تنقید نگاری کو مضبوط کئے بغیر اچھی تخلیق ممکن نہیں

99

جسارت میگزین: ترقی پسند تحریک نے اردو ادب پر کیا اثرات مرتب کیے؟
رانا خالد محمود: طبقاتی کشمکش اور اظہار کی قوت‘ روشن خیالی کو جنم دیتی ہے‘ یہی روشن خیالی ترقی پسندیت کی نقیب ہے۔ ترقی پسند تحریک کا آغاز 1936ء سے ہوا‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے پہلے سے کام جاری تھا۔ ترقی پسند تحریک کے منشور کے ساتھ منشی پریم چند کا صدارتی خطبہ نہایت اہمیت کا احامل ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری کسوٹی پر وہ ادب پورا اترے گا جس میں آزادی کا جذبہ ہوگا‘ ہم ایسا ادب تخلیق کریں جو ہمیں متحرک رکھے‘ ہنگامہ آرائی زندگی کی علامت ہے ہمیں ایسا ادب نہیں چاہیے جو ہمیں خوابِ غفلت کا اسیر بنائے۔ ترقی پسند تحریک اپنے منشور پر سو فیصد عمل پیرا نہ ہو سکی۔ تقسیم ہند کے بعد ترقی پسند شعرا انتشار کا شکار ہو گئے۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر اردو ادب میں نئے جہات کا اضافہ ہوا۔ نئے اسلوب سامنے آئے۔ نئے نئے استعارے‘ لفظیات اور موضوعات کھل کر ادب کا حصہ بنے۔ ترقی پسند تحریک نے اشتراکیت کو فروغ دیا جس سے پاک و ہند کی تخلیق کار اپنی اساسی سوچ و فکر سے دور ہو گئے۔ مغربی یا اشتراکیت کے زیر اثر فروغ پانے والا ادب عوام میں اپنی جڑیں مضبوط نہ کرسکا لیکن ترقی پسند تحریک نے قلم کاروں کو وسیع المطالعہ بنایا اور زمینی حقائق لکھنے پر آمادہ کیا۔ ایک تخلیق کار جو کچھ دیکھتا ہے اسے قرطاسِ ادب پر منتقل کرتا ہے اس کا اثر سماج پر بھی ہوتا ہے اور انسانی زندگی پر بھی۔
جسارت میگزین: جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا فلسفہ کیا ہے؟ کیا یہ تجربات ہمارے ادب میں کامیاب ہوئے؟
رانا خالد محمود: جدیدیت اپنے معنوی اعتبار سے اردو ادب میں 1960ء کے بعد ظاہر ہوئی اور یہ ترقی پسند تحریک کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی۔ جدیدیت ادراک‘ شعور اور مشاہدات کے بجائے لاشعوری اور وجدانی کیفیت کا اظہار کرتی ہے اس کے خیالات میں ندرت اور جدت‘ قدامت پسندی کی ضد ہیں یہ تقلید پسندی اور روایت پسندی کے خلاف ہے پسِ جدیدیت موجود عہد کے تمام اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہے اس کا اثر ادبی حلقوں میں بھی ہوتا اور علم و فنون کی دنیا میں بھی جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مضامین اور مفاہم ایک دوسرے سے متضاد ہونے کے باوجود ایک ساتھ رواں دواں ہیں کیوں کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔ مابعد جدیدیت کسی نظریے یا ضابطے کا نام نہیں ہے اس کی بنیاد 1980ء سے شروع ہوتی ہے اسے بھی ہم ردِ جدیدیت کہہ سکتے ہیں۔ ہمارامعاشرہ ابھی تک روایت پسند ہے اور عصرِ حاضر میں تخلیق کار‘ اجنبیت‘ یاسیت‘ بیگانگی‘ حسن و عشق‘ لب و رخسار‘ گل و بلبل جیسے مضامین چھوڑ کر عصری مسائل اور بدلتی ہوئی سماجی اقدار کو زیر بحث لانا شروع کرچکے ہیں یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ آج کے شعرا کو چاہیے کہ وہ کسی طبقاتی کشمکش سے دور رہ کر شاعری سے جڑے رہیں۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ مابعد جدیدیت‘ جدیدیت کی مخالف ہے مگر اس کا کوئی نعم البدل ہمیں نہیں دیتی۔
جسارت میگزین: اصنافِ سخن میں نثری نظم کی کیا حیثیت ہے؟
رانا خالد محمود: نثری نظم فرانسیسی ادب کا شاہکار ہے جو کہ انگریزی سے ہوتی ہوئی اردو ادب میں آئی ہے اس نظم میں کوئی ردیف قافیہ نہیں ہوتا اس کے موضوعات بہت وسیع ہیں لیکن ابھی تک نثری نظم مقبولیت نہیں پاسکی۔ نثری نظم کہنا بہت آسان ہے اسی لیے اس کی پزیرائی نہیں ہو سکی کہ ہر کوئی نثری نظم با آسانی کہہ سکتا ہے۔
جسارت میگزین: علم عروض کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ اس کی افادیت اور نقصانات کیا ہیں؟
رانا خالد محمود: علم عروض سے یہ پتا چلتا ہے کہ مصرع وزن میںہے یا بحر سے خارج ہو گیا۔ علم عروض کا جاننا شاعری کے لیے بہت ضروری ہے تاہم وہ لوگ بھی شعر کہہ رہے ہیں جن کو علم عروض نہیں آتا وہ صوت کے انداز میں موزونیت کو مقدم سمجھتے ہیں۔ شعر کے فنی محاسن و مصائب سے آگاہی کا نام علم عروض ہے۔ علم عروض اوزان و بحور کوجانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔ خلیل بن احمد بصری کا عروض سائنسی بنیادوں پر قائم ہے اس نے بحریں بنانے کے لیے دس بنیادی ارکان دیے تھے جس میں8 ارکان اردو شاعری کا حصہ ہیں۔ اس علم کو سکھانے کے لیے علم عروض کے ماہرین کی خدمت حاصل کی جائیں اور آرٹس کونسل آف پاکستان اور اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت علم عروض کی کلاسز کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ علم عروض کا فروغ ہو۔
جسارت میگزین: کیا آج کا تنقید نگار اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے آج کے زمانے کے تنقیدی معیار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
رانا خالد محمود: تنقید کے معنی ہیں چھان پھٹک کرنا‘ کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا۔ شعری نگارشات اور نثری فن پاروں کا جائزہ لے کر اس کا مقام و مرتبہ تعین کرنا نقاد کا اوّلین فرض ہے۔ تنقید نگار کام ہے کہ وہ کسی بھی مصنف کے کام کا تجزیہ غیر جانبد اری سے کرے۔ مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم تنقید کے معروضی اصولوں سے دور ہوتے جارہے ہیں‘ ہم مغربی تنقید نگاروں کی نقل کر رہے ہیں۔ سلیم احمد کا مضمون نئی نظم پورا آدمی پڑھیے آپ پر تنقید نگاری کے اصول و ضوابط کھل جائیں‘ کتابوںکی تقریباتِ اجرا پر جو تقاریر ہوتی ہیں ہم اسے تنقید نگاری کی صف میں شامل نہیں کرسکتے‘ وہاں صرف قلم کار کی تعریف ہوتی ہے‘ دوستی نبھائی جاتی ہے‘ تنقید نگاری کے شعبے کو مضبوط کیے بغیر کوئی بھی اچھی تخلیق ممکن نہیں۔
جسارت میگزین: حکومتی سطح پر اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے قائم کردہ اداروں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
رانا خالد محمود: حکومتی سطح پر زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان‘ قومی مقتدرہ‘ انجمن ترقیٔ اردو‘ نیشنل بک فائونڈیشن‘ سندھ اکیڈمی اور دیگر اداروں کی کارکردگی پر تحفظات ہیں۔ ان اداروں کے لیے فنڈز مختص کے جاتے ہیں جن سے صرف اور صرف مشہور قلم کاروں کو فائدہ ہوتا ہے‘ ان کی تصانیف کو زیورِ طباعت سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ مستحق قلم کاروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے جنیوئن قلم کاروں کی امداد کی جائے جو بھی قلم کار اپنا مسودہ ان اداروںکو دے اس کی اشاعت ممکن بنائی جائے۔ صاحبانِ ثروت سامنے آئیں اور ادب کے فروغ کے لیے مالی طور پر مدد کریں۔ حکومتی سطح پر قائم کردہ اداروں کے مشاعروں میں مشاعرہ پڑھنے کا اعزازیہ دیا جائے۔
جسارت میگزین: نعت نگاری کے بنیادی تقاضے کیا ہیں؟ کیا نعت میں تنقید کی گنجائش نکلتی ہے؟
رانا خالد محمود: نعت نگاری ایک مشکل عمل ہے‘ نعت نگاری کی حدیں موجود ہیں اگر آپ نعت نگاری کے اصولوں سے آگے نکلتے ہیں تو ’’الوہیت‘‘ میں پہنچ جائیں گے اور اگر کمی کرتے ہیں تو تنقیص ہوتی ہے۔ نعت میں غلو کی گنجائش نہیں ہے جب کہ نعت نگاری میں تنقید کی گنجائش ہی اس موضوع پر ڈاکٹر عزیز احسن کا مقالہ آپ پڑھ لیں تو یہ موضوع آپ کی سمجھ میں باآسانی آجائے گا۔
جسارت میگزین: گروہ بندی سے ادب کو فائدہ پہنچا یا نقصان؟ آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟
رانا خالد محمود: گروہ بندی مباحث ہونی چاہیے مگر معیاری اور مثبت انداز میں ادب کا کام کرنا چاہیے‘ ذاتیات پر حملے مت کیجیے ادبی تخلیقات پر بات کیجیے‘ ہر زمانے میں گروہ بندیاں موجود رہی ہیں‘ استاد جب بھی کسی مشاعرے میں جاتے تھے اپنے ساتھ اپنے ہم خیال لوگوں اور اپنے شاگردوں کو لے کر چلتے تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین‘ حلقہ اربابِ ذوق‘ تحریک ادب اسلامی نے اردو زبان ادب کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ آج کل جو مشاعرے ہوتے ہیں ان میں ان لوگوں کو بلایا جاتا ہے جو مشاعرہ کرانے والی تنظیم کے اغراض و مقاصد سے جڑے ہوتے ہیں باالفاظ دیگر دوسرے گروہ کو نہیں بلایا جاتا اس وقت کراچی میں ادبی گروہ بندیوں سے ادب کا نقصان ہو رہا ہے‘ ہم آپس میں دست و گریباں ہیں‘ ہمارے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

غزل

غم بھری میری داستاں سن کر
جاگ جائے نہ دل فغاں سن کر
میرے خواب و خیال کا قصہ
محو حیرت ہے آسماں سن کر
دل کی بربادیوں کو روتے ہیں
تم وہاں اور میں یہاں سن کر
روز رستہ تمہارا تکتا ہوں
شام کو عصر کی اذان سن کر
دل نے رنگ ملال اوڑھ لیا
تیرا بدلا ہوا بیاں سن کر
آج قیصر بھی رو پڑا آخر
اپنا غم آپ کی زبان سن کر
)رانا خالد محمود قیصر(

حصہ