مخفی جواہر

58

جمپنگ جیک ایروبکس کرنے والوں کے لیے جانی پہچانی سرگرمی ہے، اس میں بازو اور ٹانگوں دونوں کو بیک وقت متحرک کرکے اچھلنا شامل ہے۔ گزشتہ برس ایک صبح ایسی ہی حرکات کو زیادہ رفتار سے کرتے میرے گھٹنے میں شدید لہر اٹھی تھی جسے مدت کی غیر حاضری کا نتیجہ سمجھ کر توجہ نہ دی، اور درد کے باوجود ’’منے بھائی لگے رہو‘‘ کے مصداق اپنا کام جاری رکھا، جس کا نتیجہ رات تک شدید ترین کراہوں کی صورت میں نکلا، اور طبیب کے تجویز کردہ ایکسرے نے انکشاف کیا کہ ہم اپنے دونوں گھٹنوں کے جوڑ میں گیپ پیدا کرچکے ہیں۔
یہ کلی طور پر حادثاتی تھا، اور اس نے ہمیں ایک طویل فہرست دوائیوں کی پکڑا دی جس کا گراں ترین بل ادا کرکے جب ہم گھر لوٹے تو رنگ برنگی گولیوں کا انبارِ عظیم میز پر دھر دیا گیا۔ اس کے بعد ہمیں آئندہ تین ہفتے تک معائنے کے لیے طبیب کے درشن کرنے تھے۔
ماہ بھر کے اندر ایک خطیر رقم جمپ لگا کر ہماری جیب سے طبیب، ان کے لکھے ٹیسٹوں اور دوا کے نام پر نکل چکی تھی۔ کراہوں میں کمی تھی لیکن دماغ رقم کے اخراج کو دیکھ کر سن ہوچکا تھا۔ کتنے کام تھے جو کرنے تھے مگر اب التوا میں جا چکے تھے۔
2020ء گزرا، 2021ء آیا، ہم بھلے چنگے اپنی گزشتہ تکلیف کو ناخوش گوار یاد کی مانند بھولے کام کاج میں مصروف تھے۔ مہمان گھر پر تھے، پانی ڈسپنسر کی بوتل خالی ہوچکی تھی، فٹافٹ اٹھا کر لگا دی کہ ٹھنڈے پانی کی پریشانی نہ ہو۔ بس جی وہ لگانا تھا کہ بیک ٹو دا پاسٹ کی مانندگھٹنے کی تکلیف میں وہیں پہنچ گئے جہاں سے چلے تھے۔ اِس مرتبہ طبیب کے پاس جانے کے بجائے پچھلے نسخے نکالے اور ٹیسٹ کرواکردوا کا استعمال شروع کردیا۔ مہینہ گزرا، دوسرا گزرا، لیکن درد اور تکلیف نہ گئی۔ ہیل سے فلیٹ چپل، تیز قدم سے چیونٹی کی چال، سیڑھیاں چڑھنا اور کھڑا ہونا مشکل… زندگی بالکل لاچار سی لگتی تھی۔
دو ماہ جیسے تیسے ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ کی امید پر دوائیں پھانکتے، یوٹیوب سے مخصوص ایکسرسائز سیکھ کر کرتے گزار دیے۔ لیکن طبیب کے لگا تار درشن کی فیس دینے اور قطار میں بیٹھنے کی ہمت نہ ہوئی۔
ایسے میں رمضان آگیا۔ مقامی اسپتال فون کرکے ہڈیوں کے ماہرین کی فہرست سے ایک نام لے کر وقت لے لیا۔ ہم اس طبیب کو قطعاً نہ جانتے تھے، بس اس کے وقت میں جانا ہمارے لیے سہل تھا۔
یہ ڈاکٹر صاحب خوش گوار تاثرات، ڈھلتی عمر کے تجربہ کار سرجن، نفیس سی شخصیت، باوقار گفتگو، کہیں ’’میں‘‘ کا بھرم نہیں، کہیں ’’شٹ اَپ کال‘‘ نہیں۔
زندگی میں ایسا پہلا طبیب دیکھا جو لینے سے زیادہ دینے میں مخلص لگا۔ جسے اپنے اوپر فخر سے زیادہ حاصل ہوئے تجربے اور مہارت نے قد عطا کر رکھا تھا۔ جس کی مسکراہٹ کاروباری نہیں لگی، جس کے مشورے تجارتی نہ تھے، جس نے ایک مختصر ترین نسخہ لکھا اور قیمتی ترین جملہ کہا ’’اگر یہ نسخہ، ہدایات اور ایکسرسائز کام کرنے لگیں تو میرے پاس دوبارہ نہ آئیے گا۔‘‘
یہ جملہ اُس کے کمرے کو روشن اور ہمارے درد کو دھیما کر گیا۔ رب نے اس کلین شیو، بظاہر دنیا دار ڈاکٹر کو شاید اپنا ولی بنایا ہو، کہ اس سے مل کر ہمیں تاحال اس سے ملاقات کی حاجت نہ ہوئی۔ واقعی زندگی اتنے بے اعتبار ماحول کے باوجود ایسے ہی مخفی جواہر سے چمک دار ہے۔

حصہ