منتخب غزلیں

134

علامہ اقبال

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا
سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگا
گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگا
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
کیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں
تو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
سفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگا
چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگا
جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
یہ رسم بزم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھی
رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگا
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے در ماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگا
نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کا
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
…٭…
حسرتؔ موہانی

اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں
بگڑے ہیں اسی کفر میں ایمان ہزاروں
دنیا ہے کہ ان کے رخ و گیسو پہ مٹی ہے
حیران ہزاروں ہیں پریشان ہزاروں
تنہائی میں بھی تیرے تصور کی بدولت
دل بستگئ غم کے ہیں سامان ہزاروں
اے شوق تری پستئ ہمت کا برا ہو
مشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہزاروں
آنکھوں نے تجھے دیکھ لیا اب انہیں کیا غم
حالانکہ ابھی دل کو ہیں ارمان ہزاروں
چھانے ہیں ترے عشق میں آشفتہ سری نے
دنیائے مصیبت کے بیابان ہزاروں
اک بار تھا سر گردن حسرتؔ پہ رہیں گے
قاتل تری شمشیر کے احسان ہزاروں
…٭…
عنایت علی خاں

ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں
بنے پھر ان کے ہم سفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہو گئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہوا ہے جدے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آ گئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
ابل پڑے کئی گٹر مذاق ہی مذاق میں
اٹھو کہ اب نماز فجر کے لیے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر مذاق ہی مذاق میں
یہاں عنایتؔ آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں
…٭…
دلاور فگار

میں نے کہا کہ شہر کے حق میں دعا کرو
اس نے کہا کہ بات غلط مت کہا کرو
میں نے کہا کہ رات سے بجلی بھی بند ہے
اس نے کہا کہ ہاتھ سے پنکھا جھلا کرو
میں نے کہا کہ شہر میں پانی کا قحط ہے
اس نے کہا کہ پیپسی کولا پیا کرو
میں نے کہا کہ کار ڈکیتوں نے چھین لی
اس نے کہا کہ اچھا ہے پیدل چلا کرو
میں نے کہا کہ کام ہے نہ کوئی کاروبار
اس نے کہا کہ شاعری پر اکتفا کرو
میں نے کہا کہ سو کی بھی گنتی نہیں ہے یاد
اس نے کہا کہ رات کو تارے گنا کرو
میں نے کہا کہ ہے مجھے کرسی کی آرزو
اس نے کہا کہ آیت کرسی پڑھا کرو
میں نے کہا غزل پڑھی جاتی نہیں صحیح
اس نے کہا کہ پہلے ریہرسل کیا کرو
میں نے کہا کہ کیسے کہی جاتی ہے غزل
اس نے کہا کہ میری غزل گا دیا کرو
ہر بات پر جو کہتا رہا میں بجا بجا
اس نے کہا کہ یوں ہی مسلسل بجا کرو
…٭…
ماہر القادری

کس قیامت کی گھٹا چھائی ہے
دل کی ہر چوٹ ابھر آئی ہے
درد بدنام تمنا رسوا
عشق رسوائی ہی رسوائی ہے
اس نے پھر یاد کیا ہے شاید
دل دھڑکنے کی صدا آئی ہے
زلف و رخسار کا منظر توبہ
شام اور صبح کی یکجائی ہے
ہم سے چھپ چھپ کے سنورنے والے
چشم آئینہ تماشائی ہے
دل تمنا سے ہے کتنا بے زار
ٹھوکریں کھا کے سمجھ آئی ہے
تم سے ماہرؔ کو نہیں کوئی گلہ
اس نے قسمت ہی بری پائی ہے
…٭…
ابھیشیک شکلا

سفر کے بعد بھی ذوق سفر نہ رہ جائے
خیال و خواب میں اب کے بھی گھر نہ رہ جائے
میں سوچتا ہوں بہت زندگی کے بارے میں
یہ زندگی بھی مجھے سوچ کر نہ رہ جائے
بس ایک خوف میں ہوتی ہے ہر سحر میری
نشان خواب کہیں آنکھ پر نہ رہ جائے
یہ بے حسی تو مری ضد تھی میرے اجزا سے
کہ مجھ میں اپنے تعاقب کا ڈر نہ رہ جائے
ہوائے شام ترا رقص ناگزیر سہی
یہ میری خاک ترے جسم پر نہ رہ جائے
اسی کی شکل لیا چاہتی ہے خاک مری
سو شہر جاں میں کوئی کوزہ گر نہ رہ جائے
گزر گیا ہو اگر قافلہ تو دیکھ آؤ
پس غبار کسی کی نظر نہ رہ جائے
میں ایک اور کھڑا ہوں حصار دنیا کے
وہ جس کی ضد میں کھڑا ہوں ادھر نہ رہ جائے
…٭…

عبد العزیز خالد

بھولوں انہیں کیسے کیسے کیسے
وہ لمحے جو تیرے ساتھ گزرے
ہے راہنما جبلت ان کی
بے حس نہیں موسمی پرندے
اے دانشور مفر نہیں ہے
اقرار وجود کبریا سے
جانا کوئی کارساز بھی ہے
ٹوٹے بن بن کے جب ارادے
محراب عمود برج قوسیں
رس میں ڈوبے بھرے بھرے سے
بحر کافور میں تلاطم
بھونرا بیٹھا کنول کو چوسے
چاک افقی حریم زہرہ
رہ رہ کے مدن ترنگ جھلکے
جھلمل جھلمل بدن کا سونا
لہرائیں لٹیں کمر سے نیچے
کیا چاند سی صورتیں بنائیں
قربان اے نیلی چھتری والے
…٭…

یروشلم/نعیم صدیقی

یروشلم یروشلم تو ایک حریم محترم
تیرے ہی سنگ در پر آج منہ کے بل گرے ہیں ہم
تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بچشم نم
یروشلم یروشلم یروشلم یروشلم
…٭…

حصہ