قیصر و کسریٰ (قسط 3)

118

عاصم نے کہا ’’میں صرف اپنے گھر سے کوسوں دور بیٹھ کر ایسی باتیں کرسکتا ہوں۔ ممکن ہے کہ میرے دل و دماغ پر یہاں کی آب و ہوا کا اثر ہو لیکن عرب کی ہوا میں سانس لینے کے بعد اپنے قبیلے کی عزت کے لیے لڑنا یا اپنے عزیزوں اور دوستوں کا انتقام لینا میرے لیے زندگی کا سب سے اہم مسئلہ بن جائے گا۔ اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کی روحوں کی چیخیں مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی چین سے نہیں بیٹھنے دے گی‘‘۔
فرمس نے مغموم لہجے میں کہا ’’لیکن مجھے اس بات کا یقین نہیں آسکتا کہ تم جیسا رحم دل آدمی جس نے ایک بے بس مصری کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال دی تھی محض انتقام کے لیے قتل و غارت پر آمادہ ہوجائے گا‘‘۔
عاصم نے جواب دیا ’’میں بلاوجہ اتنی دور تلواریں خریدنے نہیں آیا تھا‘‘۔
فرمس کی بیوی نے جواب تک خاموشی سے ان کی گفتگو سن رہی تھی اپنے شوہر سے کہا ’’آپ ان سے بحث کیوں کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے دشمن کے ہاتھوں نقصان اٹھایا ہو۔ اور انہیں لڑائی کے سوا تلافی کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہو۔ انہوں نے ہم پر احساس کیا ہے اور آپ کو اس وقت صرف یہ سوچنا چاہیے کہ ہم ان کے احسان کا کیا صلہ دے سکتے ہیں‘‘۔
عاصم نے کہا ’’مجھے آپ کی نیک دعائوں کے سوا کسی صلے کی ضرورت نہیں‘‘۔
فرمس نے کہا ’’اگر ہم آپ کو سونے یا چاندی کے چند سکے پیش کریں تو یہ ہمارے جذبہ تشکر کی توہین ہوگی۔ لیکن آپ کو تلواروں کی ضرورت ہے اور میری بیوی آپ کے لیے سرائے میں ٹھہرنے والے مسافروں سے دو تلواریں خرید چکی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ ان کا یہ تحفہ خوشی کے ساتھ قبول فرمائیں گے‘‘۔
فرمس کی بیوی نے کہا ’’انطونیہ نے آپ کے نوکر کو شامی رئیس اور اُس کے غلام کی تلواریں چھینتے دیکھا تھا اور یہ اُس وقت سے آپ کو دو مزید تلواریں پیش کرنے پر مُصر تھی‘‘۔
عاصم نے کہا ’’میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان دنوں واقعی ہمیں تلواروں سے زیادہ کسی چیز کی ضرورت نہیں‘‘۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ کھانے سے فارغ ہو چکے تھے، انطونیہ برابر کے کمرے سے دو تلواریں لے آئی اور عاصم کو پیش کرتے ہوئے بولی ’’ایک بہادر شخص کے لیے تلوار سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں ہوسکتا۔ اگر میرا بھائی آج زندہ ہوتا تو میں ایک تلوار اُس کی کمر سے باندھتی اور اس سے کہتی کہ اس شریف آدمی نے ہماری عزت بچائی ہے، اس لیے آج سے اس کے دوست ہمارے دوست اور اس کے دشمن ہمارے دشمن ہیں۔ تم اگر میرے بھائی ہو تو احسان مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے ساتھ جائو‘‘۔
انطونیہ پہلی بار اُس سے ہمکلام ہوئی تھی۔ عاصم کچھ دیر ایک طرح کی مرعوبیت کے احساس سے خاموش رہا۔ بالآخر اس نے تلواریں اپنے پاس رکھ لیں اور کہا ’’اگر آپ کا بھائی زندہ ہوتا تو میں اُس سے کہتا کہ مجھ سے زیادہ تمہاری بہن اور تمہارے والدین کو تمہاری ضرورت ہے۔ اور جو شخص اپنے باپ اور بھائیوں کے خون کا بدلہ نہیں لے سکا اسے ایک اجنبی کو اپنے مصائب میں حصہ دار بنانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا‘‘۔
فرمس نے کہا ’’پچھلے ہفتے مکہ کے جو تاجر یہاں ٹھہرے تھے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہاں ایک نبی نیکی، رواداری اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ لوگ اُس کی تعلیم کا مذاق اڑاتے تھے۔ تاہم انہیں اس بات کا اعتراف ضرور تھا کہ مکہ کا نبی عرب کے شریف ترین خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور جو چند لوگ اس کی صداقت پر ایمان لاچکے ہیں وہ اہل مکہ کے ہاتھوں بدترین اذیتیں اٹھانے کے باوجود اپنے عقیدے پر قائم ہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا تھا کہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے اُس کی زندگی کیسی تھی اور وہ یہ کہتے تھے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے وہ اپنی راستبازی، حق گوئی اور دیانتداری کے لیے مشہور تھا اور جن لوگوں کو اُس سے سابقہ پڑا تھا وہ اس کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دیتے تھے‘‘۔
عاصم نے کہا ’’میں نے مکہ کے نبی کے متعلق یہ سنا ہے کہ وہ ہماری قبائلی اور خاندانی عصبیتوں کا مخالف ہے اور ہمارے تمام خدائوں کو جھٹلا کر صرف ایک خدا کی تعلیم دیتا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک جادوگر ہے لیکن اگر وہ واقعی نبی ہے تو بھی اہل عرب کوئی ایسا دین قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں گے جو مساوات کی تعلیم دیتا ہو اور اعلیٰ اور ادنیٰ انسانوں کو ایک ہی صف میں دیکھنا چاہتا ہو۔ میں نے سنا ہے کہ مکہ کی گلیوں میں اس نبی کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کے اپنے قبیلے کے لوگ جن کی عصبیت اس کے لیے سہارا بن سکتی تھی اس کے راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں۔ اگر چند مفلس اور نادار لوگوں یا دو چار اچھی حیثیت کے آدمیوں پر اس کا جادو چل گیا ہے تو یہ کوئی کامیابی نہیں۔ میں نے کبھی اس نبی کے متعلق سنجیدگی سے نہیں سوچا اور آپ کو بھی سنی سنائی باتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ عرب کی پیاسی ریت تو بڑے بڑے دریائوں کو جذب کرلیتی ہے، پھر وہاں ایک ایسا نبی کیسے کامیاب ہوسکتا ہے جس کی تعلیم کا نقطہ آغاز ہی اُن عصبیتوں کے خلاف ایک اعلان جنگ ہے جو ہمارے لیے اپنے بے شمار خدائوں سے بھی زیادہ مقدس ہیں‘‘۔
فرمس نے کہا ’’اس دنیا پر آج جو تاریکیاں مسلط ہیں وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھیں۔ انسانی ضمیر کسی نجات دہندہ کو پکار رہا ہے۔ خدا اپنے بندوں کو ہمیشہ کے لیے اس حال میں نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ جس کی آمد کے متعلق ہمارے بزرگانِ دین بارہا بشارت سے دے چکے ہیں، ضرور آئے گا۔ وہ دعائیں جو آج سسکتے ہوئے بے بس انسانوں کے دل سے نکل رہی ہیں، یقینا مستجاب ہوں گی۔ وہ ضرور آئے گا اور زمین و آسمان کے مالک کی ساری رحمتیں اُس کے ہم رکاب ہوں گی۔ اُس کے جمال سے مایوس نگاہوں میں امیدوں کے چراغ ہوں گے اور اس کے جلال سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اُٹھیں گے۔ ناداروں اور مظلوموں کو اس کی حمیت میں پناہ ملے گی۔ مجروح اور ستم رسیدہ انسانوں کے سر پر اُس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوگا لیکن کاش ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ وہ کب اور کس جگہ معبوث ہوگا‘‘۔
فرمس کی گفتگو کے دوران میں عاصم کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اس کی نگاہیں انسانی ادراک کی سرحدوں سے آگے کسی خلاء کی وسعتوں میں پرواز کررہی ہیں۔ اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد پوچھا ’’آپ قیصر اور کسریٰ دونوں کے مخالف ہیں؟‘‘
فرمس مسکرایا ’’یہ باتیں ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئیں گی‘‘۔ اور عاصم کو یہ مسکراہٹ اس آدمی کی مسکراہٹ سے یکسر مختلف نظر آئی جسے وہ صرف ایک سرائے کے مالک کی حیثیت سے جانتا تھا۔
علیٰ الصباح جب عاصم اپنے نیک دل میزبان سے الوداعی مصافحہ کررہا تھا، فرمس نے کہا ’’میں آپ سے دو باتیں کہنا چاہتا ہوں، ایک یہ کہ اگر آپ کبھی دوبارہ یہاں آئیں تو میرے گھر کا دروازہ آپ کے لیے کھلا ہوگا۔ دوسری یہ کہ اگر آپ گرے ہوئے دشمن کی شاہرگ پر تلوار رکھنے کے بعد اپنا ہاتھ روک لیں تو آپ کو زیادہ تسکین محسوس ہوگی‘‘۔
عاصم نے جواب دیا ’’مجھے ایک دوست کے گھر کا راستہ ہمیشہ یاد رہے گا لیکن کسی دشمن کی شاہرگ پر تلوار رکھنے کے بعد اپنا ہاتھ روک لینا ایک عرب کے بس کی بات نہیں‘‘۔
فرمس نے کہا ’’لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تم گرے ہوئے دشمن پر وار نہیں کرسکو گے‘‘۔
عاصم نے ایک مغموم مسکراہٹ کے ساتھ فرمس کی طرف دیکھا اور گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ سرائے سے نکلنے کے بعد اس کو گزشتہ چند پہر کے واقعات ایک خواب محسوس ہوتے تھے۔ کبھی کبھی انطونیہ کا خیال آتا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگتی لیکن جب وہ اس کے خدوخال کے متعلق سوچتا تواُسے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کے ذہن میں فرمس کی بیٹی کا ایک مبہم سا تصور صرف چمکتی ہوئی سیاہ آنکھوں کی دلکشی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
وقت کی آندھیاں شاہراہ حیات پر ماضی کے نشان مٹارہی تھیں اور حال کے ظلمت کدے میں بھٹکنے والوں کی نگاہوں سے وہ ستارے اوجھل ہورہے تھے جو رات کے مسافروں کو سحر کی آمد کا پیغام دیتے ہیں۔ انسانیت کا پیرہن خون اور آنسوئوں میں ڈوبا ہوا تھا۔
بحیرئہ روم کے مشرقی علاقے، جو کبھی مصر کے فراعنہ اور کبھی بابل کے حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی کا سامنا کیا کرتے تھے، اب کوئی ایک ہزار سال سے ایران اور اس کے مغربی حریفوں کے درمیان قوت آزمائی کا اکھاڑا بنے ہوئے تھے۔
ولادتِ مسیحؑ سے ساڑھے پانچ سو سال قبل ایران پر سائرس کا تسلط مشرق کی تاریخ کے ایک نئے دور کی تمہید تھا۔ اس چرواہے حکمران نے بابل کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اور پھر بلخ سے لے کر آبنائے باسفورس اور بحیرئہ خزر سے لے کر صحرائے سینا تک اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے۔ ربع صدی کے اندر اندر ایرانی سلطنت کی حدود پنجاب سے لے کر یونان تک پھیل چکی تھیں اور مصر کی حیثیت اس عظیم سلطنت کے ایک صوبے سے زیادہ نہ تھی۔ اس کے بعد قریباً دو سو سال تک مشرق و مغرب میں سائرس کے جانشینوں کا کوئی مدمقابل نہ تھا۔ پھر اچانک یونان نے انگڑائی لی، مقدونیہ سے ایک نوجوان نمودار ہوا اور ایشیا میں ایران کا پرچم سرنگوں کرتا ہوا پنجاب تک پہنچ گیا۔ مصر، بابل اور نینوا کے تاجداروں نے ماضی کی گزرگاہوں پر جو نشان چھوڑے تھے وہ سکندر اعظم کے پائوں تلے دب چکے تھے۔ پھر جب سکندر اعظم کی عظیم سلطنت کا انحطاط شروع ہوا تو یورپ سے ایک نیا اژدھا نمودار ہوا اور اس کی پھنکار سن کر زمانے کی نگاہیں روم کو تکنے لگیں۔ رومی افواج ایک طرف مشرق کے پامال راستوں پر دوڑ رہی تھیں اور دوسری طرف یورپ کے اُن ممالک کو مسخر کررہی تھیں جو ابھی تک مہذب دنیا کی نگاہوں سے اوجھل تھے۔ 64ء قبل مسیحؑ میں رومیوں نے شام میں سکندر اعظم کے جانشینوں کو آخری شکست دی اور یورپ اور ایشیا کی عظیم ترین طاقت بن گئے۔ لیکن محکوم اقوام کے لیے ماضی کے ان گنت انقلابات کی طرح اس نئے انقلاب کا مفہوم بھی آقائوں کی تبدیلی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ملوکیت کی قبا اب بھی انسانیت کے خون سے داغدار تھی۔
مذہب عیسوی مجبور اور بے بس انسانوں کے لیے ایک نئی زندگی کا پیغام لے کر آیا۔ لیکن یہ آواز ان حکمرانوں کے لیے اجنبی تھی جو اپنے بے گناہ قیدیوں کو بھوکے شیروں کے آگے ڈال کر قہقہے لگایا کرتے تھے۔ قریباً تین صدی یہ دین رومی شہنشاہوں کے مزاج پر اثر انداز نہ ہوسکا اور اس عرصہ میں کمزور اور بے بس عیسائی رومیوں کے ہاتھوں بدترین اذیتیں برداشت کرتے رہے۔
چوتھی صدی عیسویں کے ربع اول میں شہنشاہ قسطنطین نے عیسائی مذہب قبول کیا اور اس کے بعد روم کی بجائے قدیم بازنطین کے کھنڈروں پر اپنے نئے دارالحکومت قسطنطنیہ کی بنیاد رکھی۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع، اپنے فوجی اور اقتصادی وسائل کے لحاظ سے قسطنطنیہ کو نہ صرف روم بلکہ مشرق و مغرب کے تمام ان شہروں پر فوقیت حاصل تھی جن کے کھنڈروں میں عظیم ترین سلطنتوں کے عروج و زوال کی داستانیاں دفن تھیں۔
395ء تک رومی سلطنت کی یہ حالت تھی کہ کبھی قسطنطین کے جانشین اسے متحد کرلیتے اور کبھی یہ رومی اور بازنطینی شہنشاہوں میں تقسیم ہوجاتی۔ بالآخر شہنشاہ تھیوڈوسیس کی موت کے بعد یہ سلطنت مستقلاً دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اس کے بعد قسطنطنیہ میں رومیوں کی مشرقی سلطنت کی جڑیں مضبوط ہوتی گئیں اور روم میں اُن کی سطوت کے محل بتدریج مسمار ہوتے چلے گئے، بالآخر پانچویں صدی کے نصف آخر میں وسطی یورپ کے وحشی قبائل کا ایک طوفان روم پر چھا گیا اور رومی سلطنت کے مستقبل کی تمام امیدیں قسطنطنیہ کے حکمرانوں کے مستقبل سے وابستہ ہو کر رہ گئیں۔
ڈیڑھ سو سال کے عرصے میں رومیوں کا نیا دارالسلطنت دنیا کا ایک عظیم ترین شہر اور ایک انتہائی ناقابل تسخیر قلعہ بن چکا تھا اور قسطنطین کے جانشینوں کو مشرق کی طرف پیش قدمی کے لیے وہ راستے کھلے دکھائی دیتے تھے۔ جنہیں کسی زمانے میں سکندر اعظم نے ہموار کیا تھا لیکن زمانے نے ایک نئی کروٹ لی اور صدیوں کے بعد ایران کے آتش کدوں میں دبی ہوئی آگ اچانک بھڑک اٹھی۔ وہ پرچم جو یونانیوں کے ہاتھوں پرسی پولس، سوس اور اسطخر میں سرنگوں ہوئے تھے، اب دجلہ کے کنارے مدائن کی دیواروں پر نصب کیے جارہے تھے۔ ایران میں ساسانی خاندان کا عروج تاریخ کے ایک نئے دور کی تمہید تھا۔ قسطنطنیہ کے حکمران پہلی بار ایشیاء میں کسی کو اپنا مدمقابل دیکھ رہے تھے۔
ایران کے کسریٰ اور روم کے قیصر مشرق اور مغرب کے دو مہیب اژدھے تھے۔ اور 527ء میں مشرق وسط کی زمین ان اژدھوں کی زور آزمائی کا اکھاڑا بن چکی تھی۔ یہ دو ننگی تلواریں تھیں جو آپس میں ٹکرانے کے لیے ہمیشہ بے قرار رہتی تھیں۔ مشرق کی طرف ایران کے سوا اہل روم کا کوئی مدمقابل تھا، نہ مغرب کی طرف روم کے سوا ایرانیوں کا کوئی حریف۔ مجوسی حکمران جب اپنے آتش کدوں سے باہر جھانکتے تو مغرب کی سمت اُن کی نگاہیں فرزندانِ تثلیت کے گرجوں پر مرکوز ہو کر رہ جاتیں اور قسطنطنیہ کے تاجدار جب اپنی مشرقی سرحدوں سے آگے دیکھتے تو مدائن اُن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا۔ شام، آرمینیا اور ایشیائے کوچک کے باشندے بے بس تماشائیوں کی حیثیت سے آگ اور خون کے اُن طوفانوں کی ہولناکیاں دیکھ رہے تھے جو کبھی مدائن اور کبھی قسطنطنیہ سے اُٹھتے تھے۔ یہ چکی کے دو پاٹ تھے اور ان کے درمیان پسنے والے انسان صرف ان ادوار میں اطمینان کا کوئی سانس لے سکتے تھے جب کسی کسریٰ یا قیصر کو اندرونی خطرات اپنی طرف متوجہ کرلیتے تھے۔
ایسے ممالک میں جہاں ریاست کا ہر قانون اور اخلاق کا ہر ضابطہ عوام کی بجائے اُن کے حکمرانوں کے تحفظ کے لیے وضع کیا جاتا تھا۔ تخت و تاج کے حصول کے لیے سازشیں کرنے والوں کی کمی نہ تھی۔ روم اور ایران میں کئی سرپھرے اقتدار کی اُن مسندو پر قبضہ کرنے کو تیار رہتے تھے جن پر بیٹھ کر ایک انسان دوسرے انسانوں کے حصے کی تمام راحتیں چھین سکتا تھا۔ شکست اور ناکامی کی صورت میں تخت و تاج کے لیے جان کی بازی لگانے والوں کے سر قلم کردیے جاتے اور رعایا کو اس بات پر جشن منانے کا حکم دیا جاتا کہ دیوتائوں کے دیوتا اور شہنشاہوں کے شہنشاہ نے ایک حقیر دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملادیے ہیں۔ امراء ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنے آقا کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے اور مذہبی پیشوا اُس کے لیے دعائیں مانگتے۔ لیکن اگر کوئی قسمت آزما اپنی سازش میں کامیاب ہوجاتا تو یہی امرا اسے اپنی اطاعت اور یہی مذہبی پیشوا اسے اپنی بہتری دعائوں کا مستحق سمجھتے۔
سلطنت کے اندر ان انقلابات کے اثرات زیادہ تر ان امراء اور مذہبی پیشوائوں یا کاہنوں تک محدود رہتے تھے جنہیں ملک کا قانون، بادشاہ کے بعد رعایا کی ہڈیاں چبانے کی اجازت دیتا تھا۔ اور سلطنت کے باہر انقلابات کے اثرات ان ہمسایہ ممالک کے باشندوں پر ظاہر ہوتے تھے جن کے خون اور آنسوئوں سے کسی نئے قیصر یا نئے کسریٰ کی فتوحات کی داستانیں لکھی جاتی تھیں۔
مذہب نیکی اور بدی کی کسوٹی یا تہذیب و اخلاق کے ارتقا کے لیے ایک زینے کا کام دینے کی بجائے اس عمارت کے لیے ایک ستون کا کام دے رہا تھا جس کی بنیاد ظلم و استنبداد پر رکھی گئی تھی۔ یہ وہ پل تھا جس کے ذریعے کاہن یا پیشوا عوام کی صفوں سے نکل کر مراعات یافتہ لوگوں کی صف میں جا کر کھڑے ہوتے تھے۔
ایران کے مذہب میں انسانی اخوت اور مساوات کا کوئی تصور نہ تھا۔ زردشت نے اگر نیکی اور بدی کے متعلق کوئی اچھے تصور بھی پیش کیے تھے تو وہ صدیوں کے گرد و غبار میں گم ہو کر رہ گئے تھے۔ اب ایران کے مجوسوں کا اولین مقصد اس معاشرے کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنا تھا جو ابنائے آدم کو ادنیٰ اور اعلیٰ، بااختیار اور بے اختیار طبقوں میں تقسیم کرتا تھا۔ ایران میں چند خاندان ایسے تھے جن کے لیے سلطنت کے تمام بڑے عہدے وقف تھے اور انہی خاندانوں کے گٹھ جوڑ کے نتائج کسی اندرونی انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوتے تھے۔ جس طرح ہندوستان کے برہمن سماج میں کسی اچھوت کے لیے برہمنوں یا کھشتریوں کے دائرے میں داخل ہونا ممکن نہ تھا۔ اسی طرح ایران میں کسی کے لیے عوام کی صف سے نکل کر خواص کے زمرے میں داخل ہوجانا بعیدازقیاس تھا۔ ایران کے شہنشاہوں کو اپنی رعایا کے جان و مال پر کلّی اختیار حاصل تھے۔ اقتدار کے دوسرے ان پر با جگزار ریاستوں کے سربراہ اور شاہی خاندان کے وہ شہزادے براجمان تھے جن میں سے بعض کو مفتوحہ علاقوں کی نیم خود مختار سرداری اور بعض کو اعلیٰ سول اور فوجی عہدے مل جاتے تھے۔ اس کے بعد اُن چند خاندانوں کی باری آتی تھی، جن کی وسیع جاگیریں پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھیں۔ ان خاندانوں کے سربراہ اپنے لیے جو لگان وصول کرتے تھے اس کے عوض بادشاہ کو بوقت ضرورت سپاہی مہیا کرتے تھے۔ اقتدار کے نچلے زینے پر وہ چھوٹے زمیندار یا دیہات کے سرکردہ لوگ تھے جو سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے کاشتکار عوام اور حکومت کے کارندوں کے درمیان ایک کڑی کا کام دیتے تھے اور یہ کاشتکار عوام وہ تھے جن کی حیثیت غلاموں کے برابر تھی، جس زمیندار کی زمین میں ہل چلاتے تھے اس کی ملکیت سمجھے جاتے تھے اور ان کے آقا اپنی جائیداد کے ساتھ انہیں بھی فروخت کرسکتے تھے۔ یہ وہ بھیڑیں تھیں جن کا گوشت، اون اور ہڈیاں سب دوسروں کے لیے تھیں۔
مزوکیت اس نظام کے خلاف ایک بغاوت تھی۔ اس کا مقصد نجی املاک کو ختم کرکے ملک کی دولت میں پوری آبادی کو یکساں حصہ دار بنانا تھا۔ اس تحریک کے بانی کی انتہا پسندی کا یہ عالم تھا کہ اس نے زمین اور زر کی طرح عورت کو بھی افراد کی بجائے قوم کی ملکیت بنادیا تھا۔ زندگی کی تمام راحتوں سے محروم اور غلاموں کی سی زندگی بسر کرنے والے عوام کا اس تحریک سے متاثر ہونا ایک قدرتی بات تھی۔ ایرانی امراء نے انہیں صرف زرا اور زمین سے ہی محروم نہیں رکھا تھا بلکہ عورتوں سے بھی اپنے حرم بھر لیے تھے۔ قباد نے جو اس زمانے میں ایران کا حکمران تھا، اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر عوام کے تعاون کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اس تحریک کی سرپرستی کی۔ لیکن جب اس نئے دین کے حامی امراء کی دولت لوٹنے، اُن کے گھر جلانے اور اُن کی بہو بیٹیوں کو زبردستی چھیننے لگے تو قباد کو اُن کی سرپرستی سے دست کش ہونا پڑا۔ اب ملک کی افواج، امراء اور مجوسی پیشوائوں کے اشاروں پر اس تحریک کے حامیوں کو چن چن کر موت کے گھاٹ اُتار رہی تھیں۔ چند سال کے اندر اندر ایران کے طول و عرض میں مزوکیت کی تحریک مکمل طور پر ختم ہوچکی تھی اور مجوسی مذہب پھر ایک بار پہلا مقام حاصل کرچکا تھا۔
روم کے سیاسی حالات ایران سے زیادہ مختلف نہ تھے۔ عیسائی مذہب کی تعلیم اپنی تمام خوبیوں کے باوجود ایک ایسی ملوکیت کا مزاج بدلنے سے قاصر تھی جس نے قدیم یونان کے صنم خانوں میں آنکھ کھولی تھی۔ شام اور فلسطین میں عیسائیت کا فروغ ایک فطری بات تھی۔ یہ وہ سرزمین تھی جس کے باشندے گزشتہ صدیوں میں مشرق و مغرب کے اُفق سے اُٹھنے والے ان گنت طوفانوں کی ہولناکیاں دیکھ چکے تھے۔ اور یہاں عیسائیت کی تعلیم میں اُن زیر دستوں کی روح کے لیے تسکین کا سامان موجود تھا، جن کے ہاتھوں میں بالادستوں کا دار روکنے کی سکت نہ تھی۔ لیکن رومی حکمرانوں کو اپنے محکوموں کی روحوں پر بھی کسی اور کی حکومت پسند نہ تھی۔ چنانچہ قریباً تین صدی تک عیسائیت کے آغوش میں پناہ لینے والے کمزور اور بے بس انسانوں کے ساتھ باغیوں کا سا سلوک ہوتا رہا۔ پھر جب شام اور فلسطین کے عوام کی طرح مشرقی یورپ کے عوام میں بھی یہ دین مقبول ہونے لگا تو حکومت نے بھی اس کے لیے اپنی آغوش کشادہ کردی۔ قیصر نے ظاہری لبادہ تبدیل کرلیا لیکن ملوکیت کی جبلت نہ بدل سکی۔ قسطنطنیہ کے شہنشاہوں کے سر پر پہلے اپالو کے مندر کے کاہن تاج رکھتے تھے اور اب یہ خدمت کلیسائوں کے اکابر اپنے ذمے لے چکے تھے۔ پہلے وہ اپنے دشمنوں پر حملہ کرتے وقت اپنے دیوتائوں سے مدد مانگتے تھے اور اب اُن پر تلوار اٹھانے سے پہلے صلیب کو بوسہ دے لیا کرتے تھے۔ تلوار وہی تھی صرف نیام تبدیل کردی گئی تھی۔
عوام میں عیسائیت کی مقبولیت کی وجہ یہ تھی کہ یہ مذہب ظلم و تشدد کے خلاف محبت، رحم اور انکساری کی تعلیم دیتا تھا۔ لیکن اس تعلیم کا عملی نتیجہ رہبانیت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ابتدا میں بعض لوگ معاشرے کی اصلاح سے مایوس ہو کر تارک الدنیا ہوگئے اور شہروں اور بستیوں سے نکل کر ویرانوں کو جا بسایا۔ یہ راہب چلے کاٹتے، زمین پر سوتے بھوکے رہتے اور اپنی روح کی تسکین کے لیے ان گنت جسمانی اذیتیں برداشت کرتے تھے، دنیا کے تمام مسائل انہوں نے حکمرانوں کے لیے چھوڑ دیے تھے۔ لیکن اہل دنیا انہیں خدا رسیدہ سمجھ کر اُن کا پیچھا کرتے۔ کوئی اپنی بیماری سے نجات حاصل کرنے اور کوئی اپنے کاروبار میں برکت کے لیے اُن کی دعائوں کا طالبگار ہوتا۔ وہ سردی میں ٹھٹھرنے اور دھوپ میں جلنا پسند کرتے لیکن اُن پر سائبان تان دیے جاتے۔ وہ زندہ رہنے کے لیے سوکھے ٹکڑے کا ایک نوالہ کافی سمجھتے لیکن اُن کے سامنے دنیا کی نعمتوں کے ڈھیر لگادیے جاتے۔ وہ نفس کشی اور ریاضت کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے لیکن اہل دنیا ان کی کرامات کا ڈھنڈورا پیٹتے۔ غرض جس قدر وہ دنیا سے بھاگتے تھے۔ اُسی قدر دنیا ان کا پیچھا کرتی تھی پھر جب اُن میں سے کوئی مر جاتا تو اہل دنیا اس کی قبر پر عظیم الشان خانقاہیں تعمیر کر ڈالتے۔
آہستہ آہستہ یہ رہبانیت عیسائی مذہب کا ایک اہم ترین جزو بن گئی۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں انسان دولت اور اقدار کے پیمانوں سے ناپا جاتا تھا کسی تہی دست اور نادار آدمی کا مرجع خلائق بن جانا ایک معمولی بات نہ تھی۔ آہستہ آہستہ خانقاہیں راہبوں سے بھر گئیں اور ریاضت اور نفس کشی کے نئے نئے طریقے رائج ہونے لگے۔ بعض راہب سمندر کے کسی ٹاپو کی سنگلاخ چٹان پر ڈیرے ڈال لیتے اور ساری زندگی وہیں گزار دیتے۔ بعض اپنے لیے کسی جنگل یا صحرا میں مینار تعمیر کرتے اور اُس کی چوٹی پر بیٹھ کر اپنا وقت گزار دیتے۔ بعض لباس سے بے نیاز، سردی یا گرمی برداشت کرنے کی قوت کا مظاہرہ کرکے عوام سے داد و تحسین حاصل کرتے اور بعض لوہے کی اس قدر بھاری زنجیریں اور طوق پہن لیتے کہ ان کی کمر بوجھ سے دہری ہوجاتی۔ ابتداء میں ریاضت اور نفس کشی کے یہ ہولناک طریقے ان لوگوں نے رائج کیے تھے جن کے نزدیک دنیا کی ہر خواہش کو مٹانا یا جسمانی اذیتیں برداشت کرنا روحانی نجات کا واحد ذریعہ تھا۔ لیکن بعد میں انفرادی جنون کے یہ مظاہرے مذہب کے اجتماعی فرائض میں داخل ہوگئے۔ یہ خانقاہیں جہاں اب لاکھوں مرد اور عورتیں پناہ لے چکی تھیں، کلیسا کے حصار بن گئیں اور ان کی نگرانی مذہب کے اُن اکابر کے سپرد تھی جن کی اکثریت ملوکیت کے دوش بدوش کلیسا کے پرچم نصب کرنے کے لیے کوشاں تھی۔ خقانقاہوں کے نظم اور راہبوں کی تربیت کے لیے جو اصول و ضوابط وضع کیے گئے تھے وہ سلطنت کے قوانین سے زیادہ سخت تھے۔
رومی شہنشاہوں نے اپنے بدترین ادوار میں بھی فرزندان تثلیت پر وہ مظالم نہیں کیے تھے جو ان خانقاہوں کے مکین اپنی خوشی سے برداشت کررہے تھے۔ اب مذہب کی تعلیم کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ انسان پیدائشی طور پر گنہگار ہے۔ اُس کا جسم اس کی روح کا سب سے بڑا دشمن ہے اور روح کی نجات کے لیے جسم کی تذلیل کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
غرض خانقاہیں وہ بھٹیاں تھیں جن کی آنچ میں روح کو جسم کی آلائشوں سے پاک کیا جاتا تھا۔عام طور پر تو ہم پرست یا دنیا کے آلام و مصائب کے ستائے ہوئے پریشان حال لوگ ایک بہتر زندگی کی امید پر اور اپنے گناہوں پر پشیمان لوگ اپنے ضمیر کی تسکین کے لیے ان خانقاہوں میں داخل ہوتے تھے لیکن یہاں انہیں ایسے لوگوں سے سابقہ پڑتا تھا جنہوں نے اُن کی ہڈیوں پر کلیسا کے اقتدار کے محل کھڑے کرنے کا راز معلوم کرلیا تھا۔
خانقاہ میں داخل ہونے کے بعد دنیا کے ساتھ ان کے ماضی کے تمام رشتے ٹوٹ جاتے تھے، یہاں تک کہ ماضی کے متعلق سوچنا بھی ایک گناہ تھا۔ ہر نئے راہب کی نگرانی دو تربیت یافتہ راہبوں کو سونپ دی جاتی تھی۔ یہ دن رات اس پر پہرا دیتے تھے، کوئی راہب اپنے محافظوں یا پہریداروں کی موجودگی کے بغیر اپنے عزیزوں یا رشتہ داروں سے ملاقات نہیں کرسکتا تھا۔ اگر وہ ملاقات سے انکار کردیتا تو اس کا یہ فعل قابل قدر سمجھا جاتا تھا۔ ایک طویل عرصہ تک بھوکا پیاسا رہنا یا جاگنا ایک راہب کی تربیت کا ضروری حصہ سمجھا جاتا تھا۔ ہاتھ پائوں دھونا یا نہانا جسمانی خواہشوں میں شامل تھے، اس لیے جسم کو انتہائی غلیظ و متعفن رکھنا اور میلے کچیلے، بدبودار چیتھڑوں میں ملبوس یا ننگا رہنا کار ثواب سمجھا جاتا تھا۔ خوبصورت چہروں اور جسموں کو مسخ کردینا بھی ایک نیکی تھی۔ چنانچہ کسی خوبصورت راہبہ کی ایک آنکھ نکال دینا یا کسی تندرست و توانا راہب کی ایک ٹانگ یا بازو توڑ دینا بھی ایک معمولی بات تھی۔ خانقاہ کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے جرم کی سزا سو درّے تھی۔ دنیا کی کسی شے پر اپنا دعویٰ جتانا ایک جرم تھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی راہب بے خیالی میں بھی یہ کہہ دیتا کہ یہ میرا جوتا یا میری قمیص ہے تو اسے اس جرم کی پاداش میں چھ کوڑے رسید کیے جاتے تھے۔ خانقاہوں کے مکینوں کو ریاست کے قیدیوں سے زیادہ مشقت کرنا پڑتی تھی۔ ان گنت جسمانی اور ذہنی اذیتوں کے بعد نیند اُن کے لیے کسی راحت کا باعث ہوسکتی تھی لیکن اُن کی روحوں کے محافظ جہاں انہیں فاقہ کشی میں مبتلا رکھنا ضروری سمجھتے تھے وہاں اس بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ آرام کی نیند سے اُن کی روح پر جسم کی آلائشیں غالب نہ آجائیں۔
ان بدنصیب لوگوں کو ہر سزا کے بعد یہ یقین دلایا جاتا تھا کہ یہ سب اُن کی بہتری کے لیے ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے ہوش و حواس اور عقل و شعور کھو بیٹھتے تھے اور ان ناقابل برداشت اذیتوں میں بھی ایک تسکین محسوس کرتے تھے، رات کی تاریکی اور بسا اوقات دن کی روشنی میں بھی انہیں چاروں طرف ابلیس کی ان گنت صورتیں دکھائی دیتیں۔ اور ایسا محسوس ہونے لگتا کہ وہ گناہوں کے سمندر میں ڈوبے جارہے ہیں۔ خیالی گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے وہ اپنی ارواح کے محافظوں سے مزید سزائوں کے طلبگار ہوتے، بعض اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی ختم کر ڈالتے۔ بعض گناہوں کے مستقل خوف سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے۔چھٹی صدی عیسویں میں اس قسم کے پاگلوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ یروشلم میں دماغی امراض کا اسپتال تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
راہب یا راہبہ بن جانے کے بعد کسی کے لیے جیتے جی اپنی خانقاہ سے بھاگ نکلنا ممکن نہ تھا، جو راہب اپنی خوشی سے ذہنی اور جسمانی اذیتیں برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے، انہیں مجبوراً نفس کشی کے تمام مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔
ابتدائی ادوار میں یہ خانقاہیں عام طور پر صرف اُن مفلوک الحال لوگوں سے آباد ہوتی تھیں جن کے لیے دنیاوی زندگی میں کوئی کشش نہ تھی لیکن جب رہبانیت نے مسیحی معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل کرلیا تو خوشحال لوگ بھی ان کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ طبقہ اعلیٰ کے وہ نوجوان جن کے لیے رومی فوج میں بھرتی ہونا ضروری تھا اپنی جان بچانے کے لیے خانقاہوں میں پناہ لیتے تھے۔
بااثر لوگوں کی شمولیت نے رہبانیت کی توقیر میں اور اضافہ کردیا۔ اور خانقاہوں کے بشپ عوام کی بجائے خواص کو ترجیح دینے لگے۔ یہ لوگ خوشحال تاجروں یا حکومت کے عہدہ داروں کے پاس جا کر ان سے اپیلیں کرتے کہ تم اپنے فلاں بیٹے یا بیٹی کو دین مسیح کی خدمت کے لیے وقف کردو تو تم دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوگے۔ اور اگر تم نے اُسے نجات کے راستے سے روکنے کی کوشش کی تو اُس کے زندگی بھر کے گناہوں کا بوجھ تمہاری گردن پر ہوگا۔ ان راہبوں کی تقریریں اس قدر پرجوش اور موثر ہوتیں کہ والدین اپنے بچوں کو اُن کے حوالے کردیتے۔ لوگوں کے دلوں پر خانقاہوں کا رعب جمانے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ بعض راہبوں کی کرامات کے متعلق عجیب و غریب باتیں مشہور کردی جاتی تھیں۔ (جاری ہے)

حصہ