بانو قدسیہ کا انٹریو

115

طاہر مسعود: ’’آگ کا دریا‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے؟
بانو قدسیہ: قرۃ العین حیدر انتہائی قد آور لکھنے والی ہیں لیکن آپ ان معنوں میں پوچھ رہے ہیں کہ یہ کوئی دقیق ناول ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے چوکنا ہو کر پڑھنے کی صورت میں یہ ناول آسانی سے سمجھ میں آتا ہے۔
طاہر مسعود: ’’راجا گدھ‘‘ پر قارئین کا ردعمل کیسا رہا؟
بانو قدسیہ: لوگوں نے خیر مقدم کیا۔ انہوں نے مجھے خطوط لکھے اور اسے ایک نئے تجربے کے طور پر قبول کیا البتہ مجھے ان بچیوں کے تاثرات معلوم نہیں ہو سکے جو ابھی عمر کے پچیسویں برس میں ہیں۔ شاید وہ پچیس صفحات سے زیادہ نہیں پڑھ سکی ہوں گی۔
طاہر مسعود: اس ناول کے کتنے کردار حقیقی وجود رکھتے ہیں؟
بانو قدسیہ: میں چھپن سال سے مختلف قسم کے راجا گدھ دیکھتی چلی آرہی ہوں اس کے باوجود کہ ہمارا معاشرہ حدود و قیود کا قائل ہے اور اتنی لبرل ازم ابھی نہیں آئی ہے کہ آپ عشق میں مبتلا ہو کر کسی لڑکی کو فون کریں اور اسے اسکوٹر پر بیٹھا کر لے جائیں اس کے باوجود میرا مشاہدہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر دوسرا لڑکا اور ہر بارہویں لڑکی راجا گدھا ہے۔
طاہر مسعود: راجا گدھ کے بعض قارئین اس ناول کو پڑھ کر ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔ ایک صاحب کے بقول اس ناول کا ایسا عجب تاثر تھا کہ میرا جی چاہا کہ خودکشی کر لوں۔
بانو قدسیہ: ہرمن بیسے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا ناول پڑھ کر لوگ خودکشی کی خواہش کرنے لگتے ہیں اور یورپ میں دو‘ تین واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں۔ اگر ناول پڑھنے والے زندگی کی تاب نہ لاسکیں تو اس میں مصنف کا کیا قصور ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسے لوگوں کو درمیان میں ہی چھوڑ دینا چاہیے۔
طاہر مسعود: آپ کے پاس اس مسئلے کا کوئی علاج نہیں ہے؟
بانو قدسیہ: میرے پاس کسی بھی مسئلے کا کوئی علاج نہیں ہے۔ پاکستان میں آج ٹیلی وژن کے ذریعے قہقہوں کو فروغ دیا جا رہا ہے لیکن ہم بھول رہے ہیں کہ کتھارسس کی بھی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے‘ جو سوسائٹی رونے سے گھبراتی ہے وہ آخر کار تنز ل کا شکار ہو جاتی ہے۔ جس طرح ہنسنا ضروری ہے اسی طرح رونا بھی ضروری ہے۔
طاہر مسعود: جب ہم آپ کے دو ناول ’’شہرِ بے مثال‘‘ اور ’’راجا گدھ‘‘ کا بالترتیب مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں موخزالذکر ناول میں زبان و بیان پر عبور‘ تیکنیک پر گرفت اور خیال میں گہرائی نظر آتی ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ آپ نے ان دونوں کے درمیان ایک طویل سفر طے کیا ہے۔
بانو قدسیہ: ان دونوں ناولوں کی اشاعت میں پندرہ‘ سولہ سال کا فرق ہے لہٰذا ایسا تو محسوس ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں میں نے ’’راجا گدھ‘‘ پر بہت محنت کی ہے جس کا اندازہ یوں لگایئے کہ میں نے اسے پانچ سال کے عرصے میں مکمل کیا۔
طاہر مسعود: بعض حلقوں کی جانب سے راجہ گدھ پر فحش نگاری کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے‘ اس الزام میں کس حد تک صداقت ہے؟
بانو قدسیہ: دیکھیے قرآن میں زنا سے ممانعت کا حکم ہے اور اس کے مجرموں کے لیے کوڑے کی سزا رکھی گئی ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ زنا بھی رزق حرام ہی کی ایک شکل ہے اور ناول کا موضوع ایسا تھا کہ اس کے ذکر کے بغیر چارہ نہیں تھا لیکن میں نے اس ناول میں کوئی ایسی منظر کشی نہیں کی جس میں لذت کا پہلو نکلتا ہو اور مجھ پر یہ الزام لگایا جاسکتا کہ میں نے منٹو یا عصمت کی طرح فحش نگاری کی ہے۔
طاہر مسعود: کیا آپ کے خیال میں منٹو اور عصمت نے فحش نگاری کی ہے؟
بانو قدسیہ: نہیں میرا یہ مطلب نہیں ہے‘ اس زمانے میں ادب میں جنس کا موضوع نیا نیا متعارف ہوا تھا اور بعد میں تو اس موضوع پر لکھنے کا رجحان چل پڑا تھا۔ ان حالات میں منٹو اور عصمت نے بند دروازوں کو کھولنے کی کوشش کی اور اس عرصے میں جو افسانے لکھے گئے ان میں جنس کے بارے میں تفصیلات زیادہ بیان کی جاتی تھیں۔ ممتاز مفتی نے بھی اس قسم کی کہانیاں لکھیں۔ جب تحریک نئی ہو تو لکھنے والے بھی جوشیلے ہوتے ہیں لیکن اب یہ صورت حال نہیں رہی۔ آج تو ایک چھوٹے سے لڑکے کی بھی جنس کے متعلق معلومات اتنی وسیع ہوتی ہیں کہ اس قسم کے افسانوں میں قطعی دل چسپی نہیں ہوتی اس لیے آپ دیکھیں گے کہ ہماری نئی نسل منٹو اور عصمت کے افسانوں کو نہیں پڑھے گی۔
طاہر مسعود: آپ کے لکھنے کا طریقہ کار کیا ہے؟
بانو قدسیہ: میں ایک گھریلو عورت ہوں‘ اس لیے میرا بیشتر وقت دوسروں پر صرف ہوتا ہے‘ لکھنے کے سمے مہمان آجائیں تو میں ان سے کیسے کہوں کہ میں اپنے وقت کا ایک عظیم ناول لکھ رہی ہوں اس لیے آپ تشریف لے جائیں۔ میرا گھر‘ میرے شوہر‘ بچے اور رشتے دار یہ سب میری ذمہ داری ہیں۔ عموماً صبح دس سے دوپہر بارہ بجے تک لکھنے کا کام کرتی ہوں پھر باورچی خانے میں چلی جاتی ہوں۔ کم عمری میں میرے لکھنے کا وقت سہ پہر تین سے شام چھ بجے تک تھا لیکن اب یہ ہمارے آرام کاوقت ہے۔
طاہر مسعود: آپ ناول لکھنے کی منصوبہ بندی کس طرح کرتی ہیں؟
بانو قدسیہ: ہر قابلِ عزت خیال پر میں توجہ دیتی ہوں اور اسے دو مرتبہ لکھتی ہوں۔ پہلی بار ابتدائی ڈرافٹ کی صورت میں جسے آپ چاہیں تو نوٹس کہہ لیں۔ اس میں اگر کہیں کوئی کمی رہ جائے تو اگلی بار لکھتے وقت دور کر دیتی ہوں۔ کہانی کو حتمی شکل دینا‘ کرداروں کو اجاگر کرنا اس قسم کی ساری محنت دوسرے مرحلے ہی میں ممکن ہے۔
طاہر مسعود: کہانی یا کرداروں کے بارے میں اشفاق احمد سے بھی صلاح و مشورہ کرتی ہیں؟
بانو قدسیہ: ان کے پاس اتنا وقت کہاں ہے؟ ویسے موقع ملے تو مشورہ بھی کر لیتی ہوں۔
طاہر مسعود: اشفاق احمد سے شادی کا فیصلہ کرتے وقت آپ کو یہ خوف محسوس نہیں ہوا کہ آپ کی ادبی حیثیت ان کے سامنے دب جائے گی؟
بانو قدسیہ: ان سے شادی کرکے میں فائدے میں رہی۔ خیر فائدہ تو انہیں بھی ہوا لیکن سچی بات یہ ہے کہ اگر مجھے اشفاق احمد صاحب کی صحبت نہ ملتی تو شاید میں بھی غیر ادبی رسائل میں لکھنے والی عورتوں کی سطح کے ناول اور افسانے لکھتی رہتی۔ انہوں نے ہی مجھے اس بات کا پارکھ بنایا کہ اشیا کی حقیقت سطح میں نہیں گہرائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس لیے لکھنے والوں کو گہرائی میں غوطہ زن ہونا چاہیے۔ وہ میرے پیرومرشد ہیں‘ وہ مجھے کسی تحریر پر شاباشی دیتے ہیں تو مجھے ایک اچھے شاگرد کی طرح خوشی ہوتی ہے اور جو وہ کسی تحریر کو ناپسند کریں تو میرے دل سے بھی وہ تحریر اتر جاتی ہے۔
طاہر مسعود: کبھی آپ نے غیر جانب داری سے غور کیا کہ آپ دونوں میں بڑا ادیب کون ہے؟
بانو قدسیہ: جی ہاں! اشفاق احمد۔
طاہر مسعود: اور ان کا کیا خیال ہے؟
بانو قدسیہ: (ہنستے ہوئے) وہ بھی اشفاق احمد ہی کو بڑا ادیب تصور کرتے ہوں گے۔ چوں کہ وہ میرے شوہر ہیں اس لیے میرے منہ سے ان کی تعریف اچھی نہیں لگتی۔ ورنہ سچ پوچھیے تو اشفاق احمد ایک ایسا دیب ہے جس کی برصغیر میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ وہ ایک چھوٹے سے پودے سے برگد کا پیڑ بنا ہے۔ ان کے افسانوں‘ ناولوں اور ڈراموں میں جتنا تنوع اور گہرائی ہے وہ ان کے ایک عظیم رائٹر ہونے کی دلیل ہے۔
طاہر مسعود: انہوں نے کافی عرصے سے افسانہ لکھنا ترک کر دیا ہے‘ آپ نے ان کی توجہ اس طرف کیوں نہیں دلائی؟
بانو قدسیہ: ان کا ذاتی خیال ہے کہ یہ دور افسانوں کا نہیں ہے۔ افسانہ پڑھنے والے ایک شہر میں مشکل سے ایک ہزار ہوں گے جب کہ ٹیلی وژن دیکھنے والوں کی تعداد دو کروڑ ہے اور ٹیلی وژن کے ذریعے لکھنے والے کا پیغام زیادہ دور تک پہنچتا ہے۔ دوسرے ان کی رائے یہ ہے کہ بہت جلد ہمارا سارا ادب سلو لائیڈ پر منتقل ہو جائے گا۔
طاہر مسعود: آپ نقادوں کو کتنی اہمیت دیتی ہیں؟
بانو قدسیہ: بلاشبہ نقاد کی اہمیت مسلمہ ہے بشرطے کہ وہ کتاب کو ذاتی اور گروہی اختلاف سے بلند تر ہو کر قاری کے سامنے پیش کرے۔ نقاد کا فرض ہے کہ وہ مصنف کو فراموش کرکے کتاب کا ادبی اور فنی مرتبہ و مقام متعین کرے کیوں کہ اسی صورت میں وہ انصاف کر سکتا ہے اگر وہ کسی فن پارے کے بارے میں لکھتے وقت مصنف کو بھی یاد رکھے گا تو اسے یہ بھی یاد آئے گا کہ فلاح پارٹی میں مصنف نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا تھا۔ افسوس کہ ہمارے نقادوں نے کتابوں پر کم اور شخصیتوں پر زیادہ لکھا ہے۔ نتیجتاً آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ فلاں مصنف کی دو بیویاں ہیں اور اس کی مرغوب غذا بھنڈی گوشت ہے لیکن اس مصنف کی کتابوں کے بارے میں ان کی معلومات صفر ہوتی ہیں۔
طاہر مسعود: بعض ادیبائوں کو گلہ ہے کہ نقاد حضرات انہیں نظر انداز کرتے ہیں‘ کیا آپ کو بھی اس قسم کا کوئی شکوہ ہے؟
بانو قدسیہ: بیشتر خواتین لکھنے والی عموماً گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں اور ان کا باہر نکلنا اور لوگوں سے ملنا ملانا کم ہوتا ہے۔ یہ عورتیں نقادوں کو دوست بنائیں پھر ان شاء اللہ ان کے فن کو نظر نہیں کیا جائے گا۔ میں لاہور شہر میں ہوں‘ میرے شوہر کی سب سے واقفیت ہے‘ دو چار نقاد ان کے دوست ہیں تو ظاہر ہے وہ میری کتاب کو کس طرح نظر انداز کرسکتے ہیں۔ اصل میں یہ مسئلہ عورت اور مرد کا نہیں پبلک ریلشنگ ہے۔
طاہر مسعود: خواتین لکھنے والیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
بانو قدسیہ: عورتوں میں دو قسم کی لکھنے والیاں پیدا ہو گئی ہیں ایک تو وہ جو زندگی سے وابستہ ہیں۔ دوسری وہ ہیں جو صرف رومانس میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ پہلی قسم میں خواہ قرۃ العین حیدر ہوں یا جمیلہ ہاشمی۔ ان کے افسانوں میں زندگی کے ٹھوس حقائق ملتے ہیں جب کہ دوسری قسم کی افسانہ نگار خواتین ڈائجسٹ اور پاکیزہ ڈائجسٹ میں لکھتی ہیں اور ان کا زندگی کی حقیقتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح مرد لکھنے والے بھی دو حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو صحافت سے منسلک ہیں اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا تعلق صرف تخلیقی عمل سے قائم رکھا ہے۔ اوّالذکر مرد ادیب اخبار کی سرخیاں پڑھ کر افسانے لکھتے ہیں جیسے ایک زمانے میں بعض ادیب فلمی کہانی سن کر ناول لکھ مارتے تھے۔ دوسرے قسم کے ادیبوں میں احمد ندیم قاسمی‘ اے حمید اور اشفاق احمد جیسے لوگ شامل ہیں جن کی تحریروں پر صحافتی اندازِ تحریر کا گمان نہیں گزرتا۔
طاہر مسعود: پچھلے دس‘ بارہ برسوںمیں ادیب کا دائرہ اثر بے حد محدود ہوگیا ہے‘ آپ کے خیال میں اس کے کیا اسباب ہیں؟
بانو قدسیہ: ٹیلی وژن‘ وی سی آر اور فاسٹ فوڈ‘ لوگ پڑھنے کے بجائے بازاروں میں جا کر کوک پیتے ہیں‘ آئس کریم کھاتے ہیں‘ دوستوں سے ملتے ہیں‘ ڈسکو میوزک سنتے ہیں اور جو وقت بچتا ہے اس میں عورتیں ڈائجسٹ اور مرد جاسوسی ناول پڑھتے ہیں۔ ہمارے درمیان سے مطالعہ کرنے والی سنجیدہ نسل غائب ہوتی جارہی ہے تو جب خریدار نہیں ہوں گے تو بازار کیسے چلے گا۔
طاہر مسعود: آپ نے ابتدا میں جو رومانی افسانے لکھے تھے…؟
بانو قدسیہ: (بات کاٹ کر) میں نے رومانی افسانے لکھے ہی کہاں ہیں؟ ابتدائی دو‘ چار افسانے ایسے ہوں گے جن پر اب مجھے افسوس آتا ہے۔ کبھی کبھی اشفاق صاحب سے کہتی ہوں کہ آپ شگفتہ شگفتہ سی محبت کے افسانے اتنے ڈھنگ سے کیسے لکھ لیتے ہیں‘ مجھ سے تو نہیں لکھے جاتے۔ میرے افسانوں میں رومان سے زیادہ اس کا تجزیہ ہوتا ہے۔
طاہر مسعود: یہ تجزیہ آپ کے ٹی وی ڈراموں میں بھی کثرت سے ہوتا ہے اسی لیے ناظرین اونگھنے لگتے ہیں‘ پتا نہیں اس میں قصور کس کا ہے؟
بانو قدسیہ: میں نے کہا نا کہ میں پبلک کو اپنے تخلیقی عمل میںمداخلت کی اجازت نہیں دیتی۔ بالفرض محال میں یہ سوچنے بیٹھ جائوں کہ میں جو ڈراما لکھ رہی ہوں اسے میری سولہ سال کی بھانجی اور ان پڑھ بھاوج بھی دیکھیں گی اور اس ڈرامے کو ایسا تو ہونا ہی چاہیے کہ ماموں جان شاباشی دیں۔ پھر میں لکھ چکی۔
طاہر مسعود: پھر یہ ڈرامے آپ کن لوگوں کے لیے لکھتی ہیں؟
بانو قدسیہ: میں تو صرف لکھتی ہوں۔ میرے پروڈیوسر اکثر مسودہ اٹھائے آجاتے ہیں کہ ڈرامے کے فلاں منظر یا مکالمے یا کہانی کے کسی حصے میں ترمیم کر دیں۔ میں ان سے کہتی ہوں کہ ’’بہتر ہوگا کہ آپ میرا مسودہ مجھے واپس کر دیں۔‘‘ یہ بات وہ کیوں نہیں سمجھتے ہیں کہ شوقیہ نہیں اندرونی ضرورت اور دبائو کے تحت لکھتی ہوں۔ مجبور ہو کر لکھتی ہوں۔ دوسروں کی پسند اور ناپسند پر جب بھی میں نے غور کیا ہے ایسا لگا ہے جیسے میں کوئی اچھوت ہوں۔ لہٰذا میں نے اس بارے میں فکر مند ہونا عرصہ ہوا چھوڑ دیا ہے۔ میں صرف اپنی مرضی سے لکھتی ہوں‘ اس لیے عام لکھنے والوں سے مختلف ہوں۔ عام ڈراموںکے برعکس میرے ڈراموںکا کوئی انجام نہیں ہوتا۔ میرے کردار سنگ میل پر کھڑے رہ جاتے ہیں کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ زندگی مسلسل اور لامتناہی ہے۔ باپ کے بعد بیٹا حیات کے تسلسل کو قائم رکھتا ہے اور زلزلے میں تباہ ہوجانے والے شہر پھر سے آباد ہو جاتے ہیں۔

حصہ