت کا کام ہے‘ اس میں کون جگر صرف ہوتا ہے۔ شاعری میں ایک اچھا شعر فلیش میں ہوجاتا ہے لیکن فکشن میں ایسا نہیں ہوتا‘ اس میں تو گھڑنا اور بنانا پڑتا ہے۔
طاہر مسعود: اردو فکشن کی تنقید کا سرمایہ بے حد محدود ہے‘ فکشن کے نقاد کی حیثیت سے آپ کے خیال میں کن عوامل کی وجہ سے ہمارے ہاں فکشن کی تنقید پر وہ توجہ نہیں دی گئی جو شعری تنقید کو دی گئی؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: اس کی سامنے کی وجہ تو یہ ہے کہ ہماری شعری روایت زیادہ وقیع ہے اور نثری روایت نسبتاً اتنی وقیع نہیں ہے۔ دوسری وجہ افسوس ناک ہے۔ فکشن کی تنقید میں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہےزیادہ پڑھنا پڑتا ہے۔ شعر کے لیے آپ کو اتنا پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اردو زبان شعر زدہ زبان ہے۔ افسانہ‘ ناول‘ ڈراما ان پر لکھنے میں بڑی دشواریاں درپیش رہتی ہیں‘ اسی لیے یاروں نے بہت کچھ نظر اندازکیا ہے۔ پچھلے دس پندرہ برسوں میں افسانے اور ناول کے بارے میں خاصا لکھا گیا ہے پھر بھی افسانہ نگاروں کو شکایت رہتی ہے اور یہ شکایت بجا ہے۔
طاہر مسعود: جو نقاد اس وقت فکشن کی تنقید لکھ رہے ہیں ان میں آپ کے نزدیک اہم نام کون کون سے ہیں؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: آپ نے صحیح کہا ہے کہ بہت کم لوگوں نے فکشن کی تنقید کی طرف توجہ کی ہے سمس الرحمن فاروقی کی کتاب ’’افسانے کی حمایت میں‘‘ شائع ہو چکی ہے۔ محمود ہاشمی نے اگرچہ چند مضامین لکھے ہیں لیکن یہ اچھے مضامین ہیں۔ باقر مہدی اور ترقی پسندوں میں قمر رئیس نے بھی فکشن پر ناہتی فکر انگیز مضامین لکھے ہیں۔ فکشن کی تنقید میں ممتاز شیریں کا نام نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سب سے پہلے انہوںنے نہایت ذمہ داری کے ساتھ فکشن کے مسائل پر قلم اٹھایا تھا لیکن فکشن کی تنقید لکھنے والوں کی تعداد واقعتاً بے حد کم ہے۔
طاہر مسعود: فکشن کی تنقید پر مستقل نوعیت کی کتاب کوئی بھی نہیں ہے۔ بیش تر کتابیں ان مختلف مضامین کا مجموعہ ہیں جو مختلف اوقات میں ادبی رسائل میں چھپتے رہے ہیں جنہیں بعد میں یک جا کرکے کتاب کی شکل دی گئی۔ خواہ وہ ممتاز شیریں کی کتاب ہو‘ شمس الرحمن فاروقی یا شہزاد منظر کی۔ کیا آپ اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتے کہ فکشن پر کوئی مستقل نوعیت کی کتاب لکھی جائے جس میں اردو فکشن کی تاریخ کا مبسوط جائزہ لیا جائے‘ اس کے مسائل اور امکانات پر تفصیل سے بحث کی جائے؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک ایسے مطالعے کی ضرورت ہے۔ مختلف لوگ اپنے اپنے طور پر کام کرتے رہتے ہیں لیکن ایک مبسوط مطالعے کی ضرورت ہے‘ خود میری کوشش ہے کہ اس طرح کے کسی کام میں ہاتھ ڈالوں‘ مگر میری دل چسپیوں کا واحد میدان افسانہ نہیں ہے پھر بھی کوشش کروںگا کہ ایک کتاب اپنے اس پسندیدہ موضوع کے بارے میں لکھ سکوں‘ لیکن وقت تھوڑا ہے اور حسرتیں دل میں بہت زیادہ ہیں۔
طاہر مسعود: آپ کی کل کتابوں کی تعداد پندرہ سے زائد ہے۔ ان میں زیادہ تر کتابیں آپ نے مرتب کی ہیں۔ آپ کا اوریجنل ورک اور اس کی تعداد آپ کی ترتیب دی ہوئی کتابوں کے مقابلے میں بے حد کم ہے۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ جمع و ترتیب کرنے کا کام عموماً وہ لوگ کرتے ہیں جن کا علم‘ علم ذاتی نہ ہو اور یوں بھی ترتیب و تدوین کا زیادہ تر کام ’’قینچی کا کام‘‘ ہوتا ہے۔ آپ تو صاحبِعلم آدمی ہیں‘ آپ نے اوریجنل کام کرنے کے بجائے ایڈیٹنگ کا کام اس کثرت سے کیوں کیا؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: میری ایک بہت بڑی کمزوری یہ ہے کہ میں اپنی ذات کو پس پشت ڈال کر کام کرتا رہتا ہوں۔ اس سے جو نقصان ہوتا ہے وہ ظاہر ہے اور آپ کا یہ سوال میرے اپنے اس ذاتی نقصان کے احساس کو شدید تر کر دیتا ہے۔ آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ اگر میں اپنے منتخب مضامین کے مجموعی کی اشاعت پر توجہ دوں تو سال دو سال میں میری سات آٹھ کتابیں شائع ہو جائیں گی‘ لیکن یہ کام میں نے کیا نہیں۔ اس کے علاوہ میرا جو بنیادی کام ہے‘ وہ ہے ’’اردو شاعری کا ثقافتی مطالعہ: محمد قلی قطب شاہ سے لے کر فیض و فراق تک‘‘ وہ کتاب بھی آج تک منظر عام پر نہیں آئی۔ ایک اور میرا کام کام ہے (رک کر) خاص کام نہیں ہے کیوں کہ جو کام میں کرنا چاہتا ہوں وہ ابھی تک منظر عام پرآیا ہی نہیں۔ ایک کتاب بائیس‘ تئیس برس پہلے شائع ہوئی تھی ’’ہندوستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں‘‘ یہ میرے تھسیس کے ایک باب کی توسیع ہے جس میں‘ میں نے دکھایا ہے کہ اردو کا پس منظر بہ یک وقت اسلامی اور ہندوستانی روایت کا ہے۔ ایک تو بہت سی ذمہ داریاں ایسی ہیںجن کے پیچھے میں نہیں بھاگتا بلکہ وہ مجھ پر ڈال دی جاتی ہیں اور میں مزاجاً انکار کرنے کی جرأت نہیں رکھتا۔ مروت میں انہیں قبول کر لیتا ہوں اور پھرمیرے اپنے کام کا حرج ہوتا رہتا ہے۔ ادھر یہ کوشش ہے کہ بہت سی ایسی ذمہ داریوں سے معافی مانگ لوں اور اپنا خاص کام منظر عام پر لے آئوں‘ ایس انہ ہو کہ یہ چیزیں میرے ذہن میں رہ جائیں یا پھر انہیں دیمک چاٹ لے۔ میرا ارادہ ہے کہ بیسویں صدی کے اردو ادب کی تاریخ پر‘ اردو افسانے پر‘ جنگ آزادی اور اردو شاعری اورسیاسی جہات جیسے موضوعات پر کتابیں لکھوں۔ وقت نے مہلت دی تو یہ سارے کام آہستہ آہستہ ہو جائین گے اور آپ جیسے احباب کو شکایت نہیں ہوگی۔
طاہر مسعود: آپ علمی و ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجیاتی سطح پر بھی فعال رہتے ہیں‘ آپ کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے کہ آپ ہر سال بھارت میں جو سیمینارکرتے ہیں اور پاکستان سے بھی ادیبوں کو مدعو کرتے ہیں اس میں آپ کی پبلک ریلشنگ کا بھی خاصا عمل دخل ہوتا ہے‘ یہ الزام کس حد تک درست ہے؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: ایک چیز ہے پبلک ریلیشنگ اور ایک چیز ہے سیلف پروموشن‘ میری پبلک ریلیشنگ اردو کے لیے ہے‘ اپنی ذات کے لیے نہیں ہے۔ اردو کی خاطر میں ہر الزام اپنے سر لینے کو تیار ہوں۔ اردو سے میرا جو کمٹ منٹ ہے اس کی خاطر میں ملامتوں کے درمیان زندگی بسرکرنے کو تیار ہوں۔ یہ الزام تو اپنوں کی طرف سے لگائے جاسکتے ہیں لیکن ہندوستان کے ماحول میں غیروں کی جانب سے کیا کیا الزامات لگائے جاسکتے ہیں اس کا بھی آپ تصور کرسکتے ہیں۔ میں ان کی باتیں سنتا ہوں تو بھی اپنی راہ سے نہیں ہٹتا ہوں اور یہ باتیں سب پیاری پیاری باتیں ہیں۔ زبان سے میرا کمٹ منٹ اس درجہ راسخ ہے کہ میری اپنی ذات‘ اپنا خاندان‘ اپنے گھر کے لوگ‘ ان سب چیزوں کی حیثیت اردو زبان کی مقابلے میں ثانوی ہے۔ سیمینار ہو یا کانفرنس‘ جو لوگ اسے ظاہری نظر سے دیکھتے ہیں‘ ان کے نزدیک یہ پبلک ریلیشنگ بھی ہوسکتی ہے اور سیلف پروموشن بھی لیکن کیا درد ہے جس کی وجہ سے میں ایسا کم کرنے کے لیے مجبور ہوں۔ اس میں میری اپنی ذآتی کی منفعت بالکل نہیں ہے‘ بہت سی کانفرنسیں رسماً ہوتی ہیں لیکن میں کوئی کام رسماً نہیں کرتا۔ جب بھی میں نے کسی سیمینار میں ہاتھ ڈالا ہے اس کی علمی و ادبی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے‘ مثلاً جب میں نے محسوس کیا کہ افسانہ ایک دورائے پر ٹھٹھکا ہوا ہے اور ضرورت ہے کہ بعض بنیادی سوالات پر غور و فکر کے لیے لوگ جمع ہوں‘ تبادلہ خیال کریں تاکہ تخلیق کی نئی راہیں روسن ہوں‘ تب میں نے کہا کہ آیئے ہم مل بیٹھتے ہیں۔ اس میں کسی مکتب فکر کی قید نہیں ہے۔ اردو کی روایت سے سب بڑے ہوتے ہیں اور اردو کی ترقی اور اس کے مستقبل سے سب لوگ کمیٹڈ ہیں اس کے لیے بہت وقت صرف ہوتا ہے‘ قربانی دینی پڑتی ہے صرف اس لیے کہ وہ زبان جس کے تئیں میں کمیٹڈ ہوں‘ اس کے فن کاروں کا تخلیقی سفر جاری رہے اور زبان کا مستقبل روشن ہو۔
طاہر مسعود: ترقی پسندوں سے آپ کا جو جھگڑا ہے‘ اس کا بڑا چرچاہے‘ وہ آپ سے اور آپ ان سے خفا رہتے ہیں‘ اس کے اسباب خالصتاً ادبی نوعیت کے ہیں یا اس کا تعلق کسی اور بھی چیز سے ہے؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: ترقی پسندوں سے میرا جو جھگڑا ہے‘ اس کے بارے میں غلط فہمیاں زیادہ ہیں اور اس میں اصلیت کم ہے۔ اس کے اسباب اتنے ادبی نہیں ہیں جتنے غیر ادبی ہیں۔ اس میں زیادہ دخل ذاتی مقاصد‘ رشک و رقابت اور حسد کا ہے۔ اگر ایک میدان میں کچھ لوگ کام کر رہے ہیں اور آپ اپنی بری بھلی صلاحیت کی وہ سے ان سے آگے نکل جاتے ہیں تو پھر وہ طرح طرح کی الزام تراشی اور کردار کشی شروع کر دیتے ہیں۔ ترقی پسندوں کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں‘ کیا عرض کروں۔ ترقی پسندوں نے ادب کی جو تعبیر کرنی شروع کر دی تھی اور جس کے نتیجے میں ایک خاص طرح کا ادب سامنے آنے لگا تھا‘ حقیقت کی ترجمانی کے طرف ایک تعبیر جسے وہ آج بھی جائز سمجھتے ہیں اور سب کو ایک لکیر پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں‘ میں اس کا بھی مخالف ہوں۔ جہاں تک عوام کے دکھ درد کا تعلق ہے‘ سرمایہ داری یا نوآبادتی نظام کی مخالفت کا تعلق ہے اور ان تمام طاقتوں کی مخالفت کا تعلق ہے جو جبر و استبداد روا رکھتی ہیں‘ میں ان کا مخالف ہوں لیکن ادب کی ایسی تعبیر کے خلاف ہوں جو ذہن پر پہرے بٹھاتی ہو۔ میرا خیال ہے ایک سچے اور کھرے ادبکا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ ذہ کو آزاد کرے۔ میں شدید طور پر باغی انسان اور آزاد خیال آدمی ہوں۔ اس آزاد خیالی میں ظاہر ہے انسانی ہمدردی‘ عوامی درد اور سامراج دشمنی یہ سب چیزیں شامل ہیں لیکن ادبکی دنیا میں فن پارے پر جس طرح اصرار میں کرتا ہوں‘ اس سے بعض لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ تکلیف بھی اس نوعیت کی کہ جیسے ان کی اجارہ داری کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ا گر کسی کی اجارہ داری کو میرے ادبی مؤقف کی وجہ سے ٹھیس پہنچتی ہے تو وہ ٹھیس بربنائے غیر ادبی مفادات پہنچے گی‘ اس کی میں پرو انہیں کرتا۔ میرا نقطہ نظر خالص انسانی اور ادبی ہے۔ باقی اگر کوئی حسد کرتا ہے یا الزام تراشی کرتا ہے تو میرا ضمیر صاف ہے۔ بعض لوگ گروہ بناتے ہیں‘ سازشیں کرتے ہیں اور ہر وہ شخص جو ان کی لیک پر نہیں چلتا‘ اس کے خلاف بہتان تراشی کرتے ہیں۔ ترقی پسندوں کی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ جب اس طرح کی حرکتیں دوسروں کے بارے میں کی گئیں اور انہیں بد ترین لیبلوں سے نوازا گیا‘ انہیں رجعت پسند کہا گیا۔ آپ غور فرمایئے ایک طرف میں اپنے آپ کو ترقی پسند کہوں حالانکہ میں سرمایہ داری کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتا ہوں‘ خطابات بھی لیتا ہوں‘ بیورو کریسی کا حصہ بھی ہوںاور پھر اپنے آپ کو ترقی پسند کہوں لیکن دوسرے جو میرے ساتھ نہ ہوں لیکن ادب کے معاملے میں کمیٹڈ ہوں‘ مجھ سے زیادہ لبرل اور انسان دوست ہوں لیکن چونکہ وہ میری دی ہوئی لیک پر نہیں چلتے اس لیے میں ان کے بارے میں تو کہوں کہ وہ رجعت پسند ہیں۔ یہ جو طریقہ کار ہے یہ غیر ادبی ہے۔ گروہ بناتی ہیں‘ بھیڑیں‘ شیر تو جنگل میں اکیلا چلتا ہے۔ میرا منصب تو یہ ہے کہ خواہ کوئی کتنی مخالفت کرے‘ میں اپنا کام کرتا رہوں۔ جتنی انہوں نے دھڑے بندیاں بنا رکھی ہیں کہ یہ روس کا دھڑا ہے یا یہ امریکا کا دھڑا ہے تو ہم کس دھڑے بندی میں شریک نہیں ہیں۔ ہم ایک دھڑے بندی میں شریک ہیں‘ وہ ہے ادبی دھڑے بندی اور اردو کی دھڑے بن دی۔ ہم اس سے کمیٹڈ ہیں اور ہم ہر اس چیز کے خلاف ہیں جو اردو کے خلاف ہے اورجو ادب کے خلاف ہے۔
طاہر مسعود: پچھلے چند برسوں سے ایک شاعر اور ناول نگار جن کا تعلق ہندوستان سے ہے اپنے بعض معاملات کی وجہ سے خاصے متنازع ہو چکے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ غیر ادبی طریقوں سے ادیبوں کو رام کرتے ہیں۔ کچھ عرصے قبل ان کے حوالے سے آپ کے بارے میں کچھ ایسے کالم اور مضامین شائع ہوئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ آپ نے ان کے بارے میں توصیفی مضمون لکھ کر ادبی دنیا میں ان کا بت کھڑا کرنے کی کوشش کی جس میں دوسرے ادیبوں نے بھی آپ کے ساتھ تعاون کیا۔ آپ اس معاملے کی وضاحت کرنا پسند کریں گے؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: ابھی میں آپ سے عرض کر رہا تھا کہ ادب کی دنیا میں ہر غیر ادبی چیز کا میں مخالف ہوں‘ اگر کوئی شخص اپنی ادبی حیثیت کو راسخ کرنے کے لیے غیر ادبی وسائل کا استعمال کرتا ہے تو میں اس کی پرزور تردید کرتا ہوں۔ جہاں تک کسی کے فن یا تخلیق کا تعلق ہے تو میری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ کہیں جو ہر نظر آئے یا ابھرتا ہوا فن کار دکھائی دے تو تنقید کو اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ میں نے شہریار اور سریندر پرکاش پر اس وقت لکھا جب انہیں کوئی جانتا نہیں تھا۔ وارث علوی تک نے اعتراف کیا کہ میں نے سریندر پرکاش کی کہانیوں سے لطف اندوز ہونا گوپی چند رنگ کی تحریروں سے سیکھا ہے۔
برسوں پہلے کی بات ہے کہ میں نے ایک شاعر کی چھوٹی سی نظم پڑھی۔ شاعر کا نام تھا‘ صلاح الدین پرویز۔ جب میں علی گڑھ گیا تو خلیل الرحمن اور شہریار سے اس شاعر کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے شعبہ انگریزی میں ایک طالب علم ہے‘ الٰہ آباد کا رہنی والا ہے۔ وہ صلاح الدین پروی کو پکڑ کر لائے۔ میں نے اس کا کلام سنا۰ بہت خوشی ہوئی۔ اس وقت صلاح الدین پرویز علی گڑھ میں جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے۔ ان کے تمول اور ثروت کا کسی کوئی قصور نہ تھا۔ نہ ہی کسی کو معلوم تھا کہ آگے چل کریہ آدمی صاحبِ ثروت ہوگا اور اس کے چرچے ہوں گے۔ میں باہر سے پڑھ کر نیا نیا آیا تھا اور اس وقت تک صلاح الدین پرویز کی کوئی کتاب بھی نہیں چھپی تھی۔ لہٰذا ابیہ کہنا کہ فلاں صاحب نے ان کی تعریف کی‘ غلط ہے۔ میرا کسی کی دولت یا غربت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آپ میں کوئی خوبی دیکھوں گا تو اسے یقینا تسلیم کروں گا۔ اب یہ ہے کہ بعد میں صلاح الدین پرویز نے کئی ناول لکھے‘ کتابیں چھاپیں اس کے علاوہ بھی ان کے بارے میں بہت کچھ سنتا رہتا ہوں لیکن میں پھر یہی کہوں گا کہ ہمارا کام فن پارے کو دیکھنا ہے۔ ہمارا رشتہ آپ کے لکھے ہوئے لفظ سے ہے۔ آپ کی آنکھیں کیسی ہیں؟ آپ لباس کیسا پہنتے ہیں؟ آپ کے آبا و اجداد کہاں کے تھے؟ آپ جیٹ طیارے میں سفر کرتے ہیں یا فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرے ہیں؟ آپ دعوت کیسی کھلاتے ہیں؟ اگران باتوں سے کوئی خریدا جاسکتا ہی تو میں سمجھتا ہوں وہ ادیب ہی نہیں ہے۔ جو لوگ میرے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں وہ احمقانہ باتیں ہیں۔ میرا قلم میری سب سے بڑی گواہی ہے۔ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ موجود ہے‘ اسے دیکھا جاسکتا ہے۔
طاہر مسعود: میں نے آپ کے کئی لیکچر سنے ہیں‘ مجھ سمیت اور بھی لوگوں کی رائے ہے کہ آپ کے لیکچر میں جو بصیرت‘ سحر آفرینی اور گہرائی ہوتی ہے وہ ساری خوبیاں اتنی شدت کے ساتھ آپ کی تحریروں میں نظر نہیں آتیں‘ اس کی کیا وجہ ہے؟
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: ایک راز کی بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں اپنے بہت سے مضامین ڈکٹیٹ کرواتا ہوں اور ایک ہی نشست میں تقریرکے طور پر دو‘ تین گھنٹے بولتا ہوں۔ بعض چیزیں ذہن میں مہینوں تک پکتی رہتی ہیں‘ اس کے علاوہ میں کچھ لکھنے کے لیے مہینوں مطالعہ کرتا ہوں جو کچھ میں بولتا ہوں وہی میں لکھتا ہوں۔ تحریروں میں اگر وہ ساری کیفیات نہیں آپاتیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قارئین تک میری تمام چیزیں اپنے بھرپور تاثر کے ساتھ نہیں پہنچیں کیوں کہ وہ ساری ابھی چھپی ہی نہیں ہیں۔ رہا سوال لیکچروں یا تقریروں کا تو میں جہاں کہیں بھی اظہار خیال کرتا ہوں تو اچانک نہیں کرتا ہوں بلکہ اس موضوع پر مہینوں سوچتا ہوں۔ میں نے ادب کی روایت کا مطالعہ نہایت سنجیدگی اور محنت کے ساتھ کیا ہے اور آج تک میری کوشش یہی رہتی ہے کہ میں سب سے زیادہ توجہ مطالعے پر صرف کروں۔

حصہ