حاملہ خواتین پر کووڈ سے تحفظ کے ٹیکوں کا اثر

211

آپ سب نے کورونا نامی وائرس کا نام تو سنا ہی ہے جو اللہ تعالی کی اتنی چھوٹی مخلوق ہے کہ ہم آنکھ سے اس کیڑے یا جرثومے کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔ اس انتہائی ننھے کیڑے سے پیدا ہونے والی بیماری کو کو وڈ ۔ ۱۹ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ بیماری بہت تیزی سے وبا کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اور یہ بیماری جو چین کے ایک شہر ووھان میں ۲۰۱۹ میں شروع ہوئی، دنیا بھر کے اکثر خطوں تک پہنچ چکی ہے۔ اب تک پورے کرہ ارض پر کروڑوں لوگ اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے لاکھوں لوگ اپنی جان بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ جو لوگ اس بیماری لگنے کے بعد بچ گئے ہیں ان میں سے بھی ایک اچھی خاصی تعداد کو اس کے نتیجے میں طویل صحت کی خرابی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا تو یہ کہ ہم اس بیماری یعنی کووڈ سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں اور جتنی احتیاطی تدابیر کر سکتے ہیں وہ کریں۔ یوں تو اپنی صحت کا خیال رکھنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے لیکن اگر آپ ایک ایسی خاتون ہیں جو حاملہ ہیں تو پھر تو آپ ضرور چاہیں گی کہ نہ صرف اپنے آپ کو اس بیماری سے ضرور محفوظ رکھیں بلکہ اپنے ہونے والے بچے کو بھی اس سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں۔تو آئیے ہم دیکھیں کہ آپ خود کو اور اس بچے کو ، جو آپ کے پیٹ میں ہے اور جس کی پرورش کی خاطر آپ بے پناہ قربانیا ں دے رہی ہیں اور بہت سی تکلیفیں برداشت کر رہی ہیں، کووڈ ۱۹ بیماری سے بچانے کی اپنی حد تک ہر ممکن کیا کوششیں کر سکتی ہیں۔ ان کوششوں میں اور احتیاطی تدابیر میں یہ اقدام شامل ہیں:
احتیاطی تدابیر
۱۔ جتنی جلد ممکن ہو، آپ کووڈ ویکسین (اس بیماری سے بچنے کا ٹیکہ) لگوائیں جس سے آپ کے جسم میں وہ مدافعتی خلیے (اینٹی باڈیز) بن جائیں گے جو کورونا وائرس آپ کے جسم پر حملہ آور ہونے کی صورت میں ان کے خلاف لڑ کر ان کا خاتمہ کر دیں گے (ان شااللہ!) ۔ اس کے بارے میں آپ کو کوئی ہچکچاہٹ ہو تو ضرور کسی مستند ڈاکٹر سے یا اپنی گاینا کالوجسٹ سے مشورہ کر لیں۔ اس مضمون کے آخری حصے میں حاملہ خواتین کو یہ ویکسین دیے جانے کے بارے میں ماہرین کی آرا دی گئی ہیں۔
۲۔ انتہائی شدید ضرورت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔
۳۔ باہر جانا ہی پڑے تو اپنے چہرے اور ناک کو ماسک (نقاب) سے ڈھک کر رکھیں۔ باہر کسی سے ہاتھ ملانے، گلے ملنے وغیرہ سے پرہیز کریں بلکہ لوگوں سے کم از کم دو میٹر کا فاصلہ رکھیں۔ بس، ٹرین اور دوسری عوامی سواریوں میں سفر نہ کریں۔ جہاں ہجوم ہو وہاں نہ جائیں۔ جتنی جلد ہو سکے، گھر واپس آ جایئں۔
۴۔ گھر واپس آ کر سب سے پہلا کام یہ کریں کہ اپنے ہاتھ نیم گرم پانی اور صابن سے کم از کم بیس سکینڈ تک دھوئیں۔ اس سے پہلے اپنے چہرے، ناک اور منہ کو نہ چھوئیں۔
۵۔ گھر کی کھڑکیاں اور روشن دان وغیرہ جتنی زیادہ مدت کے لیے کھول سکتی ہوں، کھول کر رکھیں تاکہ تازہ ہوا آ جا سکے۔
حاملہ خواتین اور کووڈ ویکسین: ماہرین کیا کہتے ہیں؟
کووڈ سے بچنے کے لیے کروڑوں مرد اور خواتین دنیا بھر کے مختلف ممالک ، خاص طور پر امریکا، برطانیہ اور جرمنی جیسے ملکوں میں، مختلف ٹیکے (ویکسینیں) لگوا چکی ہیں۔ ماہرین کا مشورہ یہ ہے کہ حاملہ خواتین کو بھی بقیہ آبادی کے ساتھ ساتھ ویکسین دی جانی چاہئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو افراد کووڈ بیماری سے بچنے کے لیے ویکسین یعنی ٹیکہ لگواتے ہیں وہ اللہ پر توکل نہیں کرتے ، کیوں کہ اللہ تعالی تو ویکسین کے بغیر بھی انہیں بیماری سے بچا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں میں یہ کہوں گی کہ یقیناً صحت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہی ہے اور ہمارا بھروسہ اللہ پر ہی ہے۔ مگر علاج کروانا سنت نبوی بھی ہے اور جان بچانے کی کوشش کرنا ہمارا فرض بھی ہے۔ جیسا کہ ہمارے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مشہور حدیث میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مومن کو پہلے ‘اونٹ کو باندھنا’چاہیے اور اس کے بعداللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔بہ حیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اچھی یا بری تقدیر اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ اس لیے یہ بیماری بھی اللہ تعالی کی طرف سے ہے جو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہماری آزمائش کے لیے یا ہمیں غفلت کی نیند سے جگانے کے لیے بھیجی ہو یا اس میں اللہ تعالی کی کوئی اور مصلحت ہو ۔ آپ کو پتا ہو گا کہ اب تک دنیا بھر میں کروڑوں لوگ اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اکثر تو اللہ کے فضل سے صحت یاب ہو گئے ہیں مگر لاکھوں لوگ اپنی جان کھو بیٹھے ہیں۔جن کی جان بچ گئی ہے ان میں سے بھی کئی افراد پر اس موذی بیماری کے اثرات کئی مہینے تک باقی رہتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر جان قیمتی ہے اور صحت بھی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے کہ ہم اپنی، اپنے بچوں (خواہ وہ ابھی شکم مادر میں ہی ہوں) بلکہ ہر انسان کی جان بچانے کے لیے اپنی ہر ممکن تدبیر کریں۔
ماہرین کی آرا:
ویکسی نیشن اور امیونائزیشن کی مشترکہ کمیٹی(جے سی وی آئی) ماہرین کا ایک آزاد مشاورتی ادارہ ہے جو برطانیہ کی وزارت صحت کو مختلف ٹیکوں کے محفوظ ہونے کے بارے میں ماہرانہ مشورہ دیتی ہے۔ اس ادارے کا ٹیکے بنانے والی کسی کمپنی سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ اس کی تازہ ترین سفارش جو چودہ جون ۲۰۲۱ کو شائع ہوئی ہے، یہ ہے: حاملہ خواتین کو بھی باقی لوگوں کے ساتھ کووڈ ۱۹ سے بچاؤ کے ٹیکے لگوانے کی دعوت دی جانی چاہیے۔
حکومت برطانیہ کی سرکاری ویب سایٹ:تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ حاملہ خواتین پر، جنھوں نے فائزر اور موڈرنا کے ٹیکے لگوائے تھے، ان ٹیکوں کا کوئی برا اثر نہیں پڑا ۔ اس لیے بہتر ہے کہ حاملہ خواتین یہی ٹیکے لگوائیں۔ٹیکے لگوانے کے بعد حمل سے بچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان ٹیکوں کا آپ کے ماں بننے کی صلاحیت پر کوئی اثرپڑتا ہے۔
رائل کالج آف گائناکالوجسٹس(آر سی او جی): آر سی او جی پوری دنیا میں بانوے سالوں سے خواتین کی صحت کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے: ویکسین میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو حاملہ خواتین یا ان کے پیٹ میں موجود بچے کے لیے نقصان دہ ہو۔ مگر ہر حاملہ خاتون کو اپنی مستند ڈاکٹر یا زچگی کی ماہر (گائنا کالوجسٹ) سے انفرادی طور پر مشورہ لینا چاہیے کہ ان کی دوسری بیماریوں (مثال کے طور پر ذیابیطس ، زیادہ وزن، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ) کی موجودگی میں ان کے لیے کووڈ و یکسینیشن کے فوائد اور خطرات کیا ہوں گے۔
امریکی ادارہ ۔ بیماریوں پر قابو پانے اور ان سے بچاؤ کے مراکز (سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن): کووڈ سے تحفظ کے لیے منطور شدہ ٹیکے جس طرح کام کرتے ہیں، اس کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ٹیکے ان خواتین کے لیے کسی نقصان کا باعث ہوں گے جو بچوں کو اپنا دودھ پلا رہی ہیں یا پلانا چاہیں گی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او):چونکہ سائی نو فارم کمپنی کی چینی ویکسین (بی آئی بی پی) کے بارے میں ہمارے پاس اتنے اعدادوشمار نہیں ہیں کہ ہم حتمی طور پر یہ کہہ سکیں کہ وہ حاملہ خواتین پر کیا اثر کرتی ہیں، اس لیے ہمارا عبوری مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ حاملہ ہیں تو (اپنے مستند ڈاکٹر یا گائنا کالوجسٹ سے مشورے کے بعد) یہ ٹیکہ اس صورت میں لگوائیں جب اس کے فوائد اس کے ممکنہ خطرات سے زیادہ ہوں۔ ہم یہ مشورہ نہیں دیں گے کہ ٹیکہ لگوانے سے پہلے حاملہ ہونے کا ٹیسٹ کروایا جائے یا حمل کو گرا دیا جائے یا حاملہ ہونے سے گریز کیا جائے۔
پاکستانی ماہرین کی رائے: پروفیسراسما نسیم ، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن ، سول اسپتال کراچی کے امراض نسواں وارڈ کی پروفیسر ڈاکٹر نازلی حسین اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ سینٹر کی ڈائریکٹر پروفیسر سارہ قاضی کہتی ہیں کہ کورونا وائرس پاکستان میں حاملہ خواتین میں بہت ساری پریشانیوں کا باعث ہے۔ حمل کے دوران میں خواتین کو ویسے بھی کئی خطرات لاحق ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان کو کورونا وائرس سے بچاو کے ٹیکے لگائے جائیں۔ پاکستان میں دستیاب تمام ٹیکوں کو عالمی ادارہ صحت نے منظور کیا ہے۔اس لیے افواہوں پر توجہ دیئے بغیر یہ ٹیکے لگوانے چاہئیں ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق زیادہ تر ویکسین (ٹیکے) 50 فیصد سے زیادہ موثر ہیں۔ تو اگر کوئی ویکسین صرف 50 فیصد بھی موثر ہے تو کوویڈ سے کم از کم 50 فیصد تحفظ تو ملے گا۔ ایسی صورت میں ، جب کہ حاملہ خواتین کو پہلے ہی اور خطرے لاحق ہوتے ہیں تو یہ ٹیکے لگوانے سے انکار کر کے ، مزید خطرہ مول نہیں لینا چاہئے۔ کووڈ سے بچنے کے لیے ٹیکے لگوا لینے کے بعد بھی حفاظتی لباس اور احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔
…٭…
References
1.Knight Marian, Bunch Kathryn, Vousden Nicola, Morris Edward, Simpson Nigel, Gale Chris and others. Characteristics and outcomes of pregnant women admitted to hospital with confirmed SARS-CoV-2 infection in UK: national population based cohort study . British Medical Journal BMJ 2020; 369 :m2107.
2.https://www.rcog.org.uk/en/guidelines-research-services/coronavirus-covid-19-pregnancy-and-womens-health/covid-19-vaccines-and-pregnancy/covid-19-vaccines-pregnancy-and-breastfeeding/
3.https://www.cdc.gov/coronavirus/2019-ncov/vaccines/safety/vsafepregnancyregistry.html)
4.https://www.gov.uk/government/publications/safety-of-covid-19-vaccines-when-given-in-pregnancy/the-safety-of-covid-19-vaccines-when-given-in-pregnancy#:~:text=Available%20evidence%20suggests%20that%20COVID,become%20infected%20during%20pregnancy.
5.https://www.who.int/news-room/feature-stories/detail/the-sinopharm-covid-19-vaccine-what-you-need-to-know
A: Coronavirus vaccine, like all other vaccines, have no effect on fertility. None of the vaccines developed and in use for preventing childhood and adult infections have any effect on male or female reproduction.
Vaccines induce immunity against bacteria and viruses and not against human cells and tissues. Scientifically, it is impossible to induce infertility through the administration of a vaccine.
Q: Is it safe for pregnant or lactating women to get the jab?
A: All vaccines are safe for lactating mothers. Almost all vaccines are safe in pregnancy. However, for some vaccines, recommendations on risk versus benefit will be updated as more information becomes available.
Dr Bushra Jamil, the president of the Medical Microbiology and Infectious Diseases Society of Pakistan and a professor at Aga Khan University Hospital. Dr Jamil is a pro bono adviser to the National Command and Operation Centre (NCOC) on the Covid-19 pandemic
https://www.dawn.com/news/1623682

حصہ