سایہ رحمت

104

’’کتنی گرمی ہے… اتنا حبس زدہ ماحول ہے بازار کا، تمہاری تو خریداری ختم ہی نہیں ہورہی اور مجھے چکر آنے لگے ہیں۔‘‘ جہاں آرا نے اپنی بیٹی فاطمہ کو ڈانٹا، جو ہر دکان پر جاتی اور اسے کچھ پسند نہ آتا۔
جہاں آرا کا پارہ چڑھتا جارہا تھا۔ فاطمہ کو والدہ کی طبیعت کا خیال آیا تو جلد از جلد چیزیں لیں اور والدہ کا ہاتھ پکڑ کر ٹیکسی کی طرف لپکی۔ واقعی سورج سوا نیزے پر تھا، لوگ جلدی جلدی خریداری کررہے تھے، کیوں کہ چھ بجے تک تمام بازار بند ہونے کا اعلان ہوچکا تھا۔ احتیاطی تدابیر پرکوئی عمل کرے نہ کرے، لیکن چھ بجے تک خریدنے کی دھن سب پر سوار تھی، لہٰذا رش بڑھتا جا رہا تھا۔
نہ جانے کیسا قانون بنایا ہے کہ محدود وقت رکھ کر لوگوں کے رش کو بڑھانے کا خود موقع فراہم کیا جارہا ہے۔
گھر پہنچ کر جب فاطمہ نے والدہ کو پانی دینے کے بعد خود اپنے حلق میں پانی کا گھونٹ اتارا تو اس نعمت کے سامنے تمام نعمتیں ہیچ لگیں۔ یہ ایک گھونٹ کتنی تقویت دیتا ہے، ایک نئی زندگی، نئی امنگ۔ تشکر سے آنکھیں چمک اٹھیں اور بے اختیار منہ سے ’’الحمدللہ‘‘ نکلا۔
’’اماں! کتنی بڑی نعمت ہے یہ پانی۔‘‘ فاطمہ نے جھٹ اپنے تاثرات کا اظہار والدہ سے کیا۔
’’ہاں بیٹی! میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ حشر کے میدان میں ہمارا کیا حال ہوگا جب سورج زمین پر آجائے گا اور لوگ اپنے اعمال کی بنا پر اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، اُس وقت اللہ کے سوا کوئی سایۂ رحمت نہ ہوگا، اُس وقت ہمارا کیا حال ہوگا؟ ہم اِس گرمی کو برداشت نہیں کرپاتے تو حشر کی گرمی کو کیسے برداشت کریں گے؟ ہر ایک کو اپنی فکر ہوگی، کوئی کسی کا نہیں ہوگا۔‘‘
’’امی! کسی کے اوپر سایۂ رحمت نہیں ہوگا کیا؟‘‘
’’سایۂ رحمت صرف اُن لوگوں پر ہوگا جو اللہ کی راہ میں صدقات، خیرات کرنے والے، یتیموں کی کفالت کرنے والے، دوسروں کو سایہ فراہم کرنے والے، اللہ کی خاطر بھوک پیاس برداشت کرنے والے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے والے ہوں گے۔ ایسے سب لوگ اَبر رحمت میں ہوں گے۔‘‘
’’امی! پھر تو ہمیں بھی ایسی نیکیاں سمیٹ لینی چاہئیں تاکہ ہم پر بھی اللہ کا سایہ ہو۔‘‘
’’ہاں کیوں نہیں… ابھی آتے ہوئے یہی سوچ رہی تھی کہ کم از کم ہم دنیا میں لوگوں کو سایہ فراہم کردیں تو آخرت میں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت میں ڈھانپ لے گا۔‘‘
’’ مگر کیسے…؟‘‘ فاطمہ نے سوچتے ہوئے پوچھا۔
’’جہاں جہاں پبلک پوائنٹ ہیں وہاں ہم درخت لگا سکتے ہیں۔ درختوں کی کمی کے باعث بارشیں کم ہوگئی ہیں، اس وجہ سے درجۂ حرارت بھی بڑھتا جارہا ہے، ہوا آلودہ ہوگئی ہے۔ ویسے بھی درخت لگانا صدقۂ جاریہ ہے۔ جتنے لوگ اس کے سائے سے مستفید ہوں گے ہمارے لیے اجر بڑھتا ہی رہے گا، اور جب تک درخت قائم رہے گا اجر بھی قائم رہے گا۔‘‘
’’امی! یہ تو بہت آسان کام ہے، میں آج ہی ابو سے بیج منگواتی ہوں تاکہ میں اپنے لیے اور آپ کے لیے صدقۂ جاریہ تیار کرسکوں۔‘‘
امی دل ہی دل میں سوچ رہی تھیں کہ بچے تو ذہین ہیں، ہم ہی بتانے اور سمجھانے میں کوتاہی کرجاتے ہیں ۔

حصہ