عدالتوں کا میری کتاب میں کوئی وجود نہیں،بھٹو کی کہانی الطاف گوہر کی زبانی

190

۷ اکتوبر ۱۹۵۸ء کی ایک منحوس صبح تھی جب میں نے لندن میں بلومبری کے ایک ہوٹل کے کمرے میں سنا کہ پاکستان میں مارشل لاء نافذ، دستور منسوخ کردیا گیا ہے اور اسمبلیاں برطرف کردی گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت ساری چیزیں اچانک ختم ہوگئیں جن میں وہ دو سالہ کورس بھی شامل تھا جو میں لندن اسکول آف اکنامکس میں کررہا تھا۔ ایوب خان برسراقتدار آگئے۔ پاکستان آنے پر مجھے وزارت تجارت میں بھیج دیا گیا۔ اس محکمہ کے وزیر ۳۰ سالہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، ناقابل تشریح وجوہ کی بنا پر متعدد ہفتوں تک میرے لیے کوئی کام نہ تھا لہٰذا میں بدھ فن تعمیر کے مطالعہ کی طرف متوجہ ہوگیا۔ میں اسی میں مصروف تھا کہ ایک دن اچانک بھٹو نے مجھے اپنے دفتر میں یہ پوچھنے کے لیے طلب کیا کہ آیا میں جانتا ہوں کہ مجھے کوئی ذمہ داری کیوں نہیں سونپی گئی۔
بھٹو کی حیرت انگیز یادداشت
مجھے کچھ نہیں معلوم تھا، انہوں نے بتایا ’’اس لیے کہ آپ میرے ساتھ بڑے ہی اکھڑ پن سے پیش آئے تھے‘‘۔
کب؟
تین سال ہوئے جب میں ایک بندوق کے لائسنس کے لیے آپ کے دفتر میں گیا تھا۔
ان دنوں میں ایک مجسٹریٹ لگا ہوا تھا۔ میرے ذہن میں اس واقعہ کی یاد تازہ کرانے کی خاطر وہ اس کی تفصیلات بتانے لگے اور مجھے شرمندہ کرنے کی خاطر میری آواز اور انداز کی نقالی کرنے لگے۔ میں نے پوچھا ’’آپ کے پاس بندوق کے کتنے لائسنس ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا تھا ۲۳، چنانچہ میں نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی، مجھے جس بات پر حیرت ہوئی وہ یہ نہیں کہ اس طرح انہیں دکھ پہنچا تھا، بندوق کے لائسنس کو مرتبہ کی علامت سمجھا جاتا ہے بلکہ مجھے تعجب اس پر تھا کہ وہ جزئیات سمیت تمام تفصیلات بالکل ٹھیک ٹھیک پیش کررہے تھے۔
آخر میں انہوں نے کہا لیکن میں یہ سب کچھ بھول جانے کو تیار ہوں۔ لہٰذا آیئے ہم دونوں دوست بن جائیں اور ہم دوست بن گئے۔
ایوب خاں اور بھٹو کے قریبی مراسم
بھٹو نے ایوب خان کو ہیرو بنادیا تھا، ایک عظیم باپ کی حیثیت دیدی تھی جب وہ اصلاحات کی بات کرتے تو بھٹو کے بقول کمال اتاترک بن جاتے اور جب بنیادی جمہوریتوں کی باتیں کرتے تو ابراہیم لنکن معلوم ہوتے۔ ۶۲۔۱۹۶۱ء میں دستور مرتب کرنے کے دوران بھٹو ایوب خان سے قریب تر ہوگئے۔ بھٹو کی کوشش یہ تھی کہ دستوری نظام میں صدر کی حیثیت کو مستحکم کردیں صدر کو تمام اختیارات کا محافظ ہونا اور ہر شخص کو اس کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے۔ صوبائی مقننہ کی کوئی ضرورت نہیں، صدر کے ماتحت ایک مرکزی مجلس قانون ساز ہی کافی ہے۔ انہوں نے ایوب خان کو یہ تجویز بھی دی تھی کہ پاکستان کے آئینی مسائل کا حل بادشاہت ہوسکتی ہے۔ ۱۹۶۲ء کا دستور نافذ ہونے کے بعد وزیر خارجہ منظور قادر جو ایک ممتاز وکیل تھے کابینہ سے مستعفی ہوگئے۔ بھٹو کا دل وزارت امور خارجہ کی طرف مائل تھا، لیکن یہ محکمہ مشرقی پاکستان کے محمد علی بوگرا کو دے دیا گیا۔ میں بچپن سے اس کا خواب دیکھتا رہا ہوں، بھٹو نے کہا تھا۔ ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب بوگرا کا انتقال ہوگیا اور بھٹو وزیر خارجہ ہوگئے۔
اب بھٹو نے آغاز ہی میں بھارتی وزیر خارجہ سورن سنگھ سے کشمیر سے متعلق مذاکرات کے کئی دور چلائے جسے بھٹو نے جلد ہی اپنا مخصوص مخالف بنالیا۔ یہ عشرہ ۶۰ کی بات ہے۔ مذاکرات کے دوران جب ایک آدمی اپنے دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر سامنے کی طرف جھک جائے تو وہ کیا کرنے والا ہوتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں وہ کمرہ چھوڑنے والا ہوتا ہے۔
نہیں، بھٹو نے میری تصحیح کرتے ہوئے کہا، سورن سنگھ ایسا آدمی نہیں ہے، ایسی حالت میں وہ آپ سے اتفاق کرنے کے قریب ہوتا ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اپنے مخالفین کا مطالعہ کرتا ہوں اور اس کی ایک ایک حرکت کا جائزہ لیتا ہوں۔
پھر بھٹو نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اور جب وہ پگڑی کے اندر چھپا ہوا اپنا بایاں کان کھجانے لگے تو اس حالت میں وہ نااتفاقی کرتا ہے لیکن اپنی تمام تر مہارت کے باوجود بھٹو کشمیر کے معاملہ میں کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ دوسرے معاملات میں وہ زیادہ کامیاب رہے۔ پاکستان و چین کے سرحدی معاہدے کے مذاکرات منظور قادر کے تھے لیکن اس پر دستخط بھٹو نے کیے، اس طرح ایک رات میں وہ پاک چین دوستی کے معمار اور وہ شخصیت بن گئے جن سے بھارت بے حد خوف کھاتا تھا۔ انہوں نے چین کے وزیر خارجہ چن پی اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوبانڈیو کے ساتھ مل کر افریشائی تحریک کو ابھارا۔
پاکستان میں ۱۹۶۴ء الیکشن کا سال تھا، اگرچہ طریق انتخاب (بنیادی جمہوریت کے اسّی ہزر ارکان کے ذریعے) نے حکمران پارٹی کے تحفظ کا کافی بندوبست کررکھا تھا لیکن مس فاطمہ جناح کی زبردست اور قدآور شخصیت نے جنہیں مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے ایوب خان کے ایک حریف کی شکل میں لاکھڑا کیا تھا۔ سارے انتظامات کو الٹ کر رکھ دیا۔ کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہی جس پر انہوں نے حملہ کرکے پاش پاش نہ کردیا ہو۔ صوبہ سندھ میں انتخابی مہم کے دوران انہوں نے بھٹو کو رسیلا صفت آدمی قرار دیا، حکومت کے اندر بھٹو کے موجود مخالفین کو اس میں بڑا لطف آیا۔
ایوب خان نے جوڑ توڑ کرکے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی۔ اب بھٹو نے ایوب خان کو نئے نئے میدان اور نئی نئی عظمتوں کے نشان دکھانے شروع کردیے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بڑی تیزی سے خراب ہوئے، امریکہ کا انتہائی قابل اعتماد اتحادی کھلے بندوں امریکی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرنے لگا۔ ہمیں دوستوں کی ضرورت ہے، آقائوں کی نہیں۔ ایوب خان نے اعلان کیا ۔
ایوب خاں کی کتاب
ایوب خاں کے نام سے کتاب چھپی (Friends Not Masters) جس کا اردو ترجمہ تھا ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ ۔دریں اثنا بھارت اپنی دفاعی طاقت مضبوط کرنے لگا جس کی وجہ سے پاکستان کو تشویش ہونے لگی۔ ایوب خان کا خیال تھا کہ بھارت کی طرف جھکائو کی پالیسی اختیار کی جائے لیکن بھٹو نے کشمیر میں پنجہ آزمائی کی حمایت کی اور کلیدی فوجی اور شہری افسروں کو اپنے اس نقطہ نگاہ کا حامی بنالیا۔ رنگین مزاج، دبنگ اور ذہین وزیر خارجہ نے اپنا اثر غالب کرلیا تھا، وہ جو کچھ کہتا دنیا اس پر توجہ دیتی اور ذرائع ابلاغ کے لیے بے حد پرکشش تھا۔
بن باللہ کے خلاف بومدین کی کامیاب بغاوت
جون ۱۹۶۵ء میں الجزائر کی ناکام افریشیائی کانفرنس کے موقع پر ان کی حرکتیں دیکھ کر ہر شخص دنگ رہ گیا۔ کانفرنس سے کئی دن پہلے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے بن باللہ کی جگہ کرنل بومدین نے لے لی۔ بہت سے ملکوں سے مندوبین الجزائر پہنچ چکے تھے، میرے ہوٹل کے اردگرد اور اوپر نیچے مظاہرین کی جماعتیں بومدین قاتل ہے، بومدین قاتل ہے، کے نعرے بلند کرتی پھررہی تھیں۔ اکا دکا مسلح جھڑپیں بھی ہورہی تھیں۔
اس وقت ایوب خان اور بھٹو لندن میں دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم کی کانفرنس میں شریک تھے، میں نے انہیں الجزیرہ سے اپنا یہ اندازہ بتایا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کی کوئی امید نہیں۔ بھٹو گومگو کے عالم میں تھے، وہ الجزائر جانے سے متعلق فیصلہ نہیں کرپائے تھے لیکن جس لمحہ انہوں نے سنا کہ بھارتی وزیر خارجہ سورن سنگھ آرہے ہیں، اسی لمحہ سب سے پہلے ملنے والی پرواز کے ذریعہ وہ لندن سے الجزائر پہنچ گئے اور انڈونیشیا کے سوباندریو کی طرف سے دی جانے والی بڑی ضیافت میں شرکت کی۔ جس میں انڈونیشی رقاصائوں کے ایک بڑے طائفے نے کانفرنس میں شریک افریقی ایشیائی ملکوں کے مندوبین کو اپنے رنگین رقص و موسیقی کے کمالات سے محظوظ ہورہے تھے۔ یہ محفل تقریباً ۲ بجے رات کو ختم ہوئی، اس وقت بھٹو نے الجمیلہ نائٹ کلب جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور کوئی بھی انہیں اس ارادے سے باز نہیں رکھ سکا۔
کلب حسب توقع سنسان تھا، واپسی میں ہماری کار کو ایک جگہ روک کر بڑی سختی سے تلاشی لی گئی، خوش قسمتی سے بھٹو کے سیکریٹری نے سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرکے صورت حال کو سنبھال لیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ وقوع پذیر نہ ہوا۔
دوسری صبح کو بھٹو نے اپنی ذہانت کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے کانفرنس کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرکے اور چند گھنٹوں میں سارے اختلافات مٹا دیے اور کمیٹی ایک اعلامیہ پر متفق ہوگئی۔
۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ
۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ بھٹو کی جنگ تھی، ہوسکتا ہے کہ انہیں پہلے سے تمام نقل و حرکت کا اندازہ نہ ہو، تاہم واقعات کے دوران یقیناً ان کے فیصلہ کن اثرات کام کررہے تھے۔ سب سے زیادہ انہوں نے ہی ایوب خان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر (Operation Jabralter) کے نام سے فوجی مہم شروع کی جائے۔ ایسا کرنا واقعی تباہ کن ثابت ہوا۔ جس کے متعلق باور کرایا گیا تھا کہ محض ایک مقامی مہم ہوگی، وہ ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ اس طرح ’’ذہین وزیر خارجہ‘‘ نے ملک کو ایک ناقابل تلافی صورت حال میں مبتلا کردیا۔ بھارتیوں نے پوری طرح بدلہ لیا اور پاکستان پر حملہ کردیا۔ حکومت کے اندر بھٹو پر سخت اعتراضات اور ان پر حکومت کو غلط راہ پر ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا، بھٹو بے ساختہ روپڑے اور کئی منٹ تک زور زور سے روتے رہے اور پھر ان کو یہ اعلان کرتے سنا گیا کہ ’’میرا سیاسی کیریئر ختم ہوگیا‘‘ تو ہر شخص کو حیرت ہوئی۔
جنگ کون ہارا؟ بھٹو نہیں ہارے کیونکہ وہ جلد ہی سلامتی کونسل میں بھارت پر حملہ کرتے نظر آئے، فوجی جنرل بھی نہیں ہارے کیونکہ ان سب نے بھی اپنے اپنے سیکٹر میں فتوحات حاصل کی تھیں۔ ہر پاکستانی کمپنی نے ایک ایک بھارتی بریگیڈ کا صفایا کیا تھا، یہ جنگ ایوب خان ہارے تھے کیونکہ وہ کسی کارنامے کا دعویٰ نہ کرسکے۔
جنگ بندی کے بعد اعلان تاشقند
ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ بندی کے بعد کا دور اندوہناک تھا۔ ایوب خان مہینوں خاموشی میں مبتلا رہے۔ سویت یونین نے جب بھارت اور پاکستان کی ملاقات کی پیش کش کی تو ایوب خان کو حیرت ہوئی کہ ایسی ملاقات کا کیا فائدہ ہوگا چند ماہ پہلے جب ایوب خان سرکاری دورے پر گئے تھے تو انہوں نے روسی لیڈروںسے کچھ رابطہ قائم کیا تھا۔
وہ پاکستان کے ایک صدر کا پہلا دورہ تھا، جو بہت ہی اچھا رہا تھا، خاص طور پر بھٹو بہت ہی خوش اور مطمئن ہوئے تھے۔ آخری دن ناشتے کے وقت ووڈکا پیش کی گئی، ٹینک اکاڈیمی میں ووڈکا پیش کی گئی، پھر لنچ میں ووڈکا پیش کی گئی، اس کے بعد پے در پے کاگنگ کے جام پیش کیے گئے۔ شام ہوتے ہی بھٹو پر کافی نشہ طاری ہوگیا۔ ہم کریملین کی ضیافت میں بیٹھے وزیراعظم کوسیجن درمیان میں بیٹھے، ان کے دائیں جانب صدر ایوب خان تھے، ان کے سامنے برزنیف تھے، بھٹو نے ایک دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ جلدی سے اپنے سامنے کی وہسکی ختم کی، پھر پوڈگورنی کے سامنے رکھے ہوئے پیاز کے اچار پر ہاتھ صاف کیا۔ اس کے بعد گرومیکو کی پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھا لیکن ان کا بڑھتا ہوا ہاتھ درمیان ہی میں رک گیا اور اردو میں ایک سخت ڈانٹ سنائی دی۔ ذرا ہوش سے کام لو ذوالفقار! یہ آواز ایوب خان کی تھی، لیکن اس قدر بے تکلفی کے باوجود روس نے بھارت سے جو وعدہ کررکھا تھا اس میں کوئی لچک پیدا نہیں ہوئی۔ ایوب خان روسی لیڈروں کو پاکستان کے حق میں اپنا اثر استعمال کرتے نہ دیکھ سکے وہ اس بات سے ناخوش تھے کہ مغربی طاقتیں اس خطہ میں فعال ہونے کی ذمہ داری روس کو منتقل کررہی تھیں۔ بھٹو نے یقین دلایا تھا کہ وہ اس سرزمین پر ہونے والی ملاقات پاکستان کے حق میں ہوگی۔ اس بات کا برابر امکان تھا کہ بھارت روس کے دبائو سے کشمیر کے معاملہ میں ہتھیار ڈال دے گا، لیکن سویت لیڈر ایسا کوئی موقع آنے نہیں دیتے تھے، تاشقند ملاقات سے ہفتوں پہلے بھٹو کو ماسکو آنے کی دعوت دی تھی، جہاں وہ مسئلہ کشمیر کو طاق نسیاں بنادینے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تاشقند میں ایوب خان کی افتتاحی تقریر کے اندر کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تاشقند میں ہمیں ایک ریسٹ ہائوس میں ٹھہرایا گیا جب کہ ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم شاستری کو الگ الگ لایا گیا تھا، جیسا کہ سمجھا جارہا تھا کہ مذاکرات میں دشواریاں پیدا ہوگئیں اور جلد ہی اس مسئلے پر قطعی تعطل پیدا ہوگیا کہ دونوں فریق اس تنازعہ کے حل میں طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔ بھٹو نے متعدد مسودے اور ضوابط پیش کیے۔ ایک سہ پہر کو جب مندوبین کے درمیان گرما گرم بحث چل رہی تھی بھٹو کا سیکریٹری ایک فوری معاملے پر بولنے کے لیے سامنے آیا۔ اس نے کہا
کل مسٹر بھٹو کی سالگرہ ہے، وہ سالگرہ کے تحفے پر خوش ہوتے ہیں، لہٰذا میں نے انہیں ایک گڑیا بھیجی جس پر انہوں نے مجھے ایک خط لکھا جس میں میرا اور دوسرے مندوبین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تاشقند میں بھی ان کی سالگرہ کو یاد رکھا۔
ایوب خان علالت کے بعد اپنے ہی فوجی کمانڈروں کے قیدی بن گئے
۱۹۶۸ء میں ایوب خان شدید طور پر علیل ہوگئے۔ فوجی ڈاکٹروں کو معلوم تھا کہ اب وہ پہلے جیسے نہیں ہوسکیں گے، یحییٰ خان نے جنہیں فوج کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا، ایوب خان کی علالت کے دوران عملاً سارے اختیارات سنبھال رکھے تھے، توقع کے بالکل برخلاف ایوب خان اس حد تک صحت یاب ہوگئے کہ روزمرہ کا کام سنبھال سکیں لیکن اب وہ پہلے کی طرح بااقتدار شخصیت نہیں رہے بلکہ ایک طرح سے وہ اپنی ہی فوج کے قیدی بن کر رہ گئے تھے۔
بھٹو نے مغربی پاکستان میں ایوب خان کے خلاف ایک عام ایجی ٹیشن چلانے کی تیاری کرلی پھر جب اس میں مشرقی پاکستانی بھی شریک ہوگئے تو یہ ملک گیر تحریک بن گئی۔ سیاسی لیڈروں کی گول میز کانفرنس اقتدار منتقل کرنے سے متعلق کوئی آئینی سمجھوتہ کرانے میں ناکام رہی۔ ایوب خان کو ہٹادیا گیا اور ملک پر فوج نے قبضہ کرلیا۔
۱۹۶۹ء اور ۱۹۷۰ء کے دو سال کے دوران بھٹو کو مغربی پاکستان کا ایک انتہائی اہم سیاسی لیڈر بن کر ابھرنے کا موقع ملا بھٹو نے فیکٹری کے مزدوروں اور کسانوں سے براہ راست رابطہ قائم کیا اور ہر شخص کے لیے زیادہ پرمسرت اور زیادہ جمہوری مستقبل کے امکانات کی پیشکش کی۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں ان کی پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب اور سندھ میں نشستوں کی اکثریت حاصل کرلی لیکن مشرقی پاکستان یا بلوچستان میں پارٹی ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی اور صوبہ سرحد میں بھی محض ایک نشست جیت سکی۔
انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی
واضح برتری
دوسری طرف شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے ملک گیر بنیاد پر ایک واضح اکثریت حاصل کرلی تھی، بھٹو نے مجیب کی اس اکثریت کو ’’منتخب آمریت‘‘ کہا تھا لیکن نہ تو فوج نہ ہی بھٹو اقتدار عوامی لیگ کے سپرد کرنے پر تیار ہوئے۔ اس طرح انتخاب کے نتائج سے صرف ملک کی بنیادی تقسیم ہی سامنے آئی۔ یحییٰ خان نے اپنے طریقے سے جنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور ملک کو تصادم کی راہ پر ڈال دیا جس کا نتیجہ صرف تباہی اور انتشار تھا۔
ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد سوال پیدا ہوا کیا پاکستان قائم رہے گا؟ جن سیاستدانوں نے یحییٰ کی حمایت کی تھی وہ بے وقعت ہوگئے، پٹھان اور بلوچ لیڈر الگ تھلگ ہوگئے، اب واحد امید بھٹو تھے اور وہی اقتدار کے تنہا دعویدار رہ گئے تھے۔
لوگ بھٹو کے ماضی کو بھول جانے پر تیار ہوگئے صرف انہیں میں وہ ضروری سیاسی اور انتظامی صلاحیت تھی جس سے مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) متحد رہ سکتا تھا لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھٹو کا پہلا اقدام ہی ان کی شخصیت کے برعکس ہوا۔ ایک منتخب جمہوری لیڈر ہونے کا دعویٰ رکھنے اور پاکستان کا صدر بننے کے بعد کسی آئینی یا قانونی ضابطے کے علی الرغم بھٹو نے ملک کا پہلا سول چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بننا پسند کیا۔
پہاڑ رویا نہیں کرتے Mountains do not weap
بھٹو کے ایوب خان کی حکومت سے الگ ہونے کے بعد میری ان کی دوستی میں تلخی پیدا ہوچکی تھی چنانچہ جب میں نے اخبار ڈان کی ادارت سنبھالی تو انہوں نے اسے اپنے لیے براہ راست خطرہ سمجھا۔ اس دوران وہ تمام جمہوری اصولوں کو ختم کرکے ملک کے ساتھ ایسا برتائو کرنے لگے جیسے کہ ان کی نجی جاگیر ہو۔ وہ یہ دعوے کرنے لگے کہ اگر میں منظر سے ہٹ گیا تو ہمالیہ بھی روئے گا، ایک اداریہ میں جس کا عنوان تھا ’’پہاڑ رویا نہیں کرتے‘‘ میں نے نرمی کے ساتھ لکھا کہ ایسا کہہ کر وہ مبالغہ کرتے ہیں، میری محض اتنی سی بات پر وہ غضبناک ہوگئے۔
جب انہوں نے دولت مشترکہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو کسی نے پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے جواب دیا ’’گردوغبار کے بیٹھ جانے کے بعد ہر چیز صاف ہوجائے گی‘‘ میں نے پوچھا کہ کیا لوگ ان سے نہیں پوچھیں گے کہ آخر اس قدر گردوغبار اڑائے کیوں؟ بس اتنا ہی کافی ہوگیا۔ آدھی رات کو پولیس میرے گھر میں گھس آئی، میری اہلیہ کو دھکیل کر راستہ سے نکال دیا اور مجھے نظربندی کے ایک مرکز میں لے گئے۔ اس کے ساتھ ہی ۱۳ ماہ تک عدالتی کارروائیوں، قیدخانوں، رہائی اور پھر گرفتاری کا ایک طویل چکر چلتا رہا منظور قادر نے جو ایوب خان کی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد لاہور میں دوبارہ وکالت کرنے لگے تھے، یہ فیصلہ کیا کہ ملک میں جس حد تک میسر آسکے عدلیہ کے ہر فورم پر بھٹو کا مقابلہ کریں گے۔ تیرہ مہینوں کے بعد ہم ہر کیس ہر فورم پر جیتنے میں کامیاب ہوگئے اور بالآخر مجھے رہائی مل گئی۔
میں تقریباً دوپہر کو گھر واپس آیا، اتفاق سے بھٹو شہر میں موجود تھے، سہ پہر کے تقریباً ۳ بجے ایک پولیس آفیسر میرے گھر پر آیا اور کہنے لگا کہ مسٹر بھٹو آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔
پھر قید؟
نہیں مجھے پریذیڈنٹ ہائوس لے جایا گیا، میرے پہنچنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ وقت ضائع کیے بغیر مسٹر بھٹو نے وہ واقعات گنوانا شروع کیے جو ان کے خیال میں ہمارے تعلقات کے درمیان حائل ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ میرے لیے کتنے اچھے تھے اور میں نے ان کے ساتھ کتنا خراب برتائو کیا تھا۔ غرض یہ کہ سارا قصور میرا اور ساری بھلائیاں ان کی تھیں مثلاً جب انہوں نے انتخاب جیتا تھا تو میں نے انہیں مبارکباد نہیں دی تھی۔ میں نے ان سے ملاقات کی خواہش نہیں کی تھی، میں ان کے ہاں کسی تقریب میں نہیں گیا تھا۔
آپ کو کچھ کہنا ہے؟ انہوں نے پوچھا
نہیں مسٹر پریذیڈنٹ، میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ پچھلے موقعوں پر جب پولیس مجھے گرفتار کرتی تو تھانہ یا نظربندی کے کیمپ میں لے جاتی لیکن آج مجھے پریذیڈنٹ ہائوس لائی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میری حیثیت کافی بہتر ہوگئی ہے۔
یہ بہتری کا سوال نہیں، بھٹو صاحب نے جواب دیا، تم میرے خاندان کے ایک فرد کی حیثیت رکھتے ہو، لیکن میرے دشمنوں سے مل گئے اور دشمنوں سے کیسے نمٹا جاتا ہے، یہ میں خواب جانتا ہوں، مگر تمہارے متعلق میں نے خصوصی احکامات دے دیے تھے کہ کوئی جسمانی نقصان نہ پہنچایا جائے۔
مسٹر بھٹو نے مزید کہا کہ دیکھو ہر چیز معاف کردینے اور بھول جانے کو تیار ہوں لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے اور یہ منظور قادر کو بھی بتادو کہ تم دنیا کے تمام مقدمات جیت سکتے ہو پھر بھی تمہیں قید سے نکلنے نہیں دوں گا، جانتے ہو کیوں؟ اس لیے کہ عدالتوں کا میری کتاب میں کوئی وجود نہیں‘‘
(بشکریہ ہفت روزہ ایشیاء لاہور ۱۸ مارچ ۱۹۷۹ء، تھرڈ ورلڈ ریویو سے ماخوذ)

حصہ