احسان بھی گائے لے آیا

147

”او بھائی صاحب! کتنے کا لیا یہ جانور؟ سنو، کتنے کا ہے، بتاتے جاؤ۔ اچھا کالے والے کے ریٹ ہی بتادو۔“
مویشی منڈی سے آتی جاتی گاڑیوں کو روک روک کر احسان کا اس طرح سے پوچھنا مجھے نہ صرف انتہائی معیوب لگا، بلکہ اُس کا ہر آنے والی گاڑی کے پیچھے خاصی دور تک دوڑ لگانا بھی میرے لیے حیران کن تھا۔ اُس کے چہرے پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب نمایاں تھا۔ وہ مستقل یہی کچھ کیے جا رہا تھا، اور میں قریبی ہوٹل میں بیٹھا اُس کی ان حرکتوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ صاف ستھرے کپڑے پہننے والا احسان آج پیروں میں ٹوٹی چپل، گندے کپڑے پہنے، ہاتھ میں چھڑی لیے کسی بیوپاری کے کارندے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ میں وہاں کسی کے انتظار میں تھا، اس لیے ہوٹل میں بیٹھا اُس کی جانب سے کیے جانے والے تماشے کو دیکھتا رہا۔ دوست کے ہوٹل پہنچنے کے بعد میرے پاس دو راستے تھے، پہلا یہ کہ ہوٹل میں بیٹھ کر ہی دوست کے ساتھ گپ شپ لگاتا رہوں، جبکہ دوسرا یہ کہ احسان کے پاس جاکر اُس کی ان حرکات و سکنات کے بارے میں معلومات حاصل کروں۔ یوں میں کچھ دیر تک تو اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا رہا، اور پھر احسان کی جانب جانے کا ارادہ کرلیا، اور اس کے پاس پہنچتے ہی میں نے کہا:
”احسان! یہ کیا ہورہا ہے؟ میں خاصی دیر سے سامنے ہوٹل میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں کہ تم مویشی منڈی سے آنے والی ہر گاڑی کو روکتے ہو اور جانوروں کی قیمتیں معلوم کرتے ہو، اور یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے! جانور بیچنے لگے ہو یا منڈی سے منسلک کوئی دوسرا کام کرلیا ہے، آخر ماجرا کیا ہے؟“
”نہیں نہیں انکل ایسی کوئی بات نہیں ہے، میں تو منڈی سے جانور خریدنے کے لیے آیا ہوں۔“
”لیکن تم نے تو اپنا حلیہ خود جانوروں کی طرح بنا رکھا ہے۔ گندے کپڑے، چہرے پر جمی مٹی صاف بتارہی ہے کہ تم جانوروں کے ساتھ جانور بنے ہوئے ہو، اور اگر واقعی تم قربانی کا جانور خریدنے کے لیے آئے ہو تو اس سے سڑک پر جاتی گاڑیوں کے پیچھے دوڑنے کا کیا تعلق؟“
”اس پر میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ ایک طرف اگر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت بدحالی کا شکار ہے، تو دوسری جانب مویشی منڈی میں خریداری کا رجحان ماضی کی نسبت خاصا کم ہونے کے باوجود بیوپاری من مانی قیمتیں طلب کررہے ہیں۔ پچھلے کئی روز سے میرا یہی معمول ہے کہ میں ہر صبح مویشی منڈی آتا ہوں، یہاں پہنچ کر پہلے ساری منڈی کا چکر لگاتا ہوں، اور جب سودا نہیں بنتا تو اسی طرح آنے جانے والوں سے خریدے گئے جانوروں کی قیمتیں معلوم کرتا ہوں، تاکہ مویشی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا اندازہ ہوسکے۔ اس سارے عمل کے پیچھے میرا مقصد اپنی جیب کے مطابق جانور خریدنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔“
”ارے بے وقوف! جانور خریدنے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟ اچھا یہ بتاؤ کہ سودا بنا کہ نہیں؟“
”بتایا تو ہے کہ بیوپاری منہ مانگی قیمتیں وصول کرنے کے چکر میں ہیں، اسی لیے ہر روز ناامید ہوکر خالی ہاتھ اپنے گھر لوٹ جاتا ہوں۔ لگتا ہے اِس سال قربانی کرنا ہمارے نصیب میں نہیں۔“
”نہیں بیٹا ایسی باتیں نہیں کرتے، اور اس طرح دل برداشتہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ تم اِس مرتبہ بھی ضرور قربانی کرو گے، لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ برسات اور کورونا کی وبا ہونے کے باوجود منڈی اتنی تیز کیوں ہے؟“
”انکل اس مسئلے پر میں نے خود کئی بیوپاریوں سے بات کی ہے، اس لیے میں بھی بہت حد تک جان چکا ہوں کہ جانوروں کی قیمتوں میں کیوں اضافہ ہوا ہے۔ موسمِ برسات اور کورونا وائرس کا منڈی پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں، اِس مرتبہ جانوروں کے ریٹ ان کے وزن کو دیکھ کر لگائے جا رہے ہیں، یعنی چار من وزن کا جانور ایک لاکھ پچاس ہزار روپے سے پونے دو لاکھ روپے تک فروخت ہورہا ہے۔ بیوپاری کہتے ہیں کہ بازار میں گوشت 24 سے 25 ہزار روپے من، سری پائے 5 ہزار روپے، جبکہ کھال 2 ہزار روپے تک فروخت ہوتی ہے، چربی کے ریٹ اس کے علاؤہ ہیں۔ اس رقم میں اگر ہمارا منافع بھی شامل کرلیا جائے تو چار من کا کھڑا جانور ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے زیادہ کا ہوتا ہے، ہم دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔ جتنے دن بھی یہاں رہنا پڑے، رہتے ہیں۔ ہمارا کھانا پینا، منڈی میں جانوروں کے لیے کرائے پر لی جانے والی جگہ، بجلی، پانی پر ہونے والے اخراجات… سب جانوروں پر ہی ڈالے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے جتنے دن ہم یہاں رہیں گے یہ سارے اخراجات اپنی جیب سے تو ادا نہیں کرسکتے، اس لیے ہر آنے والے دن پر قیمتیں بڑھنا اچنبھے کی بات نہیں۔ بیوپاریوں کے بقول منڈی میں اگر اُن کا مال اُن کی مرضی کے مطابق فروخت نہ ہوسکا تو انہیں کوئی غم نہیں، اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی نقصان ہے۔ وہ قربانی کے لیے لائے گئے جانور عید گزرنے کے بعد قسائیوں کو فروخت کرکے اپنی رقم سیدھی کرلیں گے۔ جانوروں کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ موبائل فون بھی ہے، اس کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ روز کی بنیاد پر جس طرح سونے کا بھاؤ معلوم کرنے کے لیے سنار ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں، بالکل اسی طرح مویشی منڈی کے بیوپاری بھی ایک دوسرے سے بذریعہ موبائل فون رابطے میں رہتے ہیں۔ کسی ایک منڈی کے ریٹ اوپر جانے کی صورت میں تمام منڈیوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ بیوپاری گھنٹوں ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ انہیں موبائل فون استعمال کرتے دیکھ کر لگتا ہے جیسے اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار انتہائی عروج پر ہو۔ اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آنے والے برسوں میں ہم پر نہ صرف مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا، بلکہ کوئی بھی اسلامی تہوار بشمول قربانی کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔“
احسان کی باتیں سن کر میں نے بھی موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے اپنے دوستوں سے رابطے کیے، کیونکہ احسان کے بقول کراچی کی منڈیوں میں جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، اس لیے میں نے ان سے کسی ایسی جگہ کے بارے میں معلومات لیں جہاں احسان کو اُس کے بجٹ کے مطابق کوئی اچھا جانور مل جائے۔ آخرکار میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اگر کسی گوٹھ میں جاکر خود جانور خریدا جائے تو مناسب قیمت میں اچھا اور معقول جانور مل سکتا ہے۔ میں نے یہ بات سنتے ہی احسان کو فوری طور پر بتائے گئے گاؤں کی جانب روانہ ہونے کا مشورہ دیا، اور وہ میرے مشورے پر عمل کرتا ہوا ایک ایسے گوٹھ کی جانب روانہ ہوگیا جہاں خاصی تگ و دو کے بعد اسے 92ہزار روپے میں ایک گائے مل گئی۔ اس طرح احسان کا مسئلہ تو حل ہو گیا اور وہ گائے کو گھمانے اور چارہ کھلانے میں مصروف ہو گیا، لیکن میں اُس وقت سے اس سوچ میں گم ہوں کہ آج کے دور میں قربانی کے لیے ایک لاکھ روپے کا بھی جانور نہیں ملتا۔ مجھے یاد آنے لگے بچپن کے وہ دن، جب کم تنخواہ اور وسائل کی کمی کے باوجود لوگ قربانی کیا کرتے تھے۔ نوکری پیشہ ہوں یا کاروبار سے وابستہ لوگ… سبھی بآسانی سنتِ ابراہیمی ادا کیا کرتے۔ اُس وقت قربانی نہ کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی تھی۔ مجھے یاد ہے ہمارے محلے کے دو چار گھر ہی ایسے تھے جن کے ہاں قربانی نہ ہوتی، یعنی ہماری گلی کے چند ہی ایسے گھرانے تھے جو مالی اعتبار سے کمزور تھے۔ باقی تمام گھروں میں یہ تہوار پورے اسلامی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا تھا۔ جن کے گھروں میں قربانی نہ ہوتی، قربانی کا گوشت پہلے اُن کے گھر بھیجا جاتا۔ ابو کہا کرتے تھے جن کے گھر قربانی ہوئی ہے نہ اُن کے گھر گوشت بھیجو اور نہ اُن کے گھر سے آیا ہوا گوشت رکھو، کیوں کہ قربانی کے گوشت کے اصل حق دار وہ ہوتے ہیں جو مالی اعتبار سے انتہائی کمزور ہیں۔ یہ اُس وقت کی بات تھی۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے آج سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج لوگوں میں اتنی بھی طاقت نہیں کہ وہ اپنے اسلامی تہوار باعزت طریقے سے منا سکیں۔ دوسروں کی چھوڑیے، میری اپنی مالی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ پچھلے سال تک میرے مالی حالات خاصے بہتر تھے، لیکن اِس سال حالات میں ایسی ابتری آئی کہ پورا بچھڑا قربان کرنا تو دور کی بات، ایک حصہ ڈالنے کی بھی سکت نہ رہی۔ پہلے مجھے معاشی اشاریوں کے اتار چڑھاؤ کے کسی کی مالی حیثیت پر اثرانداز ہونے پر یقین تھا اور نہ ہی میں ان چکروں میں پڑتا تھا، لیکن موجودہ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے جس مالی بحران کا شکار ہوا ہوں اُس کو دیکھتے ہوئے ان معاشی اشاریوں پر میرا ایمان پختہ ہوگیا ہے۔ جی ڈی پی گروتھ ہو یا تجارتی خسارہ ،ہر ایک کے بارے میں خاصی معلومات رکھنے لگا ہوں۔ میں جان چکا ہوں کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ایک طرف لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں، تو دوسری جانب مہنگائی کا جن ایسا بے قابو ہوا کہ نہ صرف عام شہریوں کے گھر فاقوں کی نوبت آگئی، بلکہ متوسط طبقے کی ایسی کمر ٹوٹی کہ آج یہ طبقہ بھی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، جب کہ امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ حکومت میں آنے سے پہلے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے مہنگائی کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جاتا رہا، لیکن اقتدار ملتے ہی ان کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت 5 کروڑ 87 لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ عالمی معیار کے مطابق جس شخص کی یومیہ آمدن دو ڈالر سے زیادہ نہ ہو وہ غریب شمار ہوتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے تمام تر خوش کن وعدوں اور دعوؤں کے باوجود ملک کی ایک تہائی آبادی اس معیار سے حد درجہ نیچے مفلسی اور بے بسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ جن لوگوں میں معمولی سی سانس باقی ہے ان پر بھی ہر آنے والے دن کے ساتھ مہنگائی کا بم گرا دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اشیائے خور ونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ ایک عام گھرانے کے کچن کا خرچہ پندرہ سے بیس ہزار روپے تک ہے، اور ان کے ناشتے اور دو وقت کے معمولی سادہ کھانے کا حساب لگائیں تو بڑے آرام سے یہ چار پانچ سو روپے بنتا ہے۔ جن لوگوں کی آمدن تیس سے چالیس ہزار روپے ماہانہ ہے اُن کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اُن کی آمدن کا نصف اسی مد میں خرچ ہوجاتا ہے، اور جن کی آمدن ہی 10سے 12 ہزار روپے ماہانہ ہو وہ لوگ کس طرح اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوں گے، یہ وہی جانتے ہیں۔ لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔ میں ایسے کئی گھرانوں کو جانتا ہوں جہاں مہینے بھر کا سامان لانے کا رواج تھا، جو دن بدن ختم ہوتا جارہا ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سب سے زیادہ اضافہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہی ہوا ہے، یعنی غربت کے ہاتھوں مجبور عوام اور روزانہ کماکر کھانے والا طبقہ مہنگائی کی چکی میں سب سے زیادہ پس رہا ہے۔
بات چلی تھی احسان کی گائے سے، اور کہاں سے کہاں نکل آئی۔ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اپنے بچپن کی یادوں میں ایسا گم ہوا کہ اصل موضوع سے ہٹ گیا۔ خیر بیان کردہ باتیں بھی عیدِ قربان سے متعلق ہی ہیں۔ آخر میں بس یہی دعا کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو قربانی کی اصل روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حصہ