سوشل میڈیا پر تھپڑوں کی گونج

121

کے الیکٹرک تو پہلے ہی بدنام تھی اِس ہفتہ ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ نے سب برابر کر ڈالا۔’نیا پاکستان نو بجلی ‘ ، ساتھ ہی ’ لوڈ شیڈنگ‘ کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ کرتا رہا اور عوام غصہ نکالتے رہے۔اسی دوران یہ بھی ہوا کہ فیس بک کا سرور ڈاؤن ہو گیا ۔ کئی ممالک میں غصہ نکالا گیا مگر پاکستان میں تو جیسے بجلی کا مسئلہ چل ہی رہا تھا تو لوگوں نے اسے ایسا ہی سمجھ کر برداشت کر لیا ، جنہیں ٹوئٹر پر ٹرینڈ نظر آیا انہوں نے اس میں حصہ ملالیا۔جیسے بجلی جانے کے اسٹیٹس پر سب اپنے علاقے کا احوال بتاتے ہیں ۔ حماد اظہر کے بیان کے بعد کہ بجلی ہمارے پاس بہت ہے مگر تربیلا ڈیم پر کام سے تکنیکی طور پربانٹی نہیں جا رہی ، کے بعد ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ اور بڑھ گئی ، یہ تو ہوا مگر ساتھ ہی کچھ جگہ اچانک گرمی نے انگڑائی ماردی۔ کراچی میں قدرے گرمی کم ہوئی تواسلام آباد میں اچانک بارشوں کے درمیان ہیٹ ویو پہنچ گئی ، لاہور بھی تپ گیا، ایسے میں بجلی کی آنکھ مچولی ، عوام واقعی بلبلا اٹھی خصوصاً اسلام آباد میں تو رد عمل بہت ہی سخت آیا۔ادھر کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی ایک بار پھر میدان عمل میں اترآئی اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کر دیا اس ہفتہ کے الیکٹرک کے ۳دفاتر کے باہر دھرنے دیئے گئے اور سوشل میڈیا پر خوب بدلے لیے گئے ۔
مشیر برائے وزارت اطلاعات صوبہ پنجاب فردوس عاشق اعوان کا ایکسپریس نیوز کے مشہور پروگرام میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کے ساتھ گرما گرم بحث ہوئی ۔ بات شو پر ہی ختم نہ ہوئی بلکہ پروگرام کے اختتام پر انہوں نے جس الزام کی آڑ لے کر رکن اسمبلی کو تھپڑجڑ دیا اُس کا تا حال کوئی اتا پتا نہیں۔ اگلے دن انہوں نے خود وضاحت کرتے ہوئے اسے سیلف ڈیفنس قرار دیا ، تو لو گ حیران ہوئے کہ قادر نے تو کوئی ہاتھا پائی کی ہی نہیں تو سیلف ڈیفنس کیسا ؟ پھر قادر پر تو الزام بھی مرحوم باپ کو گالی دینے کا لگایا گیا تو بھی سیلف ڈیفنس کیسا؟ واللہ اعلم خاتون کے پاس سیلف ڈیفنس کے کیا معنی ہیں۔بہر حال عوام نے حسب معمول خوب انجوائے کیا۔ ایسی ایسی زبردست میمز بنائی کہ کیا کہیں۔اچھا یہ اس ہفتہ کا پہلا تھپڑ نہیں تھا اس ہفتہ ایک اور بھی تاریخ ساز تھپڑ پڑا جس کی خوب گونج سوشل میڈیا پر سُنی گئی ۔ وہ تھا فرانسیسی صدر ایمینوئیل میکرون والا۔ صدر اپنے ہی ملک میں دورہ کر رہے تھے کہ ایک 28سالہ شخص نے ہاتھ ملانے کے بہانے منہ پر زور دار تھپڑ جڑ دیا۔بندہ گرفتار ہوگیا ، یقین کریں ایک ہی دن میں اس کا کیس فاسٹ ٹریک پر ٹرائل پر آگیا اس کی ساری معلومات افشا کر دی گئیں کہ وہ ’ڈیمین ٹیرل‘ مارشل آرٹ کا ماہر بھی ہے اور اس کے گھر سے ہٹلر کی بائیوگرافی بھی نکلی اور کچھ اسلحہ بھی مگر یہ اسلحہ اس کے ساتھ واقعہ کی ویڈیو بنانے والے کے گھر سے نکلا جو ساتھ ہی رہتا تھا۔ اس کے ساتھ ویڈیو بنانے والے شخص کو بھی گرفتار کیا گیا کیونکہ تھپڑ سے زیادہ تکلیف تو ویڈیو نے پہنچائی تھی ، اب اُس پر فرانسیسی حکام کے مطابق غیر قانونی اسلحہ کا کیس بنے گا۔کہا جا رہا ہے کہ اس پر کوئی 45000یورو جرمانہ اور 3سال قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ بہرحال ایک جانب تو تھپڑ مارنے والا گرفتار ہو گیا مگر فردوس صاحبہ آزاد گھوم رہی ہیں ، یہ دو تھپڑ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے۔تجزیوں اور تبصروں میں لوگ بہتے چلے گئے ۔آزادی رائے سے متعلق صدر میکرون کے ماضی کے بیانات نے انہیں بہت سارے پاکستانیوں کے ساتھ اختلافات کا سامنا کرنا پڑا، لہذا یہ ناگزیر تھا کہ وہ اپنے لطیفے یا قہقہوں کو باز نہیں رکھیں گے۔فرانسیسی سیاستدانوں نے اس واقعے کی روٹین کے مطابق مذمت کی ہے۔فرانس میں دائیں بازو کی جماعت کی رہنما میرین لی پین نے اپنی مذمت پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگرچہ جمہوری بحث تلخ ہو سکتی ہے، لیکن وہ جسمانی تشدد کو کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتی”۔وزیر اقتصادیات برونو لی مائئر نے اس تھپڑ کو ”عوامی بحث کا طویل بگاڑ” کی علامت کے طور پر دیکھا جب کہ دوسرے مبصرین نے نئے پرتشدد مظاہروں کے ابھرنے کے خطرے کو جھنڈا دکھایا۔اہم بات یہ تھی کی فرانسیسی صدر کی عزت اتارنے والا اس کے اپنے ملک کا غیر مسلم شہری تھا ، اس لیے خوشی کی انمول کیفیت کا احساس دنیا بھر کے مسلمان ایک خاص انداز سے کرتے نظر آئے۔ پاکستان میں تو اسے ہیرو قرار دیا گیا۔’ ضروری نہیں کہ تھپڑ کھانے کے لیے آپکو MIG21 پر آنا پڑے۔آپ خود چل کر بھی تھپڑ کے پاس پہنچ سکتے ہیں۔منجانب: میکرون اور مندو خیل‘۔ اسی طرح کئی ٹوئیٹ میں اس طرح اظہار ہوا کہ ،’فرانس کے صدر کو ایک انتہائی زور دار تھپڑ پڑا ہے۔ قسم سے دل خوش ہوگیا Heart on fire‘۔’فرانسیسی صدر میکرون کو آج جو کرارار تھپڑ پڑا ہے ،دل قسم سے گارڈن گارڈن ہوگیا ہے۔‘ کبھی کبھی اظہار آزادی تھپڑ بھی اظہار آزادی رائے کے نتائج سمجھانے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔‘اسی طرح ایک اور ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ ’میکرون چوڑے کو تھپڑ فرانس میں لگا اور فرانس کے تلوے چاٹنے والے پاکستان میں پریشان ہو گئے۔بوکھلاہٹ کا یہ عالم کہ رات کے دو بجے علامہ فاروق الحسن کو گرفتار کر لیا گیا اب فرانس سے یہ بتا کر ایوارڈ وصول کیا جائیگا‘۔اس میکرون کیس میں سب سے اہم بات یہ رہی کہ فیس بک کو کمیونٹی اسٹینڈرڈ کا نامعلوم کیوں خیال نہیں آیا کیونکہ کسی بھی ملک کے صدر کی بے عزتی کرنا توفیس بک کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے ، وہ کوئی بچہ تو ہے نہیں ، عام آدمی بھی ایسی کوئی رپورٹ کرے تو فیس بک ویڈیو ہٹا دیتا ہے ۔ مگر ایک ویٹوپاور رکھنے واے طاقتورمغربی ملک کے صدر کی اتنی بے عزتی دنیا بھر میں وائرل ہوتی رہی اور فیس بک تادم تحریر اپنے بنائے کمیونٹی اسٹینڈرڈ پر عمل نہ کرسکا۔ ایسا کیوں ہوا ہوگا؟؟کون دے سکتا ہے اسکا جواب؟ صرف وہی جو یہ جانتا ہو کہ خالق کے حکم کے اسکی مرضی کے بغیر تو ’مارک زکر برگ‘ بھی کچھ نہیں کر سکتا ، ۷۷ گارڈز کے گھیرے میں جسے تھپڑ پڑ سکتا ہو تو پھر مزید سمجھانے کی کیا ضرورت۔ میں نے تو اپنی وال پر یہی لکھا کہ ’ چلیں دیکھتے ہیں کہ اس کلپ کے لگنے کے کتنے منٹ بعد فیس بک کو اپنے کمیونٹی اسٹینڈرڈ یاد آئیں گے اور وہ اس ویڈیو کو ہٹا کر مجھے پابند کریگا۔مگر مجھے تو 24 سیکنڈ کا یہ کلپ۔بار بار دیکھنے سے عجیب لذت دے رہا ہے نامعلوم کیوں؟پس میں یہ جانتا ہوں مانتا ہوں کہ ’وہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلیل کرے‘۔چاہے وہ کتنا ہی ویٹو پاور رکھتا ہو، کتنے ہی محافظوں میں کیوں نہ ہو؟پس لوگ کچھ بھی تاویل پیش کریں ، لیکن دنیابھر کے کروڑوں مسلمان اس واقعہ پر یکسو ئی سے خوش ہیں ، وجہ شاید کھل کر نہیں بول پا رہے البتہ خوش ہونا ہی کافی ہے۔
فردوس عاشق کے حوالے سے ایک اور ویڈیو والامعاملہ بھی گرم رہا ، وہ تھا اس ہفتہ کا افسوس ناک گھوٹکی ٹرین حادثہ ، اس پر بھی خاصی بات چلی اور ٹرینڈ بنے ، جن میں وزیر اعظم کے پرانے بیانات دہرائے کیے گئے جن میں وہ استعفیٰ تجویز کرتے تھے ۔ مگر اس میں تیل ڈالا فردوس عاشق اعوان کی جانب سے بولے گئے اس جملے نے کہ ’ اللہ کے فضل سے ہماری حکومت میں یہ پہلا ٹرین حادثہ ہے ، وگرنہ سابقہ حکومت میں تو آئے دن ہوتے رہتے تھے۔‘بس یہ کلپ بھی جنگل میں آگ لگا گیا، ایک طرف سوگواران تھے ان کے خاندان دوسری جانب اللہ کے فضل سے پہلا حادثہ ہونے کا جھوٹ یا لا علمی۔حسین اصغر نے برطانیہ سے خوب جلی کٹی لکھی ، ’نیا پاکستان میں کچھ کام ہو یا نہ ہو پچھلی حکومتوں پر لعن تعن کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔قائد اعظم ؒخدا کا شکر ادا کریں عمران نیازی کو پاکستان بنتے ہی حکومت نہیں مل گئی ورنہ قائد اعظم ؒبے چارے تو پاکستان آنے کی زحمت بھی نہیں کرتے کے نہ جانے عمران اور عمرانی وزیر انکے ساتھ کیا کیا سلوک کریں۔تین سال ہوگئے ، دو وزیر بدل دیئے مگر آج بھی ٹرین حادثے کی ذمہ داری پچھلی حکومت ہے۔فواد چودھری فرماتے ہیں کہ ’سعد رفیق کے گناہ پر اعظم سواتی استعفیٰ دے دیں یہ بے تکی بات ہے۔پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، یہ لوگ اتنے سال حکمران رہے، کیا کرتے رہے؟‘میرا خیال ہے کہ عمرانی فواد چودھری یہ بات زرداری اور مشرف دور کے فواد چودھری سے کہہ رہے تھے!اور دوسری طرف ملک کا وزیراعظم ہر حادثے کے بعدٹوئیٹ کر کے ’سکتے‘ میں چلا جاتا ہے!زرداری عمرانی فردوس عاشق اعوان فرماتی ہیں کہ ’ اللہ کے فضل و کرم سے یہ ٹرین کا پہلا حادثہ ہے‘جبکہ وزیر ریلوے اعظم سواتی فرماتے ہیں کہ ’‘‘مجھے ابھی تک نہیں پتا کتنی ٹرینیں چل رہی ہیں، ٹرینیں چلانا میرا کام نہیں ہے‘‘۔عمرانی حکومت میں کم و بیش چوالیس ٹرین حادثات ہوئے ہیں لیکن شاباش ہے ایماندار وزیر اعظم عمران نیازی کو! جس نے نا خود اور نہ کسی سے استعفیٰ طلب کیا ہے؟میرا تو خیال ہے ان سارے ٹرین حادثے کی ذمہ داری ان انگریزوں کی غلطی ہے جو یہ ریلوے ٹریک بچھا کر چلے گئے نہ ریلوے ٹریک بچھاتے نہ حادثات ہوتے!اس لیے ہمارا تو مطالبہ ہے کہ ’ بوریس جانسن تم ہی استعفیٰ دے دو۔‘
تھپڑ والی ویڈیو اور اسکے بعدفردوس عاشق کی وضاحت برائے سیلف ڈیفنس پر خوب میمز بن رہی ہیں۔لوگ بھرپور مزے لے رہے ہیں۔سیاست دانوں کی باہمی لڑائیاں نجی ٹی وی چینلز کی آمد کے بعد ناظرین کے لیے ایک دلچسپ ریئلٹی شو کی مانند ہوگئی ہیں۔اس موقع پر اہم بات جو سب بھولے نظر آرہے ہیں وہ یہ ہے کہ فردوس صاحبہ اتنی جلدی کیوں تشدد پر آگئی؟اس کو تواصولاً مذمت کرنی تھی،قانون سے مدد لینی تھی،پروٹیسٹ کرنا تھا،تشویش کا اظہار ہونا تھا کہ ملک میں الحمدللّہ آئین ، دستور،قانون سب کچھ تو موجود ہے اور ہے بھی جیب میں۔ہر ظالم کو سزا دینے کے لیے،ہر مظلوم کو انصاف دینے کے لیے ،مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔چند ہی سیکنڈ میں فردوس صاحبہ نے مندوخیل پر ہاتھ صاف کر دیئے۔ابھی تک کسی شو کے کلپ میں ایسی کوئی گالیوں کی ویڈیو لیک نہیں ہوئی جو فردوس کا الزام ثابت کرے یا کم از کم وقوعہ پر موجود جاویدچوہدری ہی گواہی دے کہ قادرخان نے ایسی ایسی گالیاں دیں۔مگر ایسا کچھ نہیں ابھی تک سامنے آیا۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ صحیح کیا فردوس نے ، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بے چارے قادرخان کی تذلیل ہوگئی کہ عورت سے تھپڑ کھا گیا۔فردوس کہتی ہے کہ اس سے برداشت نہ ہوا کہ کوئی اسکے مرحوم باپ کو برا بولے اس لیے ہاتھ کھول دیئے، مطلب قانون ہاتھ میں لے لیا ۔ تو جائز ہی کیانا۔تو اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیں کہ باپ کی مبینہ بے عزتی برداشت نہیں ہوتی مگر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہونے والی باتیں یا خاکوں کے مقابلے یا جملے سب آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں۔وہاں سب کو قانون یادآجاتا ہے۔فرانس سے تعلقات یاد آجاتے ہیں۔تہذیب و تمدن یاد آجاتا ہے اور ایسے نہیں بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی بار بار کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس پر تو ہماری جان بھی قربان ہے لیکن
قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے ۔فرانس کا سفیر نہیں نکالناچاہیے ۔عالمی سطح پر بات کریں گے۔ اسمبلی میں بات کریں گے ۔سب ملکوں کو ساتھ ملائیں گے۔مگر فردوس کے ابا کا کیس ہو تو وہیں تھپڑ لگائیں گے۔
وہاں ملکوں کو خط نہیں لکھیں گے؟وہاں بلاول سے شکایت درج نہیں ہوگی؟وہاں کورٹ کیس نہیں ہوگا؟وہاں اسمبلی میں قرارداد کا انتظار نہیں ہوگا… کیوں؟ پس یاد رکھنا۔ رب کریم تمہیں تمہارے جھوٹے ایمانی دعوؤں سمیت دنیا میں بھی رسوا کریگا اور آخرت کا عذاب تو ویسے بھی تم اپنے نام کرا چکے۔ یہ میرا فتویٰ نہیں سورۃ احزاب میں اسکا وعدہ ہے۔ایک تھپڑمیکرون کو پڑا تب بھی نہ سمجھے تو آج فردوس کے تھپڑ سے پھر پیغام بھجوایا گیاہے۔تحریک ناموس رسالت کے تمام علماء و شہداء کو سلام جنہوں نے اپنے قول و فعل و خون سے حق و باطل کے درمیان لکیر کھینچ کر دکھائی۔آج وقت کے حکمرانوں سے کئی بار کی طرح اس بار بھی خود ثابت کرادیا کہ تم عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں جھوٹے دعوے کرتے ہو۔تمہیں سب سے زیادہ پیار اپنی کرسی،اپنی جان،اپنے مال،اپنی اَنا،اپنے ماں باپ و اولاد یا اپنی ناموس سے ہی ہے۔تمہارے تھپڑ اسی کے دفاع میں اٹھتے ہیں۔

حصہ