بلند پایہ مورخ و ناول نگار،نسیم حجازی

165

”میری بہنو! یاد رکھو، گرتی ہوئی قوم کا آخری سہارا قوم کی بیٹیاں ہی ہوا کرتی ہیں۔ تم قوم کا آخری سہارا ہو۔ جب تک تمھارے سینے نورِ ایمان سے منور ہیں تمھارے بیٹوں، تمھارے شوہروں اور تمھارے بھائیوں کو دنیا کی کوئی بھی طاقت مغلوب نہیں کرسکتی۔“
یہ اقتباس مشہور ناول نگار، ادیب اور صحافی نسیم حجازی کے ناول ”آخری چٹان“ کا ہے۔
میرے بچپن کی یادوں میں جو کتابیں ہیں اُن میں نسیم حجازی اور اشتیاق احمد کے ناول سرفہرست ہیں، اور جن چیزوں کے شخصیت پر اثرات ہیں شاید ان میں گہرے اثرات نسیم حجازی کے ناولوں کے ہیں۔ ناول پڑھنے کا جنون ایسا رہا کہ کہاں کہاں، کس کس گوشے میں جاکر  پڑھتے تھے، ان جگہوں کا یہاں لکھنا بھی مناسب نہیں لگتا۔ دونوں کے ایک آدھ کے سوا تمام ناول لائبریری سے کرایہ پر لے کر پڑھے۔ اشتیاق احمد کے نئے ناول کی تو پہلے سے بکنگ ہوجاتی تھی اور ضخیم سات اٹھ سو صفحات کا ناول پچیس تیس گھنٹوں میں ختم کردیتے تھے۔ نہ کھانے کا ہوش رہتا اور نہ ہی ناول ختم کیے بغیر نیند آتی تھی، بس اچھی یا بری ایک دھن سوار ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ اسکول میں ڈیسک کے نیچے ناول اور دو ساتھ بیٹھے دوست۔ کلاس میں استاد کے لیکچر کے دوران بھی یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس جنون کے ساتھ پڑھا جائے، لیکن آج کی نسل کو پڑھنا ضرور چاہیے، اور ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس ایسے شاہکار موجود ہیں۔
نسیم حجازی کا شمار بیسویں صدی عیسوی کے مشہور ناول نگاروں، ادیبوں اور صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں ناول نگاری کو عوامی مقبولیت اور شہرتِ دوام دینے والے نسیم حجازی ہیں۔ آپ کی تاریخی ناول نگاری نے اردو خواں طبقے کی کئی نسلوں پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ آپ کے ناول مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر مبنی ہیں، جن میں آپ نے نہ صرف تاریخی واقعات بیان کیے ہیں  بلکہ اُن میں حالات کی ایسی منظرکشی کی ہے کہ پڑھنے والا خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے اور ناول کے کرداروں کے مکالموں سے براہِ راست اثر لیتا ہے۔ اور جب ناول ایک بار پڑھنا شروع کرتا ہے تو پھر کوشش ہوتی ہے کہ ختم کرکے ہی چھوڑے۔ غرض نسیم حجازی ہماری روایت میں ناول کے ذریعے لوگوں پر گہرے اثرات چھوڑنے والوں میں سب سے بڑا اور منفرد نام ہے۔
آپ 19 مئی 1914ء کو سوجان پور ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام محمد شریف تھا۔ عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ، روزنامہ حیات کراچی، روزنامہ زمانہ کراچی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور روزنامہ کوہستان راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبولِ عام بنانے کے لیے تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔ تحریک پاکستان میں عملی طور پر شریک تھے، اس لیے بہت سی مشکلات و مصائب جھیلے، تلخ حقائق اور تجربات آپ کی زندگی کا حصہ بنے جنھیں ”پردیسی درخت“ اور ”گم شدہ قافلے“ میں قلم بند کرکے پیش کیا۔ نسیم حجازی نے 1940ء میں ’’انسان اور دیوتا‘‘ کا پہلا حصہ مکمل کیا، اور پھر ’’داستانِ مجاہد‘‘ تحریر کی۔ اس کے بعد 1944ء میں ’’انسان اور دیوتا‘‘ کی تکمیل ہوئی۔ ’’خاک اور خون‘‘ نامی ناول سے ایک فلم بنائی گئی، جو 1947ء میں ہندوستان سے پاکستان تک مسلمانوں کی ہجرت کی کہانی پر مشتمل تھی، اور لولی وڈ کی مقبول ترین فلموں میں سے ایک ثابت ہوئی۔ ”آخری چٹان“ میں چنگیز خان کے ہاتھوں خوارزم شاہی سلطنت کی تباہی کی کہانی ہے۔ ”معظم علی“ اور ”اور تلوار ٹوٹ گئی“ برصغیر میں انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست کے بارے میں ہیں۔ اسی طرح ان کے ناول ”محمد بن قاسم“، ”آخری معرکہ“، ”قیصر و کسرٰی“ اور ”قافلہ حجاز“ اس دور کے متعلق ہیں جب اسلامی سلطنت فتوحات حاصل کررہی تھی۔ جبکہ ”یوسف بن تاشفین“، ”کلیسا اور آگ“، ”اندھیری رات کے مسافر“ اور ”شاہین“، اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے دور کے بارے میں ہیں۔
جب آپ ”کلیسا اور آگ“ کا مطالعہ کریں گے تو یہ بھی جان لیں گے کہ ’’کیا مغرب کبھی مہذب رہا ہے؟ یا ہمیشہ سے ایسا ہی ہے جیسا ہم دیکھ رہے ہیں؟‘‘ ان کے دو ناول ’’آخری چٹان‘‘ اور ’’شاہین‘‘ 1980ء کے عشرے میں پاکستان ٹیلی ویژن سے ڈراموں کی صورت میں نشر ہوئے۔ آخری چٹان کی ڈرامائی تشکیل مشہور شاعر، نقاد، دانش ور اور ادیب سلیم احمد نے کی تھی، اور یہ پاکستان ٹیلی ویژن کے بے پناہ مقبول ڈراموں میں سے ایک رہا۔ نسیم حجازی نے ناولوں کے علاوہ طنز و مزاح پر مبنی کتب بھی تحریر کیں، جن کے عنوان ”سو سال بعد“، ”سفید جزیرہ“، ”پورس کے ہاتھی“ اور ”ثقافت کی تلاش“ ہیں۔ آپ کے تمام ناولوں کے ترجمے گجراتی رسالے میں شائع ہوئے ہیں، اس کے علاوہ ”داستانِ مجاہد“ اور ”محمد بن قاسم“ کا ترجمہ پروفیسر اسد اللہ بھٹو نے کیا جو ادارئہ فکر و نظر نے شائع کیا۔ آپ کے ناول محمد بن قاسم، خاک اور خون، آخری چٹان، شاہین، انسان اور دیوتا، یوسف بن تاشفین، اور معظم علی کا بنگالی زبان میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔ خاک اور خون کا چینی زبان میں ترجمہ بیجنگ سے شائع ہوا۔ آپ کے ناول آخری چٹان اور دیگر پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے ہیں، اس کے علاوہ ادبی تاریخ اور نقد کی کئی کتب میں نسیم حجازی کا حوالہ موجود ہے جن میں ”اردو ناول کی تنقیدی تاریخ“ (ڈاکٹر سہیل بخاری)، ”بیسویں صدی میں تاریخی ناول نگاری“ (ڈاکٹر یوسف سرمت) شامل ہیں۔
آپ اقبال اور قائداعظم سے بہت متاثر تھے۔ مسلمانوں کی سوئی ہوئی روح کو بیدار کرنے میں نسیم حجازی کی نثر نے وہی کمال دکھایا جو علامہ اقبال نے شاعری میں کیا۔ نسیم حجازی نظریاتی پاکستانی تھے، جس کا اندازہ صرف اُن کے ناولوں سے نہیں بلکہ عمل سے بھی ہوتا ہے۔
معروف صحافی اور انٹرویو نگار جو سیکڑوں لوگوں سے بالمشافہ انٹرویو کرچکے ہیں جن میں نسیم حجازی بھی شامل ہیں، لکھتے ہیں کہ ”نسیم حجازی کے لیے صحافت وادی تھی اور نہ خارزار۔ ان کو تو وقت نے آواز دی تھی۔ انہوں نے ایک گورنر سے کہا: تم گورنر نہ ہوتے تو ایک کمشنر یا ڈپٹی کمشنر ہوتے، لیکن پاکستان نہ بنتا تو نسیم حجازی نہ ہوتا اور پابندِ سلاسل بھی ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت کے نام پر تم جس کو تھوپ رہے ہو وہ ثقافت نہیں ہے۔ ثقافت وہی ہے جس کے لیے ہم نے پاکستان بنایا۔ دراصل معاملہ یہ ہے کہ ڈائریکٹر ون یونٹ نے قائداعظم کے یومِ پیدائش پر یونیورسٹی ہال لاہور میں ایک رنگا رنگ جشن منانے کا پروگرام بنایا جس میں ملکہ ترنم نور جہاں اور رخشی (رقاصہ) اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والی تھیں۔ انہوں نے کراچی میں قیام کے دوران ’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں اس پروگرام کی تفصیلات پڑھیں تو ان کو یہ محسوس ہوا کہ جیسے کل تک یہی پروگرام تعلیمی اداروں سے نکل کر مسجدوں میں پیش کیے جانے والے ہوں۔ انہوں نے کموڈور مقبول حسین (ڈائریکٹر انٹر سروسز پبلک ریلیشنز) کو فون کیا اور پھر ’کوہستان‘ میں اس مجوزہ تقریب کے خلاف اداریہ لکھا۔ ان کی حمایت میں عوام کے خطوط آنے شروع ہوگئے۔ ہماری بیوروکریسی کو یہ بھلا کہاں برداشت تھا! ان کے خلاف مقدمۂ بغاوت قائم کردیا گیا۔ مقدمۂ بغاوت کرنے والوں میں ایک میجر صاحب اور چند سیکرٹری صاحبان شامل تھے۔لیکن یہ لوگ اس حقیقت سے واقف نہ تھے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان سے ان کے مراسم ہیں اور یہ اُن تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ چونکہ کراچی میں تھے اس لیے میجر صاحب نے روزنامہ ”کوہستان“ کے مالک عنایت اللہ کو دھمکیاں دیں اور اس بارے میں تحریراً کوئی بیان لینا چاہا اور ایک سرکلر بھی جاری کردیا کہ کوہستان ایک ناپسندیدہ اخبار ہے، حکومت اس کے ایڈیٹر سے سخت ناراض ہے جسے آئندہ کسی تقریب میں نہیں بلایا جائے گا۔ انہوں نے فون پر عنایت اللہ مرحوم کو تاکید کی کہ کوئی بیان نہ دیں، میری واپسی کا انتظار کریں۔ کموڈور مقبول حسین نے فون پر کراچی میں ہی کہا کہ یہ کیسی پبلک ریلیشننگ ہے کہ دوست کے بجائے دشمن بنائے جارہے ہیں! پھر کہا کہ آپ رسالپور میں فیلڈ مارشل ایوب خان (مرحوم) سے ملیں جو فضائیہ اکیڈمی کی پاسنگ آئوٹ پریڈ کی تقریب میں تشریف لارہے ہیں۔ میجر قاسم صاحب کے ہمراہ یہ اس پریڈ میں پہنچے۔ فیلڈ مارشل صاحب نے ان کو دراز قد کی وجہ سے دور ہی سے دیکھ لیا اور تپاک سے ملے۔ جب انہوں نے اپنا مدعا بیان کیا تو فیلڈ مارشل صاحب نے جنرل موسیٰ صاحب سے کہا جو قریب ہی کھڑے تھے کہ ہم نسیم صاحب کو پریشان نہیں دیکھ سکتے اور یہ پریشان ہیں۔ نسیم حجازی نے فیلڈ مارشل سے کہا کہ اگر میرے اخبار کی ضرورت نہیں تو بند کردیتا ہوں۔ مارشل لا نے میرے اوپر نئی ثقافت سوار کردی ہے، میں اسے اتار کر پھینکنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے یہ کہہ کر فیلڈ مارشل کو اس تقریب کی تصاویر پیش کیں، پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا رقص و موسیقی کے خلاف بات کرنا بغاوت ہے؟ بہرحال فیلڈ مارشل صاحب نے یہ معاملہ جنرل محمد موسیٰ صاحب کی موجودگی میں حل کردیا۔“
آپ کا انتقال 2 مارچ 1996ء کو راولپنڈی میں ہوا۔ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں، لیکن آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو چلے جاتے ہیں لیکن اُن کا کام ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور مُردہ جسموں کو زندگی کا احساس دلا رہا ہوتا ہے۔ ان کی رحلت کے بعد بھی ان کے ناولوں سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بہت بڑی ہے اور سرحدوں سے آزاد ہے۔ آپ کے خلاف سیکولر سستے دانشوروں نے بڑی تحریک چلائی، آپ کے فن کو تنقید اور تضحیک کا نشانہ بھی بنایا، جس کی وجہ صرف اور صرف آپ کی اسلام اور پاکستان سے محبت اور عقیدت تھی، اور یہی وجہ ہے آپ کے ناول اور آپ کا کام ایک تحریک کی صورت میں موجود ہے۔

حصہ