منتخب غزلیں

98

مرزا غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
…٭…
اکبر الہ آبادی
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی
اس نزاکت پر یہ شمشیر جفا
آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی
کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو
اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی
شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا
احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی
یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں
کب تری یہ کج خیالی جائے گی
…٭…
شکیل بدایونی
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ
منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا
مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری
اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا
جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ
مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا
…٭…
امجد اسلام امجد
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا
سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے
کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا
بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم
ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا
چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت
زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا
دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے
وہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا
بے ارادہ لمس کی وہ سنسنی پیاری لگی
کم توجہ آنکھ کا وہ دیکھنا اچھا لگا
نیم شب کی خاموشی میں بھیگتی سڑکوں پہ کل
تیری یادوں کے جلو میں گھومنا اچھا لگا
اس عدوئے جاں کو امجدؔ میں برا کیسے کہوں
جب بھی آیا سامنے وہ بے وفا اچھا لگا
…٭…
مجید لاہوری
زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارو
دل بے تاب کو تسکین کہاں ہے یارو
وہی صیاد کی گھاتیں ہیں وہی کنج قفس
فصل گل رہن غم جور خزاں ہے یارو
وہی افکار کی الجھن وہی ماحول کا جبر
ذہن پا بستہ زنجیر گراں ہے یارو
وہی حسرت وہی لب اور وہی مہر سکوت
شوق کو جرأت اظہار کہاں ہے یارو
عزم کی رہ بھی وہی راہ میں کانٹے بھی وہی
دور کوسوں مری منزل کا نشاں ہے یارو
بے وفائی کا خدارا مجھے الزام نہ دو
تم پہ حال دل بیتاب عیاں ہے یارو
کاش میں کہہ بھی سکوں کاش کوئی سن بھی سکے
آہ وہ راز کہ جو راز نہاں ہے یارو
میرے ہونٹوں پہ ہے اک نغمۂ بے صوت و صدا
دل میں اک محشر فریاد و فغاں ہے یارو
اک تغافل کہ جو ہے وجہ پریشانئ دل
ایک یاد ان کی ہے جو راحت جاں ہے یارو
آج ساحل کے قریں ڈوبنے والا ہے مجیدؔ
ناخدا کو تو پکارو وہ کہاں ہے یارو
…٭…
عبدالعزیز فطرت
کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایا
اپنا ہی پتا نہ ہم نے پایا
دل کس کے جمال میں ہوا گم
اکثر یہ خیال ہی نہ آیا
ہم تو ترے ذکر کا ہوئے جزو
تو نے ہمیں کس طرح بھلایا
اے دوست تری نظر سے میرا
ایوان نگاہ جگ مسکایا
خورشید اسی کو ہم نے جانا
جو ذرہ زمیں پہ مسکرایا
مقصود تھی تازگی چمن کی
ہم نے رگ جاں سے خوں بہایا
افتاد ہے سب کی اپنی اپنی
کس نے ہے کسی کا غم بٹایا
محرومئ جاوداں ہے اور میں
میں ذوق طلب سے باز آیا
ہر غم پہ ہے میرے نام کی مہر
فطرتؔ کوئی غم نہیں پرایا
…٭…
الطاف حسین حالی
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
…٭…
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
…٭…
صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
…٭…
بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

مجید لاہوری
جہاں کو چھوڑ دیا تھا جہاں نے یاد کیا
بچھڑ گئے تو بہت کارواں نے یاد کیا
ملا نہیں اسے شاید کوئی ستم کے لئے
زہ نصیب مجھے آسماں نے یاد کیا
وہ ایک دل جو کڑی دھوپ میں جھلستا تھا
اسے بھی سایۂ زلف بتاں نے یاد کیا
پناہ مل نہ سکی ان کو تیرے دامن میں
وہ اشک جن کو مہ و کہکشاں نے یاد کیا
خیال ہم کو بھی کچھ آشیاں کا تھا لیکن
قفس میں ہم کو بہت آشیاں نے یاد کیا
ہمارے بعد بہائے کسی نے کب آنسو
ہم اہل درد کو ابر رواں نے یاد کیا
غم زمانہ سے فرصت نہیں مگر پھر بھی
مجیدؔ چل تجھے پیر مغاں نے یاد کیا

الطاف حسین حالی کے 10 منتخب شعر

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
٭٭٭
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
٭٭٭
صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
٭٭٭
بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
٭٭٭
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
٭٭٭
فراغت سے دنیا میں ہر دم نہ بیٹھو
اگر چاہتے ہو فراغت زیادہ
٭٭٭
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
٭٭٭
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
٭٭٭
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
٭٭٭
قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں
٭٭٭

…٭…

عبد العزیز خالد

بھولوں انہیں کیسے کیسے کیسے
وہ لمحے جو تیرے ساتھ گزرے
ہے راہنما جبلت ان کی
بے حس نہیں موسمی پرندے
اے دانشور مفر نہیں ہے
اقرار وجود کبریا سے
جانا کوئی کارساز بھی ہے
ٹوٹے بن بن کے جب ارادے
محراب عمود برج قوسیں
رس میں ڈوبے بھرے بھرے سے
بحر کافور میں تلاطم
بھونرا بیٹھا کنول کو چوسے
چاک افقی حریم زہرہ
رہ رہ کے مدن ترنگ جھلکے
جھلمل جھلمل بدن کا سونا
لہرائیں لٹیں کمر سے نیچے
کیا چاند سی صورتیں بنائیں
قربان اے نیلی چھتری والے
…٭…

یروشلم/نعیم صدیقی

یروشلم یروشلم تو ایک حریم محترم
تیرے ہی سنگ در پر آج منہ کے بل گرے ہیں ہم
تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بچشم نم
یروشلم یروشلم یروشلم یروشلم
…٭…

حصہ