منتخب غزلیں

104

مرزا غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
…٭…
اکبر الہ آبادی
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی
اس نزاکت پر یہ شمشیر جفا
آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی
کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو
اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی
شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا
احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی
یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں
کب تری یہ کج خیالی جائے گی
مومن خاں مومن
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی
تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
…٭…
امجد اسلام امجد
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا
سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے
کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا
بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم
ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا
چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت
زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا
دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے
وہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا
بے ارادہ لمس کی وہ سنسنی پیاری لگی
کم توجہ آنکھ کا وہ دیکھنا اچھا لگا
نیم شب کی خاموشی میں بھیگتی سڑکوں پہ کل
تیری یادوں کے جلو میں گھومنا اچھا لگا
اس عدوئے جاں کو امجدؔ میں برا کیسے کہوں
جب بھی آیا سامنے وہ بے وفا اچھا لگا
…٭…
مجید لاہوری
جہاں کو چھوڑ دیا تھا جہاں نے یاد کیا
بچھڑ گئے تو بہت کارواں نے یاد کیا
ملا نہیں اسے شاید کوئی ستم کے لئے
زہ نصیب مجھے آسماں نے یاد کیا
وہ ایک دل جو کڑی دھوپ میں جھلستا تھا
اسے بھی سایۂ زلف بتاں نے یاد کیا
پناہ مل نہ سکی ان کو تیرے دامن میں
وہ اشک جن کو مہ و کہکشاں نے یاد کیا
خیال ہم کو بھی کچھ آشیاں کا تھا لیکن
قفس میں ہم کو بہت آشیاں نے یاد کیا
ہمارے بعد بہائے کسی نے کب آنسو
ہم اہل درد کو ابر رواں نے یاد کیا
غم زمانہ سے فرصت نہیں مگر پھر بھی
مجیدؔ چل تجھے پیر مغاں نے یاد کیا
…٭…
عبدالعزیز فطرت
کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا
اپنا ہی پتا نہ ہم نے پایا
دل کس کے جمال میں ہوا گم
اکثر یہ خیال ہی نہ آیا
ہم تو ترے ذکر کا ہوئے جزو
تو نے ہمیں کس طرح بھلایا
اے دوست تری نظر سے میرا
ایوان نگاہ جگ مسکایا
خورشید اسی کو ہم نے جانا
جو ذرہ زمیں پہ مسکرایا
مقصود تھی تازگی چمن کی
ہم نے رگ جاں سے خوں بہایا
افتاد ہے سب کی اپنی اپنی
کس نے ہے کسی کا غم بٹایا
محرومئ جاوداں ہے اور میں
میں ذوق طلب سے باز آیا
ہر غم پہ ہے میرے نام کی مہر
فطرتؔ کوئی غم نہیں پرایا
…٭…

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
…٭…
فراغت سے دنیا میں ہر دم نہ بیٹھو
اگر چاہتے ہو فراغت زیادہ
…٭…

الطاف حسین حالی کے 10 منتخب شعر

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
٭٭٭
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
٭٭٭
صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
٭٭٭
بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
٭٭٭
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
٭٭٭
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
٭٭٭
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
٭٭٭
قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں
٭٭٭

…٭…

عبد العزیز خالد

بھولوں انہیں کیسے کیسے کیسے
وہ لمحے جو تیرے ساتھ گزرے
ہے راہنما جبلت ان کی
بے حس نہیں موسمی پرندے
اے دانشور مفر نہیں ہے
اقرار وجود کبریا سے
جانا کوئی کارساز بھی ہے
ٹوٹے بن بن کے جب ارادے
محراب عمود برج قوسیں
رس میں ڈوبے بھرے بھرے سے
بحر کافور میں تلاطم
بھونرا بیٹھا کنول کو چوسے
چاک افقی حریم زہرہ
رہ رہ کے مدن ترنگ جھلکے
جھلمل جھلمل بدن کا سونا
لہرائیں لٹیں کمر سے نیچے
کیا چاند سی صورتیں بنائیں
قربان اے نیلی چھتری والے
…٭…

یروشلم/نعیم صدیقی

یروشلم یروشلم تو ایک حریم محترم
تیرے ہی سنگ در پر آج منہ کے بل گرے ہیں ہم
تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بچشم نم
یروشلم یروشلم یروشلم یروشلم
…٭…

حصہ